اردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی بارش والی رات
"کبیر! دروازہ کھولو، جلدی!" رخسانہ کی آواز بارش کے شور میں ڈوب رہی تھی۔ یہ میری اردو پڑوسن کی کہانی ہے، اور یہ اسی ایک دستک سے شروع ہوئی تھی، اکتوبر کی اس رات جب آسمان پھٹ پڑا تھا اور ہوا دیواروں سے ٹکرا کر چیخ رہی تھی۔
میں نے دروازہ کھولا تو سامنے وہ کھڑی تھی۔ بھیگی ہوئی۔ اس کی ہلکی گلابی کرتی جسم سے چپک چکی تھی اور بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں گھبراہٹ تھی، مگر ہونٹوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ بھی۔ "تمہاری چھت پر!" وہ ہانپتے ہوئے بولی۔ "آندھی میں میرے سارے کپڑے تمہاری طرف اڑ گئے۔ میری نئی چادر بھی!"
ہمارے مکان لکھنؤ کے پرانے محلے میں دیوار سے دیوار جڑے تھے۔ چھت ایک ہی تھی، بس بیچ میں ایک ڈیڑھ فٹ کی منڈیر۔ کپڑے سکھانے کی ایک ہی لمبی رسی دونوں طرف کھنچی ہوئی تھی۔ میں پچیس کا تھا، رات کی شفٹ میں ڈیٹا انٹری کا کام کرتا تھا، اور اس ہفتے امی کانپور خالہ کے گھر گئی ہوئی تھیں۔ گھر میں میں اکیلا تھا۔
"اندر آؤ، بھیگ جاؤ گی۔" میں نے کہا۔
"نہیں، پہلے کپڑے!" اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور سیڑھیوں کی طرف کھینچا۔ اس کے ہاتھ کی گرفت گرم تھی، بارش کے باوجود گرم۔ ہم دونوں چھت پر پہنچے تو ہوا نے ہمیں ایک دھکا دیا۔ رسی خالی جھول رہی تھی اور اس کے کپڑے میری طرف بکھرے پڑے تھے۔ ایک قمیض اینٹینے کے تار میں پھنسی تھی، شلوار منڈیر پر لٹکی تھی۔
بجلی چمکی۔ اس ایک لمحے کی روشنی میں میں نے اسے صاف دیکھا۔ بھیگی کرتی اس کے سینے سے چپکی ہوئی تھی، اور اس کے ابھار صاف نظر آ رہے تھے۔ میری سانس رک گئی۔ اس نے میری نظر پکڑ لی، مگر نظریں نہیں ہٹائیں۔ بلکہ آہستہ سے بولی، "دیکھ کیا رہے ہو؟ کپڑے اٹھاؤ۔"
ہم دونوں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کپڑے سمیٹنے لگے۔ اندھیرا تھا، صرف کبھی کبھی بجلی چمکتی تھی۔ ایک چادر اٹھاتے وقت ہمارے ہاتھ ٹکرائے۔ اس نے ہاتھ نہیں ہٹایا۔ میں نے بھی نہیں۔ بارش کی بوندیں ہمارے چہروں پر گر رہی تھیں اور ہمارے درمیان کی ہوا بھاری ہوتی جا رہی تھی۔
"تمہارے شوہر کب آ رہے ہیں؟" میں نے پوچھا، آواز کو معمول پر رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے۔
"سلیم؟" وہ ہنسی۔ "وہ ٹرک لے کر گجرات گیا ہے۔ دس دن لگیں گے۔" اس نے ایک قمیض نچوڑی اور میری طرف دیکھا۔ "تم اکیلے ہو اس ہفتے، ہے نا؟ تمہاری امی کانپور گئی ہیں۔"
"تمہیں کیسے پتا؟"
"پڑوسن ہوں، کبیر۔ مجھے سب پتا ہوتا ہے۔" اس کی آواز میں ایک شرارت تھی جو میں نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔
آخری چادر منڈیر کے اس پار پھنسی تھی۔ میں اسے کھینچنے کے لیے آگے بڑھا تو میرا پاؤں پھسلا۔ میں گرا نہیں، مگر سنبھلتے ہوئے میرا ہاتھ اس کی کمر پر جا پڑا۔ بھیگی ہوئی نرم جلد۔ وہ ایک لمحے کو ساکت ہو گئی۔ پھر اس نے میرا ہاتھ وہیں رہنے دیا۔ بارش زور سے برسنے لگی۔
"اندر چلو۔" میں نے کہا۔ میری آواز بھاری ہو چکی تھی۔ "تم کانپ رہی ہو۔"
"ہاں۔" بس اتنا کہا اس نے۔ اور وہ لفظ میرے سینے میں اتر گیا۔
ہم نیچے اترے۔ میرے کمرے میں پہنچ کر میں نے دروازہ بند کیا۔ اس نے اپنے بال نچوڑے اور فرش پر پانی کے قطرے گرے۔ "تولیہ دو گی؟" اس نے پوچھا۔ میں نے الماری سے تولیہ نکال کر دیا۔ اس نے تولیہ لیا، مگر پونچھنے کے بجائے اسے کندھے پر ڈال دیا اور میری طرف دیکھتی رہی۔
"تم بدل لو۔" میں نے کہا۔ "نہیں تو بیمار پڑ جاؤ گی۔"
"میرے پاس بدلنے کو کچھ نہیں ہے۔ سب کپڑے بھیگے ہوئے ہیں۔" وہ ایک قدم آگے بڑھی۔ "تمہارے پاس کچھ ہے؟"
میرے گلے میں کچھ اٹک گیا۔ میں نے ایک پرانی قمیض نکال کر دی۔ اس نے قمیض لی اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنی بھیگی کرتی کے بٹن کھولنے شروع کر دیے۔ ایک۔ دو۔ تین۔ میری نظریں وہیں جم گئیں۔ اس نے کرتی اتاری اور فرش پر پھینک دی۔ اندر اس نے کچھ نہیں پہنا تھا۔
اس کے ممے بھاری اور گول تھے، بھیگے ہوئے، نپل سخت ہو کر کھڑے تھے۔ میرا لنڈ پتلون میں تن کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے دیکھا۔ مسکرائی۔ "چھپاؤ مت۔" وہ بولی۔ "میں نے دیکھ لیا۔"
میں نے ایک قدم بڑھایا اور اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنی طرف کھینچا۔ ہمارے ہونٹ ملے۔ پہلا بوسہ نرم تھا، بارش جیسا۔ پھر اس نے میرے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے کاٹا اور میری زبان اپنے منہ میں کھینچ لی۔ ہم ایک دوسرے کو چومتے رہے، اس کی زبان میری زبان سے الجھتی رہی، اور میرے ہاتھ اس کی پیٹھ پر پھسلتے رہے۔
میں نے اسے اٹھا کر بستر پر لٹا دیا۔ اس کی ٹانگیں میرے کندھوں کے گرد تھیں۔ میں نے اس کی گردن پر بوسے دیے، پھر نیچے اترتا گیا۔ اس کے مموں کو منہ میں لیا۔ پہلے ایک نپل چوسا، پھر دوسرا۔ وہ کراہنے لگی۔ "آہ... کبیر..." اس کی آواز میں ایک پیاس تھی جو برسوں کی لگتی تھی۔
میرے ہاتھ اس کے پیٹ پر پھسلے، پھر نیچے۔ اس کی شلوار بھی بھیگی تھی۔ میں نے اس کا ناڑا کھولا اور شلوار کھینچ کر اتار دی۔ اس کی چوت میرے سامنے تھی۔ گیلی، پھولی ہوئی، اس کے ہونٹ کھلے ہوئے۔ میں نے ایک انگلی اندر ڈالی۔ وہ تڑپ اٹھی۔
"کتنی گیلی ہو تم۔" میں نے سرگوشی کی۔
"تمہارے لیے۔" اس نے جواب دیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی چوت پر دبا دیا۔ "اور اندر ڈالو۔"
میں نے دو انگلیاں اندر کیں اور انگوٹھے سے اس کے دانے کو رگڑا۔ وہ بستر پر مچلنے لگی، اس کے ہاتھ چادر کو نوچ رہے تھے۔ "ہاں... ایسے ہی... رکّو مت..." میں نے رفتار بڑھا دی۔ اس کی سانسیں تیز ہو گئیں، پھر ایک زوردار کراہ کے ساتھ اس کا جسم اکڑا اور اس کی چوت نے میری انگلیوں کو نچوڑا۔ اس کا پانی نکل گیا، میرا ہاتھ بھیگ گیا۔
وہ ہانپ رہی تھی۔ میں نے اپنی قمیض اتاری، پتلون کھولی۔ میرا لنڈ پوری طرح تنا ہوا تھا، نوک پر قطرہ چمک رہا تھا۔ اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ "اتنا بڑا..." وہ بولی اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس نے میرے لنڈ کو ہاتھ میں لیا اور آہستہ سے ہلایا۔ پھر اس نے اسے منہ میں لے لیا۔
اس کا منہ گرم تھا۔ وہ لنڈ کو اندر باہر کرتی رہی، زبان نوک پر گھماتی رہی۔ میرے ہاتھ اس کے بالوں میں تھے۔ "رخسانہ..." میں کراہا۔ اس نے رفتار بڑھا دی، میرا لنڈ اس کے حلق تک اتر گیا۔ میں جھڑنے کے قریب تھا، مگر میں نے اسے روکا۔ "ابھی نہیں۔" میں نے اسے بستر پر لٹایا۔ "ابھی تو شروعات ہے۔"
میں اس کے اوپر آیا۔ اس نے اپنی ٹانگیں کھول دیں اور میری کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ میں نے اپنے لنڈ کو اس کی چوت کے منہ پر رگڑا۔ وہ تڑپ رہی تھی۔ "ڈالو... اب مت تڑپاؤ..." میں نے ایک دھکا دیا۔ میرا لنڈ اس کی گیلی چوت میں پھسلتا ہوا اندر اتر گیا۔
ہم دونوں ایک ساتھ کراہے۔ اس کی چوت تنگ اور گرم تھی، میری انگلیوں سے بھی تنگ۔ میں نے آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے۔ ہر دھکے کے ساتھ بستر چرمراتا تھا۔ باہر بارش کی آواز تھی، اندر ہماری سانسوں کی۔ میں نے اس کے ممے پکڑے اور دباتے ہوئے چودتا رہا۔
"اور زور سے..." وہ بولی۔ "مجھے زور سے چودو، کبیر..."
میں نے رفتار بڑھا دی۔ میرے دھکے اب گہرے اور تیز تھے۔ اس کے ناخن میری پیٹھ میں گڑ رہے تھے۔ "ہاں! ایسے ہی! میری چوت پھاڑ دو!" وہ چیخ رہی تھی۔ میں نے اسے پلٹا اور اسے گھوڑی بنایا۔ پیچھے سے میں نے ایک ہی جھٹکے میں پورا لنڈ اندر ڈال دیا۔ وہ چلّائی۔
میں نے اس کے کولہے پکڑے اور پوری طاقت سے چودنے لگا۔ اس کے ممے ہر دھکے کے ساتھ ہل رہے تھے۔ "آہ! آہ! میں آ رہی ہوں!" اس کا جسم کانپنے لگا۔ اس کی چوت نے میرے لنڈ کو کس کر نچوڑا۔ میں نے دو چار گہرے دھکے اور لگائے اور پھر میں بھی جھڑ گیا۔ میرا پانی اس کی چوت میں اتر گیا۔ ہم دونوں بستر پر ڈھیر ہو گئے۔
کچھ دیر ہم ویسے ہی لیٹے رہے۔ بارش کی آواز مدھم ہو رہی تھی۔ اس نے میری چھاتی پر سر رکھا اور بولی، "سات سال ہو گئے شادی کو، کبیر۔ سلیم مہینے میں دس دن گھر ہوتا ہے۔ اور ان دس دنوں میں بھی..." وہ رکی۔ "تم پہلے ہو جس نے مجھے ایسے چھوا۔"
میں نے اس کے بال سہلائے۔ "اور آخری نہیں۔"
وہ ہنسی۔ پھر اس کا ہاتھ نیچے سرکا۔ میرا لنڈ پھر سے تننے لگا تھا۔ اس کی آنکھوں میں شرارت لوٹ آئی۔ "ابھی ایک چادر رہ گئی ہے۔" وہ بولی۔ "وہ والی جو اینٹینے میں پھنسی ہے۔"
"تو؟"
"تو چھت پر چلو۔" وہ اٹھی اور میری قمیض پہن لی۔ قمیض اس کے گھٹنوں تک آتی تھی۔ "اس بار اندھیرے میں نہیں۔ بجلی کی روشنی میں۔"
ہم چھت پر گئے۔ بارش اب بوندا باندی تھی۔ وہ اینٹینے کی طرف بڑھی اور چادر کھینچنے لگی۔ میں پیچھے سے اس سے لپٹ گیا۔ میرے ہاتھ قمیض کے اندر سرکے اور اس کے ممے دبانے لگے۔ وہ کراہی اور دیوار سے ٹک گئی۔
میں نے قمیض اوپر کی۔ اس کے کولہے ننگے تھے۔ میں نے اپنا لنڈ نکالا اور پیچھے سے اس کی چوت میں ڈال دیا۔ وہ دیوار کو پکڑے کھڑی تھی۔ میں نے اسے وہیں، کھلی چھت پر، بارش کی بوندوں میں چودنا شروع کیا۔ ہر دھکے کے ساتھ وہ آگے کو جھکتی تھی۔
بجلی چمکی اور اس کی روشنی میں میں نے اس کا چہرہ دیکھا۔ آنکھیں بند، منہ کھلا، مکمل مستی میں ڈوبی ہوئی۔ "کبیر... مجھے ایسے ہی چاہیے... ہمیشہ..." میں نے اس کے بال کھینچے اور اس کی گردن پر کاٹا۔ وہ چلّائی اور جھڑ گئی۔ میں نے اسے دیوار سے لگا کر آخری دھکے لگائے اور پھر سے اس کے اندر جھڑ گیا۔
ہم نے چادر اتاری۔ نیچے آ کر اس نے اپنے کپڑے سمیٹے۔ دروازے پر وہ رکی، مڑی، اور بولی، "کل بھی کپڑے دھونے ہیں۔ اور پرسوں بھی۔" اس کی آنکھوں میں وہی مسکراہٹ تھی جو چھت پر تھی۔ "دروازہ کھلا رکھنا۔"
پھر وہ بارش میں بھیگتی ہوئی اپنے گھر چلی گئی، اور میں دروازے پر کھڑا اسے دیکھتا رہا، جب تک وہ اوجھل نہ ہو گئی۔
Readers who enjoyed “اردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی بارش والی رات” also read
8 curated storiesاردو پڑوسی کی بیوی: بارش والی رات کا راز
اردو پڑوسی کی بیوی فراہ کی بارش والی رات۔ AC کا پائپ لیک ہوا اور کامران اوپر گیا، پھر جو ہوا وہ اس نے سوچا بھی نہ تھا۔
اردو پڑوسی آنٹی کی کہانی: بھوپال میں فرح اور بلال کی رات
بھوپال کی ایک خاموش گلی میں پڑوسی آنٹی فرح اور نوجوان بلال کے درمیان ایک پرانی یاد اچانک نئی آگ بن جاتی ہے۔
اردو نرس سیکس کہانی: رات کی ڈیوٹی والی نرس
اردو نرس سیکس کہانی: لکھنؤ کے اسپتال میں رات کی ڈیوٹی پر نرس شبانہ اور مریض عمران کے درمیان بھڑک اٹھنے والی آگ کی کہانی۔
اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین
کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو ساس کی چدائی: جمعہ کی دوپہر کا راز
جمعہ کی دوپہر، حنا لاہور گئی ہوئی ہے اور گھر میں صرف عدیل اور اس کی بیوہ ساس شازیہ ہیں۔ ایک فون کال سے شروع ہونے والی چھیڑ چھاڑ دوپہر کو ایک ناقابل فراموش راز میں بدل دیتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔