اردو پڑوسی کی بیوی کی چدائی: چھت والی رات (حصہ 1)
رات کے ساڑھے گیارہ بجے تھے اور میں چھت پر پانی کا لوٹا لیے کھڑا تھا جب میری نظر پڑوسی کی چھت پر پڑی۔ شبانہ بھابھی چارپائی پر بیٹھی فون کان سے لگائے رو رہی تھیں اور ان کی سسکیوں میں وہ تنہائی تھی جو صرف ایک اکیلی عورت سمجھ سکتی ہے۔ یہ اردو پڑوسی کی بیوی کی چدائی کی کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے، اس چھت والی رات سے جس کے بعد میری دنیا ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔
میں نے لوٹا ایک طرف رکھا اور اندھیرے میں ہی کھڑا انہیں دیکھتا رہا۔ ان کے آنسو گالوں پر چمک رہے تھے اور فون پر وہ دھیمی آواز میں کچھ کہہ رہی تھیں، پھر اچانک ان کی نظر میری طرف اٹھی۔ وہ چونکیں، جلدی سے آنسو پونچھے اور زبردستی مسکرائیں۔ میں نے شرمندہ ہو کر پودوں کی طرف منہ کر لیا جیسے میں نے کچھ دیکھا ہی نہ ہو۔
مگر انہوں نے خود آواز دی۔ بلال، تم؟ ابھی تک سوئے نہیں۔ ان کی آواز میں رونے کی کھنک اب بھی تھی۔ میں نے کہا، گرمی بہت ہے بھابھی، نیند نہیں آ رہی تھی۔ وہ چپ رہیں، پھر دھیرے سے بولیں، ادھر آؤ نا، دیوار تو نیچی ہی ہے۔
ہماری چھتوں کے بیچ صرف تین فٹ کی دیوار تھی۔ میں نے لوٹا رکھا اور آسانی سے اس پار کود گیا۔ شبانہ بھابھی چارپائی پر ایک طرف ہو گئیں اور میں کنارے پر بیٹھ گیا۔ قریب سے ان کا چہرہ اور بھی اداس لگ رہا تھا۔ آنکھیں سرخ، ناک کی نوک گلابی۔ انہوں نے فون چارپائی پر پٹخا اور کہا، ندیم سے بات ہو رہی تھی۔
ندیم بھائی دبئی میں کام کرتے تھے، دو سال سے گھر نہیں آئے تھے۔ بھابھی نے بتایا کہ آج تین ہفتے بعد فون آیا تھا اور آتے ہی شکایتوں کا پلندہ کھول دیا۔ کہتے ہیں تمہاری آواز میں وہ بات نہیں رہی۔ میں نے کہا، بھابھی، وہ تو پردیس میں ہیں، تھکے ہوں گے۔ انہوں نے تلخ ہنسی ہنسی، تھکے تو میں بھی ہوں بلال، مگر میری تھکن کوئی نہیں دیکھتا۔
یہ کہہ کر ان کی آنکھیں پھر بھر آئیں۔ میں نے بے اختیار ان کا ہاتھ تھام لیا۔ ان کا ہاتھ گرم اور نرم تھا اور میری انگلیوں کے نیچے کانپ رہا تھا۔ وہ پیچھے نہیں ہٹیں۔ چاندنی میں ان کا دوپٹہ کندھے سے ڈھلک گیا تھا اور ہلکی گلابی کرتی ان کے بدن سے چپکی ہوئی تھی۔ میری نظر بے اختیار ان کے سینے پر ٹھہر گئی۔
انہوں نے میری نظر پکڑ لی مگر دوپٹہ درست نہیں کیا۔ الٹا وہ مسکرائیں، ایک ایسی مسکراہٹ جو میں نے ان کے چہرے پر پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ دیکھ کیا رہے ہو۔ میں ہکلا گیا، کچھ نہیں بھابھی، بس۔ بس کیا۔ ان کی آواز میں شرارت تھی۔ تم اب بچے نہیں رہے بلال، میں جانتی ہوں تم کیا دیکھ رہے ہو۔
میرا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا۔ انہوں نے میرا ہاتھ دبایا اور کہا، ڈرو نہیں، میں برا نہیں مانتی۔ آج بہت دنوں بعد کسی نے مجھے اس نظر سے دیکھا ہے۔ یہ سن کر میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ ان کی انگلیاں میرے ہاتھ پر دھیرے دھیرے چل رہی تھیں۔
پھر انہوں نے موضوع بدلا۔ اچھا سنو، تم سے ایک کام تھا۔ واش بیسن کی ٹونٹی لیک کر رہی ہے، پلمبر تین دن سے ٹال رہا ہے۔ کل صبح آ کر دیکھ لو گے۔ میں نے فورا کہا، کیوں نہیں بھابھی، دس بجے آ جاؤں گا۔ انہوں نے کہا، ساسو ماں بریلی گئی ہیں، ایک ہفتے کے لیے۔ گھر بالکل خالی ہے، تم بے فکر آ جانا۔
یہ کہہ کر وہ اٹھیں اور میں بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ دیوار پھلانگتے وقت انہوں نے میرا بازو تھاما اور دھیرے سے کہا، شکریہ بلال، آج تم نے میرا دل ہلکا کر دیا۔ ان کے بدن کی خوشبو میرے ناک میں بھر گئی اور میں ساری رات سو نہ سکا۔ بستر پر کروٹیں بدلتا رہا اور سوچتا رہا کہ کل صبح کیا ہوگا۔
صبح ٹھیک دس بجے میں ان کے دروازے پر تھا۔ شبانہ بھابھی نے دروازہ کھولا اور میری سانس رک گئی۔ انہوں نے ہلکی آسمانی کرتی پہنی تھی، بال گیلے تھے جیسے ابھی نہا کر نکلی ہوں۔ ان کے بدن سے صابن اور عطر کی ملی جلی خوشبو آ رہی تھی۔ آؤ بلال، اندر آؤ۔
گھر میں سناٹا تھا۔ وہ مجھے باتھ روم لے گئیں جہاں واش بیسن کی ٹونٹی سے ٹپ ٹپ پانی گر رہا تھا۔ میں نے اوزار کا ڈبہ کھولا اور کام شروع کر دیا۔ بھابھی میرے پیچھے کھڑی دیکھ رہی تھیں، اتنے قریب کہ ان کی کرتی میری پیٹھ کو چھو رہی تھی۔ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
ٹونٹی کھولتے ہی مسئلہ سمجھ آیا، واشر گھس گیا تھا۔ میں نے نیا واشر لگایا اور پانی چلا کر ٹیسٹ کیا۔ سب ٹھیک تھا۔ مگر جیسے ہی میں نے پائپ کا جوائنٹ کسا، پرانا فلیکسیبل پائپ دھماکے سے پھٹ گیا۔ تیز دھار پانی ہر طرف پھیل گیا اور ہم دونوں سر سے پاؤں تک بھیگ گئے۔
پہلے تو ہم دونوں ہنس پڑے۔ مگر پھر ہنسی تھم گئی۔ بھابھی کی ہلکی کرتی بدن سے چپک گئی تھی اور اس کے نیچے سب کچھ صاف نظر آ رہا تھا۔ ان کے دودھ کرتی کے گیلے کپڑے میں ابھرے ہوئے تھے اور نپلز تنے ہوئے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ میری نظر وہیں جم گئی۔
دیکھ کیا رہے ہو بلال۔ ان کی آواز میں وہی رات والی شرارت تھی۔ میں نے نظر ہٹانے کی کوشش کی مگر نہ ہٹا سکا۔ انہوں نے ایک قدم آگے بڑھایا، پانی اب بھی فرش پر بہہ رہا تھا۔ جواب دو، کیا دیکھ رہے ہو۔ میری زبان خشک ہو گئی۔ آپ کو بھابھی۔
یہ سن کر انہوں نے میرا گیلا شرٹ کا کالر پکڑا اور مجھے اپنی طرف کھینچا۔ تو دیکھو نا، اچھی طرح دیکھو۔ آج سے پہلے کسی نے مجھے اس طرح نہیں دیکھا۔ ان کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے ایک انچ کے فاصلے پر تھے۔ میری دھڑکن اتنی تیز تھی کہ مجھے لگا وہ سن لیں گی۔
پھر انہوں نے خود میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ یہ کوئی ہلکا بوسہ نہیں تھا۔ ان کے ہونٹ گرم اور پیاسے تھے اور ان کی زبان میرے منہ میں گھس آئی۔ میں نے ان کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور انہیں اپنے سے چپکا لیا۔ ان کے گیلے دودھ میرے سینے سے دب گئے۔
انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی کرتی کے اندر ڈال دیا۔ ننگے دودھ، نرم اور گرم، میری ہتھیلی میں بھر گئے۔ میں نے انہیں دبایا تو ان کے منہ سے سسکی نکلی۔ ہاں بلال، ایسے ہی، زور سے۔ میں نے ان کی برا کا ہک کھولا اور کرتی سر سے نکال دی۔
وہ میرے سامنے صرف شلوار میں کھڑی تھیں، دودھ ننگے، نپلز تنے ہوئے۔ میں نے ایک دودھ منہ میں لیا اور چوسنے لگا۔ بھابھی نے میرا سر اپنے سینے سے دبا لیا۔ آہ بلال، بہت دنوں سے کوئی یہ نہیں کیا۔ میں نے دوسرے دودھ کو ہاتھ سے مسلتے ہوئے پہلے کو چاٹا، چوسا، دانتوں سے ہلکا کاٹا۔
پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے بیڈروم لے گئیں۔ بستر پر گراتے ہی انہوں نے میری گیلی شرٹ اتار پھینکی۔ میرا لنڈ پینٹ میں تن کر کھڑا تھا۔ انہوں نے پینٹ کا بٹن کھولا اور لنڈ باہر نکال لیا۔ اسے دیکھ کر ان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اتنا موٹا۔
انہوں نے لنڈ کو ہاتھ میں لیا اور دھیرے دھیرے ہلانے لگیں۔ پھر وہ جھکیں اور اس کی ٹوپی کو زبان سے چاٹا۔ میرے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا۔ انہوں نے پورا لنڈ منہ میں لیا اور چوسنے لگیں۔ ان کا منہ گرم اور گیلا تھا۔ میں نے ان کے بال پکڑے اور کہا، بھابھی، میں جھڑ جاؤں گا۔
وہ رکیں اور مسکرا کر میرے اوپر چڑھ آئیں۔ ابھی نہیں، پہلے میں۔ انہوں نے اپنی شلوار اتاری اور میری رانوں پر بیٹھ گئیں۔ ان کی چوت میرے لنڈ سے ٹکرا رہی تھی، گیلی اور گرم۔ انہوں نے لنڈ کو پکڑا اور اپنی چوت کے منہ پر رکھا، پھر دھیرے سے نیچے بیٹھ گئیں۔
لنڈ ان کی چوت میں گہرائی تک اتر گیا۔ ہم دونوں کے منہ سے ایک ساتھ آہ نکلی۔ ان کی چوت تنگ اور گیلی تھی، میرے لنڈ کو کس کر پکڑے ہوئے تھی۔ وہ میرے اوپر اچھلنے لگیں، پہلے دھیرے، پھر تیز۔ ان کے دودھ میرے چہرے کے سامنے اچھل رہے تھے۔
میں نے ان کے دودھ پکڑے اور نیچے سے دھکے لگانے لگا۔ بھابھی چلا رہی تھیں، ہاں بلال، اور زور سے، اور گہرا۔ کمرہ ان کی سسکیوں سے گونج رہا تھا۔ میں نے انہیں پلٹا اور خود اوپر آیا۔ ان کی ٹانگیں میرے کندھوں پر رکھیں اور پوری طاقت سے چودنے لگا۔
اب میں نے انہیں کتیا بنایا۔ وہ بستر پر گھٹنوں کے بل جھکیں اور میں نے پیچھے سے ان کی چوت میں لنڈ ڈال دیا۔ اس پوزیشن میں لنڈ اور بھی گہرا جا رہا تھا۔ میں نے ان کے کولہے پکڑے اور زور زور سے دھکے لگائے۔ ان کی چیخیں نکل رہی تھیں۔
بلال میں جھڑ رہی ہوں۔ ان کی چوت نے میرے لنڈ کو کس لیا اور ان کا بدن کانپنے لگا۔ یہ دیکھ کر میں بھی نہ رک سکا۔ میں نے آخری زور کا دھکا لگایا اور ان کی چوت میں ہی جھڑ گیا۔ گرم پانی ان کے اندر بہہ گیا۔ ہم دونوں ہانپتے ہوئے بستر پر گر پڑے۔
کچھ دیر ہم یوں ہی لیٹے رہے۔ بھابھی میرے سینے پر سر رکھے تھیں اور ان کی انگلیاں میرے سینے کے بالوں میں کھیل رہی تھیں۔ انہوں نے کہا، بلال، یہ بات کسی کو پتہ نہیں چلنی چاہیے۔ میں نے کہا، بھابھی، یہ راز میری قبر تک جائے گا۔ وہ مسکرائیں اور میرے ہونٹوں پر بوسہ دیا۔
مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ بھابھی نے شرارت سے میری طرف دیکھا اور کہا، ایک بار میں میرا دل نہیں بھرا۔ یہ کہہ کر وہ میرے لنڈ کو ہاتھ میں لے کر سہلانے لگیں۔ تھوڑی دیر میں وہ پھر کھڑا ہو گیا۔ اس بار بھابھی میرے اوپر بیٹھیں اور خود چلیں۔
وہ میرے لنڈ پر اچھل رہی تھیں اور میں ان کے دودھ چوس رہا تھا۔ اس بار ہم دونوں نے ایک ساتھ جھڑنے کا فیصلہ کیا۔ جب ان کی چوت کسنے لگی تو میں نے بھی دھکے تیز کر دیے۔ ہم دونوں ایک ساتھ چلائے اور ایک ساتھ جھڑے۔ ان کا پانی میری رانوں پر بہہ گیا۔
اس کے بعد ہم نے ساتھ نہایا۔ شاور کے نیچے بھابھی نے میرے بدن پر صابن لگایا اور میں نے ان کے۔ ہنسی مذاق میں وقت گزر گیا۔ پھر میں نے کپڑے پہنے اور جانے لگا۔ بھابھی نے دروازے تک چھوڑا اور کہا، کل پھر آنا، ٹونٹی تو ٹھیک ہو گئی مگر۔
میں نے مسکرا کر کہا، مگر کیا بھابھی۔ وہ کچھ کہنے ہی والی تھیں کہ اچانک مین گیٹ کی کنڈی کھلنے کی آواز آئی۔ کوئی چابی سے دروازہ کھول رہا تھا۔ بھابھی کا چہرہ ایک دم سفید پڑ گیا۔ ان کے ہونٹ کانپے، یہ تو ندیم کی چابی کی آواز ہے۔ اگلا پارٹ جلد آ رہا ہے۔
اردو پڑوسی کی بیوی کی چدائی: حصہ 2 (دروازے پر دستک)
Readers who enjoyed “اردو پڑوسی کی بیوی کی چدائی: چھت والی رات (حصہ 1)” also read
8 curated storiesاردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی بارش والی رات
اردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی ایک طوفانی رات جب ہوا رخسانہ کے کپڑے کبیر کی چھت پر اڑا لے گئی، اور ایک دستک نے دونوں کی زندگی بدل دی۔
اردو پڑوسی کی بیوی: بارش والی رات کا راز
اردو پڑوسی کی بیوی فراہ کی بارش والی رات۔ AC کا پائپ لیک ہوا اور کامران اوپر گیا، پھر جو ہوا وہ اس نے سوچا بھی نہ تھا۔
اردو پڑوسی آنٹی کی کہانی: بھوپال میں فرح اور بلال کی رات
بھوپال کی ایک خاموش گلی میں پڑوسی آنٹی فرح اور نوجوان بلال کے درمیان ایک پرانی یاد اچانک نئی آگ بن جاتی ہے۔
اردو نرس سیکس کہانی: رات کی ڈیوٹی والی نرس
اردو نرس سیکس کہانی: لکھنؤ کے اسپتال میں رات کی ڈیوٹی پر نرس شبانہ اور مریض عمران کے درمیان بھڑک اٹھنے والی آگ کی کہانی۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو ساس کی چدائی: جمعہ کی دوپہر کا راز
جمعہ کی دوپہر، حنا لاہور گئی ہوئی ہے اور گھر میں صرف عدیل اور اس کی بیوہ ساس شازیہ ہیں۔ ایک فون کال سے شروع ہونے والی چھیڑ چھاڑ دوپہر کو ایک ناقابل فراموش راز میں بدل دیتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔