اردو پڑوسن کہانی: مہنور کی گرم چدائی اور ریحان کے ساتھ بستر کی آگ
ریحان دہلی سے جلدی واپس لوٹا تو شام کی ہوا میں لکھنؤ کی مشترکہ چھت پر پانی کی ہلکی خوشبو پھیلی ہوئی تھی، اور یہ اردو پڑوسن کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں اس نے اپنی نئی پڑوسن مہنور کو گملوں کے درمیان کھڑے پایا۔ وہ ہری ساڑی میں تھی، اس کے بالوں کی ایک لٹ گال پر آ رہی تھی، اور اس کے ہاتھ میں پانی کی چھوٹی بالٹی تھی۔ ریحان نے اپنا بیگ کندھے سے نیچے رکھا اور مسکرا کر کہا کہ وہ تو سوچ رہا تھا کہ آج چھت خالی ملے گی، مگر مہنور نے آنکھ مار کر جواب دیا کہ خالی چھت پر تو صرف کبوتر آتے ہیں، پڑوسن نہیں۔
مہنور نے پانی کا پائپ اس کی طرف بڑھایا اور بولی کہ اس کے فلیٹ کی دھول تو اب چھت تک پہنچ گئی ہے، اس لیے پہلے وہ اپنے پودوں کو بچا رہی ہے، پھر اس کے گھر کی صفائی کا حساب لے گی۔ ریحان ہنس پڑا اور کہا کہ دہلی کی مٹی اس کے کپڑوں میں بھی بس گئی ہے، اس لیے آج وہ خود بھی ایک پودے سے کم نہیں لگ رہا۔
ریحان نے بھاری گملا اٹھانے میں اس کی مدد کی تو ان کے ہاتھ ایک لمحے کے لیے آپس میں ٹکرائے، اور مہنور نے اپنا ہاتھ پیچھے نہیں ہٹایا۔ اس نے دھیرے سے کہا کہ اس گملے کا وزن تو کچھ بھی نہیں، اصل وزن تو اس تنہائی کا ہے جو نئے شہر میں ہر شام اس کے دروازے پر آ کر بیٹھ جاتی ہے۔
مہنور نے بالٹی نیچے رکھی اور اس کے قریب آ کر بولی کہ وہ اسکول سے واپس آ کر اکثر چھت پر آتی ہے، کیونکہ نیچے فلیٹ میں خاموشی اسے کاٹنے کو دوڑتی ہے۔ اس نے ریحان کی قمیص کے کالر پر لگی دھول کو اپنی انگلیوں سے جھاڑا، اور اس چھوٹے سے لمس نے ریحان کے جسم میں ایک لہر دوڑا دی۔
شام گہری ہوئی تو چھت پر روشنیاں جلنے لگیں اور نیچے گلی سے چائے والے کی آواز آنے لگی۔ مہنور نے کہا کہ اس نے گھر پر شامی کباب بنائے ہیں، اور اگر ریحان کو دھول والے فلیٹ میں اکیلے کھانا نہیں کھانا تو وہ اس کے ساتھ کھا سکتا ہے۔ ریحان نے فورا ہاں کہہ دی، کیونکہ اس کے فلیٹ میں تو صرف پرانے اخبار اور خالی فریج اس کا انتظار کر رہے تھے۔
مہنور کے فلیٹ میں داخل ہوتے ہی خوشبو نے ریحان کو گھیر لیا، گرم مصالحوں کی خوشبو، صابن کی ہلکی مہک، اور مہنور کے بالوں سے اٹھتی ہوئی خوشبو سب ایک ساتھ اس کے حواس پر چھا گئیں۔ اس نے دروازہ بند کیا تو مہنور نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا اور کہا کہ اس گھر میں مہمان دروازے پر نہیں رکتے، اندر آ کر بیٹھتے ہیں۔
کھانے کی میز پر مہنور نے کباب پیش کیے، مگر اس کی نظریں بار بار ریحان کے ہونٹوں پر جا کر رک رہی تھیں۔ ریحان نے ایک کباب اٹھایا اور اسے مہنور کے منہ کے قریب لے گیا، اور مہنور نے اس کے ہاتھ سے کھاتے وقت اس کی انگلی کو ہلکے سے اپنے ہونٹوں سے چھو لیا۔
کھانے کے بعد مہنور نے برتن سمیٹے اور ریحان اس کی مدد کے لیے کچن میں آ گیا۔ کچن کی تنگ جگہ میں ان کے جسم بار بار ٹکرا رہے تھے، اور ہر ٹکر کے ساتھ مہنور کی سانسیں تھوڑی تیز ہو رہی تھیں۔
ریحان نے اسے اپنی طرف موڑا اور اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لے کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ مہنور نے آنکھیں بند کر لیں اور اس کے ہونٹوں کی طرف اپنا چہرہ اٹھا دیا۔
ریحان نے اس کی ساڑی کے پلو کو کندھے سے سرکایا اور اس کی گردن پر بوسے دینے لگا، اور مہنور نے اپنا سر پیچھے جھکا کر اسے اور موقع دیا۔ اس کی گردن پر ریحان کے ہونٹوں کی گرمی نے اس کے جسم میں کپکپی پیدا کر دی، اور اس نے ریحان کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسا لیں۔
ریحان نے اسے اٹھا کر صوفے پر بٹھایا اور اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اس نے اس کے پیروں سے لے کر گھٹنوں تک بوسے دیے، اور مہنور نے اپنی ٹانگیں تھوڑی سی کھول دیں۔
ریحان نے اس کا بلاؤز اتارا اور اس کے سینے کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا، اس کے نپلز کو اپنی انگلیوں سے سہلایا اور پھر اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگا۔ مہنور نے ایک لمبی آہ بھری اور اس کے سر کو اپنے سینے سے لگا لیا، اس کی کمر دھنک کی طرح مڑ گئی۔
مہنور نے ریحان کو کھڑا کیا اور اس کی پینٹ کا بٹن کھولا، اور اس کا سخت لنڈ اس کے ہاتھ میں آتے ہی اس نے اسے دھیرے سے سہلانا شروع کر دیا۔ ریحان نے اس کے ہاتھ کی گرفت پر اپنا سر پیچھے کیا اور کہا کہ اس کے ہاتھ میں جادو ہے، تو مہنور نے مسکرا کر اسے اپنے منہ میں لے لیا۔
جب ریحان کا جسم کانپنے لگا تو اس نے مہنور کو روکا اور اسے صوفے پر لٹا دیا۔ اس نے اس کی ٹانگیں کھولیں اور اس کی چوت پر اپنا منہ رکھ دیا، اس کی زبان نے اس کی گیلی چوت کو چاٹنا شروع کر دیا۔
مہنور پہلی بار جھڑ گئی تو اس کی آنکھوں میں پانی آ گیا اور اس نے ریحان کو اپنے اوپر کھینچ لیا۔ ریحان نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور دھیرے سے اندر دھکیلا، اور مہنور نے اسے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا۔ پہلا دھکا گہرا اور بھرا ہوا تھا، اور مہنور نے اس کے کان میں کہا کہ وہ اسی لمحے کا انتظار کر رہی تھی جب سے وہ اس محلے میں آئی ہے۔
ریحان نے اسے مختلف انداز میں چودنا شروع کیا، کبھی دھیرے، کبھی تیز، کبھی گہرا، کبھی ہلکا، اور مہنور ہر انداز پر نئی آہوں سے جواب دیتی رہی۔ اس نے مہنور کی ٹانگوں کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور اس کی چوت میں اور گہرائی تک جانے لگا، اور مہنور نے اس کی پیٹھ پر اپنے ناخن گاڑ دیے۔
ریحان نے اسے اٹھایا اور دیوار کے سہارے کھڑا کر کے پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ داخل کر دیا۔ مہنور نے دیوار پر اپنے ہاتھ ٹکا دیے اور اپنی کمر کو دھنک کی طرح موڑ دیا، اور ریحان نے اس کے کولہوں کو پکڑ کر تیز دھکے دینے شروع کر دیے۔
کچھ دیر بعد دونوں تھک کر صوفے پر گر گئے، مگر ان کی پیاس ابھی باقی تھی۔ مہنور نے ریحان کے کان میں کہا کہ اس کا فلیٹ تو ابھی دیکھا ہی نہیں، وہاں کا بستر اس صوفے سے زیادہ آرام دہ ہے۔
ریحان کے فلیٹ میں بستر پر بکھرے کاغذ اور کپڑے تھے، مگر مہنور نے ان سب کو ایک طرف ہٹا دیا اور خود بستر پر لیٹ گئی۔ اس نے اپنی ٹانگیں کھول کر ریحان کو بلایا اور کہا کہ اب وہ اس بستر پر اس کی مہمان نہیں، اس کی مالکن ہے۔
مہنور نے ریحان کو نیچے لٹا دیا اور خود اس کے اوپر بیٹھ گئی، اور اس انداز میں وہ خود رفتار کو قابو کر رہی تھی۔ وہ دھیرے دھیرے اوپر نیچے ہو رہی تھی، کبھی گہرا بیٹھتی، کبھی ہلکا اٹھتی، اور ریحان نے اس کے کولہوں کو پکڑ کر اس کی مدد کی۔
جھڑنے کے بعد بھی مہنور ریحان کے اوپر سے نہیں اتری، اس نے اس کے لنڈ کو اپنی چوت میں ہی رکھا اور اس کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا۔ ریحان نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور کہا کہ وہ اسے اسی طرح اپنی بانہوں میں رکھنا چاہتا ہے، اور مہنور نے جواب دیا کہ وہ بھی یہی چاہتی ہے، مگر اس کا جسم ابھی اور مانگ رہا ہے۔
ریحان کی رفتار نے مہنور کو پاگل کر دیا، اس نے بستر کی چادر کو مٹھی میں پکڑ لیا اور اپنی کمر کو اوپر اٹھا کر ہر دھکے کا جواب دیا۔ ان کے جسموں کی ٹکر کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی، اور مہنور کی آہیں اب بے قابو ہو چکی تھیں۔
کچھ دیر خاموشی کے بعد مہنور نے کہا کہ اسے چھت پر پودوں کو پانی دینا ابھی باقی ہے، اور ریحان نے ہنس کر کہا کہ پودوں کو تو پانی مل گیا، اب چھت پر ان کی باری ہے۔ دونوں نے کپڑے پہنے بغیر ایک چادر اوڑھی اور چھت پر چلے گئے، جہاں شام کی آخری روشنی اب رات میں بدل رہی تھی۔
چھت پر گملوں کے درمیان ریحان نے مہنور کو ایک بڑے گملے کے سہارے کھڑا کیا اور اس کے پیچھے سے اسے پکڑ لیا۔ مہنور نے چادر کو اپنے کندھوں سے سرکایا اور اپنی کمر کو اس کی طرف موڑ دیا، اور ریحان نے اس کی چوت میں پیچھے سے اپنا لنڈ داخل کر دیا۔ کھلی ہوا میں چودنے کا اپنا ہی مزہ تھا، نیچے گلی کی آوازیں آ رہی تھیں، مگر اوپر چھت پر صرف ان کی سانسیں اور آہیں تھیں۔
ریحان نے مہنور کو گھما کر سامنے سے اٹھا لیا اور اسے گملوں کی دیوار پر بٹھا دیا۔ مہنور نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں اور ریحان نے اس کی چوت میں گہرے دھکے دینے شروع کر دیے۔
چھت پر ان کا تیسرا دور بھی اتنا ہی گرم تھا جتنا پہلے دو، اور جب دونوں دوبارہ جھڑے تو مہنور نے ریحان کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ اس نے کہا کہ آج کی شام نے اس کی تنہائی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے، اور ریحان نے جواب دیا کہ اس کا فلیٹ اب خالی نہیں رہے گا، کیونکہ اس کی پڑوسن اب اس کی ہر شام کا حصہ ہے۔
رات گہری ہوئی تو مہنور نے ریحان کے فلیٹ میں واپس جا کر چائے بنائی، اور دونوں بالکونی میں بیٹھ کر چائے پینے لگے۔ مہنور نے کہا کہ اسکول میں اس کے بچے اس سے پوچھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کیوں مسکراتی ہے، اور آج اسے اس سوال کا جواب مل گیا ہے۔
اگلی صبح مہنور پھر چھت پر پودوں کو پانی دے رہی تھی، اور ریحان اپنے فلیٹ کی بالکونی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے مہنور کو اشارہ کیا اور مہنور نے پانی کا پائپ اس کی طرف کر دیا، جیسے وہ اسے پھر بلا رہی ہو۔ ریحان نے مسکرا کر اپنا کپ اٹھایا اور کہا کہ آج شام پھر چھت پر ملتے ہیں، اور مہنور نے جواب دیا کہ چھت پر نہیں، آج شام تو وہ سیدھا اس کے فلیٹ میں آئے گی، دروازہ کھلا رکھے۔
اگلی شام مہنور نے ریحان کے فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے بغیر کھولا اور اندر آ کر بولی کہ آج وہ چھت پر نہیں رکے گی، آج وہ سیدھا اس کے کمرے میں آئی ہے۔ ریحان نے اپنا لیپ ٹاپ بند کیا اور اسے دیکھا تو وہ نیلی ساڑی میں تھی، اس کے بال کھلے ہوئے تھے، اور اس کی آنکھوں میں وہی دعوت تھی جو پہلی شام تھی۔
بستر پر مہنور نے خود اپنی ساڑی کی گانٹھ کھولی اور اسے زمین پر گرنے دیا، پھر اس نے اپنا بلاؤز اتارا اور اپنے سینوں کو ریحان کے سامنے پیش کر دیا۔ ریحان نے اس کے سینوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور ان کے نپلز کو چوسنے لگا، اور مہنور نے اپنا سر پیچھے جھکا کر اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا لیں۔
مہنور نے ریحان کے لنڈ کو گہرائی تک اپنے منہ میں لیا اور اسے چوسنے لگی، اور ریحان نے اس کے سر کو پکڑ کر دھیرے دھیرے دھکے دینے شروع کر دیے۔ جب ریحان کی سانسیں تیز ہو گئیں تو مہنور نے اسے روکا اور خود بستر پر لیٹ گئی، اپنی ٹانگیں کھول کر اسے بلایا۔
ریحان نے اپنی زبان سے اس کے دانے کو سہلایا اور اپنی انگلی کو اس کی گیلی چوت میں داخل کیا، اور مہنور کا جسم ایک لہر کے ساتھ کانپ اٹھا۔ اس نے ریحان کو اپنے اوپر کھینچا اور کہا کہ اب وہ انتظار نہیں کر سکتی، اسے اس کا لنڈ اپنی چوت میں چاہیے۔
ریحان نے دھیرے دھیرے رفتار بڑھائی اور مہنور کی چوت میں گہرے دھکے دینے لگا، اور ہر دھکے کے ساتھ بستر ہلنے لگا۔ مہنور نے اپنی کمر کو اوپر اٹھا کر ہر دھکے کا جواب دیا، اور اس کی آہیں کمرے میں گونجنے لگیں۔
اس انداز میں مہنور جلدی جھڑ گئی اور اس نے ریحان کا نام لے کر کہا کہ وہ اسے کبھی نہ چھوڑے، وہ ہمیشہ اس کی پڑوسن ہی نہیں، اس کی اپنی رہے گی۔ ریحان نے اس کی کمر پر بوسہ دیا اور اس کی چوت میں اپنا پانی چھوڑ دیا، اور دونوں ایک ساتھ پرسکون ہو کر ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔
Readers who enjoyed “اردو پڑوسن کہانی: مہنور کی گرم چدائی اور ریحان کے ساتھ بستر کی آگ” also read
8 curated storiesاردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی بارش والی رات
اردو پڑوسن کی کہانی: اکتوبر کی ایک طوفانی رات جب ہوا رخسانہ کے کپڑے کبیر کی چھت پر اڑا لے گئی، اور ایک دستک نے دونوں کی زندگی بدل دی۔
اردو پڑوسی کی بیوی: بارش والی رات کا راز
اردو پڑوسی کی بیوی فراہ کی بارش والی رات۔ AC کا پائپ لیک ہوا اور کامران اوپر گیا، پھر جو ہوا وہ اس نے سوچا بھی نہ تھا۔
اردو پڑوسی آنٹی کی کہانی: بھوپال میں فرح اور بلال کی رات
بھوپال کی ایک خاموش گلی میں پڑوسی آنٹی فرح اور نوجوان بلال کے درمیان ایک پرانی یاد اچانک نئی آگ بن جاتی ہے۔
اردو نرس سیکس کہانی: رات کی ڈیوٹی والی نرس
اردو نرس سیکس کہانی: لکھنؤ کے اسپتال میں رات کی ڈیوٹی پر نرس شبانہ اور مریض عمران کے درمیان بھڑک اٹھنے والی آگ کی کہانی۔
اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو سہاگ رات کہانی: مہیرہ کی پہلی رات کا سچ
دروازے کے باہر سالیوں کی نیگ بازی اور اندر گھونگھٹ میں بیٹھی مہیرہ۔ یہ اردو سہاگ رات کہانی آرمان اور مہیرہ کی پہلی رات کے ان لمحوں کی ہے جو ہر دولہا دلہن کے دل میں اتر جاتی ہے۔
اردو ساس کی چدائی: جمعہ کی دوپہر کا راز
جمعہ کی دوپہر، حنا لاہور گئی ہوئی ہے اور گھر میں صرف عدیل اور اس کی بیوہ ساس شازیہ ہیں۔ ایک فون کال سے شروع ہونے والی چھیڑ چھاڑ دوپہر کو ایک ناقابل فراموش راز میں بدل دیتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی کی کہانی: مہوش کی پہلی ضد
لاہور کے ایک فلیٹ میں جیجا کاشف اور سالی مہوش دو راتوں کے لیے اکیلے رہ گئے۔ یہ اردو سالی کی چدائی کی کہانی آپ کو آخری لائن تک باندھے رکھے گی۔