اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
یہ اردو گندی کہانی نئی کانپور کی ایک چھوٹی سی بیکری سے شروع ہوتی ہے، جہاں شازیہ نام کی لڑکی روز شام کو اپنے ہاتھوں سے کیک بناتی تھی اور رات نو بجے شٹر نیچے کرنے سے پہلے آخری گاہک کا انتظار کرتی تھی۔ اس رات بھی وہی معمول تھا، کاؤنٹر پر چاکلیٹ کیک کے ڈبے سجے ہوئے تھے، اوون کی خوشبو ابھی ہوا میں تھی، اور اس کا فون کاؤنٹر پر رکھا وائبریٹ ہوا۔ فون پر عمران کا نام چمک رہا تھا، وہی عمران جو ہر جمعے کو ایک چاکلیٹ کیک لینے آتا تھا، اور اس بار اس نے کال نہیں کی تھی بلکہ ایک وائس میسج بھیجا تھا۔ شازیہ نے میسج پر انگلی رکھی اور کان سے لگایا، اور پہلے ہی جملے پر اس کے ہاتھ رک گئے۔
عمران کی آواز میں وہ ہچکچاہٹ تھی جو صرف سچ بولنے والے لوگوں میں ہوتی ہے، اس نے کہا کہ وہ ہر جمعے کو کیک کے لیے نہیں آتا، وہ صرف شازیہ کو دیکھنے آتا ہے، اس کی مسکراہٹ دیکھنے آتا ہے، اور آج اس سے رہا نہیں گیا اس لیے یہ میسج بھیج رہا ہے۔ شازیہ نے میسج دوبارہ سنا، پھر تیسری بار، اور ہر بار اس کا دل اور تیز دھڑکا۔ وہ انتیس سال کی تھی، اس کی بیکری اس کی دنیا تھی، اور کسی مرد نے آج تک اس سے اس طرح کھل کر بات نہیں کی تھی۔ اس نے فون ہاتھ میں پکڑا، گہری سانس لی، اور جواب میں ایک چھوٹا سا وائس میسج بھیج دیا کہ اگر ہمت ہے تو آج ہی آ کر یہ بات منہ پر کہو، ورنہ یہ میسج وہیں ختم سمجھو۔
عمران اٹھائیس سال کا تھا، کانپور کے ایک موبائل شوروم میں کام کرتا تھا، اور شازیہ کی بیکری اس کے گھر کے راستے میں پڑتی تھی۔ پہلی بار وہ غلطی سے اندر آیا تھا، بارش سے بچنے کے لیے، اور تب سے ہر جمعہ اس کا بہانہ بن گیا تھا۔ کبھی وہ کیک لیتا، کبھی پیسٹری، اور ہر بار شازیہ سے دو منٹ بات کر کے اس کا پورا ہفتہ اچھا گزر جاتا تھا۔ آج جب اس نے وہ میسج بھیجا تو اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اور جب شازیہ کا جواب آیا تو وہ اپنی بائیک پر بیٹھا مسکرا رہا تھا، جیسے اسے کوئی بڑی جیت مل گئی ہو۔ اس نے بائیک اسٹارٹ کی اور سیدھا بیکری کی طرف چل پڑا۔
نو بج کر بیس منٹ پر بیکری کا آدھا شٹر نیچے تھا اور اندر ہلکی پیلی روشنی جل رہی تھی، شازیہ نے عمران کو دیکھتے ہی دروازہ کھولا اور اسے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ عمران اندر آیا تو اس کے کپڑوں پر ہلکی سی ٹھنڈک تھی، اس کی آنکھیں شازیہ کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں، اور دونوں کے درمیان وہ خاموشی تھی جو بہت کچھ کہہ رہی تھی۔ شازیہ نے کہا کہ تم نے بڑی ہمت دکھائی، عمران نے کہا کہ تمہاری مسکراہٹ کے آگے ہمت خود آ جاتی ہے، اور اس جملے پر شازیہ ہنس پڑی، وہ ہنسی جسے دیکھنے کے لیے عمران ہر جمعہ آتا تھا۔
شازیہ نے اسے تازہ کیک کا ایک ٹکڑا چکھایا، چاکلیٹ کریم اس کے ہونٹ کے کونے پر لگ گئی، اور عمران نے بغیر سوچے اپنی انگلی سے وہ کریم صاف کی اور اپنی انگلی چاٹ لی۔ اس لمحے میں شازیہ کی سانس رک سی گئی، اس نے عمران کا ہاتھ پکڑا اور اس کی انگلی کو اپنے ہونٹوں سے چھو لیا۔ عمران نے آگے بڑھ کر اس کے گال کو چوما، پھر اس کے ہونٹوں کو، اور پہلا بوسہ نرم تھا، جیسے دونوں ایک دوسرے کا ذائقہ چکھ رہے ہوں۔ پھر بوسہ گہرا ہو گیا، شازیہ نے اس کی قمیض کا کالر پکڑ لیا اور اسے اپنے قریب کھینچ لیا، اور کاؤنٹر کے پیچھے کی دنیا باہر کی دنیا سے کٹ گئی۔
عمران نے شازیہ کی کمر پر ہاتھ رکھا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا، شازیہ کے ہاتھ اس کی پیٹھ پر چل رہے تھے، اور دونوں کے جسم ایک دوسرے کی گرمی محسوس کر رہے تھے۔ شازیہ نے اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے، ایک ایک کر کے، اور جب اس کا سینہ کھلا تو اس نے اس پر اپنا گال رکھ دیا اور اس کی دھڑکن سنی۔ عمران نے اس کے دوپٹے کو آہستہ سے سر سے ہٹایا، اس کے بال کھل گئے اور اس کے کندھوں پر بکھر گئے، اور عمران نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اس کی گردن کو چوما۔ شازیہ کی آواز میں ہلکی سی سسکی تھی، وہ سسکی جو خوشی اور بے قراری دونوں سے مل کر بنتی ہے۔
شازیہ نے عمران کو کچن کے اندر لے جا کر سلیب سے ٹکا دیا، اس کی قمیض اتار دی اور اس کے سینے کو چومنے لگی، اس کے نپلز کو زبان سے چھیڑتے ہوئے وہ نیچے کی طرف بڑھی۔ عمران نے اس کا سر پکڑا، اس کے بالوں میں انگلیاں الجھائیں، اور جب شازیہ نے اس کی پینٹ کا بٹن کھولا تو اس کا لنڈ پہلے ہی سخت ہو چکا تھا۔ شازیہ نے اسے ہاتھ میں لیا، آہستہ آہستہ اوپر نیچے کیا، اور پھر اسے اپنے منہ میں لے لیا۔ عمران کی سانس تیز ہو گئی، اس نے سلیب کو مضبوطی سے پکڑ لیا، اور شازیہ کی زبان ہر حرکت کے ساتھ اسے اور پاگل کر رہی تھی۔
کچھ دیر بعد عمران نے شازیہ کو اوپر اٹھایا، اسے سلیب پر بٹھایا اور اس کی قمیض اتار دی، اس کی چھاتیاں اس کے سامنے کھل گئیں اور عمران نے انہیں دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر چومنا شروع کر دیا۔ اس نے ایک نپل کو منہ میں لیا اور دوسرے کو انگلیوں سے مسلا، شازیہ نے اس کا سر اپنے سینے سے لگا لیا اور اس کے بالوں کو سہلانے لگی۔ پھر عمران نے اس کی شلوار کا ناڑا کھولا، اس کی ٹانگیں پھیلائیں، اور اس کی چوت کو اپنی انگلیوں سے چھوا تو وہ پہلے ہی گیلی ہو چکی تھی۔ شازیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ اب اور مت تڑپاؤ، اور عمران نے مسکرا کر اس کی چوت کو زبان سے چاٹنا شروع کر دیا۔
شازیہ کی آواز اب کھل کر نکل رہی تھی، اس نے عمران کے کندھوں کو پکڑ لیا اور اپنی ٹانگیں اس کے گرد لپیٹ لیں، اور جب عمران کی زبان نے اس کی چوت کے دانے کو چھیڑا تو اس کا پورا جسم کانپ اٹھا۔ عمران نے اپنی زبان کی رفتار بڑھائی، اس کی انگلی بھی اندر ڈال دی، اور شازیہ نے زور سے اس کا نام پکارا۔ کچھ ہی لمحوں میں شازیہ کا جسم اکڑا، اس کی سانس رک سی گئی، اور پھر وہ زور سے جھڑ گئی، اس کا پانی عمران کے چہرے پر لگ گیا اور وہ ہانپتی ہوئی سلیب پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ عمران نے اس کے ہونٹ چومے اور کہا کہ یہ تو صرف شروعات ہے۔
شازیہ نے عمران کو کھڑا کیا، اس کے لنڈ کو اپنی چوت پر رکھا اور آہستہ آہستہ اسے اندر لینے لگی، اور جب وہ پورا اندر گیا تو دونوں نے ایک ساتھ گہری سانس لی۔ عمران نے اس کی کمر پکڑی اور دھکے لگانے شروع کیے، پہلے آہستہ، پھر تیز، اور سلیب کی ہلکی سی آواز کچن میں گونجنے لگی۔ شازیہ نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد کس لیں، اس کے ناخن اس کی پیٹھ پر نشان چھوڑ رہے تھے، اور ہر دھکے کے ساتھ اس کی چھاتیاں ہل رہی تھیں۔ عمران نے اس کی گردن کو چومتے ہوئے رفتار اور بڑھائی، اور شازیہ کی سسکیاں اب باقاعدہ آوازوں میں بدل گئی تھیں۔
کچھ دیر بعد عمران نے شازیہ کو گھمایا، اسے سلیب پر اوندھا لٹایا، اس کی ٹانگیں پھیلائیں اور پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈال دیا۔ اس پوزیشن میں ہر دھکا اور گہرا لگ رہا تھا، شازیہ نے سلیب کو پکڑ لیا اور اپنا سر ایک طرف موڑ لیا، اور عمران نے اس کی پیٹھ کو چومتے ہوئے اس کے بال ایک طرف کیے۔ شازیہ نے کہا کہ اور تیز کرو، عمران نے اس کی کمر پکڑ کر اپنی رفتار دوگنی کر دی، اور دونوں کی سانسیں ایک دوسرے میں مل گئی تھیں۔ شازیہ کا دوسرا جھڑنا قریب تھا، اس نے عمران کا نام لے کر پکارا اور پھر اس کا جسم پھر سے کانپ اٹھا۔
عمران نے اسی وقت اپنا پانی شازیہ کی چوت کے اندر چھوڑ دیا، دونوں کچھ دیر ویسے ہی رکے رہے، پسینے میں بھیگے ہوئے، ایک دوسرے کی سانسیں سنتے ہوئے۔ پھر عمران نے اسے اپنی بانہوں میں لیا، اس کے ماتھے کو چوما، اور شازیہ نے اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔ کچن میں اوون کی ہلکی خوشبو اب بھی تھی، مگر اب اس میں دونوں کے جسموں کی خوشبو بھی مل گئی تھی۔ شازیہ نے ہنس کر کہا کہ تم نے تو میری بیکری کو ہی بدل دیا، عمران نے کہا کہ تم نے میری زندگی بدل دی، اور دونوں ہنس پڑے۔
کپڑے ٹھیک کرنے کے بعد شازیہ عمران کو اوپر اپنے چھوٹے سے فلیٹ میں لے گئی، جہاں ایک کھڑکی سے کانپور کی رات کی روشنیاں دکھائی دیتی تھیں۔ اس نے دو کپ چائے بنائی، دونوں صوفے پر بیٹھ کر چائے پینے لگے، اور باتیں کرتے کرتے ان کے ہاتھ پھر ایک دوسرے کو چھونے لگے۔ عمران نے شازیہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگایا، شازیہ نے اس کی انگلی کو ہلکے سے کاٹا، اور چائے کے کپ میز پر ویسے ہی رہ گئے۔ شازیہ نے کہا کہ رات ابھی باقی ہے، اور عمران نے اسے گود میں اٹھا کر بیڈروم کی طرف لے گیا۔
بیڈروم میں شازیہ نے عمران کو بیڈ پر لٹایا اور خود اس کے اوپر بیٹھ گئی، اس کی قمیض اتار کر اس کے سینے پر اپنے بال بکھیر دیے۔ اس نے عمران کے لنڈ کو اپنے ہاتھ سے سہلایا، اسے اپنی چوت پر رکھا، اور آہستہ آہستہ اس پر بیٹھتی چلی گئی۔ عمران نے اس کی کمر پکڑ لی، شازیہ نے اس کے اوپر آہستہ آہستہ ہلنا شروع کیا، اور ہر بار جب وہ نیچے بیٹھتی تو عمران کی آواز نکل جاتی۔ شازیہ نے اس کے سینے کو چوما، اس کے نپلز کو دانتوں سے ہلکے سے کاٹا، اور اپنی رفتار بڑھاتی چلی گئی۔
عمران نے نیچے سے دھکے لگانے شروع کیے، شازیہ کی رفتار اور اس کی رفتار ایک ہو گئی، اور بیڈ کی ہلکی سی چرچراہٹ کمرے میں گونج رہی تھی۔ شازیہ نے اپنے ہاتھ عمران کے کندھوں پر رکھے، اپنا سر پیچھے کیا، اور اس کے بال اس کی پیٹھ پر لہرائے۔ عمران نے اس کی چھاتیاں پکڑ کر انہیں مسلا، شازیہ نے اس کا نام لے کر پکارا، اور دونوں کی سانسیں تیز سے تیز تر ہوتی چلی گئیں۔ شازیہ کا جسم پھر اکڑا، اس نے عمران کو مضبوطی سے پکڑ لیا، اور تیسری بار جھڑتے ہوئے اس کی آواز کمرے میں گونج گئی۔
شازیہ کے جھڑنے کے کچھ ہی لمحوں بعد عمران نے بھی اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑ دیا، اور دونوں ایک دوسرے پر گر کر لیٹ گئے، پسینے میں بھیگے، ہانپتے ہوئے۔ شازیہ نے اس کے سینے پر سر رکھا اور اس کی دھڑکن سنی، عمران نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر جمعہ نہیں، اب ہر روز آنا چاہتا ہے۔ شازیہ ہنس پڑی اور کہا کہ بیکری روز کھلتی ہے، مگر یہ دروازہ صرف اس کے لیے کھلے گا جس نے ہمت دکھائی ہو، اور عمران نے اس کے ہونٹوں کو چوم کر کہا کہ ہمت تو اب روز آئے گی۔
آدھی رات کے بعد عمران نے جانے کے لیے کپڑے پہنے، شازیہ نے اسے دروازے تک چھوڑا، اور جاتے جاتے عمران نے اسے ایک چھوٹا سا ڈبہ دیا جس میں کل کے لیے ایک چاکلیٹ پیسٹری تھی۔ شازیہ نے ڈبہ لے کر اسے سینے سے لگایا، عمران نے اس کے ماتھے کو چوما اور سیڑھیاں اتر گیا۔ شازیہ نے دروازہ بند کیا، ڈبہ میز پر رکھا، اور فون اٹھا کر دیکھا تو اس پر عمران کا نیا میسج آیا ہوا تھا۔ میسج میں صرف ایک جملہ تھا کہ کل پھر وہی وقت، وہی بیکری، اور شازیہ نے مسکرا کر فون کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
اگلی صبح شازیہ نے بیکری معمول سے پہلے کھولی، کاؤنٹر صاف کیا، اوون گرم کیا، اور جب پہلا گاہک آیا تو اس نے مسکرا کر اس کا استقبال کیا۔ اس کی مسکراہٹ میں وہ راز تھا جو صرف وہ جانتی تھی، اور ہر بار جب فون وائبریٹ ہوتا تو اس کا دل ایک لمحے کے لیے رک جاتا۔ عمران کا میسج پھر آیا، اس بار صرف ایک دل والا ایموجی تھا، اور شازیہ نے جواب میں ایک مسکراتا ہوا چہرہ بھیج دیا۔ بیکری میں کیک کی خوشبو پھیل رہی تھی، باہر کانپور کی صبح جاگ رہی تھی، اور شازیہ کو لگ رہا تھا کہ اس کی زندگی کی سب سے خوبصورت کہانی ابھی شروع ہوئی ہے۔
اگلے جمعے کو عمران بیکری میں ایک نیا ذائقہ لے کر آیا، ایک چھوٹا سا ڈبہ جس میں اس نے خود ایک خاص پیسٹری بنوائی تھی، اور شازیہ نے ہنس کر کہا کہ آج چکھنے کی باری اس کی ہے۔ عمران نے اس کی آنکھوں پر اپنا رومال باندھ دیا، اسے کاؤنٹر کے پیچھے کرسی پر بٹھایا، اور پیسٹری کا ایک ٹکڑا اس کے ہونٹوں سے لگا دیا۔ شازیہ نے اسے چکھا، اس کا ذائقہ میٹھا اور ہلکا سا کھٹا تھا، اور اس نے کہا کہ یہ ذائقہ اس کی بیکری کے کسی کیک میں نہیں ہے۔ عمران نے کہا کہ یہ ذائقہ صرف اس کے لیے ہے، اور پھر اس نے رومال کے نیچے سے اس کے گال کو چوم لیا۔
شازیہ نے رومال نہیں کھولا، اس نے عمران کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے قریب کھینچ لیا، اور اس کے ہونٹوں کو تلاش کرتے ہوئے بوسہ دیا۔ عمران نے اسے کرسی سے اٹھایا، اسے سلیب سے ٹکا دیا، اور اس کی قمیض کے بٹن کھولنے لگا۔ شازیہ کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں، اس کی آنکھیں بند تھیں، اور ہر چھونے کا احساس دوگنا ہو رہا تھا۔ عمران نے اس کی چھاتیوں کو چوما، اس کے نپلز کو زبان سے چھیڑا، اور شازیہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اس کا نام پکارا۔
عمران نے شازیہ کی شلوار اتاری، اس کی ٹانگیں پھیلائیں، اور اس کی چوت کو چاٹنے لگا، اور شازیہ نے سلیب کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس کی آواز کچن میں گونج رہی تھی، اس کا جسم ہر حرکت کے ساتھ کانپ رہا تھا، اور جب وہ جھڑنے کے قریب پہنچی تو اس نے عمران کا سر اپنے قریب دبا لیا۔ جھڑنے کے بعد اس نے رومال کھولا، عمران کا چہرہ دیکھا اور ہنس پڑی، اور کہا کہ یہ ذائقہ اس کی زندگی کا سب سے اچھا ذائقہ ہے۔
پھر شازیہ نے عمران کو کرسی پر بٹھایا، خود اس کے اوپر بیٹھ گئی، اور اس کے لنڈ کو اپنی چوت میں لے لیا۔ وہ اس کے اوپر آہستہ آہستہ ہل رہی تھی، عمران نے اس کی کمر پکڑی ہوئی تھی، اور دونوں کی سانسیں ایک دوسرے میں مل رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد عمران نے اسے گھما کر سلیب پر لٹایا اور پیچھے سے دھکے لگانے لگا، ہر دھکا گہرا اور تیز تھا، اور شازیہ کی سسکیاں بڑھتی چلی گئیں۔
آخر میں دونوں ایک ساتھ جھڑے، عمران نے اپنا پانی شازیہ کی چوت میں چھوڑ دیا، اور دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ شازیہ نے پیسٹری کا ڈبہ دیکھا اور کہا کہ اس ذائقے کا نام وہ اپنی بیکری کے مینو میں عمران کے نام پر رکھے گی، اور عمران نے ہنس کر کہا کہ نام کچھ بھی ہو، ذائقہ صرف اس کا ہے۔ دونوں نے کپڑے ٹھیک کیے، شازیہ نے شٹر نیچے کیا، اور عمران اس کے ساتھ اوپر فلیٹ میں چلا گیا، جہاں رات ابھی باقی تھی۔
Readers who enjoyed “اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 1)
شابنہ کے دروازے کے نیچے ایک گمنام خط ملتا ہے۔ یہ urdu adult kahani اس راز کی شروعات ہے جو اسے آدھی رات کو چھت تک لے جائے گا۔