اردو پڑوسی کی بیوی کی چدائی: حصہ 3 (آخری حصہ)
فون کی گھنٹی بج رہی تھی۔ شبانہ کے موبائل کی اسکرین پر ندیم کا نام چمک رہا تھا اور اس سے پہلے اس کی دو مسڈ کالیں بھی آ چکی تھیں۔ بلال کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے لگا شبانہ بھی سن لے گی۔ اردو پڑوسی کی بیوی کی چدائی کی اس کہانی میں یہ وہ لمحہ تھا جہاں ایک غلط لفظ سب کچھ مٹی میں ملا سکتا تھا۔
شبانہ نے ایک گہری سانس لی، اپنے بال سنوارے اور فون اٹھا لیا۔ "ہیلو؟" اس کی آواز میں حیران کن سکون تھا، جیسے وہ ابھی ابھی سو کر اٹھی ہو۔ بلال باتھ روم کے دروازے کے پیچھے دبکا کھڑا تھا، کان فون پر لگائے۔ دوسری طرف سے ندیم کی آواز آئی، تھکی ہوئی مگر گرم۔
"شبانہ! کیسی ہو؟ دو بار کال کی، اٹھائی نہیں۔" شبانہ نے مسکرا کر کہا کہ وہ چھت پر کپڑے سکھا رہی تھی، فون کمرے میں رہ گیا تھا۔ ندیم نے بتایا کہ دبئی کا پراجیکٹ دو ہفتے اور بڑھ گیا ہے، مگر خوشخبری یہ تھی کہ کمپنی نے اسے آٹھ دن کی چھٹی دے دی ہے۔ وہ جمعے کی صبح لکھنؤ پہنچ رہا تھا۔
بلال کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ جمعہ؟ آج منگل تھا۔ مطلب صرف تین راتیں بچی تھیں۔ پھر ندیم نے وہ بات کہی جس سے دونوں کے ہوش اڑ گئے۔ "اچھا سنو، فرزانہ آنٹی نے امی کو فون کیا تھا۔ کہہ رہی تھیں کوئی لڑکا گھر آیا تھا نل ٹھیک کرنے۔" ایک لمحے کا سناٹا چھا گیا۔
شبانہ نے پلک جھپکے بغیر جواب دیا۔ "ارے وہ بلال تھا، پڑوس کا لڑکا۔ واش بیسن کا نل پھٹ گیا تھا، پانی بہہ رہا تھا، اسی نے ٹھیک کیا۔ امی کو میں نے اسی دن بتا دیا تھا۔" ندیم ہنس پڑا۔ "اچھا اچھا، میں نے کہا بھی امی سے کہ شبانہ اکیلی ہے، پڑوسی کام آ جاتے ہیں۔" پھر اس نے کہا کہ جمعے کو صبح نو بجے ایئرپورٹ لینے آ جانا، اور فون رکھ دیا۔
فون بند ہوتے ہی شبانہ بستر پر گر پڑی۔ بلال باہر نکلا اور اس کے پاس بیٹھ گیا۔ دونوں کی سانسیں تیز تھیں، مگر اب ڈر کے بجائے ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ "تین راتیں،" شبانہ نے سرگوشی کی۔ "بس تین راتیں۔" بلال نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
ابھی وہ سنبھلے بھی نہ تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ "فرزانہ آنٹی،" شبانہ نے ہونٹوں ہی ہونٹوں میں کہا۔ بلال جلدی سے باتھ روم میں گھسا اور دروازہ بند کر لیا۔ شبانہ نے دوپٹہ سنبھالا اور دروازہ کھولا۔ فرزانہ آنٹی ہاتھ میں ایک پلیٹ میں حلوہ لیے کھڑی تھیں۔
"شبانہ بیٹی، حلوہ بنایا تھا، سوچا تمہیں بھی دے آؤں۔" ان کی نظریں کمرے میں گھوم رہی تھیں۔ "اور یہ فرش ابھی تک گیلا کیوں ہے؟" شبانہ نے مسکرا کر کہا کہ ابھی صفائی کی ہے۔ آنٹی نے باتھ روم کی طرف دیکھا۔ "باتھ روم میں کوئی ہے کیا؟" بلال کی سانس رک گئی۔ شبانہ بولی، "نہیں آنٹی، نل کھلا رہ گیا تھا۔" آنٹی نے حلوے کی پلیٹ میز پر رکھی اور ایک لمبی نصیحت شروع کر دی کہ اکیلی عورت کو دروازہ سوچ کر کھولنا چاہیے۔
پندرہ منٹ بعد جب آنٹی گئیں تو شبانہ نے دروازے کو اندر سے کنڈی لگائی اور باتھ روم کا دروازہ کھولا۔ بلال پسینے میں شرابور تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس پڑے، مگر ہنسی میں ڈر بھی تھا۔ "یہ عورت ہمیں پکڑوائے گی،" بلال نے کہا۔ شبانہ نے اس کی قمیض کا کالر پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ "تو پھر آج کی دوپہر ضائع مت کرو۔"
اس کے بعد جو ہوا وہ جلدی اور بے تابی سے بھرا تھا۔ شبانہ نے بلال کو دروازے سے لگا کر اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ اس کی زبان بلال کے منہ میں گھس گئی اور بلال نے اس کی کمر کو اپنی طرف دبایا۔ شبانہ کی قمیض کے بٹن ایک ایک کر کے کھلے اور اس کے بھاری ممے بلال کے سینے سے لگے۔ بلال نے انھیں ہاتھوں میں بھر لیا اور زور سے دبایا۔ شبانہ کی ایک سسکی نکلی۔
بلال نے اسے گود میں اٹھا کر صوفے پر لٹا دیا۔ اس کی شلوار اتارتے ہی اس کی گیلی چوت سامنے آئی۔ بلال نے دیر نہیں کی، اپنا منہ اس کی ٹانگوں کے درمیان رکھ دیا۔ اس کی زبان جب شبانہ کی چوت کے دانے پر لگی تو شبانہ کی کمر صوفے سے اٹھ گئی۔ "اوہ بلال،" وہ کراہی۔ بلال چاٹتا رہا، چوستا رہا، یہاں تک کہ شبانہ کی ٹانگیں کانپنے لگیں اور وہ ایک زور دار چیخ کے ساتھ جھڑ گئی۔
پھر بلال نے اپنی شلوار اتاری۔ اس کا لنڈ تن کر لوہے جیسا ہو چکا تھا۔ شبانہ نے اسے ہاتھ میں پکڑا اور اپنے منہ میں لے لیا۔ وہ ماہر انداز میں چوس رہی تھی، کبھی سرے کو چاٹتی، کبھی پورا اندر لے جاتی۔ بلال نے اس کے بال پکڑ لیے۔ "بس، اب نہیں،" اس نے کہا اور شبانہ کو صوفے پر اوندھا لٹا دیا۔ پیچھے سے اس نے اپنا لنڈ اس کی چوت میں ایک ہی جھٹکے میں اتار دیا۔
شبانہ کی ایک دبی چیخ نکلی۔ بلال نے اس کے کولہوں کو پکڑ کر دھکے مارنے شروع کیے۔ کمرہ ان کی سانسوں اور جلد کی ٹکراہٹ کی آواز سے بھر گیا۔ "اور زور سے،" شبانہ بولی۔ بلال نے رفتار بڑھا دی۔ دس منٹ کی اس دھواں دھار چدائی کے بعد دونوں ایک ساتھ جھڑے۔ شبانہ کی چوت نے بلال کے لنڈ کو نچوڑ لیا اور بلال کا گرم پانی اس کے اندر بہہ گیا۔
شام کو چائے پیتے ہوئے انھوں نے منصوبہ بنایا۔ آج رات، محلہ سو جانے کے بعد، بلال چھت کی دیوار پھلانگ کر آئے گا۔ شبانہ چھت کا دروازہ کھلا رکھے گی۔ "آخری راتیں ہیں،" شبانہ نے کہا، "انھیں یادگار بناتے ہیں۔" بلال نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ان میں آنسو بھی تھے اور ایک عجیب سی چمک بھی۔
رات کے بارہ بجے بلال دیوار پھلانگ کر شبانہ کی چھت پر اترا۔ شبانہ وہیں کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی، چاندنی میں اس کا سفید سوٹ چمک رہا تھا۔ وہ کچھ نہ بولی، بس بلال کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لے گئی۔ دروازہ بند کرتے ہی دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ یہ جلدی نہیں تھی، یہ الوداع کی شروعات تھی۔
شبانہ نے آہستہ آہستہ بلال کے کپڑے اتارے، جیسے وہ اس کے جسم کو یاد کرنا چاہتی ہو۔ اس نے بلال کے سینے پر بوسے دیے، اس کے پیٹ پر زبان پھیری اور پھر اس کے لنڈ کو اپنے منہ میں لے لیا۔ اس بار وہ جلدی میں نہیں تھی۔ وہ چوس رہی تھی، سہلا رہی تھی، جیسے وقت کو روکنا چاہتی ہو۔ بلال نے اس کے سر کو سہلایا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
پھر شبانہ بستر پر لیٹی اور بلال کو اپنے اوپر بلایا۔ "آج تم کچھ مت کرو،" اس نے کہا، "آج میں تمہیں پیار کروں گی۔" اس نے بلال کے لنڈ کو اپنی چوت پر رگڑا اور پھر آہستہ سے اندر لے لیا۔ وہ اوپر نیچے ہونے لگی، کبھی تیز، کبھی آہستہ۔ اس کے ممے بلال کے چہرے کے سامنے جھول رہے تھے اور بلال انھیں چوستا رہا۔
"تمہیں یاد ہے پہلی رات؟" شبانہ نے ہانپتے ہوئے پوچھا۔ "چھت پر تم نے مجھے روتے دیکھا تھا۔" بلال نے اس کی کمر پکڑ لی۔ "اور اب دیکھو،" وہ مسکرایا۔ شبانہ کی رفتار بڑھ گئی۔ اس کی چوت بلال کے لنڈ کو کس رہی تھی۔ دونوں کی سانسیں ایک ہو گئی تھیں۔ پھر ایک لمحے میں دونوں کے جسم اکٹھے کانپے اور وہ ایک ساتھ جھڑے۔
اس کے بعد وہ دیر تک ایک دوسرے کی بانہوں میں لیٹے رہے۔ شبانہ نے بتایا کہ اس کی شادی کو دس سال ہو گئے ہیں، مگر ندیم کے دبئی جانے کے بعد وہ دو سال سے اکیلی تھی۔ "عورت صرف روٹی کپڑا نہیں مانگتی، بلال،" اس نے کہا۔ "اسے کوئی چاہنے والا بھی چاہیے۔" بلال نے اس کے ماتھے کو چوما۔ "میں ہمیشہ اس دیوار کے اس پار رہوں گا۔"
بدھ کا دن عام سا گزرا۔ فرزانہ آنٹی دوپہر کو پھر آئیں اور شبانہ نے انھیں چائے پلا کر ٹرخا دیا۔ بلال اپنی چھت سے دیکھتا رہا۔ شام کو جب آنٹی اپنے گھر گئیں تو شبانہ نے چھت سے بلال کو اشارہ کیا۔ آج رات پھر ملاقات تھی، مگر کم وقت کے لیے۔
بدھ کی رات وہ صرف ایک گھنٹے کے لیے ملے۔ وقت کم تھا، اس لیے بے تابی زیادہ تھی۔ باتھ روم میں، شاور کے نیچے، دونوں نے ایک دوسرے کو جلدی جلدی پیار کیا۔ پانی کی دھار میں شبانہ کی چوت میں بلال کا لنڈ اندر باہر ہو رہا تھا۔ شبانہ نے اپنا منہ بلال کے کندھے میں دبا رکھا تھا تاکہ آواز باہر نہ جائے۔ پندرہ منٹ میں دونوں جھڑ گئے۔
جمعرات کو شبانہ نے گھر کی صفائی شروع کر دی۔ ندیم کے آنے کی تیاری تھی۔ نئے بستر کی چادریں، اچار، اس کے پسندیدہ کپڑے استری۔ بلال دیوار کے اس پار سے دیکھتا رہا۔ دوپہر کو شبانہ چھت پر آئی اور دھیرے سے بولی، "آج رات آخری بار۔" بلال کا گلا خشک ہو گیا۔
جمعرات کی رات چاند نہیں تھا۔ اندھیرے میں بلال دیوار پھلانگا۔ شبانہ کمرے میں اس کا انتظار کر رہی تھی، اس نے نیا کالا سوٹ پہنا تھا۔ "یہ میں نے تمہارے لیے پہنا ہے،" اس نے کہا۔ اس رات انھوں نے پیار کیا جیسے دنیا ختم ہو رہی ہو۔ ہر بوسہ لمبا تھا، ہر لمس گہرا۔
شبانہ نے بلال کو بستر پر لٹایا اور اس کے پورے جسم کو چوما۔ اس نے اس کے لنڈ کو دیر تک چوسا، پھر اس پر سوار ہو گئی۔ وہ آہستہ آہستہ ہل رہی تھی، بلال کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔ "مجھے بھولو گے تو نہیں؟" اس نے پوچھا۔ بلال نے اسے اپنی طرف کھینچ کر اس کے ہونٹ چومے۔ "کبھی نہیں۔"
اس رات وہ تین بار ملے۔ آخری بار کے بعد شبانہ نے بلال کو ایک چھوٹا سا ڈبہ دیا۔ اس میں اس کی ایک پرانی چوڑی تھی۔ "یہ رکھ لو،" اس نے کہا، "میری نشانی۔" بلال نے ڈبہ اپنی جیب میں رکھا۔ دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر دونوں مسکرا رہے تھے۔
صبح کے چار بجے بلال دیوار پھلانگ کر اپنے گھر واپس آیا۔ شبانہ نے اسے جاتے دیکھا اور پھر چھت کے دروازے کو اندر سے بند کر دیا۔ اس نے اپنا ایک دوپٹہ دیوار کے جنگلے سے باندھ دیا، ہوا میں لہراتا ہوا۔ یہ ان کے راز کی آخری نشانی تھی۔
جمعے کی صبح نو بجے بلال اپنی چھت پر کھڑا تھا۔ گلی میں ایک ٹیکسی رکی اور ندیم اترا۔ شبانہ دوڑ کر دروازے پر گئی۔ ندیم نے اسے گلے لگایا۔ پھر شبانہ نے ایک نظر اوپر چھت کی طرف دیکھا۔ بلال وہیں کھڑا تھا۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ شبانہ نے ہلکی سی مسکراہٹ دی اور اندر چلی گئی۔
دروازہ بند ہو گیا۔ بلال نے جنگلے سے بندھا ہوا دوپٹہ اتارا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس میں ابھی بھی شبانہ کی خوشبو تھی۔ نیچے سے اس کی امی کی آواز آئی، "بلال! ناشتہ تیار ہے۔" بلال نے دوپٹہ تہہ کر کے اپنی جیب میں رکھا اور سیڑھیاں اترنے لگا۔ کہانی ختم ہو گئی تھی، مگر اس کی خوشبو ابھی باقی تھی۔
Readers who enjoyed “اردو پڑوسی کی بیوی کی چدائی: حصہ 3 (آخری حصہ)” also read
8 curated storiesاردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی بارش والی رات
اردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی ایک طوفانی رات جب ہوا رخسانہ کے کپڑے کبیر کی چھت پر اڑا لے گئی، اور ایک دستک نے دونوں کی زندگی بدل دی۔
اردو پڑوسی کی بیوی: بارش والی رات کا راز
اردو پڑوسی کی بیوی فراہ کی بارش والی رات۔ AC کا پائپ لیک ہوا اور کامران اوپر گیا، پھر جو ہوا وہ اس نے سوچا بھی نہ تھا۔
اردو پڑوسی آنٹی کی کہانی: بھوپال میں فرح اور بلال کی رات
بھوپال کی ایک خاموش گلی میں پڑوسی آنٹی فرح اور نوجوان بلال کے درمیان ایک پرانی یاد اچانک نئی آگ بن جاتی ہے۔
اردو نرس سیکس کہانی: رات کی ڈیوٹی والی نرس
اردو نرس سیکس کہانی: لکھنؤ کے اسپتال میں رات کی ڈیوٹی پر نرس شبانہ اور مریض عمران کے درمیان بھڑک اٹھنے والی آگ کی کہانی۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو ساس کی چدائی: جمعہ کی دوپہر کا راز
جمعہ کی دوپہر، حنا لاہور گئی ہوئی ہے اور گھر میں صرف عدیل اور اس کی بیوہ ساس شازیہ ہیں۔ ایک فون کال سے شروع ہونے والی چھیڑ چھاڑ دوپہر کو ایک ناقابل فراموش راز میں بدل دیتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔