Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو شہوت انگیز کہانی: آدھی رات کی غلط کال

N
9 min read2 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

رات کے ایک بجے فون بجا تو حنا کی آنکھ کھلی۔ انجان نمبر۔ اس نے فون اٹھایا۔ "ہیلو؟" دوسری طرف ایک گہری مردانہ آواز آئی۔ "ثناء؟" یہ ایک اردو شہوت انگیز کہانی ہے، اور اس کی شروعات ایک غلط کال سے ہوئی تھی۔

"آپ کو غلط نمبر ملا ہے،" حنا نے کہا۔ "یہ ثناء کا نمبر نہیں ہے۔" دوسری طرف خاموشی، پھر ہلکی سی ہنسی۔ "معاف کیجیے گا۔ آدھی رات کو جگایا۔" حنا نے فون رکھنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، پر آواز نے اسے روک دیا۔

"آپ کی آواز بہت پیاری ہے،" اس آدمی نے کہا۔ حنا کے گال گرم ہو گئے۔ "یہ کیا بات ہوئی؟ انجان عورت سے ایسی بات؟" "میں دانیال ہوں،" اس نے کہا۔ "اور آپ؟"

حنا کو نام بتانا نہیں چاہیے تھا۔ تیس سال کی اسکول ٹیچر، لکھنؤ میں اکیلی رہنے والی، طلاق یافتہ۔ اسے محتاط رہنا چاہیے تھا۔ پر نیند اور اس آواز نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا۔ "حنا،" اس نے کہا۔

"حنا،" دانیال نے اس کا نام دہرایا، جیسے چکھ رہا ہو۔ "آپ کی آواز سن کر لگتا ہے آپ بہت خوبصورت ہوں گی۔" حنا ہنس پڑی۔ "آواز سے خوبصورتی کا کیا تعلق؟" "بہت تعلق ہے۔ آپ کی آواز میں نرمی ہے، اور... پیاس بھی۔"

حنا کی سانس رک گئی۔ "آپ بہت بے باک ہیں۔" "میں سچ بولتا ہوں۔ آپ اکیلی ہیں نا؟ آدھی رات کو اکیلی عورت فون اٹھاتی ہے، اس کا مطلب..." "اس کا مطلب کچھ نہیں،" حنا نے جلدی سے کہا، پر اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔

"اچھا، تو میں فون رکھ دوں؟" دانیال نے پوچھا۔ حنا نے کچھ سوچا، پھر کہا، "نہیں۔ بات کریں۔ نیند ویسے بھی اڑ گئی ہے۔" دوسری طرف سے گہری سانس کی آواز آئی۔ "آپ کو پتہ ہے، میں ثناء کو فون کر رہا تھا۔ میری... دوست ہے۔ پر اب لگتا ہے غلط نمبر صحیح نمبر تھا۔"

وہ باتیں کرتے رہے۔ دانیال چھتیس سال کا، لکھنؤ میں ہی رہتا ہے، کاروبار کرتا ہے۔ بیوی سے علیحدگی ہو چکی۔ حنا نے اپنی کہانی بھی سنائی۔ طلاق، اکیلا پن، وہ راتیں جب نیند نہیں آتی۔

"حنا،" دانیال نے دھیمی آواز میں کہا، "میں آپ سے ایک بات پوچھوں؟ برا تو نہیں مانیں گی؟" "پوچھیں۔" "آپ... کبھی کسی کو اتنا چاہا ہے کہ جسم جلنے لگے؟"

حنا کے ہاتھ کانپنے لگے۔ "یہ کیسا سوال ہے؟" "سچا سوال۔ جواب دیں۔" حنا نے بستر پر کروٹ بدلی۔ "ہاں،" اس نے سرگوشی میں کہا۔ "کبھی کبھی۔"

"میں ابھی آپ کو سوچ رہا ہوں،" دانیال نے کہا۔ "سوچ رہا ہوں آپ کیسی لگتی ہوں گی۔ بستر پر لیٹی ہوئی، فون کان سے لگائے۔ آپ نے کیا پہنا ہے؟"

"دانیال!" حنا کی آواز کانپ گئی۔ "بتائیں نا،" اس نے اصرار کیا۔ حنا نے اپنی نائٹی کو دیکھا۔ "نائٹی۔ ہلکی نیلی۔" "اور اس کے نیچے؟" حنا نے ہونٹ کاٹا۔ "کچھ نہیں۔"

دوسری طرف سے دانیال کی سانس تیز ہو گئی۔ "حنا، آپ مجھے پاگل کر رہی ہیں۔" "میں نے کیا کیا؟" حنا نے معصومیت سے کہا، پر اس کی انگلیاں اپنی نائٹی کے اسٹراپ پر تھیں۔

"اپنا ہاتھ کہاں ہے، حنا؟" دانیال نے پوچھا۔ حنا کی انگلیاں رک گئیں۔ "آپ کو کیسے پتہ؟" "آپ کی سانسوں سے۔ بتائیں، کہاں ہے؟"

حنا نے ہار مان لی۔ "میرے... سینے پر۔" "اور اب؟" اس نے اپنا ہاتھ نیچے کیا۔ "اب... نیچے۔" دانیال کی آواز بھاری ہو گئی۔ "کیا کر رہی ہیں؟" "چھو رہی ہوں۔ خود کو۔"

"کیسا لگ رہا ہے؟" "گرم۔ گیلا۔" حنا کی آواز اب سرگوشی سے زیادہ نہیں تھی۔ "دانیال، میں..." "ہاں، حنا۔ کرتے رہیں۔ میں سن رہا ہوں۔"

حنا کی انگلیاں تیزی سے چلنے لگیں۔ وہ فون کو کندھے سے دبائے، دونوں ہاتھوں سے خود کو گرم کر رہی تھی۔ ایک ہاتھ اس کے سینے پر، دوسرا اس کی شرمگاہ پر۔ "میں آپ کو سوچ رہی ہوں،" اس نے کہا۔

"میں بھی آپ کو سوچ رہا ہوں،" دانیال نے کہا۔ اس کی آواز سے لگ رہا تھا وہ بھی خود کو چھو رہا ہے۔ "سوچ رہا ہوں آپ میرے سامنے ہیں۔ میں آپ کی نائٹی اتار رہا ہوں۔"

"اتاریں،" حنا نے کہا۔ "میں آپ کے ہاتھ محسوس کر رہی ہوں۔" "آپ کے ممے کتنے نرم ہیں، حنا۔ میں انہیں چوس رہا ہوں۔" حنا کی کمر اٹھنے لگی۔ "ہاں... اور زور سے..."

"اب میں نیچے جا رہا ہوں،" دانیال نے کہا۔ "آپ کی ٹانگیں کھول رہا ہوں۔ آپ کی چوت... اتنی گیلی... میں چاٹ رہا ہوں۔" حنا چیخ پڑی۔ اس کی انگلیاں تیزی سے چل رہی تھیں۔

"میں آنے والی ہوں، دانیال... میں..." اس کا جسم اکڑ گیا، پھر ڈھیلا پڑ گیا۔ وہ فون پر ہی جھڑ گئی، دانیال کی آواز سنتے ہوئے۔ دوسری طرف دانیال کی سانس بھی اکھڑ گئی۔ "میں بھی... حنا..."

خاموشی۔ صرف دونوں کی سانسوں کی آواز۔ "یہ کیا ہو گیا؟" حنا نے پوچھا۔ "جو ہونا تھا،" دانیال نے کہا۔ "کل ملیں گی؟"

حنا نے سوچا۔ یہ پاگل پن تھا۔ انجان آدمی۔ پر اس کی آواز، اس کی باتیں... اس کے جسم میں اب بھی آگ تھی۔ "کہاں؟" اس نے پوچھا۔

اگلے دن شام کو وہ کافی شاپ میں ملے۔ دانیال لمبا، چوڑے کندھے، گہری آنکھیں۔ حنا سے دس قدم دور کھڑا تھا، پر حنا نے اسے پہچان لیا۔ آواز سے۔

"آپ حنا ہیں،" اس نے کہا، مسکرا کر۔ "اور آپ دانیال۔" وہ بیٹھے۔ باتیں ہوئیں۔ عام باتیں۔ پر میز کے نیچے دانیال کا پاؤں حنا کے پاؤں سے ٹکرایا، اور ہٹا نہیں۔

"میرے گھر چلیں گی؟" دانیال نے پوچھا، کافی ختم ہونے پر۔ حنا نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں وہی پیاس تھی جو کل رات آواز میں تھی۔ "چلیں،" اس نے کہا۔

دانیال کا فلیٹ صاف ستھرا، کتابوں سے بھرا۔ دروازہ بند ہوتے ہی اس نے حنا کو دیوار سے لگایا۔ "کل رات سے میں پاگل ہوں،" اس نے کہا، اور اس کے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑا۔

حنا نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولے۔ اس کا سینہ چوڑا تھا۔ دانیال نے اس کی کرتی اوپر کی۔ اس نے برا نہیں پہنی تھی۔ اس کے ممے آزاد ہوئے۔ دانیال کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

اس نے ایک ممے کو منہ میں لیا۔ حنا کراہ اٹھی۔ اس نے چوسا، کاٹا، کھینچا۔ حنا نے اس کے بال پکڑ لیے۔ "کل رات آپ نے صرف سوچا تھا،" اس نے کہا۔ "آج سچ ہے۔"

دانیال نیچے بیٹھا اور اس کی شلوار کا نالا کھولا۔ شلوار نیچے سرک گئی۔ اس کی پینٹی گیلی تھی۔ دانیال نے پینٹی ایک طرف کی اور اپنا چہرہ اس کی چوت میں دے دیا۔

اس کی زبان نے حنا کی چوت کو چاٹا۔ حنا دیوار سے چپک گئی۔ دانیال نے اس کے دانے کو منہ میں لیا اور چوسا۔ حنا کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔

حنا نے دانیال کی پینٹ کھولی۔ اس کا لن باہر آیا، لمبا اور موٹا۔ حنا نے اسے ہاتھ میں لیا۔ "کل رات اسے سوچا تھا،" اس نے کہا، "آج دیکھ رہی ہوں۔"

اس نے لن کو منہ میں لیا۔ دانیال نے اس کے بال پکڑ لیے۔ حنا آگے پیچھے ہونے لگی۔ دانیال کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔ "بس... ابھی نہیں..." اس نے اسے اٹھایا۔

دانیال نے اسے صوفے پر لٹایا۔ اس کی ٹانگیں پھیلائیں۔ اپنا لن اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ "میری طرف دیکھو،" اس نے کہا۔ حنا نے دیکھا، اور اس نے ایک دھکے میں پورا اندر ڈال دیا۔

حنا چیخ اٹھی۔ اس کی چوت پوری بھر گئی۔ دانیال رکا نہیں۔ وہ زور زور سے دھکے مارنے لگا۔ ہر دھکے کے ساتھ حنا کے ممے ہلتے۔

رفتار بڑھنے لگی۔ دانیال کی کمر تیزی سے چلنے لگی۔ حنا نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر پر لپیٹ لیں۔ "اور تیز... مجھے توڑ دو..."

دانیال نے اسے گود میں اٹھایا، دیوار سے لگایا، اور کھڑے کھڑے چودنے لگا۔ حنا کا وزن اس کے لن پر تھا۔ حنا نے اس کے کندھے پر کاٹا۔ "میں پھر آنے والی ہوں..."

دونوں ایک ساتھ جھڑے۔ دانیال نے اپنا گرم منی اس کی چوت میں چھوڑ دیا۔ وہ دونوں پسینے میں بھیگ گئے تھے۔

اس رات حنا دانیال کے گھر ہی رہی۔ بستر پر لیٹتے ہی دانیال نے اسے پھر کھینچا۔ "ایک بار میں دل نہیں بھرا،" اس نے کہا۔

اس بار حنا اوپر تھی۔ وہ دانیال کے لن پر بیٹھی اور اچھلنے لگی۔ دانیال نے اس کے کولہے پکڑ لیے اور نیچے سے دھکے مارنے لگا۔ حنا کی چیخیں کمرے میں گونجتی رہیں۔

پھر دانیال نے اسے کتیا بنایا۔ حنا گھٹنوں کے بل ہوئی۔ دانیال پیچھے سے آیا اور ایک جھٹکے میں اندر گیا۔ اس نے اس کے بال پکڑے اور گھوڑی کی طرح چودنے لگا۔

اس نے اپنی انگلی حنا کی گانڈ کے سوراخ پر رکھی اور ہلکا سا دبایا۔ حنا تڑپ اٹھی، پر منع نہیں کیا۔ دانیال تیز ہوتا گیا، اور دونوں تیسری بار ایک ساتھ جھڑے۔

صبح جب حنا کی آنکھ کھلی، دانیال چائے بنا رہا تھا۔ "کل رات پھر فون کروں گا؟" اس نے پوچھا، مسکرا کر۔ "فون کی کیا ضرورت،" حنا نے کہا، اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے۔ "میں یہیں ہوں۔"

دانیال نے اسے بانہوں میں بھر لیا۔ باہر لکھنؤ کی صبح تھی، پر ان کے کمرے میں اب بھی آدھی رات کی گرمی تھی۔ غلط نمبر صحیح نکلا تھا۔

اس دن کے بعد حنا کی راتیں اکیلی نہیں رہیں۔ کبھی فون پر، کبھی آمنے سامنے۔ دانیال کی آواز اب اس کی زندگی کا حصہ تھی۔ اور ہر بار جب فون بجتا، حنا مسکرا دیتی۔ کیونکہ اب وہ جانتی تھی، غلط کال بھی قسمت ہو سکتی ہے۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو شہوت انگیز کہانی: آدھی رات کی غلط کال” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 1)

شابنہ کے دروازے کے نیچے ایک گمنام خط ملتا ہے۔ یہ urdu adult kahani اس راز کی شروعات ہے جو اسے آدھی رات کو چھت تک لے جائے گا۔

⏱️ 10 min read•👁️ 1 views