اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دستک ہوئی تو ہم دونوں ساکت ہو گئے۔ میں ننگا تھا، وہ میرے اوپر تھی، اس کا جسم میرے جسم سے چپکا ہوا۔ باہر سے مکان مالک کی آواز آئی، بھابی، بجلی کا بل۔ میری مامی نے میرا منہ اپنے ہاتھ سے دبایا اور دھیمی آواز میں کہا، چپ۔ یہ اردو مامی کی چدائی کی کہانی ہے، اور یہ اسی دستک سے شروع ہوتی ہے۔ میرا نام عمران ہے، عمر تئیس سال، اور یہ دہلی کی گرمیوں کی بات ہے۔
میں داخلے کے لیے دہلی آیا تھا۔ کالج میں داخلہ ہو گیا تھا، ہاسٹل ابھی نہیں ملا تھا۔ امی نے کہا، اپنی مامی کے گھر رہ لے، دو ہفتے کی بات ہے۔ مامی، یعنی میرے ماموں کی بیوی، شازیہ، چھتیس سال کی، دہلی کے لکشمی نگر میں رہتی ہیں۔ ماموں سعودی میں کام کرتے ہیں، سال میں ایک بار آتے ہیں۔ گھر میں مامی اکیلی تھیں، اور اب میں۔
پہلے دن سے مامی کا برتاؤ کچھ الگ تھا۔ وہ میرے لیے کھانا بناتیں، میرے کپڑے دھوتیں، اور بات بات پر میرے قریب آ جاتیں۔ رات کو کھانے پر وہ میرے سامنے بیٹھتیں، اور ان کا دوپٹہ بار بار کندھے سے سرک جاتا۔ میں نظریں چراتا، پر دل میں کچھ ہلچل ہوتی۔ وہ چھتیس سال کی عورت تھیں، بھری ہوئی، گوری، اور ان کی آنکھوں میں ایک پیاس تھی جو میں سمجھنے لگا تھا۔
تیسرے دن بجلی چلی گئی۔ دہلی کی گرمی، پنکھا بند، پسینہ۔ مامی نے کہا، چھت پر چلتے ہیں، وہاں ہوا ہے۔ ہم چھت پر گئے۔ چاندنی رات تھی۔ مامی نے سوت کی ساری پہنی تھی، پسینے سے ان کا بلاؤز جسم سے چپک گیا تھا۔ ان کے ممے صاف نظر آ رہے تھے۔ وہ میرے پاس چارپائی پر بیٹھیں۔ ان کی ران میری ران سے ٹکرائی۔ انہوں نے ہٹائی نہیں۔
عمران، تمہاری کوئی گرل فرینڈ ہے، انہوں نے پوچھا۔ نہیں مامی، میں نے کہا۔ کیوں، اتنے ہینڈسم ہو، انہوں نے میرے گال کو چھوا۔ ان کی انگلیاں میرے چہرے پر پھریں۔ میرا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے سینے پر رکھ دیا۔ ان کے ممے، نرم اور گرم، میری ہتھیلی کے نیچے۔ میں نے سانس روک لی۔
ڈرو مت، انہوں نے کہا۔ تمہارے ماموں کو گئے آٹھ مہینے ہو گئے۔ میں بھی انسان ہوں۔ انہوں نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ ان کی زبان میرے منہ میں آئی۔ میں نے اسے چوسا۔ میرے ہاتھ ان کی کمر پر گئے، پھر نیچے۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے مموں پر رکھا۔ دباؤ انہیں، انہوں نے کہا۔
میں نے ان کے ممے دبائے۔ بلاؤز کے اوپر سے ہی ان کے نپل سخت ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنا بلاؤز اتارا۔ ان کے ممے باہر آ گئے، بڑے، گول، بھاری۔ میں نے ایک نپل منہ میں لیا اور چوسنے لگا۔ ان کے منہ سے آہ نکلی۔ انہوں نے میرا سر پکڑ کر اپنے سینے سے لگایا۔ میرا دوسرا ہاتھ ان کی ساری کے اندر گیا، ان کی رانوں پر۔
ہم نیچے کمرے میں آئے۔ مامی نے دروازہ بند کیا، کنڈی لگائی۔ انہوں نے اپنی ساری اتاری۔ وہ صرف پیٹی کوٹ میں تھیں۔ پھر وہ بھی اتارا۔ ان کی چوت، گیلی اور تیار، میرے سامنے کھل گئی۔ انہوں نے میرے کپڑے اتارے۔ میرا لنڈ، سخت اور گرم، ان کے سامنے کھڑا تھا۔ انہوں نے اسے ہاتھ میں پکڑا۔ اتنا بڑا، انہوں نے کہا، اور اسے منہ میں لے لیا۔
انہوں نے میرا لنڈ چوسنا شروع کیا۔ ان کی زبان میرے لنڈ کے سرے پر گھوم رہی تھی۔ میں ان کے بال پکڑے ہوئے تھا۔ میری چوت نہیں، میرا لنڈ ان کے منہ میں تھا، اور میں پاگل ہو رہا تھا۔ انہوں نے میرا لنڈ گہرائی تک لیا، گلے تک۔ میں نے ان کے منہ میں ہی جھڑنے سے خود کو روکا۔ مجھے انہیں اندر چاہیے تھا۔
میں نے انہیں پلنگ پر لٹایا۔ ان کی ٹانگیں پھیلائیں۔ میں نے اپنا لنڈ ان کی چوت کے منہ پر رگڑا۔ وہ تڑپ رہی تھیں۔ ڈال دو، انہوں نے کہا۔ میں نے دھیرے دھیرے اپنا لنڈ ان کی چوت میں ڈالا۔ ان کی چوت میرے لنڈ کو کس کر پکڑ رہی تھی۔ میں نے دھکے مارنے شروع کیے۔ ہر دھکے کے ساتھ ان کے ممے ہل رہے تھے۔
تبھی دستک ہوئی۔ مکان مالک۔ بجلی کا بل۔ ہم ساکت ہو گئے۔ مامی نے میرا منہ دبایا۔ چپ۔ مکان مالک نے پھر آواز دی۔ مامی نے جواب دیا، کل لے لینا بھائی صاحب، ابھی مصروف ہوں۔ قدموں کی آواز دور ہوئی۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنس پڑے۔ پھر مامی نے میرا لنڈ، جو ابھی بھی ان کی چوت کے منہ پر تھا، اندر کھینچ لیا۔
اس رکاوٹ نے آگ اور بھڑکا دی تھی۔ میں نے انہیں زور زور سے چودنا شروع کیا۔ پلنگ چرمرا رہا تھا۔ ان کی چوت سے گیلی آواز آ رہی تھی۔ میں نے ان کے ممے پکڑے، ان کے نپل مروڑے۔ وہ چلا رہی تھیں، اور مجھے ڈر تھا کہ پڑوسی سن لیں گے، پر یہ ڈر مزہ بڑھا رہا تھا۔
میں نے انہیں گھوڑی بنایا۔ وہ پلنگ پر گھٹنوں کے بل ہو گئیں۔ میں نے پیچھے سے ان کی چوت میں لنڈ ڈالا۔ اس پوز میں میرا لنڈ اور گہرا جاتا تھا۔ ہر دھکا ان کی بچہ دانی تک پہنچتا تھا۔ ان کے ممے لٹک رہے تھے، میں نے پیچھے سے ہاتھ لا کر انہیں پکڑا۔ وہ زور سے آہیں بھر رہی تھیں۔
وہ پہلی بار جھڑیں۔ ان کی چوت میرے لنڈ کو نچوڑ رہی تھی۔ پھر دوسری بار۔ میں بھی خود کو روک نہ سکا۔ میں نے زور زور سے دھکے مارے، پھر ایک گہرا دھکا مار کر اندر ہی جھڑ گیا۔ میرا گرم پانی ان کی چوت میں بھر گیا۔ ہم دونوں ہانپ رہے تھے، پسینے سے بھیگے۔
وہ میرے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئیں۔ عمران، یہ کسی کو نہیں بتانا، انہوں نے کہا۔ میں نے ان کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ مامی، یہ ہمارا راز ہے۔ اس رات ہم نے تین بار کیا۔ ہر بار نیا، ہر بار پہلی بار جیسا۔
دو ہفتے، پورا گھر ہمارا تھا۔ ہم نے باورچی خانے میں، باتھ روم میں، چھت پر چاندنی میں، ہر جگہ کیا۔ ایک رات مامی نے مجھے اپنے ماموں کی شرٹ پہنائی اور کہا، آج تم میرے شوہر ہو۔ میں نے انہیں اسی شرٹ میں چودا۔ وہ ہنستی رہیں، روتی رہیں، اور پھر میرے سینے سے لگ کر سو گئیں۔
اگلی صبح مامی باورچی خانے میں چائے بنا رہی تھیں۔ میں پیچھے سے گیا اور انہیں گھیر لیا۔ میرے ہاتھ ان کے بلاؤز کے اوپر سے ان کے مموں پر آ گئے۔ چائے ابلنے والی تھی، پر مجھے کوئی پرواہ نہیں تھی۔ میں نے ان کی ساری اوپر کی اور اپنی انگلیاں ان کی چوت میں ڈال دیں۔ انہوں نے گیس بند کی اور میری طرف مڑیں۔ ہم باورچی خانے کے فرش پر ہی کر بیٹھے، ان کی ٹانگیں میرے کندھوں پر۔
دوپہر کو ہم باتھ روم میں نہائے۔ شاور کا پانی ہمارے جسموں پر بہہ رہا تھا۔ میں نے انہیں دیوار سے لگایا اور پیچھے سے ان کی چوت میں لنڈ ڈالا۔ پانی اور پسینہ مل گئے تھے۔ ان کے منہ سے نکلتی آوازیں باتھ روم کی دیواروں میں گونج رہی تھیں۔ اس دن میں نے انہیں تین بار جھاڑا، اور وہ بھول گئیں کہ وہ کتنی بار جھڑیں۔
شام کو ہم چھت پر گئے۔ سورج ڈوب رہا تھا۔ مامی نے مجھے چارپائی پر بٹھایا اور میری گود میں بیٹھ گئیں۔ کھلے آسمان تلے، پڑوسیوں کی چھتوں سے تھوڑی دور، ہم ایک دوسرے میں کھو گئے۔ میرا لنڈ ان کی چوت میں اندر باہر ہو رہا تھا، اور وہ تاروں کو دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے کہا، کاش یہ دو ہفتے کبھی ختم نہ ہوں۔
ایک رات پھر دستک ہوئی۔ اس بار ہم تیار تھے۔ مامی نے لحاف اوڑھا اور دروازہ کھولا۔ مکان مالک نے بل دیا اور چلا گیا۔ دروازہ بند کرتے ہی ہم دونوں ہنس پڑے۔ دیکھا، انہوں نے کہا، اب دستک سے ڈر نہیں لگتا۔ میں نے انہیں گود میں اٹھایا اور پلنگ پر پھینکا۔ اس رات ہم نے دستک کا بدلہ لیا، چار بار۔
ایک دوپہر مامی نے مجھے بازار سے چوڑیاں لا کر دیں۔ لال چوڑیاں۔ انہوں نے کہا، یہ پہن کر دکھاؤ۔ میں نے ہنس کر کہا، مامی، یہ تو عورتیں پہنتی ہیں۔ انہوں نے میری کلائی پکڑی اور چوڑیاں پہنا دیں۔ پھر انہوں نے میرا ہاتھ اپنے مموں پر رکھا۔ دیکھو، انہوں نے کہا، اب تم میرے ہو۔ میں نے انہیں وہیں، دن کے اجالے میں، صوفے پر لٹا کر چودا۔ ان کی چوڑیاں کھنک رہی تھیں، ہر دھکے کے ساتھ۔
آج بھی جب کبھی دروازے پر دستک ہوتی ہے، ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ہیں۔ وہ دستک ہمیں اس پہلی رات کی یاد دلاتی ہے، جب مکان مالک بجلی کا بل لے کر آیا تھا اور ہم ساکت ہو گئے تھے۔ اب دستک ہمیں ڈراتی نہیں، ہنساتی ہے۔ اور پھر ہم دروازہ بند کر لیتے ہیں، کنڈی لگاتے ہیں، اور وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں اس رات رکے تھے۔
جب میرا ہاسٹل مل گیا اور میں جانے لگا، مامی نے میرے بیگ میں ایک پرچی ڈالی۔ اس پر لکھا تھا، جب دل کرے، آ جانا۔ دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ میں نے وہ پرچی آج تک سنبھال کر رکھی ہے۔ اور ہر مہینے، ایک بار، میں لکشمی نگر جاتا ہوں۔ مکان مالک اب بھی کبھی کبھی بل لے کر آتا ہے۔ اب ہم ہنستے ہیں، اور پھر دروازہ بند کر لیتے ہیں۔
Readers who enjoyed “اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 1)
شابنہ کے دروازے کے نیچے ایک گمنام خط ملتا ہے۔ یہ urdu adult kahani اس راز کی شروعات ہے جو اسے آدھی رات کو چھت تک لے جائے گا۔