Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

بہترین اردو سیکس کہانی: لاہور کی حویلی میں فوٹو شوٹ

N
11 min read1 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

عرق گلاب کی خوشبو اس کی گردن پر بسی ہوئی تھی، اور گرم پتھر پر بارش کے قطرے گر کر بھاپ اٹھا رہے تھے۔ عالیہ نے ریشم کا دوپٹہ اپنے کندھے پر درست کیا، اس کی انگلیاں کپڑے کی نرمی محسوس کر رہی تھیں۔ یہ رات کسی بہترین اردو سیکس کہانی جیسی لگ رہی تھی، اور وہ اس کہانی کی ہیروئن تھی۔

حویلی کا صحن رات کے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، صرف شوٹ کی لائٹیں جل رہی تھیں۔ عثمان اپنا کیمرہ سیٹ کر رہا تھا، اس کی آنکھیں ویو فائنڈر سے ہٹی ہوئی تھیں، عالیہ پر جمی ہوئی تھیں۔ "تیار ہو؟" اس نے پوچھا۔ "کب سے تیار ہوں،" عالیہ نے جواب دیا، اس کی آواز میں ایک چیلنج تھا۔

پہلا ڈریس ایک گہرا سبز لہنگا تھا۔ عالیہ لائٹوں کے درمیان کھڑی ہوئی، بارش کی ہلکی پھوار اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ عثمان نے کیمرہ اٹھایا، کلک، کلک۔ "گردن تھوڑی اوپر، ہاں، ایسے ہی،" وہ ہدایت دے رہا تھا۔ عالیہ نے اس کی بات مانی، لیکن اس کی آنکھیں عثمان کی آنکھوں سے ہٹ نہیں رہی تھیں۔

"تم کیمرے کے پیچھے چھپے کیوں ہو؟" عالیہ نے اچانک پوچھا۔ عثمان رک گیا۔ "کیا مطلب؟" "مطلب یہ کہ تم مجھے دیکھ تو رہے ہو، لیکن چھو نہیں رہے،" وہ بولی، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ۔ عثمان کا چہرہ سرخ ہوا۔ "میں پروفیشنل ہوں، عالیہ۔" "آج رات پروفیشنل مت بنو،" اس نے کہا۔

دوسرا ڈریس ایک کالا ساری بلاوز تھا، پیٹھ کھلی ہوئی۔ عالیہ نے کپڑے بدلنے کے لیے اندرونی کمرے کا رخ کیا، لیکن دروازے پر رک کر مڑی۔ "عثمان، لائٹ چیک کرنے آؤ گے؟" اس نے پوچھا۔ عثمان نے اسسٹنٹ کو اشارہ کیا، خود اندر گیا۔ کمرے میں صرف ایک لیمپ جل رہا تھا۔

عالیہ آئینے کے سامنے کھڑی تھی، اس کی پیٹھ عثمان کی طرف۔ "زپ کھولو گے؟" اس نے پوچھا۔ عثمان نے ہاتھ بڑھایا، اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔ اس نے زپ کھولی، اس کی انگلیاں اس کی ننگی پیٹھ پر پھسل گئیں۔ عالیہ نے ایک لمبی سانس لی۔

"تمہارے ہاتھ کانپ رہے ہیں،" وہ بولی۔ "تمہیں دیکھ کر کون نہیں کانپے گا،" عثمان نے جواب دیا، اس کی آواز بھاری تھی۔ عالیہ مڑی، اب وہ اس کے سامنے تھی، بلاوز آدھا کھلا، اس کی چھاتیاں عثمان کی آنکھوں کے سامنے۔ اس نے عثمان کا ہاتھ پکڑ کر اپنی چھاتی پر رکھ دیا۔

"چھوؤ،" اس نے کہا۔ عثمان نے اس کی چھاتی کو دبایا، اس کا انگوٹھا اس کے نپل پر گھوما۔ عالیہ نے آنکھیں بند کیں، اس کے ہونٹوں سے ایک آہ نکلی۔ "اور زور سے،" وہ بولی۔ عثمان نے اس کے بلاوز کو کھینچ کر اتار دیا، وہ فرش پر گرا۔

عالیہ صرف پیٹی کوٹ میں کھڑی تھی۔ عثمان نے اسے دیوار سے لگایا، اس کے ہونٹ اس کی گردن پر، عرق کی خوشبو اس کے نتھنوں میں بھری ہوئی۔ اس کی زبان اس کی گردن پر گھومی، اس کے دانتوں نے ہلکا سا کاٹا۔ عالیہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں گاڑ دیں۔

"باہر سب انتظار کر رہے ہیں،" عثمان نے کہا، لیکن اس کے ہاتھ نہیں رکے۔ "انتظار کرنے دو،" عالیہ نے جواب دیا۔ اس نے عثمان کی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے، ایک ایک کر کے۔ اس کا سینہ نکلا، پسینے سے چمکتا ہوا۔ عالیہ نے اپنی زبان اس کے سینے پر پھیری۔

عثمان نے اس کا پیٹی کوٹ کھولا، وہ نیچے گرا۔ عالیہ صرف پینٹی میں تھی۔ اس نے عثمان کی پینٹ کی زپ کھولی، اس کا لنڈ باہر نکالا۔ وہ لمبا اور موٹا تھا، سر پر نمی۔ عالیہ نے اسے ہاتھ میں لیا، آہستہ سے ہلایا۔

عثمان نے دیوار کا سہارا لیا، اس کے ہاتھ عالیہ کے بالوں میں۔ "ہاں، ایسے ہی، گہرا لو،" وہ بولا۔ عالیہ نے اسے گلے تک لیا، اس کے منہ سے گیلی آوازیں نکل رہی تھیں۔ حویلی کی خاموشی میں وہ آوازیں گونج رہی تھیں۔

اچانک باہر سے آواز آئی، "عثمان بھائی، لائٹ ریڈی ہے!" دونوں رک گئے۔ عالیہ نے منہ سے باہر نکالا، ہنسی۔ "دو منٹ!" عثمان نے چلایا۔ اس نے عالیہ کو اٹھایا، اسے دیوار سے لگایا۔ "جلدی کرو،" عالیہ نے کہا۔

عثمان نے اس کی پینٹی ایک طرف کی، اس کی انگلیاں اس کی چوت پر۔ "کتنی گیلی ہو،" وہ بولا۔ عالیہ نے ٹانگیں پھیلائیں، اسے راستہ دیا۔ اس نے دو انگلیاں اندر ڈالیں، آہستہ آہستہ ہلانے لگا۔ عالیہ کی کمر دیوار سے اٹھی۔

"عثمان، ڈالو، ابھی،" وہ بولی۔ اس نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور دھکیلا۔ عالیہ نے چیخ دبائی، اس کے ناخن اس کے کندھوں میں گڑ گئے۔ وہ اندر تھا، گہرا، اس کی چوت اسے کس کر پکڑے ہوئے تھی۔

اس نے دھکے دینے شروع کیے، تیز، گہرے۔ دیوار کے ساتھ عالیہ کا جسم ہل رہا تھا۔ "اور زور سے، عثمان،" وہ بولی۔ اس نے اس کی ایک ٹانگ اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھی، اور گہرائی بڑھ گئی۔ عالیہ کی آہیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔

عالیہ کو لگا کہ وہ آنے والی ہے۔ "میں آ رہی ہوں، میں آ رہی ہوں!" وہ چلائی۔ اس کا جسم کانپا، اس کی چوت سے پانی بہنے لگا، اس نے عثمان کو کس کر پکڑا۔ عثمان نہیں رکا، وہ دھکے دیتا رہا۔

پھر وہ باہر نکلا، اسے گھمایا۔ عالیہ کا منہ دیوار پر، اس کی کمر اٹھی ہوئی۔ وہ پیچھے سے اندر آیا، اس کے ہاتھ اس کی کمر پر۔ "تمہاری گانڈ کتنی خوبصورت ہے،" وہ بولا۔ عالیہ نے ہنس کر کہا، "تو دیکھتے کیا ہو، چودو۔"

اس کے دھکے جنگلی ہو گئے۔ عالیہ دیوار کو پکڑے ہوئے تھی، اس کے منہ سے آوازیں نکل رہی تھیں۔ عثمان نے اس کے بال پکڑ کر کھینچے، اس کی پیٹھ مڑ گئی۔ "تم میری ہو، عالیہ،" وہ بولا۔ "آج رات تمہاری ہوں،" اس نے جواب دیا۔

دروازے پر دستک ہوئی۔ "عثمان بھائی؟" دونوں جم گئے۔ عالیہ نے جلدی سے پیٹی کوٹ اٹھایا، عثمان نے پینٹ اوپر کی۔ "آ رہا ہوں!" عثمان نے کہا۔ عالیہ نے بلاوز پہنا، بال ٹھیک کیے۔ وہ دونوں باہر نکلے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

آدھی رات کو شوٹ ختم ہوا۔ اسسٹنٹ سامان سمیٹنے لگا۔ "تم لوگ جاؤ، میں لائٹیں بند کر کے آتا ہوں،" عثمان نے کہا۔ اسسٹنٹ چلا گیا۔ حویلی میں صرف عالیہ اور عثمان رہ گئے، بارش کی آواز اور ان کی سانسیں۔

عالیہ صحن کے بیچ میں کھڑی تھی، آخری ڈریس میں، ایک سرخ عروسی جوڑا۔ "ایک آخری شوٹ،" اس نے کہا۔ "صرف تم اور میں۔" عثمان نے کیمرہ اٹھایا، لیکن پھر نیچے رکھ دیا۔ "آج رات کیمرہ نہیں،" وہ بولا، اس کی طرف بڑھا۔

اس نے عالیہ کو اٹھایا، اندرونی کمرے میں لے گیا۔ بڑا کمرہ، پرانا پلنگ، کھڑکی سے بارش نظر آ رہی تھی۔ اس نے اسے پلنگ پر لٹایا۔ "یہ جوڑا اتاروں؟" اس نے پوچھا۔ "جلدی،" عالیہ نے جواب دیا۔

اس نے اس کا جوڑا کھولا، ایک ایک کر کے کپڑے اتارے۔ عالیہ ننگی لیٹی تھی، لیمپ کی روشنی میں اس کا جسم چمک رہا تھا۔ عثمان نے اپنے کپڑے اتارے، اس کے اوپر آیا۔ اس کے ہونٹ اس کی گردن پر، اس کے کندھوں پر، اس کی چھاتیوں پر۔

اس نے اس کی ایک چھاتی منہ میں لی، چوسی، اس کی زبان نپل کے گرد گھومی۔ دوسری چھاتی کو ہاتھ سے دبایا، نپل کو انگلیوں سے مروڑا۔ عالیہ نے اس کا سر دبایا، "ہاں، عثمان، ایسے ہی۔" اس کی چوت سے پانی بہنے لگا، اس کی رانوں پر۔

عثمان نیچے سرکا، اس کا منہ اس کی چوت پر۔ اس کی زبان اس کی چوت کے ہونٹوں پر پھری، پھر اندر۔ عالیہ چلائی، اس کی کمر پلنگ سے اٹھی۔ اس نے اس کا دانہ منہ میں لیا، چوسا، اس کی زبان تیزی سے ہلی۔

وہ چلائی، اس کی چوت سے پانی بہنے لگا، اس کا جسم سکڑا۔ عثمان اوپر آیا، اس کا منہ اس کی چوت کے پانی سے گیلا تھا۔ اس نے اسے بوسہ دیا، اسے اس کا اپنا ذائقہ چکھایا۔ "اب میری باری،" وہ بولا۔

اس نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں، اس کا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر۔ اس نے ایک دھکے میں پورا اندر ڈال دیا۔ عالیہ چلائی، اس کی پیٹھ پلنگ سے اٹھی۔ وہ گہرا تھا، ہر دھکے سے اس کے اندر کی نوک کو چھو رہا تھا۔

اس نے دھکے دینے شروع کیے، آہستہ پہلے، پھر گہرے اور تیز۔ عالیہ کی ٹانگیں اس کے کندھوں پر کانپ رہی تھیں۔ "تمہاری چوت مجھے پاگل کر رہی ہے،" وہ بولا، پسینہ اس کے سینے سے ٹپک رہا تھا۔ عالیہ نے اس کے ہاتھ پکڑے، اسے اور گہرا کھینچا۔

"زور سے، گہرا، رکو مت،" وہ بول رہی تھی، اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔ اس نے اس کی ٹانگیں نیچے کیں، اسے الٹا کیا۔ وہ گھٹنوں پر، اس کی کمر اٹھی ہوئی، وہ پیچھے سے آیا۔ اس نے اس کے بال پکڑے، پیچھے کھینچے، اور اندر داخل ہوا۔

پیچھے سے اس کے دھکے گہرے اور جنگلی تھے۔ اس کے ہاتھ اس کی کمر پر کسے ہوئے، اس کے بالوں کو کھینچتے۔ "تم میری ہو، عالیہ،" وہ بولا، دھکے دیتے۔ "ہاں، آج رات تمہاری ہوں،" اس نے جواب دیا، اس کا منہ تکیے میں۔ اس کی چوت اس کے ہر دھکے سے آواز کر رہی تھی۔

اس نے اسے پھر گھمایا، اب وہ اوپر۔ عالیہ اس کے لنڈ پر بیٹھی، آہستہ آہستہ نیچے آئی، اسے پورا اندر لیا۔ "اوہ،" دونوں ایک ساتھ بولے۔ وہ ہلنے لگی، اوپر نیچے، اس کی چھاتیاں اس کے چہرے کے سامنے ہل رہی تھیں۔ اس نے دونوں چھاتیاں ہاتھ میں لیں، دبائیں، نپل چوسے۔

اسے لگا کہ وہ پھر قریب آ رہی ہے، اس بار زیادہ زور سے۔ "عثمان، میں..." اس کا جملہ ادھورا رہا، اس کے جسم میں ایک زبردست لہر اٹھی۔ وہ اس پر کانپی، اس کی چیخ کمرے میں گونجی، اس کی چوت اس کے لنڈ کے گرد کس کر سکڑی۔

اس نے اسے نیچے لیا، خود اوپر آیا، اور زور سے دھکے دینے لگا۔ "میں آنے والا ہوں،" وہ بولا۔ "میرے اندر، عثمان، پلیز،" وہ بولی۔ اس نے آخری چند گہرے دھکے دیے اور کانپا، اس کا گرم، گاڑھا پانی اس کے اندر گہرائی میں چھوڑا۔ عالیہ نے اسے کس کر گلے لگایا، اس کا ہر کانپنا محسوس کرتے۔

دونوں ایک دوسرے پر گرے، ہانپتے ہوئے، پسینے میں بھیگے۔ وہ اس کے پہلو میں لیٹا، اسے قریب کھینچا۔ اس کا سر اس کے سینے پر، اس کے دل کی دھڑکن اس کے کان میں۔ بارش اب بھی کھڑکی پر پڑ رہی تھی، لیکن اب وہ آواز پرسکون لگ رہی تھی۔

عالیہ نے اس کے سینے پر ہلکا سا مکا مارا۔ "تم فوٹوگرافر ہو یا شاعر؟" "آج رات دونوں،" عثمان نے کہا۔ اس کا لنڈ اب بھی اس کی ران پر ٹکا ہوا تھا، آدھا کھڑا۔ عالیہ کی انگلیوں نے اسے آہستہ سے چھوا۔

"پھر؟" اس نے پوچھا، حیرت سے۔ "بارش رکنے تک،" عالیہ نے کہا، اور اس پر چڑھ گئی۔ اس نے اس کی کمر پکڑی، اسے نیچے کھینچا۔ ان کے ہونٹ پھر ملے، اور بارش کی رات ان کے لیے ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔

تیسری بار جب وہ ایک ہوئے تو صبح کے تین بج رہے تھے۔ عالیہ اس کی بانہوں میں سوئی تھی، پوری طرح تھکی ہوئی، پوری طرح مطمئن۔ اس نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں۔ "عالیہ،" وہ بولا، "اگلا شوٹ کب ہے؟"

عالیہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ "اگلے ہفتے،" وہ بولی۔ "اسی حویلی میں؟" اس نے پوچھا، اس کی آنکھوں میں شرارت۔ "اسی حویلی میں،" عالیہ نے جواب دیا، "لیکن اس بار کیمرہ تم نہیں، میں چلاؤں گی۔" عثمان ہنسا، اسے اور کس کر گلے لگایا۔

باہر بارش رک گئی تھی، صرف قطروں کی آواز آ رہی تھی۔ "اور اسسٹنٹ؟" عثمان نے پوچھا۔ "اسسٹنٹ کو چھٹی،" عالیہ نے کہا، اس کی آنکھیں بند کرتے ہوئے۔ "اگلا شوٹ صرف ہم دونوں کا ہوگا۔" عثمان نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا، اور حویلی خاموشی میں ڈوب گئی۔

🔒 Bonus Scene locked

حویلی کی وہ رات تو گزر گئی، مگر اگلی صبح عالیہ کے فون پر کیا پیغام آیا تھا؟

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “بہترین اردو سیکس کہانی: لاہور کی حویلی میں فوٹو شوٹ” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views