اردو میڈ سیکس کہانی: ملازمہ اور مالک کی ممنوعہ رات
یہ اردو میڈ سیکس کہانی اس برسات کی رات کی ہے جب میں حمام سے بھیگے بالوں کے ساتھ باہر نکلا اور اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ شبانہ، میری گھر کی ملازمہ، دروازے پر کھڑی تھی اور اس کے ہاتھ میں برتنوں والا برش تھا۔ باہر بارش کھڑکیوں کے شیشوں پر تھپڑیں مار رہی تھی اور بجلی بار بار چمک رہی تھی۔
میں نے تولیہ کمر سے لپیٹا ہوا تھا اور پانی میرے سینے سے ٹپک رہا تھا۔ شبانہ کی نظریں ایک لمحے کے لیے میرے جسم پر ٹھہر گئیں اور پھر اس نے جلدی سے نظریں جھکا لیں۔ اس کے گالوں پر ہلکی سی لالی چھا گئی تھی۔ میں نے پوچھا، "کیا ہوا شبانہ؟" تو اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
"صاحب، کچن میں نل ٹوٹ گیا ہے۔ پانی ہر طرف بہہ رہا ہے۔" اس نے کہا اور اس کی آنکھوں میں گھبراہٹ تھی۔ میں تولیے میں ہی اس کے پیچھے کچن کی طرف بھاگا۔ واقعی، سنک کے نیچے سے پانی کا فوارہ نکل رہا تھا اور فرش پر پانی پھیل چکا تھا۔
میں نے مین والو بند کرنے کی کوشش کی مگر وہ زنگ آلود تھا اور گھوم نہیں رہا تھا۔ شبانہ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، "صاحب، رکیں، میں پلمبر کو فون کرتی ہوں۔" اس کا ہاتھ میرے بھیگے کندھے پر تھا اور اس کے لمس سے میرے جسم میں ایک عجیب سی کرنٹ دوڑ گئی۔
بارش اتنی تیز تھی کہ پلمبر کا آنا ناممکن تھا۔ میں نے کہا، "چھوڑو، صبح دیکھیں گے۔ پہلے پانی صاف کرتے ہیں۔" ہم دونوں نے مل کر فرش کا پانی صاف کرنا شروع کیا۔ شبانہ جھکی ہوئی تھی اور اس کے کرتے کا گلا ڈھیلا تھا۔
میں نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر میری نظریں بار بار اس کی طرف جا رہی تھیں۔ شبانہ چھببیس سال کی بیوہ تھی اور پچھلے دو سال سے میرے گھر کام کر رہی تھی۔ میری بیوی دبئی گئی ہوئی تھی اور گھر میں ہم دونوں کے سوا کوئی نہیں تھا۔
"صاحب، آپ کو سردی لگ جائے گی۔ آپ کپڑے پہن لیں۔" شبانہ نے کہا مگر اس کی آواز میں پہلے والی گھبراہٹ نہیں تھی۔ اب اس میں کچھ اور تھا، کوئی چھپی ہوئی گرمی۔ اس نے میرے تولیے کو دیکھا جو ڈھیلا ہو رہا تھا۔
میں نے تولیہ کس کر پکڑا اور مسکرایا، "تم بھی تو بھیگ گئی ہو۔" واقعی اس کے کپڑے پانی سے بھیگے ہوئے تھے اور اس کا دوپٹہ کندھے سے سرک چکا تھا۔ بارش کی ٹھنڈک کمرے میں گھس آئی تھی اور ہم دونوں کانپ رہے تھے۔
شبانہ نے اچانک میری طرف دیکھا اور کہا، "صاحب، آپ اکیلے ہیں، میں اکیلی ہوں۔ یہ رات بہت لمبی ہے۔" اس کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
میں نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ اس کا ہاتھ ٹھنڈا تھا مگر اس کی انگلیاں میرے ہاتھ میں کانپ رہی تھیں۔ میں نے اسے اپنے قریب کھینچا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں اور ایک گہری سانس لی۔
"شبانہ، تمہیں ڈر تو نہیں لگ رہا؟" میں نے پوچھا۔ اس نے سر ہلایا، "نہیں صاحب۔ دو سال سے میں نے کسی مرد کو چھوا تک نہیں۔ آج دل کر رہا ہے کہ کوئی مجھے اپنی بانہوں میں لے لے۔" اس کی بات سن کر میرے اندر کی آگ بھڑک اٹھی۔
میں نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلے تو وہ ہچکچائی مگر پھر اس نے میرے ہونٹوں کو چومنا شروع کر دیا۔ اس کی زبان میرے منہ میں گھس آئی اور ہم دونوں ایک دوسرے کو پاگلوں کی طرح چومنے لگے۔ بارش کی آواز ہمارے بوسوں کی آواز میں گھل مل گئی۔
میرے ہاتھ اس کی کمر پر پھسل رہے تھے۔ اس کا کرتا بھیگا ہوا تھا اور اس کے جسم کی گرمی میرے ہاتھوں کو محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے اس کے کرتے کے بٹن کھولنے شروع کیے، ایک ایک کر کے۔ اس نے مزاحمت نہیں کی، بلکہ اس نے میری گردن میں اپنی بانہیں ڈال دیں۔
جب اس کا کرتا اترا تو اس کے سینے کا منظر میرے سامنے تھا۔ اس نے کوئی برا نہیں پہنی تھی۔ اس کے گول گول ممے میرے سامنے تھے اور ان کے نوک سخت ہو چکے تھے۔ میں نے ایک ممے کو اپنے ہاتھ میں لیا اور دبایا۔ شبانہ کے منہ سے ایک سسکاری نکلی۔
"آہ صاحب، آہستہ۔" اس نے کہا مگر اس کے ہاتھ میرے سر کو اپنے سینے کی طرف دھکیل رہے تھے۔ میں نے اس کے ممے کے نوک کو منہ میں لیا اور چوسنے لگا۔ میری زبان اس کے نوک پر گھوم رہی تھی اور وہ میرے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیر رہی تھی۔
میں نے دوسرے ممے کو اپنے ہاتھ سے دبانا شروع کیا۔ اس کے ممے نرم تھے اور میرے ہاتھ میں بھرے ہوئے تھے۔ شبانہ کی سانسیں تیز ہو گئی تھیں اور وہ بار بار میرا نام لے رہی تھی۔ "عمران صاحب، عمران۔" اس کی آواز میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔
میں نے اسے اٹھا کر کچن کے کاؤنٹر پر بٹھا دیا۔ اس کی شلوار بھیگی ہوئی تھی۔ میں نے اس کی شلوار کا نالہ کھولا اور اسے نیچے سرکایا۔ اس کی ٹانگوں کے درمیان کا منظر دیکھ کر میرا لن تن کر کھڑا ہو گیا۔
اس کی چوت گیلی تھی، پانی سے نہیں بلکہ اس کے اپنے رس سے۔ میں نے اپنی انگلی اس کی چوت پر پھیری اور وہ کانپ اٹھی۔ "آہ، صاحب۔" اس کی آواز میں درد اور مزہ دونوں تھے۔ میں نے اپنی انگلی اس کی چوت میں ڈالی اور آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا۔
شبانہ نے اپنی ٹانگیں پھیلا دیں اور میرا ہاتھ اپنی چوت پر دبا دیا۔ "اور اندر صاحب، اور اندر۔" میں نے دوسری انگلی بھی ڈال دی۔ اس کی چوت گرم اور گیلی تھی اور میری انگلیوں کو چوس رہی تھی۔ پانی اس کی چوت سے ٹپک رہا تھا۔
میں نے اپنا تولیہ کھول کر پھینک دیا۔ میرا لن پوری طرح تنا ہوا تھا اور اس کی نوک سے قطرے نکل رہے تھے۔ شبانہ نے میرے لن کو دیکھا اور اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور میرے لن کو پکڑ لیا۔
اس نے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں لیا اور آہستہ آہستہ اوپر نیچے کرنے لگی۔ اس کے ہاتھ کی گرفت مضبوط تھی اور اس کی انگلیاں میرے لن کی نوک پر گھوم رہی تھیں۔ میں نے اس کے سر کو اپنے لن کی طرف جھکایا۔
شبانہ نے پہلے میرے لن کی نوک کو چوما اور پھر اسے اپنے منہ میں لے لیا۔ اس کا منہ گرم تھا اور اس کی زبان میرے لن پر گھوم رہی تھی۔ میں نے اس کے سر کو پکڑا اور آہستہ آہستہ دھکیلا۔ اس نے میرے لن کو گہرائی تک اپنے گلے میں لیا۔
"آہ شبانہ، تمہارا منہ بہت گرم ہے۔" میں نے کہا۔ وہ میرے لن کو چوس رہی تھی اور اس کی آنکھیں اوپر اٹھ کر مجھے دیکھ رہی تھیں۔ اس کی یہ ادا مجھے پاگل کر رہی تھی۔ میں نے اس کے بال پکڑے اور تیز کر دیا۔
اس کے گلے سے عجیب سی آوازیں نکل رہی تھیں مگر وہ رکی نہیں۔ اس نے میرے لن کو اپنے منہ سے نکالا اور اس کے ٹٹوں کو چومنے لگی۔ پھر اس نے میرے لن کو دوبارہ منہ میں لیا اور تیز تیز چوسنے لگی۔ میرا پانی نکلنے والا تھا۔
میں نے اسے روکا، "نہیں، ابھی نہیں۔ میں تمہاری چوت میں ڈالنا چاہتا ہوں۔" میں نے اسے کاؤنٹر پر لٹایا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ اس کی چوت میرے لن کے سامنے تھی اور اس سے رس بہہ رہا تھا۔
میں نے اپنے لن کی نوک اس کی چوت پر رگڑی۔ شبانہ کانپ اٹھی اور اس نے میری کمر کو پکڑ لیا۔ "ڈال دیں صاحب، اب برداشت نہیں ہوتا۔" میں نے ایک جھٹکے میں اپنا لن اس کی چوت میں ڈال دیا۔
اس کی چوت تنگ تھی اور میرے لن کو کس کر پکڑ رہی تھی۔ شبانہ کے منہ سے ایک چیخ نکلی جو بارش کی آواز میں دب گئی۔ میں نے رک کر اسے سنبھلنے کا موقع دیا اور پھر آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے۔
ہر دھکے کے ساتھ وہ آگے پیچھے ہو رہی تھی۔ کاؤنٹر ہل رہا تھا اور برتن کھنکھنا رہے تھے۔ میں نے اس کے ممے پکڑے اور انہیں دباتے ہوئے تیز دھکے لگائے۔ "آہ صاحب، آہ۔ بہت مزہ آ رہا ہے۔" وہ چلا رہی تھی۔
میں نے اسے اٹھایا اور دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ اس کی ایک ٹانگ میں نے اپنی کمر پر رکھی اور کھڑے کھڑے اس کی چوت میں دھکے لگانے لگا۔ اس کی پیٹھ دیوار سے رگڑ رہی تھی مگر اسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔ اس کے ناخن میری پیٹھ میں گڑ رہے تھے۔
"اور تیز صاحب، اور تیز۔" شبانہ کی آواز میں بے چینی تھی۔ میں نے اپنی رفتار بڑھا دی۔ میرا لن اس کی چوت میں پورا گھس رہا تھا اور باہر نکل رہا تھا۔ اس کی چوت سے پانی بہہ کر اس کی رانوں پر ٹپک رہا تھا۔
اچانک وہ کانپنے لگی۔ اس کا جسم اکڑ گیا اور اس نے میری گردن کو کس کر پکڑ لیا۔ "صاحب، میں جھڑ رہی ہوں۔ آہ۔" اس کی چوت نے میرے لن کو نچوڑا اور اس کا رس بہہ نکلا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی تسکین تھی۔
مگر میں رکا نہیں۔ میں نے اسے گھمایا اور اسے کاؤنٹر پر جھکا دیا۔ اس کی گانڈ میرے سامنے تھی۔ میں نے اس کی گانڈ پر تھپڑ مارا اور وہ سسک اٹھی۔ "صاحب۔" میں نے پیچھے سے اپنا لن اس کی چوت میں ڈال دیا۔
ڈوگی پوزیشن میں میں نے تیز تیز دھکے لگائے۔ اس کی گانڈ میرے پیٹ سے ٹکرا رہی تھی اور تھپ تھپ کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔ میں نے اس کے بال پکڑے اور اسے اپنی طرف کھینچا۔ وہ گھوڑی کی طرح ہنہنا رہی تھی۔
"تمہاری گانڈ بہت مزے کی ہے شبانہ۔" میں نے کہا اور اس کی گانڈ پر ایک اور تھپڑ مارا۔ اس نے اپنی گانڈ ہلائی اور میرے لن کو اور اندر لینے کی کوشش کی۔ اس کی چوت اب بہت گیلی تھی اور میرا لن آسانی سے اندر باہر ہو رہا تھا۔
میں نے محسوس کیا کہ میرا پانی نکلنے والا ہے۔ میں نے اپنی رفتار اور بڑھا دی۔ شبانہ بھی دوبارہ جھڑنے کے قریب تھی۔ "صاحب، اندر ہی نکالیں۔ مجھے آپ کا پانی اپنی چوت میں چاہیے۔" اس کی بات سن کر میں نے آخری زور لگایا۔
میرے لن سے پانی کا فوارہ نکلا اور اس کی چوت میں بھر گیا۔ شبانہ بھی اسی لمحے جھڑی۔ ہم دونوں کانپ رہے تھے اور ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے۔ بارش اب بھی برس رہی تھی مگر ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔
میں نے اپنا لن باہر نکالا۔ اس کی چوت سے ہمارا ملا جلا رس بہہ رہا تھا۔ شبانہ نے مجھے دیکھا اور مسکرائی۔ "صاحب، دو سال بعد آج میں نے خود کو عورت محسوس کیا ہے۔" اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر وہ خوشی کے آنسو تھے۔
میں نے اسے اپنی بانہوں میں لیا اور صوفے پر لے گیا۔ ہم دونوں ننگے تھے اور ایک کمبل میں لپٹے ہوئے تھے۔ بارش کی آواز اب مدھم ہو گئی تھی۔ شبانہ نے اپنا سر میرے سینے پر رکھا اور میری دھڑکن سننے لگی۔
"صاحب، کیا یہ صرف آج کی رات تھی؟" اس نے پوچھا۔ میں نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا، "نہیں شبانہ۔ جب تک تم چاہو، یہ ہر رات ہو سکتی ہے۔" اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور میرے ہونٹوں پر ایک گہرا بوسہ دیا۔
اس رات ہم نے ایک بار پھر پیار کیا، اس بار آہستہ اور پیار سے۔ صوفے پر، کمبل کے نیچے، ایک دوسرے کی بانہوں میں۔ شبانہ کی چوت نے میرے لن کو دوبارہ خوش آمدید کہا اور ہم دونوں نے ایک ساتھ جھڑ کر رات کا اختتام کیا۔
صبح جب میں اٹھا تو شبانہ کچن میں چائے بنا رہی تھی۔ اس نے مجھے دیکھا اور شرما کر مسکرائی۔ اس کی آنکھوں میں وہی چمک تھی جو رات کو تھی۔ میں نے اس کے پاس جا کر اس کے گال پر بوسہ دیا۔ "چائے کے بعد نل ٹھیک کروانا ہے۔" میں نے کہا۔
اس نے ہنس کر کہا، "نل تو بہانہ تھا صاحب۔ اصل میں مجھے آپ کے پاس آنا تھا۔" یہ سن کر میں حیران رہ گیا۔ "مطلب تم نے جان بوجھ کر نل توڑا تھا؟" شبانہ نے شرارت سے آنکھ ماری، "کبھی کبھی عورت کو اپنی خواہش کے لیے بہانہ بنانا پڑتا ہے۔"
میں نے اسے اپنی بانہوں میں لیا اور اس کے کان میں سرگوشی کی، "تو آج رات پھر کوئی نل ٹوٹے گا؟" اس نے ہنس کر کہا، "آج رات بجلی جائے گی۔" ہم دونوں ہنس پڑے اور اس کی ہنسی میں وہ وعدہ تھا جو آنے والی ہر رات کو خاص بنانے والا تھا۔
Readers who enjoyed “اردو میڈ سیکس کہانی: ملازمہ اور مالک کی ممنوعہ رات” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔