Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
عطر کی وہ خوشبو ناک میں گھسی تو شبنم کے ہاتھ میں چائے کا کپ لرز گیا، اور ایک ہی سانس میں وہ پانچ سال پیچھے لوٹ گئی، اسی حویلی کے اسی صحن میں، اس دوپہر میں جسے وہ ہر تنہا رات کسی urdu erotic kahani کی طرح دل ہی دل میں دہراتی تھی، مگر وہ کہانی نہ تھی، وہ اس کی اپنی زندگی تھی، اس کی اپنی جلتی ہوئی دوپہر۔
اس وقت وہ پچیس سال کی تھی، ثنا کی شادی کا تیسرا دن تھا اور پوری حویلی مہمانوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، ڈھولک کی تھاپ صحن میں گونج رہی تھی، عورتیں گیت گا رہی تھیں، اور وہ برآمدے کے ستون سے ٹیک لگائے یہ سب دیکھ رہی تھی، جب اچانک اس کی نظر اس پر پڑی۔
ارسلان، دولہے والوں کی طرف کا دوست، اٹھائیس سال کا کڑیل جوان، سفید کرتے پاجامے میں صحن کے اس پار کھڑا اسی کو گھور رہا تھا، اس کی آنکھوں میں وہ بے باکی تھی جو شبنم نے اپنے شوہر دانش کی آنکھوں میں شادی کے پہلے مہینے کے بعد کبھی نہ دیکھی تھی، اس ایک نظر نے اس کے پیٹ میں ایسی گدگدی مچا دی کہ اسے اپنا دوپٹا سینے پر درست کرنا پڑا۔
شام کو مہندی کی محفل میں وہ جان بوجھ کر اس کے سامنے والی صف میں جا بیٹھی، گیتوں کے شور میں اس نے محسوس کیا کہ ارسلان کی نظر بار بار اس کے ہونٹوں پر آ کر ٹھہر جاتی ہے، پھر وقفے میں جب وہ پانی پینے کے لیے اٹھی تو وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا، برآمدے کے اندھیرے کونے میں وہ اس کے قریب سے گزرا اور اس کے کان میں سرگوشی کر گیا، کل دوپہر، اوپر والا کمرہ، سب بارات کی تیاری میں لگے ہوں گے۔
وہ ساری رات کروٹیں بدلتی رہی، دل کہتا تھا مت جا، بدن کہتا تھا جا، دانش ویسے بھی ٹور پر تھا اور اس حویلی میں اسے روکنے والا کوئی نہ تھا، صبح اس نے آئینے میں خود کو دیکھا، آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، اس نے جان بوجھ کر وہ ہلکی گلابی ساری پہنی جس میں اس کا بدن سب سے زیادہ نمایاں لگتا تھا۔
دوپہر کو جب بارات کی تیاریوں کا شور نیچے صحن میں اٹھا تو وہ دبے پاؤں اوپر کی سیڑھیاں چڑھ گئی، وہ کمرہ جس کا دروازہ آدھا کھلا تھا، اندر ارسلان کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا، اس نے اندر قدم رکھا، ارسلان نے دروازہ بند کیا اور کنڈی لگا دی، کمرے میں صرف ایک پرانی چارپائی تھی اور کھڑکی سے ساون کی دھوپ چھن چھن کر آ رہی تھی۔
تم آؤ گی، مجھے یقین تھا، اس نے کہا اور ایک قدم میں اس کے بالکل سامنے آ کھڑا ہوا، شبنم کی سانس رک گئی، اس نے ارسلان کے کرتے کے بٹنوں پر کانپتے ہاتھ رکھے اور وہ سب سمجھ گیا، اس کے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر آ لگے، پہلا بوسہ جلدی میں تھا، دوسرا گہرا اور لمبا، اس کی زبان اس کے منہ میں گھس گئی اور شبنم کے گھٹنے کمزور پڑنے لگے۔
ارسلان کے ہاتھ اس کی ساری کے پلو پر گئے اور ایک ہی جھٹکے میں پلو کندھے سے سرک گیا، اس کی چھاتیاں بلاؤز میں قید بے چین ہو رہی تھیں، اس نے بلاؤز کے ہک ایک ایک کر کے کھولے اور شبنم کی ننگی چھاتیاں دھوپ میں چمک اٹھیں، وہ ان پر جھک گیا، ایک کو منہ میں لے لیا اور دوسری کو ہاتھ سے مسلنے لگا، شبنم کے منہ سے سسکی نکل گئی، اور کرو، اور زور سے دباؤ۔
اس نے شبنم کو چارپائی پر لٹا دیا اور اس کی ساری اوپر کو سرکا دی، پیٹی کوٹ کے اوپر سے ہی اس کی چوت کی گرمی اس کی ہتھیلی کو محسوس ہو رہی تھی، اس نے پیٹی کوٹ کی ڈوری کھولی اور انگلیوں سے اس کی چوت کو چھوا، وہ پوری طرح بھیگی ہوئی تھی، ارسلان نے دو انگلیاں اندر ڈال دیں اور انگوٹھے سے اس کے دانے کو رگڑنے لگا، شبنم چارپائی کی چادر کو مٹھیوں میں بھینچنے لگی۔
پھر وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اپنا پاجامہ اتار پھینکا، اس کا لنڈ تن کر کھڑا تھا، موٹا اور لمبا، رگوں سے بھرا ہوا، شبنم نے اسے ہاتھ میں لیا، پہلے سرے کو چاٹا، پھر پورا منہ میں لے کر چوسنے لگی، کبھی آہستہ، کبھی تیز، ارسلان کے منہ سے گہری آہیں نکلنے لگیں، بس، اب بس، ورنہ میں ابھی جھڑ جاؤں گا، اس نے ہانپتے ہوئے کہا اور اسے چارپائی پر لٹا دیا۔
ارسلان اس پر چڑھ گیا، اس نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور ایک ہی دھکے میں پورا اندر ڈال دیا، شبنم کی چیخ اس کے ہونٹوں نے دبا دی، پھر وہ دھکے مارنے لگا، پہلے آہستہ، پھر تیز اور گہرے، چارپائی چرچرانے لگی، شبنم نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر میں لپیٹ لیں اور ہر دھکے پر اس کا نام لینے لگی، ارسلان، اور تیز، ہاں، وہیں، وہیں۔
پھر اس نے شبنم کو پلٹ دیا، وہ گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل ہو گئی اور ارسلان پیچھے سے اس میں گھس گیا، اس پوز میں اس کا لنڈ اور بھی گہرا اتر رہا تھا، اس نے اس کے بال مٹھی میں پکڑ رکھے تھے اور زور دار دھکے مار رہا تھا، شبنم کی چوت سکڑنے لگی، اس کا بدن کانپنے لگا اور وہ چیخ پڑی، میں جھڑ رہی ہوں، ارسلان بھی دھاڑا اور اپنا گرم پانی اس کے اندر چھوڑ دیا، دونوں پسینے میں شرابور ایک دوسرے پر ڈھیر ہو گئے۔
باہر سیڑھیوں پر کسی کے قدموں کی آہٹ آئی تو دونوں کی سانس رک گئی، قدم گزر گئے اور خاموشی لوٹ آئی، ارسلان نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا، یہ دوپہر میں کبھی نہیں بھولوں گا، اس نے کہا، شبنم نے جلدی سے کپڑے پہنے، بال سنوارے اور دبے پاؤں نیچے اتر گئی، اس کے بدن میں اب بھی اس کے دھکوں کی گونج تھی اور ہونٹوں پر اس کے بوسے کا ذائقہ۔
بارات رخصت ہوئی تو ارسلان گاڑی کی کھڑکی سے اسے دیکھتا رہا، اس کی آنکھوں میں ایک وعدہ تھا، پھر گاڑی گلی کے موڑ پر اوجھل ہو گئی اور شبنم اپنے گھر لوٹ آئی، اس رات وہ دیر تک جاگتی رہی، اس کے بدن میں اس دوپہر کی میٹھی تھکن تھی اور دل میں ایک ایسی آگ جو بجھنے کا نام نہ لیتی تھی۔
پھر وقت گزرتا گیا، دانش کے ٹور بڑھتے گئے، مہینوں وہ گھر سے باہر رہتا اور شبنم اس بڑے گھر میں اکیلی راتیں گنتی رہتی، ہر ساون کی بارش میں اسے وہ دوپہر یاد آتی اور وہ اپنے بستر میں اکیلی اپنے ہی ہاتھ سے اس آگ کو بجھانے کی کوشش کرتی، مگر وہ آگ بجھتی نہ تھی، وہ اور بھڑکتی جاتی تھی۔
پانچ سال بعد، ایک اور شادی، اس بار پڑوس والے گھر میں، ساون کی ایک شام شبنم اپنی چھت پر کھڑی تھی جب اس نے اسے دیکھا، پڑوس کے صحن میں سامان اترتا ہوا، وہی قد، وہی چال، ارسلان واپس آ گیا تھا، اس کی نظر اوپر اٹھی اور ان کی آنکھیں ملیں، پانچ سال کا فاصلہ ایک سیکنڈ میں مٹ گیا۔
اس نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا اور شبنم کے دل نے زور زور سے دھڑکنا شروع کر دیا، نیچے صحن میں عورتیں گیت گا رہی تھیں مگر اسے کچھ سنائی نہ دے رہا تھا، ارسلان نے ہونٹوں سے بنا آواز نکالے کہا، کل شام، اور شبنم سمجھ گئی، اس رات وہ دیر تک آئینے کے سامنے بیٹھی خود کو دیکھتی رہی، تیس سال کی شبنم، اب بھی ویسی ہی پیاسی، اب بھی ویسی ہی بے چین۔
اگلی شام اس نے نوکرانی کو بازار بھیج دیا اور ارسلان کے فون پر پیغام بھیجا، چائے پیو گے، پرانی باتیں کرنی ہیں، جواب فوراً آیا، ضرور، اس نے جان بوجھ کر وہی ہلکی گلابی ساری پہنی، بال کھولے رکھے، جب دروازے پر دستک ہوئی تو اس کا دل حلق میں آ گیا، ارسلان اندر آیا، اب تینتیس سال کا، پہلے سے بھی زیادہ پرکشش، پہلے سے بھی زیادہ بے باک۔
چائے تو بہانہ تھی اور دونوں یہ جانتے تھے، شبنم نے اپنا کپ میز پر رکھا اور ارسلان کے بالکل سامنے آ کھڑی ہوئی، میں نے تمہیں اسی لیے بلایا ہے، اس نے صاف لفظوں میں کہا، پانچ سال سے ہر تنہا رات میں اسی دوپہر کو یاد کرتی ہوں، آج مجھے پھر وہی چاہیے، ارسلان کی آنکھوں میں وہی پرانی چمک لوٹ آئی، اس نے اسے کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کھینچ لیا۔
ارسلان نے ایک لمحہ ضائع نہ کیا، اس نے شبنم کو اٹھا کر صوفے پر بٹھا دیا اور اس کے ہونٹ اس کی گردن پر اتر آئے، وہ اس کی گردن چومتا ہوا اس کے بلاؤز کے ہک کھولنے لگا، شبنم نے خود ہی ساری کا پلو ہٹا دیا، لو، دیکھ لو، یہ پانچ سال سے تمہارا انتظار کرتی رہیں، اس نے اپنی ننگی چھاتیاں اس کے ہاتھوں میں دے دیں۔
وہ ان پر ٹوٹ پڑا، کبھی ایک کو چوستا، کبھی دوسری کو، اس کے ہاتھ نیچے سرکے اور پیٹی کوٹ کے اوپر سے ہی اس کی چوت کو مسلنے لگے، شبنم بے چین ہو کر ہلنے لگی، کپڑے اتارو، سارے، اس نے حکم چلایا، ارسلان نے کرتا اتار پھینکا، پاجامہ اتارا، اس کا لنڈ پھر ویسا ہی تنا ہوا تھا جیسا اس دوپہر تھا، شبنم نے اسے دیکھ کر ہونٹ چاٹے۔
اس بار پہل شبنم نے کی، اس نے ارسلان کو صوفے پر بٹھایا اور خود اس کی گود میں آ بیٹھی، اس کا لنڈ اس کی بھیگی چوت کے منہ پر تھا، وہ آہستہ آہستہ اس پر بیٹھتی گئی اور پورا لنڈ اپنے اندر لے لیا، آہ، ارسلان، اس نے اس کے کندھوں کو پکڑ کر اچھلنا شروع کر دیا، اوپر نیچے، تیز اور تیز، اس کی چھاتیاں اس کے چہرے کے سامنے ناچ رہی تھیں اور وہ انھیں چوستا رہا۔
پھر ارسلان کھڑا ہوا، اس نے شبنم کو صوفے پر اوندھا لٹا دیا اور پیچھے سے اس میں گھس گیا، باہر بارش تیز ہو گئی تھی اور کھڑکی کے شیشے پر بوندیں بج رہی تھیں، وہ زور زور سے دھکے مار رہا تھا اور ہر دھکے پر شبنم کی سسکیاں بلند ہو رہی تھیں، ہاں، ایسے ہی، رک نہ، مجھے آج پورا چاہیے، آج کوئی جلدی نہیں۔
شبنم کی چوت نے اس کے لنڈ کو جکڑ لیا، اس کا بدن اینٹھنے لگا اور وہ چلائی، میں جھڑ رہی ہوں، ارسلان نے اس کے کولہوں کو مضبوطی سے پکڑ کر آخری زور دار دھکے مارے اور اپنا گرم پانی اس کے اندر انڈیل دیا، دونوں ہانپتے ہوئے صوفے پر ڈھیر ہو گئے، بارش کی آواز میں ان کی بے ترتیب سانسوں کا شور گھل رہا تھا۔
کچھ دیر بعد ارسلان نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا، تم اب بھی ویسی ہی ہو، اس نے دھیرے سے کہا، شبنم نے اس کے سینے پر سر رکھ دیا، اور تم اب بھی ویسے ہی بے باک ہو، باہر صحن میں شادی کا شور تھا مگر اس کمرے میں صرف ان دونوں کی خاموشی تھی، وہ اٹھی، اس نے ساری درست کی اور کھڑکی کا پردہ ہٹا کر بارش کو دیکھنے لگی۔
اسی لمحے اس کا فون بجا، اسکرین پر دانش کا نام جگمگا رہا تھا، شبنم نے ایک نظر ارسلان پر ڈالی اور فون سائلنٹ کر کے میز پر الٹا رکھ دیا، وہ بعد میں بات کر لے گی، آج کی یہ شام اس کی تھی، ارسلان نے مسکرا کر اس کے گال پر بوسہ دیا، تم بہت بہادر ہو گئی ہو، اس نے کہا، اور شبنم ہنس دی۔
دروازے پر ارسلان رکا اور مڑا، کل پھر، اس نے دھیرے سے پوچھا، شبنم نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، اس کی کلائی پر اب بھی اس کے عطر کی خوشبو تھی، وہی خوشبو جس نے پانچ سال پہلے سب کچھ شروع کیا تھا، کل بھی آنا، اس نے کہا، دروازہ کھلا رہے گا۔
شادی کی چوتھی رات شبنم حویلی کی چھت پر چڑھ گئی، بارش ہلکی ہلکی ہو رہی تھی اور نیچے صحن میں سارے مہمان سو رہے تھے، اس نے ارسلان کو پیغام بھیجا تھا، چھت پر آ جاؤ، کوئی نہیں جاگ رہا۔
وہ دس منٹ بعد آیا، ہلکا بھیگا ہوا، اس نے شبنم کو دیوار کے سائے میں کھینچ لیا، تم پاگل ہو، اس نے ہنس کر کہا، ہاں، تمہارے لیے، شبنم نے اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے، بارش ان دونوں کو بھگو رہی تھی اور اس کی ساری بدن سے چپک گئی تھی۔
ارسلان کے ہاتھ اس کی بھیگی ساری کے اندر گھس گئے، اس نے اس کی چھاتیوں کو بلاؤز کے اوپر سے ہی دبانا شروع کر دیا، شبنم کی سسکی بارش کی آواز میں دب گئی، اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی چوت پر رکھ دیا، دیکھو، میں تمہارے لیے کتنی بھیگی ہوں۔
اس نے دیوار کا سہارا لیا اور ارسلان اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا، اس نے اس کی ساری اوپر اٹھائی اور اس کی چوت کو چاٹنے لگا، اس کی زبان اندر باہر ہو رہی تھی، شبنم نے اس کے بال مٹھی میں پکڑ لیے، اور کرو، مجھے وہیں چاہیے، اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔
پھر ارسلان کھڑا ہوا، اس نے اپنا لنڈ نکالا اور شبنم کو دیوار کی طرف موڑ دیا، وہ پیچھے سے اس میں گھس گیا، کھلی چھت پر، بارش میں، ہر دھکے پر شبنم کے منہ سے دبی دبی آہیں نکل رہی تھیں، تیز کرو، کوئی سن نہیں رہا، بارش سب چھپا لے گی۔
ارسلان نے رفتار بڑھا دی، اس کا ایک ہاتھ اس کی چھاتی پر تھا اور دوسرا اس کی چوت کے دانے پر، شبنم کا بدن اینٹھا، وہ زور سے جھڑی اور اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو نچوڑ لیا، ارسلان بھی اسی لمحے اس کے اندر جھڑ گیا، دونوں بھیگے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے کھڑے رہے۔
نیچے سے کسی کے کھانسنے کی آواز آئی تو دونوں الگ ہوئے، شبنم نے ساری درست کی اور سیڑھیوں کی طرف بڑھی، جاتے جاتے اس نے مڑ کر کہا، اگلی بارش میں پھر، ارسلان ہنس دیا، اگلی بارش کا انتظار کون کرے، کل چھت پر پھر ملتے ہیں۔
Readers who enjoyed “Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 1)
شابنہ کے دروازے کے نیچے ایک گمنام خط ملتا ہے۔ یہ urdu adult kahani اس راز کی شروعات ہے جو اسے آدھی رات کو چھت تک لے جائے گا۔