اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
تیسرے سگنل پر بھی گاڑی بند ہو گئی۔ پیچھے سے ہارن بجنے لگے اور نرگس کے ہاتھ اسٹیئرنگ پر کانپنے لگے۔ اسے لگا جیسے اس کی اپنی زندگی کسی اردو سیکس سٹوریز کے پلاٹ جیسی بنتی جا رہی ہو، فرق صرف اتنا تھا کہ یہاں ہر لمحہ سچ تھا۔
عدیل نے ہنس کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "ریلیکس نرگس جی۔ کلچ آہستہ چھوڑنا ہے، جلدی نہیں۔" اس کی آواز میں وہی نرم لہجہ تھا جو پہلے دن سے نرگس کو بے چین کیے ہوئے تھا۔
"تمہیں ہنسی آ رہی ہے اور میری جان نکل رہی ہے۔" نرگس نے مصنوعی غصے سے کہا، مگر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ عدیل کا ہاتھ اب بھی اس کے کندھے پر تھا اور وہیں سے ایک ہلکی سی گرمی اس کے پورے بدن میں اتر رہی تھی۔
"دیکھو، ڈرائیونگ میں سب سے ضروری چیز کنٹرول ہے۔" عدیل نے گیئر لیور پر اپنا ہاتھ رکھا۔ "ہاتھ نرم، پاؤں نرم۔ جلدی کرنے والی ہمیشہ پھنس جاتی ہے۔" یہ کہتے ہوئے اس کی نظریں نرگس کی آنکھوں میں تھیں اور نرگس کو لگا کہ وہ صرف گیئر کی بات نہیں کر رہا۔
نرگس کی سانس رک سی گئی۔ تینتیس سال کی عمر، دو بچے، اور طلاق کو دو سال ہو چکے تھے۔ اتنے عرصے میں کسی مرد نے اسے اس طرح نہیں دیکھا تھا۔ "تو پھر سکھاؤ نا کنٹرول کرنا۔" اس نے ہلکی آواز میں کہا۔
عدیل نے سگنل ہرا ہوتے ہی اسے گاڑی آگے بڑھانے کا اشارہ کیا۔ اس بار گاڑی بند نہیں ہوئی۔ "بہت خوب۔" وہ بولا۔ "اب ہم نہر والی سڑک پر چلتے ہیں۔ وہاں ٹریفک نہیں، وہاں تم کھل کر پریکٹس کرو گی۔"
نہر کی سڑک واقعی سنسان تھی۔ دونوں طرف گھنے درخت تھے اور دور تک صرف ان کی گاڑی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ نرگس نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کیا اور ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرائی۔ "کتنا سکون ہے یہاں۔" وہ بولی۔
"تم نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیوں کیا؟" عدیل نے پوچھا۔ نرگس نے ہلکا سا سانس لیا۔ "طلاق کے بعد سب کچھ خود کرنا پڑتا ہے۔ بچوں کو اسکول چھوڑنا، بازار جانا۔ اب کسی پر انحصار نہیں کرنا۔" اس کی آواز میں ایک دبی ہوئی مضبوطی تھی۔
عدیل نے گاڑی ایک بڑے درخت کے سائے میں روک دی اور انجن بند کر دیا۔ اچانک گہری خاموشی چھا گئی، صرف پتوں کی سرسراہٹ سنائی دے رہی تھی۔ "یہاں رکو۔" وہ بولا۔ "اب میں تمہیں گیئر بدلنا سکھاتا ہوں، بغیر کسی جلدی کے۔" وہ اپنی سیٹ سے جھکا اور نرگس کی طرف آیا۔
اس کا چہرہ اب نرگس کے چہرے سے چند انچ کے فاصلے پر تھا۔ اس کے مضبوط ہاتھ نے نرگس کے نازک ہاتھ کو گیئر لیور پر ڈھانپ لیا۔ "ایسے۔ آہستہ سے دباؤ، محسوس کرو۔" اس کی گرم سانس نرگس کے گال پر پڑ رہی تھی اور نرگس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
نرگس کا دوپٹہ کندھے سے سرک گیا۔ عدیل کی نظر ایک پل کے لیے اس کے سینے کے ابھار پر ٹھہری اور پھر واپس اس کی آنکھوں پر آ گئی۔ "تم ہر لڑکی کو ایسے سکھاتے ہو؟" نرگس نے شرارت بھری آواز میں پوچھا۔
"صرف ان کو جو سیکھنے کے ساتھ ساتھ سکھانے والے کو بھی بے چین کر دیں۔" عدیل کی آواز بھاری ہو گئی تھی۔ نرگس نے اس کے شرٹ کا کالر پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔
ان کے ہونٹ آپس میں ملے۔ پہلے ہلکا سا لمس، پھر گہرا اور بھوکا بوسہ۔ عدیل کا ایک ہاتھ نرگس کی گردن کے پیچھے تھا اور دوسرا اس کی کمر پر کسا ہوا۔ نرگس نے اس کے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے دبایا اور عدیل کے گلے سے ایک دبی ہوئی آہ نکلی۔
"پچھلی سیٹ پر چلو۔" نرگس نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ عدیل نے ایک لمحہ اسے گہری نظروں سے دیکھا، پھر دونوں دروازے کھول کر پچھلی سیٹ پر آ گئے۔ گاڑی کے اندر کی ہوا بھاری اور گرم ہو چکی تھی۔
عدیل نے نرگس کی کرتی کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ ایک، دو، تین۔ اس کی انگلیاں ہلکی سی کانپ رہی تھیں۔ نرگس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ دیا۔ "ڈرو مت۔" وہ بولی۔ "میں بچوں والی نہیں ہوں۔"
اس کے بھرے ہوئے ممے عدیل کے ہاتھوں میں تھے۔ اس نے انہیں دبایا، سہلایا، اور پھر جھک کر ایک سخت نپل کو منہ میں لے لیا۔ نرگس کی کمر دھنوس کی طرح مڑ گئی۔ "آہ۔ عدیل۔" اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
عدیل کا دوسرا ہاتھ نیچے کی طرف گیا۔ اس نے نرگس کی شلوار کا ناڑا کھولا اور اس کا ہاتھ اس کی گیلی چوت پر پہنچا۔ وہ بہت گیلی تھی، اس کی انگلیاں آسانی سے پھسل رہی تھیں۔ اس نے انگلی سے اس کے دانے کو سہلایا اور نرگس نے اس کی کلائی کس کر پکڑ لی۔
"رکو مت۔" نرگس نے ہانپتے ہوئے کہا۔ عدیل نے ایک انگلی اس کے اندر ڈالی، پھر دوسری۔ نرگس کی سانسیں تیز ہو گئیں اور اس کا پورا بدن کانپنے لگا۔ "ہاں۔ ایسے ہی۔ اور اندر۔"
نرگس نے عدیل کی پینٹ کی زپ کھولی۔ اس کا تنا ہوا موٹا لنڈ باہر نکلا۔ نرگس نے اسے ہاتھ میں لیا اور آہستہ آہستہ سہلایا، پھر جھک کر اسے اپنے منہ میں لے لیا۔ عدیل نے سیٹ کو دونوں ہاتھوں سے بھینچ لیا۔
وہ اسے چوستی رہی، اوپر نیچے، اپنی زبان سے اس کی نوک کو چھیڑتے ہوئے۔ عدیل کی سانس پھولنے لگی اور اس کے پیٹ کے پٹھے اکڑنے لگے۔ "نرگس۔ بس کرو۔ ورنہ ابھی نکل جائے گا۔" اس نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈال دیا۔
نرگس اٹھی اور اپنی شلوار پوری طرح اتار کر ایک طرف پھینک دی۔ وہ عدیل کی گود میں بیٹھ گئی اور اس کے لنڈ کو اپنی گیلی چوت کے منہ پر رکھا۔ آہستہ آہستہ وہ نیچے بیٹھتی گئی اور وہ اس کے اندر اترتا گیا۔
"اوہ خدا۔" نرگس نے اس کے کندھوں کو زور سے پکڑا۔ اتنے سالوں بعد پہلی بار کسی مرد کا لنڈ اس کے اندر تھا اور یہ احساس اسے پاگل کیے دے رہا تھا۔ وہ اوپر نیچے ہونے لگی۔ عدیل نے اس کے کولہوں کو پکڑ کر اس کی رفتار بڑھا دی۔
گاڑی ہلنے لگی۔ باہر درختوں کی چھاؤں میں کوئی نہیں تھا، صرف ان کی دبی ہوئی آوازیں اور تیز سانسیں تھیں۔ نرگس تیز ہوتی گئی اور عدیل نے اس کے ایک ممے کو پھر منہ میں لے لیا۔ "اور تیز۔" وہ بڑبڑایا۔
نرگس کا جسم اکڑنے لگا۔ ایک تیز لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی سے اٹھی اور پورے بدن میں پھیل گئی۔ وہ زور سے چلائی اور اس کا پانی نکل گیا۔ عدیل نے اسے کس کر پکڑا اور چند گہرے دھکوں کے بعد وہ بھی جھڑ گیا۔
دونوں ہانپ رہے تھے۔ نرگس عدیل کے پسینے والے سینے پر سر رکھے تھی اور اس کے دل کی دھڑکن سن رہی تھی۔ "یہ تمہاری ڈرائیونگ کلاس کا حصہ نہیں تھا۔" وہ ہنسی۔ عدیل نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ "یہ ایڈوانس کورس تھا۔ صرف خاص شاگردوں کے لیے۔"
اس نے نرگس کو اس کے گھر کے باہر چھوڑا۔ گاڑی سے اترتے وقت نرگس اس کی کھڑکی پر جھکی۔ "کل سے تم مجھے گھر سے پک کرو گے۔ بچے صبح اسکول جاتے ہیں، گھر خالی ہوتا ہے۔" عدیل کی آنکھوں میں شرارت چمکی۔ "جی میڈم۔ جیسا حکم۔"
اگلے دن دوپہر کو گھنٹی بجی۔ نرگس نے دروازہ کھولا۔ اس نے ہلکے گلابی رنگ کا نیا سوٹ پہنا تھا، بال کھلے تھے، اور ہونٹوں پر ہلکی لپ اسٹک لگی تھی۔ "اندر آؤ۔" وہ بولی۔ "چائے بناتی ہوں۔"
عدیل ڈرائنگ روم کے صوفے پر بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔ "تم آج کچھ زیادہ ہی خوبصورت لگ رہی ہو۔" اس نے کہا۔ نرگس نے چائے کا کپ اس کے سامنے رکھا اور خود اس کے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گئی، اتنی قریب کہ ان کے کندھے چھو رہے تھے۔
"آج ڈرائیونگ نہیں سیکھنی۔" نرگس نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔ "آج کوئی اور سبق ہے۔" وہ اٹھی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈروم کی طرف لے گئی۔
کمرے میں پہنچ کر نرگس نے دروازہ بند کر کے کنڈی لگائی۔ پھر اس نے عدیل کو بیڈ پر دھکا دیا۔ وہ اس پر چڑھ گئی اور اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے لگی۔ "آج میں سکھاؤں گی۔" وہ بولی۔ "تم صرف دیکھو اور محسوس کرو۔"
اس نے اس کی شرٹ اتاری اور اس کے چوڑے سینے پر ہاتھ پھیرا۔ پھر وہ اٹھی اور آہستہ آہستہ اپنا سوٹ اتارنے لگی۔ پہلے دوپٹہ زمین پر گرا، پھر کرتی، پھر شلوار۔ عدیل کی نظریں اس کے ننگے بدن پر جمی تھیں۔
"تم بہت خوبصورت ہو نرگس۔" عدیل نے اسے اپنی طرف کھینچا۔ اس کا منہ اس کے سخت مموں پر تھا، اس کے ہاتھ اس کی پتلی کمر پر پھر رہے تھے۔ نرگس نے اس کے بالوں میں انگلیاں ڈال دیں اور اس کا سر اپنے سینے پر دبایا۔
عدیل نیچے ہوتا گیا۔ اس کے گرم ہونٹ اس کے پیٹ پر، پھر اس کی نرم رانوں کے اندرونی حصے پر۔ پھر اس نے اس کی گیلی چوت کو چوما۔ نرگس نے بیڈ کی چادر کو مٹھیوں میں بھینچ لیا۔
اس کی زبان اندر باہر ہو رہی تھی، کبھی اس کے دانے کو چھیڑتی، کبھی اندر گہرائی تک جاتی۔ نرگس کی ٹانگیں بری طرح کانپنے لگیں۔ "عدیل۔ میں۔ میں ابھی۔" وہ پوری طرح جھڑ گئی اور اس کا پانی عدیل کے چہرے پر لگا۔ عدیل نے مسکرا کر اسے چاٹ لیا۔
نرگس نے اسے اوپر کھینچا اور اس کی پینٹ اور انڈرویئر اتار دی۔ اس کا لنڈ پھر سے تنا ہوا اور تیار تھا۔ وہ اس پر سوار ہو گئی اور اسے اپنے اندر لے لیا۔ اس بار وہ اوپر تھی اور کنٹرول پوری طرح اس کے ہاتھ میں تھا۔
وہ اوپر نیچے ہو رہی تھی، کبھی تیز، کبھی جان بوجھ کر آہستہ۔ عدیل نے اس کے گول کولہوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا ہوا تھا۔ "تم تو ماہر نکلیں۔" وہ ہانپتے ہوئے بولا۔ نرگس ہنسی۔ "اچھی استاد ملی تھی۔ بہت دھیان سے سکھایا تھا۔"
پھر وہ پلٹی اور بیڈ پر گھوڑی بن گئی۔ عدیل اس کے پیچھے آیا اور ایک ہی جھٹکے میں پورا اندر داخل ہوا۔ اس نے اس کے کھلے بال مٹھی میں پکڑے اور تیز دھکے لگانے لگا۔ نرگس کی آوازیں کمرے میں گونجنے لگیں۔
"اور زور سے۔" نرگس چلائی۔ عدیل نے اس کے کولہے پر زور سے تھپڑ مارا اور اپنی رفتار بڑھا دی۔ دونوں پسینے میں شرابور تھے اور لکڑی کا بیڈ ان کے وزن سے چرچرانے لگا۔
نرگس کا جسم پھر اکڑا۔ اس بار لہر پہلے سے زیادہ تیز اور گہری تھی۔ وہ زور سے چلائی اور جھڑ گئی، اس کا پانی اس کی رانوں پر بہنے لگا۔ عدیل نے چند اور گہرے دھکے لگائے اور پھر وہ بھی اس کے اندر جھڑ گیا۔
وہ دونوں بیڈ پر ڈھیر ہو گئے۔ نرگس عدیل کے بازو پر سر رکھے اس کی دھڑکن سن رہی تھی۔ باہر گلی سے بچوں کی اسکول وین کا ہارن سنائی دیا۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس پڑے۔
"اٹھو جلدی۔" نرگس نے اسے دھکا دیا۔ "بچے آ رہے ہیں۔" دونوں نے جلدی جلدی کپڑے پہنے۔ عدیل نے دروازے پر اس کے گال پر ایک لمبا بوسہ دیا۔ "کل اسی وقت؟" اس نے پوچھا۔
نرگس نے مسکرا کر کہا۔ "کل ڈرائیونگ سیکھیں گے۔ سچ میں سیکھیں گے۔" عدیل ہنسا۔ "اور پرسوں؟" نرگس نے دروازہ بند کرتے ہوئے شرارت سے کہا۔ "پرسوں کا سبق پرسوں سوچیں گے۔"
Readers who enjoyed “اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 1)
شابنہ کے دروازے کے نیچے ایک گمنام خط ملتا ہے۔ یہ urdu adult kahani اس راز کی شروعات ہے جو اسے آدھی رات کو چھت تک لے جائے گا۔