اردو XXX کہانی: ڈائری کا راز
یہ ایک اردو XXX کہانی ہے، مگر میرے لیے یہ کسی کہانی سے بڑھ کر تھا۔ یہ اس دن کی بات ہے جب قسمت نے میری دکان کے کاؤنٹر پر ایک چمڑے کی ڈائری لا کر رکھ دی تھی۔
میرا نام عمران ہے، بتیس سال کا۔ چاندنی چوک کی گلی میں میری مصالحوں کی دکان ہے، باپ دادا کے زمانے سے۔ دوپہر کا وقت تھا، دکان میں ہلکی بھیڑ تھی۔ ایک عورت جلدی میں مصالحہ لے کر نکلی، اور اس کے دوپٹے کے کونے سے کچھ پھسل کر کاؤنٹر کے پیچھے گر گیا۔
میں نے جھک کر اٹھایا۔ ایک چھوٹی سی چمڑے کی ڈائری تھی، بھورے رنگ کی، کنارے گھسے ہوئے۔ میں نے سوچا دکان کے لڑکے کو کہوں کہ سنبھال کر رکھ دے، شاید وہ واپس آئے۔ مگر ڈائری کے پہلے صفحے پر جو لکھا تھا، اس نے میرے ہاتھ روک لیے۔
صرف ایک نام تھا۔ شازیہ۔
وہ میری دکان کی پرانی گاہک تھی۔ چونتیس سال کی، شادی شدہ، ہمیشہ سلجھے ہوئے انداز میں آتی، مصالحہ لیتی اور چلی جاتی۔ میں نے اسے کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا تھا۔ مگر اس دن شیطان میرے کندھے پر بیٹھ گیا۔
دکان میں بھیڑ چھٹ گئی۔ میں نے ڈائری کھولی۔ پہلے دو صفحے عام تھے، بازار کی فہرستیں، بچوں کے اسکول کی فیس کی تاریخیں۔ تیسرے صفحے پر میری سانس رک گئی۔
اس نے لکھا تھا کہ رات کو شوہر کے سو جانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں اکیلی کیا سوچتی ہے۔ الفاظ اتنے کھلے اور بے باک تھے کہ میرے ہاتھ کانپنے لگے۔ وہ اپنے جسم کی پیاس کے بارے میں لکھتی تھی، ان خواہشوں کے بارے میں جو اس کا شوہر کبھی پوری نہیں کر پاتا تھا۔
میں نے پڑھنا بند کرنا چاہا، مگر آنکھیں نہیں رکیں۔ ایک صفحے پر اس نے لکھا تھا کہ وہ چاہتی ہے کوئی اسے دیوار سے لگا کر اس کے ہونٹ چومے، اس کی گردن پر دانت گڑائے۔ ایک اور صفحے پر اس نے اپنے سینے کے بارے میں لکھا تھا، کیسے وہ چاہتی ہے کوئی مرد اس کے بلاؤز کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے۔
میرے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔ دکان کا پنکھا چل رہا تھا مگر مجھے گرمی لگ رہی تھی۔ میں نے ڈائری بند کر کے دراز میں رکھی اور گاہکوں سے نمٹنے لگا، مگر میرا دھیان بار بار اسی ڈائری کی طرف جاتا رہا۔
شام کے چھ بجے دکان کا شور تھم گیا۔ میں دراز کھول کر ڈائری پھر نکالنے ہی والا تھا کہ دکان کے دروازے پر ہلچل ہوئی۔ وہی تھی۔ شازیہ۔
اس کے چہرے پر گھبراہٹ صاف نظر آ رہی تھی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا اور دھیمی آواز میں بولی، عمران صاحب، کیا یہاں کوئی ڈائری رہ گئی ہے؟ بھورے رنگ کی؟
میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ میں نے مسکرا کر کہا، ڈائری؟ کیسی ڈائری؟ ذرا تفصیل بتائیے، پھر دیکھتا ہوں۔
اس کی آنکھوں میں ایک لمحے کو خوف تیرا۔ وہ بولی، بس ایک عام سی ڈائری ہے، گھر کے حساب کتاب والی۔ اگر ملے تو دے دیجیے گا۔
میں کاؤنٹر کے پیچھے سے نکلا اور اس کے قریب آیا۔ میں نے دھیمی آواز میں کہا، شازیہ جی، میں نے اسے پڑھا ہے۔ تیسرے صفحے سے آگے والا حساب کتاب تو بہت دلچسپ ہے۔
اس کا چہرہ ایک دم سرخ ہو گیا۔ وہ پیچھے ہٹی اور بولی، آپ کو کوئی حق نہیں تھا میری ذاتی چیز پڑھنے کا۔ دیجیے میری ڈائری واپس۔
میں نے کہا، ڈائری تو میں دے دوں گا، مگر پہلے یہ بتائیے کہ جو خواہشیں آپ نے اس میں لکھی ہیں، کیا وہ صرف کاغذ پر رہنے کے لیے ہیں؟ اس کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ اس نے دائیں بائیں دیکھا کہ کوئی سن تو نہیں رہا۔
دکان خالی تھی۔ لڑکا چھٹی پر تھا۔ باہر گلی میں شام کا شور تھا، مگر دکان کے اندر صرف ہم دونوں تھے۔ میں نے دراز سے ڈائری نکالی اور اس کے سامنے کاؤنٹر پر رکھی۔
میں نے کہا، لیجیے، آپ کی امانت۔ مگر ایک بات سن لیجیے۔ آپ نے لکھا ہے کہ آپ چاہتی ہیں کوئی آپ کو دیوار سے لگائے۔ میں وہی کر سکتا ہوں جو آپ کے شوہر نہیں کرتے۔
وہ ڈائری اٹھانے کے لیے آگے بڑھی، مگر میں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر اس نے ہاتھ نہیں ہٹایا۔ اس کی آنکھوں میں غصہ تھا، شرم تھی، اور کچھ اور بھی تھا۔ ایک چنگاری۔
میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کاؤنٹر کے پیچھے کھینچا، دکان کے پچھلے حصے کی طرف جہاں مصالحوں کی بوریوں کے پیچھے ایک چھوٹا سا اسٹور روم تھا۔ وہ دھیمی آواز میں بولی، عمران، یہ پاگل پن ہے، کوئی آ جائے گا۔
میں نے دکان کا شٹر آدھا گرا دیا اور تختی لٹکا دی۔ بند ہے۔ پھر میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اسٹور روم میں لے گیا۔ اندر ہلدی اور الائچی کی خوشبو بسی ہوئی تھی، ایک مدھم بلب جل رہا تھا۔
میں نے دروازہ بند کیا اور اس کی طرف مڑا۔ وہ دیوار سے لگی کھڑی تھی، ڈائری سینے سے لگائے۔ میں نے کہا، اب بتائیے، ڈائری میں جو لکھا ہے، وہ سچ ہے یا صرف خواب؟
اس نے نظریں جھکا لیں۔ میں نے اس کے قریب جا کر اس کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر ہونٹ کانپ رہے تھے۔ میں نے دھیرے سے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔
پہلے تو وہ ساکت رہی، پھر اس کے ہونٹوں نے جواب دیا۔ ڈائری اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر گر گئی۔ میں نے اسے اپنی باہوں میں بھینچ لیا اور اس کے ہونٹ چوستا رہا۔ اس کی زبان میری زبان سے الجھی، اور اس کے منہ سے ایک دبی ہوئی سسکی نکلی۔
میں نے اس کی گردن پر ہونٹ رکھے اور وہیں چوما جہاں اس نے ڈائری میں لکھا تھا۔ میرے دانتوں نے اس کی نرم کھال کو ہلکا سا دبایا تو وہ تڑپ اٹھی۔ اس کے ہاتھ میری قمیض کے بٹنوں پر آ گئے۔
میں نے اس کی قمیض کے اوپر سے اس کے سینے کو دبایا۔ اس کے ممے نرم اور بھرے ہوئے تھے۔ وہ بولی، عمران، دھیرے، کوئی سن لے گا۔ میں نے کہا، یہاں صرف مصالحے سنتے ہیں، اور وہ کسی کو کچھ نہیں بتاتے۔
میں نے اس کی قمیض کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے، بالکل ویسے جیسے اس نے ڈائری میں لکھا تھا۔ اس نے سیاہ رنگ کی برا پہنی تھی۔ میں نے برا کا ہک کھولا اور اس کے ننگے ممے میری آنکھوں کے سامنے آ گئے۔
وہ شرم سے اپنا چہرہ چھپانے لگی، مگر میں نے اس کے ہاتھ ہٹا دیے۔ میں نے کہا، اتنے خوبصورت ہیں، چھپانے کی کیا ضرورت۔ میں نے ایک ممے کو منہ میں لیا اور چوسنے لگا، دوسرے کو ہاتھ سے دباتا رہا۔
اس کے منہ سے آہ نکلی۔ اس کے ہاتھ میرے بالوں میں گھس گئے۔ وہ بولی، عمران، اور زور سے، مجھے ایسا ہی چاہیے تھا۔ اس کی آواز میں وہی پیاس تھی جو اس کی ڈائری کے ہر صفحے پر ٹپکتی تھی۔
میں نے اس کی شلوار کا ناڑا کھولا اور شلوار نیچے سرکا دی۔ اس نے کالی پینٹی پہنی تھی جو اب گیلی ہو چکی تھی۔ میں نے پینٹی کو ایک طرف ہٹایا اور اپنی انگلی اس کی چوت پر رکھی۔
وہ گیلی تھی، بہت گیلی۔ میری انگلی اس کی چوت کے ہونٹوں پر پھسلی تو اس کا جسم کانپ اٹھا۔ میں نے انگلی اندر ڈالی اور دھیرے دھیرے ہلانے لگا۔ اس کی سانسیں تیز ہو گئیں، اس نے میرا کندھا پکڑ لیا۔
میں نے کہا، ڈائری میں آپ نے لکھا تھا کہ آپ چاہتی ہیں کوئی آپ کی چوت چاٹے۔ آج وہ خواہش پوری ہو گی۔ وہ بولی، نہیں، عمران، یہ بہت زیادہ ہے۔ مگر اس کی ٹانگیں خود بخود کھل گئیں۔
میں اس کے سامنے گھٹنوں پر بیٹھ گیا۔ میں نے اس کی چوت کو چوما، پھر اپنی زبان اس کے دانے پر رکھی۔ اس کا جسم ایک جھٹکے سے اکڑ گیا۔ اس کے ہاتھوں نے میرے سر کو اپنی چوت پر دبا لیا۔
میں نے اس کی چوت کو چاٹا، چوسا، اپنی زبان اندر تک ڈالی۔ اس کا رس میرے منہ میں بھر گیا، نمکین اور میٹھا۔ وہ دبی آواز میں چیخ رہی تھی، عمران، بس، میں آ رہی ہوں، رک جاؤ۔
مگر میں نہیں رکا۔ میں نے اس کے دانے کو دانتوں سے ہلکا سا دبایا اور وہ زور سے کانپتے ہوئے جھڑ گئی۔ اس کی چوت سے پانی نکلا اور اس کی ٹانگیں لرزنے لگیں۔ میں کھڑا ہوا اور اسے سہارا دیا۔
اس کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ وہ بولی، میرے شوہر نے آج تک ایسا نہیں کیا۔ میں نے مسکرا کر کہا، ابھی تو شروعات ہے، ڈائری کے اگلے صفحے پر جو لکھا ہے وہ بھی پورا کرنا ہے۔
میں نے اپنی پینٹ اتاری۔ میرا لنڈ تنا ہوا تھا، موٹا اور لمبا۔ اس کی نظر اس پر پڑی تو اس نے ہونٹ کاٹ لیے۔ میں نے کہا، ڈائری میں آپ نے اس کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ چھو کر دیکھیے، ڈرئیے مت۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے میرا لنڈ پکڑا۔ اس کی نرم ہتھیلی کا لمس مجھے پاگل کر گیا۔ وہ اسے دھیرے دھیرے ہلانے لگی۔ میں نے اس کے بال پکڑے اور اس کا منہ اپنے لنڈ کی طرف جھکایا۔
اس نے پہلے انکار میں سر ہلایا، مگر پھر اس نے میرے لنڈ کے سرے کو چوما۔ پھر اس نے اسے منہ میں لیا۔ اس کا گرم منہ میرے لنڈ کو چوس رہا تھا۔ میں نے اس کے منہ میں دھکے لگائے۔
اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے، مگر وہ نہیں رکی۔ اس نے میرے لنڈ کو گہرائی تک لیا اور چوستی رہی۔ میں نے اس کے بال کھینچے اور کہا، بہت اچھا، ایسے ہی۔
پھر میں نے اسے اٹھایا اور مصالحوں کی بوری پر لٹا دیا۔ میں نے اس کی ٹانگیں کھولیں اور اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ وہ بولی، عمران، دھیرے ڈالنا، بہت دن ہو گئے۔
میں نے ایک زور کا دھکا لگایا اور میرا لنڈ اس کی گیلی چوت میں اتر گیا۔ وہ چیخ پڑی، مگر میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ میں نے دھیرے دھیرے دھکے لگانے شروع کیے۔
اس کی چوت تنگ تھی اور میرے لنڈ کو کس کر پکڑ رہی تھی۔ ہر دھکے کے ساتھ وہ سسکتی۔ میں نے اس کے ممے پکڑے اور زور زور سے چودنے لگا۔ بوری ہل رہی تھی، مصالحوں کی خوشبو ہوا میں گھل رہی تھی۔
میں نے اسے گھوڑی بنایا۔ وہ بوری پر جھکی، میں نے پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈالا۔ اس کی گانڈ میرے پیٹ سے ٹکرا رہی تھی۔ میں نے اس کے بال کھینچے اور زور سے چودا۔
وہ چلا رہی تھی، ہاں، اور زور سے، پھاڑ دو مجھے۔ اس کی آواز سن کر میرا جوش اور بڑھ گیا۔ میں نے اس کی کمر پکڑی اور پوری طاقت سے دھکے لگائے۔
پھر میں نے اسے دیوار سے لگایا، بالکل ویسے جیسے اس نے ڈائری میں لکھا تھا۔ اس کی ایک ٹانگ میں نے اٹھائی اور کھڑے کھڑے اسے چودنے لگا۔ اس کے ممے میرے سینے سے رگڑ کھا رہے تھے۔
اس کی چوت نے میرے لنڈ کو نچوڑنا شروع کر دیا۔ وہ بولی، عمران، میں پھر آ رہی ہوں۔ میں نے کہا، ساتھ میں آتے ہیں۔ میں نے آخری زور کے دھکے لگائے اور ہم دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے۔
میرا پانی اس کی چوت میں بھرا۔ وہ میرے سینے سے لگی ہانپ رہی تھی۔ اس کے جسم سے پسینہ ٹپک رہا تھا۔ ہم دونوں فرش پر بیٹھ گئے، ایک دوسرے سے لپٹے۔
کچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر وہ بولی، عمران، یہ غلط تھا۔ مگر اس کی آواز میں کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔ میں نے کہا، آپ کی ڈائری کہتی ہے یہی صحیح تھا۔ وہ ہلکی سی ہنسی۔
اس نے اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور ڈائری فرش سے اٹھائی۔ وہ دروازے کی طرف بڑھی، پھر رکی اور مڑ کر بولی، کل پھر آؤں گی۔ مصالحہ لینے۔ اس کی آنکھوں میں شرارت تھی۔
میں نے کہا، ڈائری سنبھال کر رکھیے گا۔ اگلی بار میں اسے پڑھ کر اگلا باب خود لکھ دوں گا۔ وہ بولی، اگلا باب میں آج رات لکھوں گی۔ اس رات کے بارے میں۔ اور وہ چلی گئی۔
میں نے دکان کا شٹر اٹھایا اور باہر گلی میں دیکھا۔ شازیہ بھیڑ میں گم ہو رہی تھی۔ میرے ہونٹوں پر اب بھی اس کا ذائقہ تھا۔ میں نے سوچا، کبھی کبھی بھولی ہوئی چیزیں سب سے قیمتی ہوتی ہیں۔
اس رات میں دکان بند کر کے گھر آیا، مگر نیند نہیں آئی۔ میری آنکھوں کے سامنے بار بار وہی منظر گھوم رہا تھا۔ اسٹور روم کی مدھم روشنی، اس کے ننگے ممے، اس کی سسکیاں۔ میں نے فیصلہ کیا، کل جب وہ آئے گی، میں اس کی ڈائری کا اگلا باب اس کے جسم پر لکھوں گا۔
آج رات کا اندراج۔ میرے ہاتھ اب بھی کانپ رہے ہیں۔
میں گھر آئی تو شوہر سو رہے تھے۔ میں نے ڈائری کھولی اور سوچا، آج میں وہ لکھوں گی جو کبھی لکھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ سچ۔
عمران نے آج مجھے وہ دیا جو میری شادی کے بارہ سالوں میں کسی نے نہیں دیا۔ جب اس نے میری چوت چاٹی تو میں نے پہلی بار جانا کہ عورت کا جسم کیسے کانپتا ہے۔ میری ٹانگیں اب بھی لرز رہی ہیں۔
اس کا لنڈ میرے اندر تھا اور میں نے خود کو پہلی بار مکمل محسوس کیا۔ میں نے اسے کہا اور زور سے، اور اس نے میری بات مانی۔ میرے شوہر نے کبھی میری بات نہیں سنی، مگر عمران نے سنی۔
میں نے اس کے منہ میں لیا۔ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ میں ایسا کروں گی۔ مگر اس کے لنڈ کا ذائقہ میرے منہ میں تھا اور میں رک نہیں پائی۔ اس نے میرے بال کھینچے اور میں نے اسے اور گہرائی تک لیا۔
جب ہم ایک ساتھ جھڑے تو میں نے اس کے سینے پر سر رکھا اور روئی۔ خوشی کے آنسو تھے۔ اس نے میرے آنسو پونچھے اور کہا، ڈائری میں لکھ لینا۔ تو میں لکھ رہی ہوں۔
کل میں پھر جاؤں گی۔ مصالحہ لینے کے بہانے۔ اور اس بار میں خود اسٹور روم کا دروازہ بند کروں گی۔ اس بار میں اس کے کپڑے خود اتاروں گی۔ اس بار میں اسے بتاؤں گی کہ میں کیا چاہتی ہوں، لفظ بہ لفظ، جیسے میں نے اس ڈائری میں لکھا ہے۔
یہ صفحہ یہیں ختم ہوتا ہے۔ مگر میری کہانی ابھی شروع ہوئی ہے۔
میں نے یہ بھی لکھنا ہے کہ جب اس نے مجھے دیوار سے لگایا تو میرے ممے اس کے سینے سے دب گئے تھے۔ اس نے میری ایک ٹانگ اٹھائی اور کھڑے کھڑے مجھے چودا۔ میں نے اس کی پیٹھ پر ناخن گڑا دیے تھے۔
اس کے نشان اب بھی میری گردن پر ہیں۔ میں نے دوپٹہ اوڑھ رکھا ہے تاکہ کوئی دیکھ نہ لے۔ مگر اندر سے میں چاہتی ہوں کہ سب دیکھیں۔ میں چاہتی ہوں کہ دنیا جانے کہ میں بھی ایک عورت ہوں، صرف بیوی اور ماں نہیں۔
Readers who enjoyed “اردو XXX کہانی: ڈائری کا راز” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔