اردو پڑوسی آنٹی کی کہانی: بھوپال میں فرح اور بلال کی رات

N
11 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

تین سال پہلے کی ایک شام بلال کی آنکھوں کے سامنے اب بھی ویسے ہی گھومتی تھی جیسے کل کی بات ہو، جب بھوپال کی اس پرانی عمارت کی سیڑھیوں پر پہلی بار فرح سے اس کی ملاقات ہوئی تھی اور اس دن کی بارش نے دونوں کو ایک ہی چھت کے نیچے کھڑا کر دیا تھا، اور یہ اردو پڑوسی آنٹی کی کہانی اسی پہلی ملاقات سے شروع ہوتی ہے جس میں ایک پڑوسن کی مسکراہٹ نے ایک نوجوان کے دل میں ایسی آگ لگا دی تھی جو تین سال تک دھیمی آنچ پر جلتی رہی۔

اس شام بلال دیر سے گھر لوٹا تھا اور اس کے ہاتھ میں سبزی کا تھیلا تھا، جب اس نے دیکھا کہ فرح بالکونی میں کھڑی کپڑے سمیٹ رہی ہے اور شام کی ہلکی ہوا اس کے بالوں کو چہرے پر اڑا رہی ہے، تو اس کے قدم خود بخود رک گئے اور اس نے مسکرا کر سلام کیا جس کا جواب فرح نے ایسی گرم جوشی سے دیا کہ بلال کو لگا جیسے اس کی تھکن ایک لمحے میں اتر گئی ہو۔

فرح چھتیس سال کی تھی اور اس کا شوہر دبئی میں کام کرتا تھا، اس لیے بھوپال کا وہ فلیٹ اکثر اس کی تنہائی کی گواہی دیتا تھا، مگر اس کے چہرے پر کبھی تنہائی کی شکن نہیں آتی تھی بلکہ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک شرارت چمکتی رہتی تھی جو بلال کو پہلے دن سے اپنی طرف کھینچتی تھی اور جسے وہ کبھی لفظوں میں بیان نہیں کر پایا تھا۔

بلال انتیس سال کا تھا اور وہ اسی عمارت کی تیسری منزل پر رہتا تھا، وہ ایک نجی دفتر میں کام کرتا تھا اور شام کو اکثر چھت پر ٹہلنے جاتا تھا، جہاں کبھی کبھی فرح بھی آ جاتی تھی اور دونوں کے درمیان کپڑوں، موسم اور محلے کی باتوں سے شروع ہونے والی گفتگو آہستہ آہستہ ذاتی باتوں تک پہنچ جاتی تھی۔

اس رات فرح نے بلال کو چائے کے لیے بلایا اور کہا کہ اس نے آج شام کو سموسے بنائے ہیں اور اکیلے کھانے کا دل نہیں کر رہا، بلال نے پہلے تو ہچکچاہٹ دکھائی مگر پھر اس کی مسکراہٹ کے سامنے ہار مان لی اور اس کے فلیٹ میں داخل ہو گیا جہاں گرم مصالحوں کی خوشبو اور ہلکی موسیقی نے اس کا استقبال کیا۔

کچن میں فرح چائے بنا رہی تھی اور بلال دروازے کے پاس کھڑا اسے دیکھ رہا تھا، اس نے سرخ رنگ کا سادہ سوٹ پہنا تھا اور اس کی کلائیاں چوڑیوں سے بھری تھیں، جب وہ چائے چھان رہی تھی تو اس کی کمر کا خم اور اس کے بالوں کی خوشبو بلال کو بے چین کر رہے تھے اور وہ اپنے دل کی دھڑکن کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

چائے کی میز پر دونوں بیٹھے تو فرح نے پرانی بات چھیڑ دی اور کہا کہ تمہیں یاد ہے پہلی بارش والی شام کو تم نے میری چھتری اٹھائی تھی اور میں نے تمہیں چائے پلائی تھی، بلال نے ہنس کر کہا کہ وہ شام میں کبھی نہیں بھول سکتا کیونکہ اس دن کے بعد سے ہی وہ ہر شام اسی سیڑھی پر اس کا انتظار کرنے لگا تھا۔

فرح کی ہنسی کمرے میں گونجی اور اس نے بلال کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا، اس کے نرم ہاتھ کی گرمی بلال کی انگلیوں تک پہنچ گئی اور اس نے اس کا ہاتھ واپس نہیں کھینچا بلکہ آہستہ سے اس کی انگلیوں کو دبا دیا، اس لمحے میں دونوں کی آنکھیں ملیں اور دونوں سمجھ گئے کہ اب باتوں کا وقت ختم ہو چکا ہے۔

بلال نے آہستہ سے فرح کا ہاتھ اپنے ہونٹوں تک لے جا کر چوما اور فرح نے آنکھیں بند کر لیں، اس کی سانسیں تیز ہو گئیں اور اس نے دھیرے سے کہا کہ بلال، یہ ٹھیک نہیں ہے مگر میرا دل بھی یہی چاہتا ہے، بلال نے اس کے قریب آ کر کہا کہ دل کی بات کو روکنا بھی تو ٹھیک نہیں ہوتا اور اس نے اس کے گال پر ایک نرم بوسہ دیا۔

فرح نے بلال کو اپنی طرف کھینچا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے، پہلا بوسہ نرم اور جھجھکتا ہوا تھا مگر دوسرے بوسے میں دونوں کی پیاس کھل کر سامنے آ گئی، بلال نے فرح کی کمر کو اپنی بانہوں میں بھرا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا، فرح کے نرم بدن کی گرمی اس کے بدن میں آگ کی طرح پھیل گئی۔

دونوں کچن سے صوفے تک پہنچے اور بلال نے فرح کو صوفے پر بٹھایا، اس نے اس کے بالوں کو چہرے سے ہٹایا اور اس کی گردن پر بوسے دینے لگا، فرح نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اس کا سر اپنی گردن سے لگا لیا اور اس کی سانسیں اس کے کان کے پاس گرم ہوا کی طرح محسوس ہونے لگیں۔

فرح نے بلال کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے اور بلال نے اس کے سوٹ کی ڈوری کو آہستہ سے کھولا، جب فرح کا سینہ اس کے سامنے آیا تو بلال نے اس کی نرمی کو دونوں ہاتھوں سے تھاما اور اس کے گول اور بھاری بوبز کو دباتے ہوئے اس کی چھاتی پر بوسے دیے، فرح کی آہیں کمرے میں گونجنے لگیں اور اس نے بلال کا سر اپنے سینے سے اور زور سے لگا لیا۔

بلال نے فرح کے بوبز کو باری باری چوسا اور اس کی زبان سے اس کے نپلز کو چھیڑا، فرح کا بدن کانپنے لگا اور اس نے اپنی ٹانگیں بلال کی کمر کے گرد لپیٹ لیں، بلال نے اس کی شلوار کو نیچے سرکایا اور اس کی نرم رانوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی چوت کو چھوا، جہاں گیلا پن اس کی انگلیوں کو بتا رہا تھا کہ فرح کتنی گرم ہو چکی ہے۔

فرح نے بلال کی پینٹ کھولی اور اس کا موٹا اور سخت لند اپنے ہاتھ میں لیا، اس نے اسے آہستہ سے سہلایا اور پھر اپنے ہونٹوں سے اسے چوما، بلال نے آنکھیں بند کر کے اس کی زبان کی گرمی کو محسوس کیا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے اور قریب کر لیا، فرح نے اس کے لند کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کیا اور بلال کی آہیں نکلنے لگیں۔

کچھ دیر بعد بلال نے فرح کو صوفے پر لٹایا اور اس کی ٹانگیں کھول کر اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا، اس نے اپنی زبان سے اس کی چوت کو چاٹنا شروع کیا اور فرح نے صوفے کی گدی کو زور سے پکڑ لیا، اس کی چوت کا پانی بلال کے ہونٹوں پر لگ رہا تھا اور اس کی سسکیاں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔

فرح نے بلال سے کہا کہ اب اور انتظار نہیں ہوتا، بلال نے اپنا لند اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور آہستہ سے اندر دھکیلا، فرح نے ایک لمبی آہ بھری اور اس کی چوت کی تنگی نے بلال کے لند کو زور سے جکڑ لیا، بلال نے دھیرے دھیرے دھکے لگانے شروع کیے اور ہر دھکے کے ساتھ فرح کا بدن اوپر نیچے ہونے لگا۔

بلال نے فرح کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور تیز دھکے لگانے لگا، فرح نے اس کی کمر کو اپنی بانہوں میں جکڑ لیا اور اس کے کان میں کہا کہ اور زور سے کرو، بلال کی سانسیں تیز ہو گئیں اور اس کے لند کی رگڑ سے فرح کی چوت کا پانی بہنے لگا، دونوں کے بدن پسینے سے بھیگ گئے اور کمرے میں ان کی آہوں کی آواز گونجنے لگی۔

کچھ دیر بعد فرح نے بلال کو روکا اور اس کے اوپر آ کر بیٹھ گئی، اس نے اس کے لند کو اپنی چوت میں لے کر آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونا شروع کیا، اس کے بوبز ہر حرکت کے ساتھ ہل رہے تھے اور بلال نے انہیں دونوں ہاتھوں سے تھام کر دبایا، فرح نے اپنی رفتار تیز کی اور اس کی چوت نے بلال کے لند کو نچوڑنا شروع کر دیا۔

فرح کی آنکھیں بند تھیں اور اس کے ہونٹوں سے سسکیاں نکل رہی تھیں، بلال نے اس کی کمر کو تھام کر نیچے سے دھکے لگائے اور دونوں کی حرکت ایک تال میں آ گئی، اچانک فرح کا بدن کانپا اور اس کی چوت سے پانی نکل کر بلال کے بدن پر بہہ گیا، اس نے بلال کے سینے پر سر رکھ دیا اور لمبی سانسیں لینے لگی۔

بلال نے فرح کو پھر صوفے پر لٹایا اور اس کی ٹانگیں کھول کر پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لند ڈالا، اس نے اس کی کمر کو تھام کر تیز دھکے لگائے اور فرح نے صوفے کی گدی میں منہ چھپا کر آہیں بھریں، بلال کی رفتار بڑھتی گئی اور آخر میں اس کا پانی فرح کی چوت کے اندر نکل گیا، دونوں تھک کر ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔

کچھ دیر خاموشی کے بعد فرح نے بلال کے سینے پر سر رکھا اور کہا کہ تین سال کی پیاس ایک رات میں نہیں بجھتی، بلال نے ہنس کر اس کے بالوں کو چوما اور کہا کہ اس رات ابھی بہت وقت باقی ہے، دونوں نے پانی پیا اور پھر فرح بلال کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ روم میں لے گئی جہاں رات کی روشنی میں بستر ان کا انتظار کر رہا تھا۔

بیڈ روم میں فرح نے بلال کو بستر پر لٹایا اور اس کے بدن پر بوسے دیتے ہوئے نیچے تک آئی، اس نے اس کے لند کو پھر سے چوسا اور بلال نے اس کے بالوں کو پکڑ کر اس کی حرکت کو تیز کر دیا، جب بلال کا لند پھر سخت ہو گیا تو فرح اس کے اوپر بیٹھ گئی اور اس کی چوت میں اسے لے کر آہستہ آہستہ ہلنے لگی۔

اس بار فرح نے بلال کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اپنی کمر کو گھمایا اور اس کی چوت کی حرکت نے بلال کو پاگل کر دیا، بلال نے اس کے بوبز کو چوسا اور اس کی گردن پر دانتوں سے ہلکے نشان بنائے، فرح نے اپنی رفتار اور تیز کی اور دونوں کی آہیں بیڈ روم میں گونجنے لگیں، باہر گلی میں کتوں کے بھونکنے کی آواز بھی ان تک نہیں پہنچ رہی تھی۔

بلال نے فرح کو نیچے لٹایا اور اس کی ایک ٹانگ اپنے کندھے پر رکھ کر اس کی چوت میں گہرے دھکے لگائے، فرح نے بستر کی چادر کو مٹھی میں بھینچ لیا اور اس کی چوت کا پانی بلال کی رانوں تک بہہ گیا، بلال نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا اور اس کی زبان کو چوسا، دونوں کی سانسیں ایک دوسرے میں گھل گئی تھیں۔

فرح نے بلال سے کہا کہ اسے پیچھے سے چاہیے، بلال نے اسے گھٹنوں کے بل کیا اور پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لند ڈال کر تیز دھکے لگائے، فرح کی کمر کا خم اور اس کے بوبز کا ہلنا بلال کو اور گرم کر رہا تھا، اس نے فرح کی کمر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے بالوں کو کھینچ کر اس کی گردن پر بوسے دیے۔

اس پوزیشن میں فرح جلدی جھڑ گئی اور اس کا پانی بستر پر بہہ گیا، بلال نے رفتار کم نہیں کی اور کچھ ہی دیر میں اس کا پانی بھی نکل گیا، دونوں بستر پر ایک دوسرے سے لپٹ کر لیٹ گئے اور فرح نے بلال کے کان میں کہا کہ یہ رات اس کی زندگی کی سب سے یادگار رات بن گئی ہے۔

رات کے آخری پہر میں دونوں نے چائے پی اور بالکونی میں کھڑے ہو کر بھوپال کی خاموش گلی کو دیکھا، فرح نے بلال کا ہاتھ تھاما اور کہا کہ کل شام کو پھر آنا، بلال نے مسکرا کر کہا کہ اب ہر شام اسی بالکونی پر اس کا انتظار کرے گا، اور دونوں کی مسکراہٹ میں وہ وعدہ چھپا تھا جو کسی لفظ کا محتاج نہیں تھا۔

🔒 Bonus Scene locked

اس رات کے بعد فرح نے بلال کو ایک ایسا پیغام بھیجا جس نے سب کچھ بدل دیا۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Neighbour Affair

اردو پڑوسی کی بیوی کی چدائی: حصہ 3 (آخری حصہ)

اردو پڑوسی کی بیوی کی چدائی کا آخری حصہ۔ ندیم کی کال کے بعد شبانہ اور بلال کے پاس صرف تین راتیں ہیں۔ فرزانہ آنٹی کا خطرہ، آخری ملاقاتیں اور جمعے کی صبح کا فیصلہ۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو پڑوسی آنٹی کی کہانی: بھوپال میں فرح اور بلال کی رات” also read

8 curated stories
Neighbour Affairاردو (Urdu)

اردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی بارش والی رات

اردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی ایک طوفانی رات جب ہوا رخسانہ کے کپڑے کبیر کی چھت پر اڑا لے گئی، اور ایک دستک نے دونوں کی زندگی بدل دی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
Neighbour Affairاردو (Urdu)

اردو پڑوسی کی بیوی: بارش والی رات کا راز

اردو پڑوسی کی بیوی فراہ کی بارش والی رات۔ AC کا پائپ لیک ہوا اور کامران اوپر گیا، پھر جو ہوا وہ اس نے سوچا بھی نہ تھا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views
Rough & Dirtyاردو (Urdu)

اردو نرس سیکس کہانی: رات کی ڈیوٹی والی نرس

اردو نرس سیکس کہانی: لکھنؤ کے اسپتال میں رات کی ڈیوٹی پر نرس شبانہ اور مریض عمران کے درمیان بھڑک اٹھنے والی آگ کی کہانی۔

⏱️ 9 min read•👁️ 11 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 10 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ

دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔

⏱️ 13 min read•👁️ 5 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو ساس کی چدائی: جمعہ کی دوپہر کا راز

جمعہ کی دوپہر، حنا لاہور گئی ہوئی ہے اور گھر میں صرف عدیل اور اس کی بیوہ ساس شازیہ ہیں۔ ایک فون کال سے شروع ہونے والی چھیڑ چھاڑ دوپہر کو ایک ناقابل فراموش راز میں بدل دیتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 5 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد

لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔

⏱️ 14 min read•👁️ 4 views