اردو بھابی کی کہانی: ڈرائیونگ والی صبح کا راز
"کلچ دباؤ! ارے یہ کلچ نہیں ہے، یہ میرا ہاتھ ہے!" عمران کی دبی چیخ پر نرگس بھابی کھلکھلا کر ہنس پڑیں، اور اسی ہنسی کے بیچ پرانی آلٹو ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ سڑک کے کنارے رک گئی۔ اردو بھابی کی کہانی کا یہ وہ لمحہ تھا جہاں صبح کے پانچ بجے، لکھنؤ کی سنسان سروس لین پر آم کے باغ کے سامنے، ایک بند گاڑی کے اندر دو دھڑکتے دل بالکل اکیلے رہ گئے تھے۔
نرگس بھابی چونتیس سال کی تھیں، گورا رنگ، بھری ہوئی چھاتیاں اور وہ چال جسے دیکھ کر محلے کے لڑکے سائیکل سست کر لیتے تھے۔ ان کے شوہر طارق پچھلے آٹھ مہینے سے سعودی میں تھے، اور گھر میں صرف دیور عمران تھا، چھببیس سال کا، دبلا پتلا مگر چوڑے کندھوں والا لڑکا جو صبح شام جم جاتا تھا۔ طارق نے فون پر کہا تھا کہ واپسی پر نرگس کو گاڑی چلانی آنی چاہیے، اور نرگس نے یہ ذمہ داری عمران کے کندھوں پر ڈال دی تھی۔
پچھلے دس دن سے یہی معمول تھا۔ صبح ساڑھے چار بجے نرگس عمران کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹاتیں، وہ منہ دھوتا، اور پانچ بجے دونوں پرانی آلٹو میں شہید پاتھ کی خالی سروس لین پر ہوتے۔ عمران سکھاتا، نرگس سیکھتیں، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے کندھے ایک دوسرے سے کچھ زیادہ دیر ٹکراتے۔ آج گیارہواں دن تھا، اور آج نرگس نے گلابی رنگ کا سوٹ پہنا تھا جس کا دوپٹہ بار بار ان کے کندھے سے سرک رہا تھا۔
"بھابی، آپ نے پھر کلچ جلدی چھوڑ دیا،" عمران نے کہا اور گیئر پر رکھا اپنا ہاتھ ہٹانے لگا۔ مگر نرگس کا ہاتھ غلطی سے نہیں، جان بوجھ کر اس کے ہاتھ پر آ ٹھہرا تھا۔ ان کی انگلیاں اس کی انگلیوں میں الجھ گئیں، اور ایک لمحے کے لیے گاڑی کے اندر صرف انجن کی گھرگھراہٹ اور دو لوگوں کی تیز سانسیں رہ گئیں۔
"میں کیا کروں عمران،" نرگس نے دھیمی آواز میں کہا، ان کی نظریں سامنے شیشے پر تھیں مگر ان کا ہاتھ وہیں تھا۔ "تمہارے بھائی تو سات سمندر پار ہیں، اور یہاں ہر رات مجھے لگتا ہے کہ میں کسی سنسان سڑک پر کھڑی ایک بند گاڑی ہوں جسے کوئی اسٹارٹ ہی نہیں کرتا۔" عمران کا گلا خشک ہو گیا۔ اس نے آج تک بھابی کو اس نظر سے نہیں دیکھا تھا، مگر آج ان کی باتوں میں وہ پیاس تھی جو دس دن سے گاڑی کی بند کھڑکیوں میں جمع ہو رہی تھی۔
اس نے گاڑی کا انجن بند کر دیا۔ "بھابی، مکینک کو فون کرتا ہوں،" اس نے بہانہ بنایا، حالانکہ گاڑی میں کوئی خرابی نہیں تھی، صرف نرگس نے جان بوجھ کر غلط گیئر لگایا تھا۔ نرگس نے اس کی کلائی پکڑ لی۔ "رہنے دو۔ مجھے ابھی گاڑی نہیں، کچھ اور سیکھنا ہے۔" ان کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو عمران نے آج تک کسی عورت کی آنکھوں میں نہیں دیکھی تھی۔
عمران نے ان کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور ان کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ نرگس ایک لمحے کو ساکت رہیں، پھر ان کے ہونٹ کھل گئے اور ان کی زبان اس کی زبان سے الجھ گئی۔ دس دن کی دبی ہوئی پیاس ایک ہی بوسے میں پھٹ پڑی۔ نرگس کے ہاتھ عمران کے بالوں میں تھے، اور وہ اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھیں جیسے ڈوبتی عورت تنکے کو پکڑتی ہے۔
"پیچھے چلو،" نرگس نے ہانپتے ہوئے کہا۔ دونوں پچھلی سیٹ پر منتقل ہو گئے، اور عمران نے گاڑی کے شیشوں پر اپنے رومال ڈال دیے۔ باہر آم کے باغ سے کوئل کی آواز آ رہی تھی، اور اندر نرگس بھابی عمران کی گود میں بیٹھ کر اس کی قمیض کے بٹن کھول رہی تھیں۔ ان کی انگلیاں کانپ رہی تھیں، مگر ان کی آنکھوں میں کوئی شرم نہیں تھی، صرف بھوک تھی۔
عمران نے نرگس کے سوٹ کا دوپٹہ ایک جھٹکے میں اتار پھینکا۔ گلابی کرتی کے نیچے ان کی بھری چھاتیاں سانسوں کے ساتھ اوپر نیچے ہو رہی تھیں۔ اس نے کرتی کو اوپر سرکایا اور ان کے پیٹ پر بوسے دینے لگا۔ نرگس کی ایک سسکی نکل گئی۔ "عمران،" وہ بڑبڑائیں، "تمہارے بھائی نے تو مجھے کبھی ایسے نہیں چھوا۔" ان کے الفاظ میں شکایت نہیں، حیرت تھی۔
اس نے ان کی برا کا ہک کھولا اور ان کی ننگی چھاتیاں اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔ نرم، گرم، بھری ہوئی چھاتیاں جن کے سخت نپل اس کی ہتھیلیوں میں چبھ رہے تھے۔ عمران نے ایک نپل کو منہ میں لیا اور چوسنے لگا، دوسرے کو انگلیوں سے مروڑنے لگا۔ نرگس کی کمر کمان کی طرح مڑ گئی، اور ان کے منہ سے ایک لمبی آہ نکلی جو گاڑی کی بند کھڑکیوں میں گونج گئی۔
"اور زور سے،" نرگس نے اس کے سر کو اپنی چھاتی پر دبایا۔ "آٹھ مہینے ہو گئے، عمران۔ آٹھ مہینے سے کسی مرد نے مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔" عمران کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ اس نے ان کی شلوار کا ناڑا کھولا اور اسے نیچے سرکایا۔ نرگس کی گیلی چوت اس کے سامنے تھی، اور اس کی خوشبو گاڑی کی بند فضا میں پھیل گئی۔
عمران نے اپنی انگلی ان کی چوت پر رکھی اور دھیرے دھیرے رگڑنے لگا۔ نرگس تڑپ اٹھیں۔ "ہاں، وہیں،" وہ چیخیں۔ اس کی انگلی ان کے دانے پر گھوم رہی تھی، اور ہر گھماؤ کے ساتھ نرگس کا جسم ایک نئی لہر میں کانپتا۔ پھر اس نے دو انگلیاں ان کی گیلی چوت کے اندر ڈال دیں، اور نرگس نے اس کے کندھے پر اپنے ناخن گاڑ دیے۔
"اب بس کرو،" نرگس نے اچانک کہا اور اسے دھکا دے کر سیٹ پر لٹا دیا۔ انہوں نے اس کی پینٹ کا بٹن کھولا اور اس کا سخت لنڈ باہر نکال لیا۔ آٹھ مہینے کی پیاسی عورت کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو عمران کبھی نہیں بھول سکتا تھا۔ نرگس نے اس کے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لیا، اسے دھیرے سے دبایا، اور پھر اپنے منہ میں لے لیا۔
عمران کی ایک زوردار آہ نکل گئی۔ نرگس کا منہ گرم تھا، ان کی زبان اس کے لنڈ کے سرے پر گھوم رہی تھی، اور ان کے ہاتھ اس کی گیندوں کو سہلا رہے تھے۔ وہ تجربہ کار تھیں، یہ صاف تھا۔ ان کا سر اوپر نیچے ہو رہا تھا، اور ہر بار وہ اسے تھوڑا اور گہرا لیتیں۔ عمران نے ان کے بال پکڑ لیے اور ان کے منہ میں دھکے دینے لگا۔
"بھابی، میں نکلنے والا ہوں،" وہ ہانپا۔ نرگس نے اسے باہر نکالا اور اپنے ہاتھ سے تیز تیز ہلانے لگیں۔ ان کی چھاتیاں اس کے چہرے کے سامنے جھول رہی تھیں، اور عمران نے ایک نپل کو منہ میں لے لیا۔ چند لمحوں بعد اس کا گرم رس نرگس کے ہاتھ اور ان کی چھاتیوں پر بکھر گیا۔ نرگس نے اسے اپنی انگلی سے چاٹا اور مسکرائیں۔ "اب میری باری۔"
نرگس اس پر سوار ہو گئیں۔ انہوں نے اس کے پھر سے سخت ہوتے لنڈ کو پکڑا اور اپنی گیلی چوت پر رکھا، پھر دھیرے دھیرے نیچے بیٹھ گئیں۔ دونوں کے منہ سے ایک ساتھ سسکی نکلی۔ آٹھ مہینے بعد کسی مرد کا لنڈ ان کی چوت میں تھا، اور نرگس کی آنکھوں میں آنسو تھے، خوشی کے آنسو۔ "ہاں عمران، ہاں،" وہ بڑبڑائیں اور اوپر نیچے ہونے لگیں۔
گاڑی ہل رہی تھی، اور باہر باغ سے کوئل کی آواز اب بھی آ رہی تھی۔ نرگس کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی۔ ان کی چھاتیاں اچھل رہی تھیں، ان کے بال بکھرے ہوئے تھے، اور ان کی چوت عمران کے لنڈ کو نچوڑ رہی تھی۔ "میں آ رہی ہوں،" وہ چیخیں، "عمران، میں جھڑ رہی ہوں!" ان کا جسم ایک زوردار لہر میں کانپا، اور ان کی چوت سے گرم پانی بہہ نکلا۔
عمران نے انہیں پلٹا اور پچھلی سیٹ پر ان کے اوپر آ گیا۔ اس نے ان کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور اپنا لنڈ ان کی گیلی چوت میں ایک ہی جھٹکے میں اتار دیا۔ نرگس چیخ پڑیں۔ اس کی رفتار اب جانوروں جیسی تھی۔ ہر دھکے کے ساتھ نرگس کا جسم سیٹ پر اچھلتا، اور ان کے منہ سے بے قابو آوازیں نکلتیں۔ "چودو مجھے،" وہ چلائیں، "زور سے چودو!"
گاڑی کے اندر پسینے اور جنسی خوشبو کا طوفان تھا۔ عمران کے دھکے تیز ہوتے گئے، اور نرگس کی چیخیں اونچی ہوتی گئیں۔ پھر ایک آخری زوردار دھکے کے ساتھ عمران ان کے اندر جھڑ گیا، اور نرگس نے اسے اپنی باہوں میں بھینچ لیا۔ دونوں ہانپ رہے تھے، پسینے میں بھیگے ہوئے، ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے۔ باہر سورج نکل آیا تھا، اور سروس لین پر پہلی گاڑیوں کی آوازیں آنے لگی تھیں۔
اچانک دور سے ایک موٹر سائیکل کا ہارن سنائی دیا۔ دونوں ہڑبڑا کر اٹھے۔ نرگس نے جلدی سے اپنی شلوار پہنی، عمران نے قمیض کے بٹن بند کیے، اور رومال شیشوں سے ہٹا دیے۔ موٹر سائیکل والا تو بس گزر گیا، مگر دونوں کی دھڑکنیں ابھی تک تیز تھیں۔ نرگس نے شیشے میں اپنے بکھرے بال سنوارے اور عمران کی طرف دیکھ کر مسکرائیں۔
عمران نے گاڑی اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف موڑ لی۔ راستے بھر کوئی کچھ نہیں بولا، مگر نرگس کا ہاتھ گیئر پر رکھے عمران کے ہاتھ پر تھا۔ گھر کے گیٹ پر پہنچ کر نرگس نے اس کا ہاتھ دبایا اور دھیمی آواز میں کہا، "کل بھی پانچ بجے۔ اور ہاں، کل میں سرخ سوٹ پہنوں گی۔" پھر وہ اتر کر اندر چلی گئیں، اور عمران گاڑی میں بیٹھا ان کے جاتے ہوئے قدموں کو دیکھتا رہا۔
اگلی صبح ساڑھے چار بجے نرگس نے پھر اس کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ عمران نے دروازہ کھولا تو سامنے سرخ سوٹ میں نرگس کھڑی تھیں، ان کے ہونٹوں پر وہی مسکراہٹ تھی۔ "چلیں استاد جی،" انہوں نے آنکھ مار کر کہا، "آج مجھے ریورس گیئر سکھانا ہے۔" عمران ہنس پڑا، اور دونوں پھر اسی سنسان سڑک کی طرف چل پڑے جہاں ان کی کہانی کا اگلا باب ان کا انتظار کر رہا تھا۔
Readers who enjoyed “اردو بھابی کی کہانی: ڈرائیونگ والی صبح کا راز” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔