اردو پڑوسی کی بیوی کی چدائی: حصہ 2 (دروازے پر دستک)
میں ابھی شلوار کا ناڑا باندھ رہا تھا کہ اچانک مین گیٹ کے تالے میں چابی گھومنے کی کھرکھراہٹ سنائی دی۔ شبانہ کا چہرہ ایک پل میں سفید پڑ گیا، اس کی آنکھوں میں وہی دہشت تیرنے لگی جو میں نے اس رات چھت پر دیکھی تھی، اور میرے دل نے دھک سے کہا کہ ایک پڑوسی کی بیوی کی چدائی کی یہ کہانی شاید یہیں ختم ہونے والی ہے۔
وہ میرے کان کے پاس آئی اور سرگوشی میں بولی، یہ آواز ندیم کی چابی جیسی لگ رہی ہے۔ میرے ہاتھ کانپنے لگے، میں نے جلدی جلدی کرتی اٹھائی، وہ ابھی بھی آدھی ننگی کھڑی تھی، اور ہم دونوں کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اگلے دس سیکنڈ میں کیا کریں۔
پھر باہر سے ایک عورت کی آواز آئی، شبانہ۔ میں ہوں، فرزانہ۔ گیٹ کھلا تھا تو میں اندر آ گئی۔ میں نے گہرا سانس لیا، یہ ندیم نہیں تھا۔ یہ گلی کی سب سے چغل خور آنٹی تھیں، جن کے پاس شبانہ کے گھر کی ایمرجنسی چابی تھی، اور اس وقت وہ چابی میرے لیے ندیم کی واپسی سے کم خطرناک نہیں تھی۔
شبانہ نے مجھے دھکا دے کر باتھ روم میں گھسیڑ دیا، خود جلدی سے دوپٹہ لپیٹا، بالوں کو ہاتھ سے سنوارا، اور اندر والے دروازے کی کنڈی کھولی۔ میں باتھ روم کا دروازہ ذرا سا کھلا رکھ کر کان لگائے کھڑا تھا، میرا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ مجھے ڈر تھا کہیں فرزانہ آنٹی کو اس کی آواز سنائی نہ دے جائے۔
فرزانہ آنٹی اندر آئیں، ہاتھ میں خالی پیالہ تھا۔ ارے بیٹی، تمہاری چینی واپس کرنے آئی تھی۔ بریلی سے تمہاری ساس کا فون آیا تھا، کہہ رہی تھیں تم اکیلی ہو، میں نے سوچا ذرا حال پوچھ لوں۔ ان کی آواز میں وہ مٹھاس تھی جو صرف جاسوسی کے وقت نکلتی ہے۔
شبانہ کی آواز ذرا کانپی، آئیے آنٹی، بیٹھیے۔ میں پانی لاتی ہوں۔ فرزانہ آنٹی نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ ارے، تمہارا چہرہ اتنا لال کیوں ہے۔ بخار تو نہیں۔ گرمی میں کام کر رہی تھی کیا۔
جی وہ، واش بیسن کی ٹونٹی ٹھیک کر رہی تھی، پانی چھلک گیا۔ شبانہ نے جلدی سے بہانہ بنایا۔ فرزانہ آنٹی کی نظریں باتھ روم کی طرف گئیں جہاں فرش ابھی بھی گیلا تھا اور پانی کے نشان صحن تک آ رہے تھے۔ اتنا پانی۔ ٹونٹی تو کیا، لگتا ہے پوری ٹنکی کھل گئی تھی۔
میں باتھ روم میں دبکا کھڑا تھا، میرے پاؤں گیلے فرش پر تھے، اور میری نظر سامنے والے کمرے میں پڑی جہاں میری قمیض ابھی بھی بستر کے پاس فرش پر پڑی تھی۔ اگر فرزانہ آنٹی نے کمرے میں جھانک لیا تو کھیل ختم تھا۔ میرے ماتھے پر پسینے کے قطرے ٹپکنے لگے۔
فرزانہ آنٹی صوفے پر بیٹھنے کے بجائے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ میں ذرا ہاتھ دھو لوں۔ شبانہ نے فوراً ان کا راستہ روکا، آنٹی، بیٹھیے نا، میں پانی لاتی ہوں۔ اس کی آواز میں وہ گھبراہٹ تھی جو کوئی بھی عورت سمجھ سکتی تھی، سوائے اس کے جو سمجھنا نہ چاہے۔
شبانہ نے زبردستی ہنسی، جی آنٹی، بس ذرا آنکھ لگ گئی تھی۔ فرزانہ آنٹی نے پیالہ میز پر رکھا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ سنو بیٹی، تم اکیلی ہو، ندیم بھی دبئی میں ہے۔ میں نے سوچا ہے کہ اب میں روز آیا کروں گی۔ تمہارا حال پوچھنا میرا فرض ہے۔
فرزانہ آنٹی دس منٹ تک بیٹھی رہیں۔ انہوں نے ساس کی صحت پوچھی، ندیم کے فون کا حال پوچھا، محلے کی دو شادیوں کی خبریں سنائیں، اور جاتے جاتے پھر باتھ روم کی طرف دیکھا۔ پلمبر کو بلانا ہو تو میرے بیٹے کو بتا دینا، وہ سستا کر دے گا۔ پھر گیٹ کا تالا بند ہونے کی آواز آئی اور گھر میں خاموشی چھا گئی۔
ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے، پھر ایک ساتھ ہنس پڑے۔ وہ ہنسی ڈر کی تھی، راحت کی تھی، اور اس پاگل پن کی تھی جو صرف بال بال بچنے کے بعد آتی ہے۔ شبانہ صوفے پر دھپ سے بیٹھ گئی اور بولی، اللہ کا شکر ہے یہ ندیم نہیں تھا، ورنہ آج ہم دونوں کی قبر یہیں کھد جاتی۔
پھر اس نے اچانک میرا گریبان پکڑا اور مجھے اپنی طرف کھینچ لیا۔ تمہیں پتہ ہے، جب ڈر نکلتا ہے نا تو دل میں جو آگ بچتی ہے وہ اور بھڑک اٹھتی ہے۔ اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے ٹکرائے، اور وہ خوف جو ابھی ہمیں کھا رہا تھا، ایک پل میں جلتی ہوئی خواہش میں بدل گیا۔
میں نے اسے صوفے پر لٹا دیا۔ اس کا دوپٹہ پہلے ہی ڈھیلا تھا، میں نے اسے کھینچ کر ایک طرف پھینک دیا۔ اس کی گیلی کرتی اس کے بدن سے چپکی ہوئی تھی، اور اس کے ابھار ہر سانس کے ساتھ اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ میں نے اس کی گردن پر بوسہ دیا اور وہ سسک پڑی۔
میں نے اس کی کرتی اوپر کھینچی اور اس کی چھاتیوں کو ہاتھوں میں بھر لیا۔ اس کے ممے نرم اور گرم تھے، میں نے انہیں دبایا، سہلایا، اور پھر ایک کو منہ میں لے لیا۔ اس نے میرا سر پکڑا اور دبایا، ہاں، ایسے ہی، اور زور سے۔
اس نے میری شلوار نیچے کھینچی اور میرا لنڈ آزاد ہو گیا۔ وہ صوفے سے نیچے فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور اسے اپنے منہ میں لے لیا۔ اس کی زبان میرے لنڈ کی نوک پر گھوم رہی تھی، وہ اسے چوس رہی تھی، اور میں نے صوفے کا ہتھا مضبوطی سے پکڑ لیا۔
شبانہ، بس کرو، میں نکل جاؤں گا۔ میں نے کراہتے ہوئے کہا۔ اس نے لنڈ منہ سے نکالا اور بولی، ابھی نہیں، ابھی تو شروعات ہے۔ پھر وہ اٹھی، اپنی شلوار اتاری، اور صوفے پر ٹانگیں پھیلا کر لیٹ گئی۔ آؤ، مجھے چاٹو۔
میں اس کی ٹانگوں کے بیچ بیٹھ گیا۔ اس کی چوت گیلی اور پھولی ہوئی تھی، اس کی خوشبو میرے دماغ پر چھا گئی۔ میں نے اپنی زبان اس کی چوت پر رکھی اور وہ اچھل پڑی۔ آہ، بلال۔ میں نے اسے چاٹنا شروع کیا، اوپر نیچے، گول گول، اور میری ایک انگلی اس کے اندر چلی گئی۔
اس کی کمر صوفے سے اٹھنے لگی، اس کے ہاتھ میرے بالوں میں تھے۔ اور اندر کرو، اور گہرا۔ میں نے دوسری انگلی بھی ڈال دی اور زبان کی رفتار بڑھا دی۔ اس کی سانسیں ٹوٹنے لگیں، اس کا بدن کانپنے لگا، اور پھر وہ چیخ پڑی۔ اس کی چوت نے میری انگلیوں کو بھینچ لیا اور اس کا پانی میرے منہ پر چھوٹ گیا۔
وہ ہانپ رہی تھی، اس کی چھاتیاں تیزی سے اوپر نیچے ہو رہی تھیں۔ میں نے اپنا منہ پونچھا اور اس کے اوپر آیا۔ اب میری باری۔ میں نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور آہستہ سے دباؤ ڈالا۔ وہ گیلی تھی، گرم تھی، اور میرا لنڈ آسانی سے اندر دھنس گیا۔
ہم دونوں کے منہ سے ایک ساتھ سسکاری نکلی۔ میں نے مشنری پوزیشن میں اس کے اوپر لیٹ کر دھکے لگانے شروع کیے۔ پہلے آہستہ، گہرے، پھر تیز۔ صوفہ ہمارے وزن سے چرچرانے لگا۔ اس کی ٹانگیں میری کمر سے لپٹی ہوئی تھیں۔
پھر میں نے اسے پلٹا۔ وہ صوفے کے سامنے قالین پر گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل ہو گئی، اپنی گانڈ میری طرف اٹھائے۔ میں نے پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈالا اور اس کے کولہوں کو پکڑ لیا۔ ڈوگی پوزیشن میں ہر دھکا اسے آگے دھکیل رہا تھا۔
اچانک اس کا بدن اکڑا، اس کی چیخ دب گئی، اور اس کی چوت سے گرم پانی بہنے لگا۔ اسی لمحے میرا بھی بند ٹوٹا، میں نے اپنا سارا پانی اس کی چوت کے اندر انڈیل دیا۔ ہم دونوں قالین پر ڈھیر ہو گئے، ہانپتے ہوئے، ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے۔
کچھ دیر ہم ویسے ہی پڑے رہے۔ پھر شبانہ اٹھی اور بولی، چلو نہاتے ہیں۔ پسینے سے شرابور ہو گئے ہیں۔ وہ میرا ہاتھ پکڑ کر باتھ روم لے گئی، وہی باتھ روم جہاں کچھ دیر پہلے میں فرزانہ آنٹی سے چھپا تھا۔ اب وہاں ڈر کی جگہ مستی تھی۔
اس نے شاور کھولا اور گرم پانی ہم دونوں پر برسنے لگا۔ اس نے صابن ہاتھ میں لیا اور میرے سینے پر ملنے لگی۔ اس کے ہاتھ میرے بدن پر پھسل رہے تھے، نیچے آتے گئے، اور پھر اس نے میرے لنڈ کو صابن سے دھویا۔ اس کے نرم ہاتھوں کی مالش سے میرا لنڈ پھر کھڑا ہونے لگا۔
دیکھو، یہ تو پھر تیار ہو گیا۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
میں نے اسے دیوار سے لگا دیا۔ ٹھنڈی ٹائلوں سے اس کی پیٹھ لگی اور وہ سسک پڑی۔ میں نے اس کی ایک ٹانگ اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھی اور اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈال دیا۔ کھڑے کھڑے، پانی کے نیچے، ہر دھکے کے ساتھ پانی کی چھینٹیں اڑ رہی تھیں۔
اس نے میری گردن میں بازو ڈالے اور اپنا وزن مجھ پر ڈال دیا۔ بلال، مجھے کبھی مت چھوڑنا۔ میں نے اس کے ہونٹ چومے اور نیچے سے زور لگایا۔ اس کی چوت میرے لنڈ کو نگل رہی تھی، چھوڑ رہی تھی، نگل رہی تھی۔
اس کا سر دیوار سے لگا، اس کی آنکھیں بند ہو گئیں، اور وہ پھر جھڑ گئی۔ اس کی چوت کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ میں بھی نہ رک سکا۔ میں نے اپنا گرم پانی اس کے اندر چھوڑ دیا اور ہم دونوں شاور کے نیچے ایک دوسرے سے لپٹے کھڑے رہے۔
نہانے کے بعد ہم تولیہ لپیٹے کمرے میں آئے۔ وہی بستر جو فرزانہ آنٹی کی نظروں سے بچ گیا تھا۔ شبانہ بستر پر لیٹی اور بولی، اب ایک آخری بار، پھر تم جاؤ گے۔ باہر شام ڈھلنے لگی تھی۔
وہ میرے اوپر آئی۔ اس نے میرا لنڈ پکڑا، اپنی چوت پر رکھا، اور آہستہ آہستہ اس پر بیٹھ گئی۔ کاؤگرل پوزیشن میں وہ اوپر تھی، کنٹرول اس کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے اپنی کمر ہلائی، گول گول، آگے پیچھے، اور میں نے اس کے کولہے پکڑ لیے۔
پھر میں نے اسے پلٹا اور خود اوپر آیا۔ مشنری میں میں نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور گہرے دھکے لگائے۔ ہر دھکا اس کی چیخ نکال رہا تھا۔ اس کے ناخن میری پیٹھ میں گڑ گئے، جلن ہوئی، مگر وہ جلن بھی مزہ دے رہی تھی۔
اس کی حالت دیکھ کر میرا بھی صبر ٹوٹا۔ میں نے آخری زور لگایا اور اپنا سارا پانی اس کی چوت کی گہرائی میں انڈیل دیا۔ ہم دونوں پسینے میں شرابور بستر پر ڈھیر ہو گئے۔ کمرے میں صرف ہماری ہانپنے کی آوازیں تھیں۔
کچھ دیر بعد وہ میرے سینے پر سر رکھ کر لیٹی۔ بولی، دو سال ہو گئے، ندیم نے مجھے اس طرح کبھی نہیں چاہا۔ ویڈیو کال پر تو وہ صرف پیسوں کی بات کرتا ہے۔ میری عورت ہونے کا احساس تو تم نے دلایا ہے۔
میں نے اس کے بال سہلائے۔ میں روز آؤں گا، شبانہ۔ اس نے میری طرف دیکھا، مگر اس کی آنکھوں میں فکر تھی۔ فرزانہ آنٹی روز آئے گی، وہ بھول گئے۔ ہمیں کوئی نیا وقت نکالنا ہوگا۔ دوپہر کو وہ سوتی ہے، اس وقت آنا۔
ہم نے طے کیا کہ اب ملاقاتیں اس وقت ہوں گی جب فرزانہ آنٹی اپنی دوپہر کی نیند میں ہوگی۔ یہ خطرہ تھا، مگر اس خطرے میں جو مزہ تھا وہی تو ہمیں جینے پر مجبور کر رہا تھا۔ ممنوعہ پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔
شام کے سائے کمرے میں پھیلنے لگے۔ میں نے کپڑے پہنے، اس نے میری قمیض کے بٹن لگائے۔ دروازے تک وہ مجھے چھوڑنے آئی۔ اس نے میرے گال پر بوسہ دیا اور بولی، کل اسی وقت، آنٹی کے سونے کے بعد۔
میں مسکرایا اور گیٹ کی طرف بڑھا۔ تبھی کمرے سے اس کے فون کی ہلکی روشنی نظر آئی۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھا فون جل رہا تھا۔ اسکرین پر نام چمک رہا تھا، ندیم، اور نیچے لکھا تھا، دو مسڈ کالز۔
شبانہ کی نظر بھی اسکرین پر پڑی۔ اس کا چہرہ پھر سفید پڑ گیا۔ وہ دھیرے سے بولی، وہ کبھی اس وقت فون نہیں کرتا۔ اس کی انگلیاں کانپتے ہوئے فون کی طرف بڑھیں، اور اسی لمحے فون پھر بجنے لگا۔
اردو پڑوسی کی بیوی کی چدائی: حصہ 3 (آخری حصہ)
Readers who enjoyed “اردو پڑوسی کی بیوی کی چدائی: حصہ 2 (دروازے پر دستک)” also read
8 curated storiesاردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی بارش والی رات
اردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی ایک طوفانی رات جب ہوا رخسانہ کے کپڑے کبیر کی چھت پر اڑا لے گئی، اور ایک دستک نے دونوں کی زندگی بدل دی۔
اردو پڑوسی کی بیوی: بارش والی رات کا راز
اردو پڑوسی کی بیوی فراہ کی بارش والی رات۔ AC کا پائپ لیک ہوا اور کامران اوپر گیا، پھر جو ہوا وہ اس نے سوچا بھی نہ تھا۔
اردو پڑوسی آنٹی کی کہانی: بھوپال میں فرح اور بلال کی رات
بھوپال کی ایک خاموش گلی میں پڑوسی آنٹی فرح اور نوجوان بلال کے درمیان ایک پرانی یاد اچانک نئی آگ بن جاتی ہے۔
اردو نرس سیکس کہانی: رات کی ڈیوٹی والی نرس
اردو نرس سیکس کہانی: لکھنؤ کے اسپتال میں رات کی ڈیوٹی پر نرس شبانہ اور مریض عمران کے درمیان بھڑک اٹھنے والی آگ کی کہانی۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو ساس کی چدائی: جمعہ کی دوپہر کا راز
جمعہ کی دوپہر، حنا لاہور گئی ہوئی ہے اور گھر میں صرف عدیل اور اس کی بیوہ ساس شازیہ ہیں۔ ایک فون کال سے شروع ہونے والی چھیڑ چھاڑ دوپہر کو ایک ناقابل فراموش راز میں بدل دیتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔