اردو پڑوسن سیکس کہانی: سعدیہ کی دیوار کے اس پار

A
13 min read1 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

دوپہر کے ٹھیک بارہ بجے میرے دروازے پر اتنی زور سے دستک ہوئی کہ میں ہڑبڑا کر صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ دروازہ کھولا تو سامنے سعدیہ کھڑی تھی، پسینے میں بھیگی قمیض اس کے بدن سے چپکی ہوئی تھی اور دوپٹہ ایک کندھے سے ڈھلک چکا تھا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میری اپنی اردو پڑوسن سیکس کہانی ایک ٹوٹے ہوئے پانی کے پمپ سے شروع ہوگی۔

"ادنان بھائی، پلیز، ہمارا پمپ پھر خراب ہو گیا ہے،" وہ ہانپتے ہوئے بولی، "کچن میں پانی پانی ہو رہا ہے اور سلیم بھی چار دن کے روٹ پر نکلے ہوئے ہیں۔" اس کی آواز میں گھبراہٹ کم اور کوئی اور ہی بے چینی زیادہ تھی، جسے میں اس لمحے سمجھ نہ سکا۔

میں نے چپل پہنی اور اس کے پیچھے چل پڑا۔ گلی میں دھوپ تیز تھی اور اس کے گھر کا دروازہ کھلا پڑا تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی کچن سے پانی بہنے کی آواز آئی اور فرش پر جگہ جگہ پانی پھیلا ہوا تھا۔

پمپ کچن کے پچھواڑے ایک چھوٹے سے کمرے میں لگا تھا، اتنا تنگ کہ دو آدمی مشکل سے کھڑے ہو سکیں۔ سعدیہ میرے بالکل پیچھے کھڑی تھی اور اس کی سانسوں کی گرمی میری گردن پر محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے جھک کر پمپ کا ڈھکن کھولا اور اندر ہاتھ ڈالا۔

"یہ والا نٹ ڈھیلا ہے،" میں نے کہا اور رینچ گھمائی۔ اسی لمحے پائپ سے پانی کی ایک تیز دھار نکلی اور ہم دونوں بھیگ گئے۔ سعدیہ چیخی اور ہنستے ہوئے پیچھے ہٹی، مگر اس کی بھیگی قمیض اب اس کے بدن سے لپٹ کر اس کے دودھ کی گولائی صاف دکھا رہی تھی۔

میری نظریں وہیں ٹھہر گئیں اور اس نے میری نظریں پکڑ لیں۔ اس نے دوپٹہ سنبھالنے کی زحمت بھی نہ کی، بس ہلکے سے مسکرائی۔ "دیکھ کیا رہے ہو، ادنان بھائی؟" اس کے لہجے میں شرارت تھی۔

میں نے جلدی سے نظریں پھیریں اور پمپ ٹھیک کرنے میں لگ گیا۔ دس منٹ میں پانی بند ہو گیا اور میں نے اوزار سمیٹے۔ "ہو گیا، اب نہیں ٹپکے گا،" میں نے کہا۔

"اتنی گرمی میں آئے ہو، شربت پیے بغیر کیسے جانے دوں؟" وہ بولی اور مجھے کچن میں بٹھا دیا۔ وہ برف ڈال کر شربت بنا رہی تھی اور میں اس کی کمر کے خم کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی قمیض اب بھی گیلی تھی اور ہر حرکت پر اس کا بدن ہلتا تھا۔

"سلیم کب آئیں گے؟" میں نے پوچھا۔ "چار دن بعد،" اس نے گلاس میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا، "ٹرک روٹ لمبا ہے، لاہور سے کراچی۔" اس کی انگلیاں گلاس دیتے وقت میری انگلیوں سے ٹکرائیں اور وہ ایک لمحے کو رکی رہیں۔

ہم دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا اور اس لمحے کمرے کی ہوا بھاری ہو گئی۔ اس نے آہستہ سے اپنا ہاتھ ہٹایا اور مڑ کر سنک کی طرف چلی گئی۔ "شکریہ، ادنان... بھائی،" اس نے کہا، مگر بھائی کہتے ہوئے وہ ہلکے سے ہنسی۔

میں گھر واپس آیا مگر میرا دماغ وہیں اٹکا رہا۔ بیوی ملتان گئی ہوئی تھی، گھر خالی تھا اور شام ڈھلنے کو تھی۔ میں چھت پر چارپائی ڈال کر لیٹ گیا اور سعدیہ کی اس مسکراہٹ کو یاد کرتا رہا۔

شام کو کپڑے سکھانے کے لیے چھت پر گیا تو دیکھا سعدیہ اپنی چھت پر کھڑی تھی۔ ہماری چھتیں ساتھ ساتھ تھیں، بیچ میں صرف ایک نیچی دیوار تھی۔ اس نے بال کھولے ہوئے تھے اور ہوا میں اس کے بال اڑ رہے تھے۔

"پمپ ٹھیک چل رہا ہے؟" میں نے پوچھا۔ "بالکل ٹھیک،" وہ دیوار کے پاس آ کر بولی، "تم تو بڑے کام کے آدمی ہو۔" اس کی آواز دھیمی تھی اور اس کی آنکھوں میں وہی شرارت تھی۔

میں بھی دیوار کے پاس چلا گیا۔ ہمارے چہرے ایک دوسرے سے صرف ایک ہاتھ کے فاصلے پر تھے۔ اس نے اپنا ہاتھ دیوار پر رکھا اور میرا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ٹکرا گیا۔ نہ میں نے ہاتھ ہٹایا، نہ اس نے۔

"سعدیہ..." میں نے سرگوشی کی۔ اس نے جواب دینے کے بجائے میری قمیض کا کالر پکڑ کر مجھے اپنی طرف کھینچ لیا اور اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے آ لگے۔ وہ بوسہ بھوکا تھا، بے تاب تھا، جیسے مہینوں کی پیاس ایک لمحے میں بجھانا چاہتی ہو۔

میری باہیں خود بخود اس کی کمر کے گرد لپٹ گئیں اور میں نے اسے دیوار سے لگا لیا۔ اس کے دودھ میرے سینے سے دب گئے اور اس کے منہ سے ایک دبی ہوئی آہ نکلی۔ "اسٹور روم..." اس نے ہانپتے ہوئے کہا، "کوئی دیکھ لے گا۔"

اس کا اسٹور روم چھت پر ہی تھا، پرانے صندوقوں اور بوریوں سے بھرا ہوا۔ اس نے اندر داخل ہوتے ہی دروازہ بند کیا اور مجھے ایک بوری پر دھکا دے کر بٹھا دیا۔ "اب بتاؤ، دوپہر کو کیا دیکھ رہے تھے؟" وہ میری گود میں بیٹھتے ہوئے بولی۔

میں نے اس کے چہرے کو ہاتھوں میں لیا اور دوبارہ اس کے ہونٹ چومے۔ میری انگلیاں اس کی قمیض کے بٹن کھولنے لگیں اور وہ میرے ہاتھوں کو روکنے کے بجائے میری قمیض اتارنے لگی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر رک نہیں رہے تھے۔

اس کی قمیض اترتے ہی اس کے دودھ آزاد ہو گئے، گول اور بھرے ہوئے، ان کے نوک تنے ہوئے تھے۔ میں نے ایک کو منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا تو اس کی کمر مڑ گئی۔ "اوہ... ادنان..." وہ کراہی اور اس نے میرا سر اپنے سینے میں دبا لیا۔

اس نے میری پینٹ کا بٹن کھولا اور میرا لنڈ باہر نکال لیا۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرائی اور اسے ہاتھ میں لے کر سہلانے لگی۔ "اتنا بڑا... سلیم کا تو اس کے آدھا بھی نہیں،" وہ بولی اور پھر جھک کر اسے منہ میں لے لیا۔

اس کے گرم منہ کا احساس مجھے پاگل کر رہا تھا۔ اس کی زبان میرے لنڈ کے سرے پر گھوم رہی تھی اور اس کا ایک ہاتھ میرے ٹٹوں کو سہلا رہا تھا۔ میں نے اس کے بال پکڑ لیے اور آہستہ آہستہ اس کے منہ میں دھکیلنے لگا۔

"بس... اب برداشت نہیں ہوتا،" میں نے کہا اور اسے کھڑا کیا۔ میں نے اس کی شلوار اتاری اور اسے ایک صندوق سے لگا کر جھکا دیا۔ اس کی چوت میرے سامنے تھی، گیلی اور پھولی ہوئی۔

میں نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رگڑا اور وہ کانپ گئی۔ "ڈال دو... پلیز ڈال دو،" وہ بولی۔ میں نے ایک جھٹکے میں پورا لنڈ اس کی چوت میں اتار دیا اور وہ زور سے کراہی۔

میں نے اس کی کمر پکڑ کر تیز تیز دھکے لگانے شروع کیے۔ اسٹور روم میں صرف ہماری سانسوں اور گوشت کے ٹکرانے کی آواز گونج رہی تھی۔ اس کے دودھ ہر دھکے پر ہل رہے تھے اور میں نے پیچھے سے ایک کو پکڑ کر دبایا۔

"اور زور سے... اور زور سے چودو مجھے،" وہ چلائی۔ اس کی چوت میرے لنڈ کو کس کر جکڑ رہی تھی اور مجھے لگا میرا پانی نکلنے والا ہے۔ "میں جھڑنے والا ہوں..." میں ہانپا۔

"اندر ہی... اندر ہی نکالو،" وہ بولی، "میں نے آپریشن کروا رکھا ہے۔" یہ سنتے ہی میں نے آخری زور دار دھکے لگائے اور میرا پانی اس کی چوت میں چھوٹ گیا۔ وہ بھی اسی لمحے کانپتے ہوئے جھڑ گئی، اس کی چوت میرے لنڈ کو نچوڑ رہی تھی۔

ہم دونوں پسینے میں شرابور ایک دوسرے سے لپٹے کھڑے رہے۔ "یہ... یہ نہیں ہونا چاہیے تھا،" وہ بولی، مگر اس کی باہیں میری گردن سے ہٹی نہیں۔ "مگر ہو گیا،" میں نے مسکرا کر کہا، "اور تمہیں بھی مزہ آیا۔"

وہ ہنسی اور میری چھاتی پر ہلکی سی چپت لگائی۔ "کل دوپہر کو کھانے پر آنا، میں بریانی بنا رہی ہوں۔ سلیم تو ہے نہیں، اکیلی بور ہوتی ہوں۔" اس کی آنکھوں میں دعوت صاف تھی۔

اگلے دن دوپہر کو میں اس کے گھر پہنچا تو بریانی کی خوشبو پورے گھر میں پھیلی تھی۔ سعدیہ نے ہلکے گلابی رنگ کا سوٹ پہنا تھا، بالکل نیا، اور اس کے ہونٹوں پر سرخ لپ اسٹک تھی۔ "صرف تمہارے لیے تیار ہوئی ہوں،" وہ شرماتے ہوئے بولی۔

کھانے کے دوران اس کا پاؤں میز کے نیچے میرے پاؤں سے ٹکرایا اور وہیں رکا رہا۔ میری ران پر اس کے پاؤں کی انگلیاں رینگنے لگیں اور میرا لنڈ پینٹ میں تن گیا۔ "کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے،" میں نے ہنستے ہوئے کہا۔

"کھانا تو روز ملتا ہے،" وہ بولی اور میرا ہاتھ پکڑ کر کچن میں لے گئی۔ اس نے مجھے سنک سے لگا لیا اور میری شلوار کا ناڑا کھول دیا۔ "کل رات سو نہ سکی، بس یہی سوچتی رہی،" وہ میرے کان میں بولی۔

میں نے اسے کچن کی سلیب پر بٹھا دیا اور اس کی شلوار اتار دی۔ اس کی چوت پہلے سے گیلی تھی۔ میں نے گھٹنوں پر بیٹھ کر اس کی چوت کو چوما اور اپنی زبان اس کے دانے پر پھیری تو وہ سلیب پر لیٹ گئی۔

میری زبان اس کی چوت میں اندر باہر ہو رہی تھی اور وہ میرے بال نوچ رہی تھی۔ "اوہ خدا... ادنان... چاٹو... اور چاٹو،" وہ کراہ رہی تھی۔ دس منٹ میں ہی اس کا بدن اکڑا اور وہ چیختے ہوئے جھڑ گئی، اس کا پانی میرے چہرے پر چھوٹا۔

میں کھڑا ہوا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر ڈال لیں۔ میں نے اپنا لنڈ اس کی گیلی چوت میں ایک ہی جھٹکے میں اتار دیا۔ وہ سلیب پر لیٹی تھی اور ہر دھکے پر اس کا سر سلیب سے ٹکرا رہا تھا، مگر اسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔

میں نے اس کے دودھ پکڑے اور انہیں دباتے ہوئے تیز دھکے لگائے۔ "تمہاری چوت اتنی ٹائٹ ہے... سلیم خوش قسمت ہے،" میں ہانپا۔ "سلیم کو تو بس اپنا مطلب ہوتا ہے،" وہ بولی، "تم جیسا مزہ اس نے کبھی نہیں دیا۔"

اس بار میں نے اسے گود میں اٹھا لیا، اس کی ٹانگیں میری کمر سے لپٹی تھیں اور میرا لنڈ اب بھی اس کی چوت میں تھا۔ میں کھڑے کھڑے اسے چودنے لگا اور ہر دھکے پر وہ اچھلتی تھی۔ "میں پھر جھڑنے والی ہوں..." وہ چلائی۔

ہم دونوں ایک ساتھ جھڑے، میرا پانی اس کی چوت میں اور اس کا پانی میرے لنڈ پر بہتا ہوا۔ میں نے اسے آہستہ سے نیچے اتارا اور ہم دونوں فرش پر بیٹھ کر ہانپنے لگے۔ کچن میں بریانی جلنے کی بو آنے لگی اور ہم دونوں ہنس پڑے۔

"بریانی گئی،" وہ ہنستی ہوئی بولی۔ "کوئی بات نہیں،" میں نے کہا، "آج تو میٹھا پہلے ہی کھا لیا۔" وہ شرما گئی اور میرے سینے پر سر رکھ دیا۔

شام کو وہ مجھے دروازے تک چھوڑنے آئی۔ "کل سلیم کا فون آیا تھا، وہ ایک دن پہلے آ رہے ہیں،" اس نے دھیمے سے کہا۔ میرا دل دھک گیا۔ "تو ہمارے پاس صرف آج کی رات ہے؟" میں نے پوچھا۔

"تو پھر آج کی رات کو یادگار بناتے ہیں،" اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔ "رات کو گیارہ بجے، جب گلی سو جائے، چھت پر آ جانا۔ میں اسٹور روم میں بستر بچھا دوں گی۔"

رات کے گیارہ بجے میں دبے پاؤں اس کی چھت پر پہنچا۔ اسٹور روم میں اس نے واقعی ایک گدا بچھا رکھا تھا اور ایک مدھم بلب جل رہا تھا۔ وہ سفید نائٹی میں میرا انتظار کر رہی تھی، اس کے بال کھلے تھے۔

اس رات ہم نے جلدی نہیں کی۔ ہم نے ایک دوسرے کے بدن کو آہستہ آہستہ چوما، سہلایا، اور ہر حصے کا مزہ لیا۔ اس نے میرے پورے بدن پر بوسے دیے اور میں نے اس کے دودھ کو دیر تک چوسا، اس کے پیٹ پر زبان پھیری، اس کی رانوں کو چوما۔

پھر وہ میرے اوپر آ گئی۔ اس نے میرے لنڈ کو اپنی چوت میں خود ڈالا اور آہستہ آہستہ ہلنے لگی۔ اس کے دودھ میرے چہرے کے سامنے جھول رہے تھے اور میں انہیں باری باری چوستا رہا۔ "تم میرے ہو... صرف میرے،" وہ سرگوشی میں بولی۔

اس کے بعد میں نے اسے گھوڑی بنایا اور پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈال دیا۔ میں نے اس کے بال پکڑے اور تیز دھکے لگائے۔ وہ گدے میں منہ دبائے کراہ رہی تھی، "ہاں... ایسے ہی... مجھے کتیا بنا کر چودو۔"

میں نے اسے پلٹا کر اس کی ٹانگیں چوڑی کیں اور اس کے اوپر آ گیا۔ ہماری آنکھیں ایک دوسرے میں تھیں جب میں نے آخری زور لگایا۔ وہ کہتے کہتے رک گئی اور ہم دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے، اس کی چیخ گدے میں دب گئی۔

اس کے بعد ہم دیر تک ایک دوسرے کی باہوں میں لیٹے رہے۔ "کل سلیم آ جائیں گے،" وہ بولی، "پھر پتہ نہیں کب موقع ملے گا۔" میں نے اس کے ماتھے کو چوما۔ "موقع ہم خود بنائیں گے۔"

"سنو،" اس نے کہا، "جب بھی میرا دل کرے گا، میں چھت پر سرخ دوپٹہ سکھاؤں گی۔ وہ تمہارے لیے اشارہ ہوگا۔" میں مسکرایا۔ "اور جب میرا دل کرے گا تو میں اپنی چھت پر سفید تولیہ لٹکاؤں گا۔"

اگلی دوپہر سلیم واقعی آ گئے۔ میں نے اپنی چھت سے دیکھا، وہ ٹرک سے اترے اور سعدیہ دروازے پر ان کا استقبال کر رہی تھی۔ اس نے ایک لمحے کو میری طرف دیکھا اور آنکھ مار دی۔ میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔

اس شام جب میں چھت پر کپڑے اتارنے گیا تو دیکھا، اس کی چھت پر تار پر ایک سرخ دوپٹہ لہرا رہا تھا۔ میرا دل زور سے دھڑکا۔ میں نے نیچے دیکھا، گلی خالی تھی۔ میں نے اپنا سفید تولیہ تار پر ڈالا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔

کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، کیونکہ ہماری دیوار کے اس پار اب بھی ہر شام ایک سرخ دوپٹہ لہراتا ہے، اور ہر بار جب وہ لہراتا ہے، میری اپنی اردو پڑوسن سیکس کہانی کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Neighbour Affair

اردو پڑوسی کی بیوی کی چدائی: حصہ 3 (آخری حصہ)

اردو پڑوسی کی بیوی کی چدائی کا آخری حصہ۔ ندیم کی کال کے بعد شبانہ اور بلال کے پاس صرف تین راتیں ہیں۔ فرزانہ آنٹی کا خطرہ، آخری ملاقاتیں اور جمعے کی صبح کا فیصلہ۔

Read Next Story

More stories by Ahmed Khan

View all →

Readers who enjoyed “اردو پڑوسن سیکس کہانی: سعدیہ کی دیوار کے اس پار” also read

8 curated stories
Neighbour Affairاردو (Urdu)

اردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی بارش والی رات

اردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی ایک طوفانی رات جب ہوا رخسانہ کے کپڑے کبیر کی چھت پر اڑا لے گئی، اور ایک دستک نے دونوں کی زندگی بدل دی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views
Neighbour Affairاردو (Urdu)

اردو پڑوسی کی بیوی: بارش والی رات کا راز

اردو پڑوسی کی بیوی فراہ کی بارش والی رات۔ AC کا پائپ لیک ہوا اور کامران اوپر گیا، پھر جو ہوا وہ اس نے سوچا بھی نہ تھا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views
Neighbour Affairاردو (Urdu)

اردو پڑوسی آنٹی کی کہانی: بھوپال میں فرح اور بلال کی رات

بھوپال کی ایک خاموش گلی میں پڑوسی آنٹی فرح اور نوجوان بلال کے درمیان ایک پرانی یاد اچانک نئی آگ بن جاتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views
Rough & Dirtyاردو (Urdu)

اردو نرس سیکس کہانی: رات کی ڈیوٹی والی نرس

اردو نرس سیکس کہانی: لکھنؤ کے اسپتال میں رات کی ڈیوٹی پر نرس شبانہ اور مریض عمران کے درمیان بھڑک اٹھنے والی آگ کی کہانی۔

⏱️ 9 min read•👁️ 11 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
First Timeاردو (Urdu)

اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ

دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔

⏱️ 13 min read•👁️ 5 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو ساس کی چدائی: جمعہ کی دوپہر کا راز

جمعہ کی دوپہر، حنا لاہور گئی ہوئی ہے اور گھر میں صرف عدیل اور اس کی بیوہ ساس شازیہ ہیں۔ ایک فون کال سے شروع ہونے والی چھیڑ چھاڑ دوپہر کو ایک ناقابل فراموش راز میں بدل دیتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 5 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد

لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔

⏱️ 14 min read•👁️ 4 views