Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

نئی اردو سیکس کہانی: حیدرآباد کے اسٹوڈیو میں

N
12 min read2 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

عریبہ خطاطی کی میز پر جھکی ہوئی تھی، اس کے سامنے وہ بڑا کاغذ پھیلا ہوا تھا جس پر سنہرے ورق کا کام آدھا مکمل تھا۔ اس کے ہاتھ میں قلم تھا اور وہ نستعلیق کی ایک باریک لکیر کھینچ رہی تھی کہ اسی لمحے دروازہ کھلا۔ فہاد اندر آیا، بالکل بغیر اطلاع کے، اور عریبہ چونکی تو اس کا ہاتھ پھسل گیا۔ سیاہ روشنائی کی ایک لکیر ہوا میں اڑ کر سیدھی اس کے سفید کرتے پر جا گری، عین سینے کے درمیان، اور اسی لمحے حیدرآباد کے بنجارہ ہلز کے اس چھوٹے سے اسٹوڈیو میں ایک نئی اردو سیکس کہانی شروع ہو گئی۔

فہاد نے نیچے دیکھا، پھر عریبہ کی طرف دیکھا، اور اس کے چہرے پر ایک چوڑی مسکراہٹ پھیل گئی۔ ارے واہ، اس نے کہا، اب تو یہ کرتا بھی آرٹ ورک بن گیا، آپ کے دستخط بھی ہو گئے اس پر۔ عریبہ کا چہرہ سرخ ہو گیا، وہ بار بار معافی مانگ رہی تھی، میں معافی چاہتی ہوں، واقعی معافی چاہتی ہوں، مجھے پتہ ہی نہیں چلا آپ کب آئے۔ اس کی گھبراہٹ دیکھ کر فہاد اور بھی ہنسنے لگا، اور اس کی ہنسی میں کوئی ناراضی نہیں تھی، صرف ایک گرم جوشی تھی۔

عریبہ جلدی سے سنک کی طرف بھاگی اور ایک کپڑا گیلا کر کے لائی۔ وہ اس کے سامنے کھڑی ہو گئی اور داغ پر کپڑا رگڑنے لگی، اس کا ہاتھ گیلے کپڑے کے نیچے اس کے سینے پر تھا۔ فہاد کی سانس اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، اور عریبہ کو اس کے سینے کی گرمی اپنی ہتھیلی میں محسوس ہو رہی تھی۔ آپ ٹھیک ہیں، اس نے دھیمی آواز میں پوچھا، اور عریبہ نے سر ہلایا مگر اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔

فہاد نے اپنا تعارف کرایا، ٹیکسٹائل کا کاروبار ہے اس کا، اور اس کی چھوٹی بہن کی شادی اگلے ہفتے ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تحفے کے لیے ایک فریم بنے، اس نے کہا، ہاتھ سے لکھی ہوئی خطاطی، سنہرے ورق کے ساتھ، شادی کی مبارکباد والا کوئی شعر۔ عریبہ نے اسے اپنے نمونے دکھائے، اور وہ دونوں میز پر جھک کر کاغذ دیکھنے لگے، ان کے کندھے آپس میں چھو رہے تھے۔ اس نے محسوس کیا کہ فہاد کی انگلی میں شادی کی انگوٹھی ہے، اور اس نے جلدی سے نظریں ہٹا لیں۔

انہوں نے شعر چنا، ایک پرانا مبارکبادی قطعہ، اور عریبہ نے اسے بڑے کاغذ پر ہلکی پنسل سے خاکہ بنانا شروع کیا۔ فہاد اس کے پیچھے کھڑا ہو کر دیکھ رہا تھا، اس کی سانس عریبہ کی گردن پر محسوس ہو رہی تھی۔ یہ لکیر ذرا موٹی ہو، اس نے کہا اور اس کی انگلی کاغذ پر عریبہ کی انگلی کے بالکل پاس آ کر رکی۔ عریبہ کے ہاتھ میں ہلکی سی کپکپی دوڑ گئی، مگر اس نے قلم نہیں چھوڑا۔

آدھے گھنٹے بعد فہاد چلا گیا، یہ کہہ کر کہ وہ دو دن بعد آئے گا، کچھ چھوٹی corrections دیکھنے کے لیے۔ عریبہ دروازے پر کھڑی اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی، اور اسے اپنی دھڑکن اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو سمجھایا کہ یہ صرف ایک گاہک ہے، ایک شادی شدہ گاہک۔ مگر اس رات وہ دیر تک اس کے چہرے کی مسکراہٹ بھلا نہ سکی۔

دو دن بعد دوپہر کے تین بجے فہاد پھر آیا، اور عریبہ حیران رہ گئی کہ اس نے وہی سفید کرتا پہنا ہوا تھا۔ داغ تو اب بھی ہلکا سا نظر آ رہا ہے، اس نے مسکرا کر کہا، دھویا نہیں آپ نے۔ فہاد نے کندھے اچکائے، دھویا تھا، مگر یہ داغ اب یادگار بن گیا ہے، اس لیے یہ کرتا پہن کر آیا ہوں۔ عریبہ ہنس پڑی، مگر اس کی ہنسی میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔

اس بار correction یہ تھی کہ نستعلیق کی لکیریں ذرا اور گہری ہوں، اور نیچے تاریخ بھی لکھی جائے۔ عریبہ میز پر جھکی ہوئی کام کر رہی تھی اور فہاد اس کے بالکل پیچھے کھڑا تھا، اس کا سینہ تقریبا اس کی پیٹھ کو چھو رہا تھا۔ اس کے عود کی خوشبو عریبہ کی ناک میں بھر گئی، اور اسے لگا جیسے کمرے کی ہوا بھاری ہو گئی ہے۔ آپ کے ہاتھ بہت خوبصورت ہیں، فہاد نے دھیمی آواز میں کہا، روشنائی لگی انگلیاں بھی اچھی لگتی ہیں آپ پر۔

عریبہ مڑی تو اس کا چہرہ فہاد کے چہرے کے بالکل سامنے تھا، ان کے ہونٹوں میں صرف ایک انگلی کا فاصلہ تھا۔ فہاد نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھا اور اسے اپنی طرف کھینچ لیا، اور اگلے ہی لمحے اس کے ہونٹ عریبہ کے ہونٹوں پر تھے۔ یہ کوئی ہلکا سا بوسہ نہیں تھا، یہ ایک بھوکا بوسہ تھا، اور عریبہ نے مزاحمت کرنے کے بجائے اس کی گردن میں بانہیں ڈال دیں۔ اس کے منہ میں عود اور چائے کا ذائقہ تھا، اور عریبہ کو لگا جیسے اس کے گھٹنے کمزور ہو رہے ہیں۔

فہاد کے ہاتھ اس کی کمر سے نیچے سرکے اور اس کے کولہوں کو دبایا، اور عریبہ نے ایک دبی ہوئی آہ بھری۔ اس نے جلدی سے سنہرے ورق والا کاغذ ایک طرف رکھا، کہیں خراب نہ ہو جائے، اور فہاد نے اسے اٹھا کر میز کے کنارے پر بٹھا دیا۔ اس کا کرتا اس کی رانوں تک اٹھ گیا تھا، اور فہاد کی انگلیاں اس کی رانوں کی نرم جلد پر چل رہی تھیں۔ تم بہت گرم ہو، اس نے سرگوشی کی، اور عریبہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں گاڑھ دیں۔

فہاد اس کے سامنے گھٹنوں پر بیٹھ گیا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ اس نے اس کی شلوار کا ناڑا کھولا اور کپڑا نیچے سرکایا، اور عریبہ کی گیلی چوت اس کے سامنے کھل گئی۔ اس نے پہلے اپنی انگلی سے اسے چھوا، پھر اپنی زبان اس کے دانے پر رکھی اور گھمانے لگا، کبھی تیز کبھی دھیمی۔ عریبہ کی کمر میز پر سے اٹھ گئی اور اس نے ہانپتے ہوئے کہا، بس، بس وہیں، اور فہاد نے مسکرا کر وہیں دباؤ بڑھا دیا۔

عریبہ نے اسے اوپر کھینچا اور اس کے کرتے کے بٹن کھولنے لگی، ایک ایک کر کے۔ اس کا سینہ چوڑا اور بالوں سے بھرا تھا، اور جب اس نے اس کا ازار بند کھولا تو اس کا لنڈ باہر نکل آیا، سخت اور گرم۔ عریبہ نے اسے اپنے ہاتھ میں لیا اور دھیرے سے دبایا، پھر اپنے منہ میں لے لیا۔ فہاد نے ایک گہری سانس لی اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا، اور عریبہ اسے اندر باہر کرتی رہی، اپنی زبان سے اس کی نوک کو چھیڑتی ہوئی۔

فہاد نے اسے میز پر لٹا کر اس کی ٹانگیں چوڑی کر کے اپنے کندھوں پر رکھ لیں، اور اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھ کر ایک ہی جھٹکے میں اندر ڈال دیا تو عریبہ نے زور سے آہ بھری۔ وہ اسے چودنے لگا، پہلے دھیرے پھر تیز، اور میز ہر جھٹکے کے ساتھ ہل رہی تھی۔ عریبہ کی چھاتیاں اس کے ہاتھوں میں تھیں اور وہ انہیں دبا رہا تھا، اور جب وہ جھڑنے لگی تو اس نے اس کی گردن میں دانت گاڑھ دیے۔ فہاد بھی اسی لمحے جھڑا، اس کے اندر، اور دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔

کچھ دیر وہ ویسے ہی لیٹے رہے، پسینے میں بھیگے ہوئے، اور پھر عریبہ نے گھبرا کر ہنسنا شروع کر دیا۔ یہ کیا ہو گیا، اس نے کہا، اور فہاد نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ جو ہونا تھا وہی ہوا، اس نے جواب دیا، اور کل میں پھر آوں گا، فائنل correction دیکھنے۔ عریبہ نے اسے دروازے تک چھوڑا، اور اس کے جاتے ہی اس نے میز پر بکھرے کاغذ سمیٹے، مگر اس کے ہاتھ اب بھی کانپ رہے تھے۔

اگلی دوپہر فہاد وقت سے پہلے آ گیا، جب عریبہ فریم پر سنہرے ورق کا آخری کام کر رہی تھی۔ وہ گاہکوں کے بیٹھنے والی جگہ پر بیٹھ گیا، جہاں فرش پر رنگ برنگے گدے بچھے تھے، اور عریبہ نے اس کے لیے چائے بنائی۔ تمہارے ہاتھ میں جادو ہے، اس نے چائے کا کپ لیتے ہوئے کہا، کاغذ پر بھی اور۔ عریبہ نے اسے گھورا، مگر اس کی آنکھوں میں شرارت تھی، اور فہاد نے میز کے نیچے اس کی ران پر ہاتھ رکھ دیا۔

چائے ادھوری رہ گئی جب فہاد نے اسے کلائی سے پکڑ کر گدوں پر کھینچ لیا اور وہ دونوں نرم گدوں کے ڈھیر پر گر پڑے۔ دوپہر کی دھوپ کھڑکی کی چلمن سے چھن کر ان پر پڑ رہی تھی، اور کمرے میں روشنائی اور عود کی ملی جلی خوشبو تھی۔ فہاد نے اس کا کرتا اتارا اور اس کی چھاتیوں کو آزاد کیا، اور عریبہ نے اس کا کرتا اس کے سر کے اوپر سے کھینچ کر اتار دیا۔ اب کوئی کاغذ بچانے کی فکر نہیں تھی، صرف ان کے جسم تھے۔

عریبہ اس کے اوپر آ گئی اور اس کے لنڈ کو اپنی چوت میں خود اتار لیا، دھیرے دھیرے نیچے بیٹھتی ہوئی۔ فہاد کے ہاتھ اس کے کولہوں پر تھے اور وہ اسے اوپر نیچے کرنے میں مدد کر رہا تھا۔ اس کی چھاتیاں اس کے چہرے کے سامنے ہل رہی تھیں، اور فہاد نے ایک نپل اپنے منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا۔ عریبہ تیز ہوتی جا رہی تھی، اس کے بال اس کے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے، اور اس کی آہیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔

پھر فہاد نے اسے پلٹا اور اسے گھٹنوں اور ہاتھوں پر کر دیا، اس کے کولہے اس کی طرف اٹھے ہوئے۔ اس نے پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈالا اور زور زور سے چودنے لگا، اور عریبہ کے منہ سے بے قابو آہیں نکلنے لگیں۔ اس کا ایک ہاتھ اس کی کمر پر تھا اور دوسرے سے وہ اس کی چھاتی دبا رہا تھا۔ وہ دونوں ایک ساتھ جھڑے، اور عریبہ گدوں پر ڈھیر ہو گئی، اس کا جسم کانپ رہا تھا۔

وہ دیر تک ویسے ہی لیٹے رہے، عریبہ کا سر فہاد کے سینے پر تھا اور وہ اس کی دھڑکن سن رہی تھی جبکہ فہاد اس کی روشنائی لگی انگلیوں کو ایک ایک کر کے چھو رہا تھا۔ تمہاری بیوی، عریبہ نے دھیمی آواز میں پوچھا، اسے شک تو نہیں ہوتا۔ فہاد نے ہنس کر کہا، وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ شاپنگ پر ہے، اور ویسے بھی میں کاروباری میٹنگ میں ہوں۔ عریبہ نے مزید کچھ نہیں پوچھا، اسے جواب سے زیادہ اس کی بانہوں کی گرمی چاہیے تھی۔

شام کو فہاد دکان بند ہونے کے وقت کے بعد فریم لینے آیا، اور فریم تیار تھا، سنہرے ورق میں لپٹا ہوا شعر شیشے کے پیچھے چمک رہا تھا۔ بہت خوبصورت، فہاد نے کہا، مگر اس کی نظریں فریم پر نہیں عریبہ پر تھیں۔ میری بہن کو یہ بہت پسند آئے گا، اس نے فریم ایک طرف رکھا، مگر ایک اور correction باقی ہے۔ عریبہ نے پوچھا، کون سی، اور فہاد نے اسے کمر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔

اس بار کوئی جلدی نہیں تھی، مگر ایک بھوک تھی جو دونوں میں یکساں تھی۔ فہاد نے اسے دیوار سے لگا دیا اور اس کے کپڑے اتارنے لگا، اور عریبہ نے بھی اس کی قمیض کے بٹن کھول دیے۔ اس کے ہونٹ اس کی گردن پر تھے، پھر اس کی چھاتیوں پر، اور عریبہ کی سانس اس کے کان میں گونج رہی تھی۔ اس نے اس کی شلوار نیچے کھینچی اور اس کا لنڈ اپنے ہاتھ میں لے کر دبانے لگی، اور فہاد نے اس کی چوت میں انگلیاں ڈال دیں۔

فہاد نے اسے میز پر جھکا دیا، اس کا چہرہ ٹھنڈی لکڑی پر تھا اور اس کے کولہے اوپر اٹھے ہوئے۔ اس نے پیچھے سے ایک ہی جھٹکے میں اپنا لنڈ اس کی گیلی چوت میں ڈال دیا، اور عریبہ نے دیوار کو پکڑ لیا۔ وہ اسے زور سے چود رہا تھا، ہر جھٹکا گہرا اور تیز، اور عریبہ کی آہیں اب دبنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ اس نے پیچھے ہاتھ بڑھا کر اس کے بال پکڑے اور اسے اور قریب کھینچ لیا، اور فہاد نے اس کی گردن پر دانت گاڑھ دیے۔

وہ دونوں ایک ساتھ جھڑے، اور فہاد اس کی پیٹھ پر گر پڑا، دونوں پسینے میں شرابور۔ باہر اندھیرا چھا چکا تھا اور اسٹوڈیو میں صرف ایک بلب جل رہا تھا۔ اسی لمحے میز پر رکھا فہاد کا فون بجنے لگا، اور اسکرین پر نام چمکا، شاہین۔ عریبہ نے وہ نام دیکھا اور اس کی سانس رک گئی، مگر فہاد نے بغیر ایک لمحہ ضائع کیے فون اٹھایا اور اسے سائلنٹ کر دیا۔

پھر وہ دروازے کی طرف گیا اور شٹر کو نیچے کھینچ دیا، اور لوہے کی گرج کے ساتھ اسٹوڈیو باہر کی دنیا سے کٹ گیا۔ وہ مڑا اور اندھیرے میں عریبہ کی طرف بڑھا، اور اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ تھی۔ عریبہ نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں ابھی بھوک باقی تھی، اور اس نے اپنے بازو پھیلا دیے۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “نئی اردو سیکس کہانی: حیدرآباد کے اسٹوڈیو میں” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 1)

شابنہ کے دروازے کے نیچے ایک گمنام خط ملتا ہے۔ یہ urdu adult kahani اس راز کی شروعات ہے جو اسے آدھی رات کو چھت تک لے جائے گا۔

⏱️ 10 min read•👁️ 1 views