اردو پڑوسی کی بیوی: بارش والی رات کا راز
’’کامران، اوپر آنا۔ جلدی!‘‘ رات کے گیارہ بجے فراہ کی آواز بالکونی سے اتری، اور کامران کی نیند اڑ گئی۔ یہ ایک اردو پڑوسی کی بیوی کی کہانی ہے جو ایک بارش والی رات شروع ہوئی۔ کامران بستر سے اٹھا، نیچے کی چھت سے پانی ٹپک رہا تھا۔
’’کیا ہوا بھابی؟‘‘ کامران نے نیچے سے پوچھا، آواز میں نیند اور حیرت دونوں تھے۔ فراہ ہنسی، وہ تیز ہنسی جو ہمیشہ کامران کے دل کی دھڑکن بڑھا دیتی تھی۔ ’’تمہارے کمرے میں جو پانی گر رہا ہے وہ میرے AC کے پائپ سے آ رہا ہے۔‘‘
’’تو پائپ بند کر دو نا!‘‘ کامران نے کہا، اور پھر فراہ کی بات سن کر اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ ’’میں نہیں کر سکتی، پائپ پھنس گیا ہے۔ تم اوپر آ کر خود دیکھو۔‘‘ باہر بارش زوروں پر تھی، بجلی چمک رہی تھی۔
کامران نے بنیان اور پاجامہ پہنا، چپل گھسیٹی اور سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ دل عجیب طرح سے دھڑک رہا تھا۔ فراہ بھابی تینتیس سال کی تھیں، تیز زبان، اور ان کا شوہر طارق ٹرک ڈرائیور تھا جو مہینوں گھر نہیں آتا تھا۔
دروازہ کھلا تھا۔ فراہ سامنے کھڑی تھیں۔ گیلی نائٹی جسم سے چپکی ہوئی تھی، بال بکھرے ہوئے، اور آنکھوں میں وہ شرارت جو کامران نے پہلے کبھی اتنے قریب سے نہیں دیکھی تھی۔ ’’اندر آؤ، بارش میں بھیگ جاؤ گے۔‘‘
’’میں تو پہلے ہی...‘‘ کامران کی بات ادھوری رہ گئی۔ فراہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اندر کھینچ لیا۔ ان کا ہاتھ گرم تھا، نرم تھا۔ دروازہ بند ہوا، اور کنڈی کی آواز کمرے میں گونجی۔
’’کنڈی کیوں لگائی؟‘‘ کامران نے پوچھا، گلہ خشک ہو رہا تھا۔ فراہ مسکرائیں، ہونٹوں پر وہ مسکراہٹ جو مردوں کو پاگل کر دیتی ہے۔ ’’بارش کی آواز سے ڈر لگتا ہے۔ تم ہو تو ڈر نہیں لگے گا۔‘‘
کمرے میں AC چل رہا تھا، ٹھنڈی ہوا۔ مگر کامران کو پسینہ آ رہا تھا۔ فراہ آگے بڑھیں، ان کی گیلی نائٹی سے پانی کی بوندیں فرش پر گر رہی تھیں۔ ’’پائپ تو بالکونی میں ہے،‘‘ کامران نے کہا۔
’’پہلے یہ بتاؤ،‘‘ فراہ نے اس کے سینے پر انگلی رکھی، ’’تم مجھے کب سے اس طرح دیکھ رہے ہو؟‘‘ کامران کی سانس رک گئی۔ ’’میں... میں نہیں...‘‘ فراہ ہنسی، ’’جھوٹ مت بولو۔ سیڑھیوں پر، دکان سے آتے ہوئے، سب دیکھا ہے میں نے۔‘‘
کامران کے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔ فراہ اتنی قریب تھیں کہ ان کے جسم کی گرمی محسوس ہو رہی تھی۔ گیلی نائٹی کے نیچے سب کچھ صاف نظر آ رہا تھا۔ کامران کی نظریں ہٹ نہیں رہی تھیں۔
’’دیکھ لو، آج اجازت ہے،‘‘ فراہ نے سرگوشی کی، اور کامران کا دل زور سے دھڑکا۔ ’’طارق؟‘‘ کامران نے پوچھا۔ ’’طارق ملتان گیا ہے، تین دن بعد آئے گا۔‘‘ فراہ کی آواز میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔
پھر فراہ نے وہ کیا جس کا کامران نے خوابوں میں بھی تصور نہیں کیا تھا۔ انہوں نے نائٹی کے سٹرپ کندھے سے سرکا دیے۔ نائٹی زمین پر گر گئی۔ کامران کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔
’’تمہیں پائپ ٹھیک کرنا تھا نا؟‘‘ فراہ نے شرارت سے کہا، ’’یہاں ایک اور پائپ ہے جو بہت دنوں سے بند پڑا ہے۔‘‘ کامران ہنس پڑا، گھبراہٹ میں۔ ’’بھابی، یہ...‘‘ ’’ششش،‘‘ فراہ نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھی۔
فراہ نے کامران کی بنیان پکڑی اور اوپر کھینچ دی۔ ان کی انگلیاں اس کے سینے پر پھرنے لگیں۔ کامران کے جسم میں بجلی سی دوڑ گئی۔ ’’تمہارا جسم...‘‘ فراہ نے کہا، ’’دکان پر کپڑے اٹھاتے ہو، محنت نظر آتی ہے۔‘‘
کامران نے فراہ کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔ ان کا ننگا جسم اس سے لپٹ گیا۔
گرم، نرم، کانپتا ہوا۔ کامران نے ان کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے۔ پہلا بوسہ، لمبا، گہرا، بھوکا۔
فراہ کی زبان کامران کے منہ میں گھس گئی۔ دونوں کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ کامران کے ہاتھ فراہ کی پیٹھ پر پھرنے لگے، نیچے، ان کے کولہوں پر۔ فراہ نے ہلکی سی آہ بھری۔
’’آہستہ...‘‘ فراہ نے کہا، مگر ان کی آنکھوں میں آہستہ کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ کامران نے ان کی گردن پر بوسے دینے شروع کیے۔ فراہ نے سر پیچھے کیا، بال بکھر گئے۔
کامران کے ہونٹ گردن سے نیچے اترے، کندھے پر، پھر سینے پر۔ فراہ کے ممے سخت ہو رہے تھے، ان کے نپل کھڑے ہو گئے تھے۔ کامران نے ایک نپل منہ میں لیا اور چوسنے لگا۔
’’آہ... کامران...‘‘ فراہ کی آواز کمرے میں گونجی۔ ان کے ہاتھ کامران کے بالوں میں تھے، اس کا سر اپنے سینے پر دبائے ہوئے۔ کامران دوسرے ممے کو ہاتھ سے دبا رہا تھا، مسل رہا تھا۔
فراہ کی چوت گیلی ہو رہی تھی، کامران محسوس کر سکتا تھا۔ ان کی رانوں کے بیچ سے گرمی نکل رہی تھی۔ کامران نے ہاتھ نیچے کیا، فراہ کی ران پر، پھر اندر کی طرف۔
’’نہیں،‘‘ فراہ نے اس کا ہاتھ روکا، ’’پہلے تم۔‘‘ انہوں نے کامران کا پاجامہ کھولا۔ کامران کا لنڈ پہلے سے کھڑا تھا، تنا ہوا۔ فراہ کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔
’’اوہ...‘‘ فراہ نے لنڈ کو ہاتھ میں لیا۔ ’’اتنا بڑا...‘‘ ان کی انگلیاں لنڈ پر پھرنے لگیں، اوپر نیچے۔ کامران نے آنکھیں بند کر لیں، مزہ اس کے جسم میں لہریں مار رہا تھا۔
پھر فراہ گھٹنوں پر بیٹھ گئیں۔ کامران کی سانس رک گئی۔ فراہ نے لنڈ کو منہ میں لیا۔
گرم، گیلا منہ۔ کامران کے گھٹنے کانپنے لگے۔ ’’بھابی...‘‘
’’ششش،‘‘ فراہ نے لنڈ منہ سے نکال کر کہا، پھر دوبارہ لے لیا۔ ان کی زبان لنڈ کے سرے پر گھوم رہی تھی۔ کامران کے ہاتھ ان کے بالوں میں تھے۔ کمرے میں صرف چوسنے کی آوازیں اور بارش کی آواز تھی۔
کامران نے فراہ کو اٹھایا۔ ’’اب میری باری،‘‘ اس نے کہا۔ فراہ ہنسی، ’’بڑے بہادر بن رہے ہو۔‘‘ کامران نے انہیں بستر پر لٹا دیا۔ فراہ کی ٹانگیں کھل گئیں۔
کامران نے فراہ کی چوت کو دیکھا۔ گیلی، پھولی ہوئی، تیار۔
اس نے انگلی سے چھوا۔ فراہ نے جسم اکڑایا۔ ’’آہ...‘‘ کامران نے انگلی اندر ڈالی، آہستہ آہستہ۔
فراہ کی چوت سے پانی نکل رہا تھا۔ کامران نے دوسری انگلی ڈالی۔
فراہ کی کمر اٹھنے لگی۔ ’’اور... اور اندر...‘‘ کامران مسکرایا، ’’صبر کرو بھابی۔‘‘
کامران نے منہ نیچے کیا۔ اس کی زبان فراہ کی چوت پر لگی۔
فراہ چیخ پڑیں۔ ’’آہ! کامران!‘‘ کامران نے چوت کو چاٹنا شروع کیا، اوپر نیچے، زبان اندر ڈالتے ہوئے۔
فراہ کے ہاتھ بستر کی چادر کو نوچ رہے تھے۔ ان کی ٹانگیں کامران کے سر کے گرد لپٹ گئیں۔ ’’مت روکو... مت روکو...‘‘ کامران نے رفتار بڑھا دی۔
اچانک فراہ کا جسم کانپنے لگا۔ ایک زوردار آہ نکلی۔ ان کی چوت سے پانی بہہ نکلا۔ کامران نے چاٹنا جاری رکھا جب تک فراہ کا جسم پرسکون نہ ہو گیا۔
’’تم... تم تو ماہر ہو،‘‘ فراہ نے ہانپتے ہوئے کہا۔ کامران نے اوپر آ کر ان کے ہونٹ چومے۔ ’’ابھی تو شروعات ہے۔‘‘ فراہ کی آنکھوں میں حیرت اور خواہش دونوں تھیں۔
کامران نے اپنا لنڈ فراہ کی چوت کے منہ پر رکھا۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ ’’تیار ہو؟‘‘ فراہ نے سر ہلایا، ’’ہاں... اندر ڈالو...‘‘ کامران نے دھکا دیا۔
لنڈ آہستہ آہستہ اندر گیا۔ فراہ نے آنکھیں بند کر لیں، منہ کھل گیا۔ ’’آہ...
اتنا... بھرا ہوا...‘‘ کامران نے پورا لنڈ اندر کر دیا۔ فراہ کی چوت نے اسے کس کر پکڑ لیا۔
کامران نے چودنا شروع کیا۔ آہستہ، گہرے دھکے۔
فراہ کی کمر ہر دھکے کے ساتھ اٹھ رہی تھی۔ ’’ہاں... ایسے ہی...‘‘ بستر چرچرانے لگا۔
کامران نے رفتار بڑھائی۔ فراہ کے ممے ہر دھکے کے ساتھ ہل رہے تھے۔ کامران نے ایک ممے کو ہاتھ سے پکڑا، نپل کو مسلا۔ فراہ چیخنے لگیں۔
’’زور سے... اور زور سے چودو...‘‘ فراہ کی آواز میں بے قراری تھی۔ کامران نے پوری طاقت سے دھکے مارنے شروع کیے۔ کمرے میں گوشت سے گوشت ٹکرانے کی آواز گونجنے لگی۔
فراہ نے اپنی ٹانگیں کامران کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ ’’آہ...
میں... میں آنے والی ہوں...‘‘ کامران نے رکنے کا نام نہیں لیا۔ دھکے تیز، گہرے۔
فراہ کا جسم اکڑ گیا۔ ایک لمبی چیخ نکلی۔
ان کی چوت نے لنڈ کو نچوڑا۔ کامران نے محسوس کیا کہ وہ بھی قریب ہے۔ اس نے لنڈ باہر نکالا۔
’’نہیں، اندر ہی...‘‘ فراہ نے کہا، مگر کامران نے ان کا منہ اپنی طرف کیا۔ ’’منہ کھولو۔‘‘ فراہ نے منہ کھولا۔ کامران نے لنڈ ان کے منہ میں ڈالا اور جھڑ گیا۔
گرم منی فراہ کے منہ میں بھری۔ فراہ نے سب نگل لیا، پھر مسکرائیں۔ ’’تمہارا ذائقہ... اچھا ہے۔‘‘ کامران ہنس پڑا، پسینے میں شرابور۔
دونوں بستر پر لیٹ گئے۔ بارش اب بھی ہو رہی تھی۔
فراہ کامران کے سینے پر سر رکھے تھیں۔ ’’کتنے دنوں بعد...‘‘ فراہ نے سرگوشی کی۔ ’’طارق تو...‘‘
’’طارق کو مت یاد کرو،‘‘ کامران نے کہا۔ فراہ نے اسے دیکھا، ’’تمہیں جلن ہو رہی ہے؟‘‘ کامران مسکرایا، ’’تھوڑی سی۔‘‘ فراہ ہنسی، وہ تیز ہنسی۔
پھر فراہ اٹھیں۔ ’’پائپ تو ابھی بھی لیک کر رہا ہے،‘‘ انہوں نے شرارت سے کہا۔
کامران نے انہیں دیکھا، ننگی، بے خوف۔ ’’پائپ بعد میں۔ پہلے یہ بتاؤ، تمہیں اور چاہیے؟‘‘
’’تم پوچھ رہے ہو؟‘‘ فراہ نے اس کے لنڈ کو ہاتھ میں لیا، جو دوبارہ کھڑا ہو رہا تھا۔ ’’جواب تو تمہارے جسم نے دے دیا۔‘‘ کامران نے انہیں کھینچ کر اپنے اوپر لٹا دیا۔
فراہ کامران کے اوپر بیٹھ گئیں۔ انہوں نے لنڈ کو اپنی چوت میں خود ڈالا۔ ’’آہ...‘‘ دونوں نے ایک ساتھ آہ بھری۔ فراہ نے ہلنا شروع کیا، اوپر نیچے۔
کامران نے فراہ کے کولہوں کو پکڑا، ان کی حرکت میں مدد کرتے ہوئے۔ فراہ کے بال ان کے چہرے پر آ رہے تھے۔ پسینہ دونوں کے جسموں پر چمک رہا تھا۔
’’تم... بہت... اچھے ہو...‘‘ فراہ ہانپ رہی تھیں۔
کامران نے ان کے ممے پکڑے، دبائے۔ فراہ کی رفتار بڑھ گئی۔ کمرے میں ان کی آہیں گونج رہی تھیں۔
کامران نے فراہ کو پلٹا۔ اب وہ گھوڑی بنی ہوئی تھیں، بستر پر۔ کامران پیچھے سے آیا۔ اس نے لنڈ چوت میں ڈالا، ایک ہی دھکے میں پورا۔
’’آہ!‘‘ فراہ چیخیں۔ کامران نے ان کے کولہوں کو پکڑا اور زور زور سے چودنے لگا۔ فراہ کا سر بستر میں دھنس گیا۔
’’ہاں... ایسے... پیچھے سے...‘‘
کامران کی ہر ضرب پر فراہ کا جسم آگے کو جھٹکا کھاتا۔ ان کی آوازیں تیز ہوتی گئیں۔ ’’میں... پھر سے...‘‘ فراہ کا جسم کانپنے لگا۔
دوسری بار کا عروج پہلے سے زیادہ تیز تھا۔ فراہ کی چیخ کمرے میں گونجی۔ کامران نے بھی اپنے آپ کو نہ روکا۔ اس نے لنڈ نکالا اور فراہ کی پیٹھ پر جھڑ گیا۔
دونوں بستر پر گر گئے۔ سانسیں تیز، جسم پسینے میں۔ فراہ نے کامران کی طرف دیکھا، ’’تم نے تو آج مجھے مار ہی ڈالا۔‘‘ کامران ہنسا، ’’تم نے شروع کیا تھا۔‘‘
باہر بارش تھم رہی تھی۔ گھڑی میں ڈیڑھ بج رہا تھا۔ فراہ اٹھیں، نائٹی پہنی۔ ’’پائپ دیکھ لو، ورنہ کل پھر پانی ٹپکے گا۔‘‘ کامران نے بھی کپڑے پہنے۔
بالکونی میں جا کر کامران نے AC کا ڈرین پائپ دیکھا۔ واقعی مڑا ہوا تھا، پانی نیچے کی طرف بہہ رہا تھا۔ اس نے پائپ سیدھا کیا، جوڑ مضبوط کیا۔
’’ہو گیا،‘‘ کامران نے کہا۔ فراہ دروازے پر کھڑی مسکرا رہی تھیں۔ ’’شکریہ، مستری صاحب۔‘‘ کامران نے ان کی طرف دیکھا، ’’فیس؟‘‘
فراہ قریب آئیں، ان کے ہونٹوں پر ہلکا سا بوسہ دیا۔ ’’فیس تو تم پہلے ہی وصول کر چکے۔‘‘ پھر انہوں نے سرگوشی کی، ’’کل رات پھر آنا۔ طارق پرسوں آئے گا۔‘‘
کامران سیڑھیاں اترتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔ نیچے اپنے کمرے میں چھت خشک تھی۔ پانی بند ہو گیا تھا۔ مگر اس کے دل میں ایک نئی بارش شروع ہو چکی تھی۔
اگلی رات بارش پھر ہوئی۔ کامران نے گھڑی دیکھی، گیارہ بجے۔ بالکونی سے آواز آئی، ’’کامران!‘‘ وہ مسکرایا۔ اس بار بہانہ کیا ہوگا، یہ سوچتے ہوئے وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
دروازہ پھر کھلا تھا۔ فراہ اس بار سرخ نائٹی میں تھیں۔ ’’آج کیا خراب ہے؟‘‘ کامران نے پوچھا۔
فراہ نے دروازہ بند کیا، کنڈی لگائی۔ ’’آج کچھ خراب نہیں۔ آج بس تم چاہیے۔‘‘
کامران نے انہیں بانہوں میں لیا۔ ’’بھابی، تم تو...‘‘ ’’ششش،‘‘ فراہ نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھی، ’’آج باتیں کم۔‘‘ اور رات پھر ان کے نام ہو گئی۔
Readers who enjoyed “اردو پڑوسی کی بیوی: بارش والی رات کا راز” also read
8 curated storiesاردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی بارش والی رات
اردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی ایک طوفانی رات جب ہوا رخسانہ کے کپڑے کبیر کی چھت پر اڑا لے گئی، اور ایک دستک نے دونوں کی زندگی بدل دی۔
اردو پڑوسی آنٹی کی کہانی: بھوپال میں فرح اور بلال کی رات
بھوپال کی ایک خاموش گلی میں پڑوسی آنٹی فرح اور نوجوان بلال کے درمیان ایک پرانی یاد اچانک نئی آگ بن جاتی ہے۔
اردو نرس سیکس کہانی: رات کی ڈیوٹی والی نرس
اردو نرس سیکس کہانی: لکھنؤ کے اسپتال میں رات کی ڈیوٹی پر نرس شبانہ اور مریض عمران کے درمیان بھڑک اٹھنے والی آگ کی کہانی۔
اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین
کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو ساس کی چدائی: جمعہ کی دوپہر کا راز
جمعہ کی دوپہر، حنا لاہور گئی ہوئی ہے اور گھر میں صرف عدیل اور اس کی بیوہ ساس شازیہ ہیں۔ ایک فون کال سے شروع ہونے والی چھیڑ چھاڑ دوپہر کو ایک ناقابل فراموش راز میں بدل دیتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔