دیسی کہانی: زارا کی چوت میں عمران کا لنڈ
زارا نے کتاب زور سے میز پر پٹخی اور بولی کہ اس دیسی کہانی کا انجام سراسر غلط ہے۔ عمران نے مسکرا کر جواب دیا کہ انجام بالکل ٹھیک ہے اور قاری کو یہی چاہیے تھا۔ دونوں کی آوازیں لکھنؤ کی پرانی بک شاپ میں گونجنے لگیں۔ شام کی روشنی کھڑکی سے اندر آ رہی تھی اور ہوا میں کاغذ کی خوشبو تھی۔
زارا اٹھائیس سال کی لکھنؤ کی اسکول ٹیچر تھی۔ وہ ہر ہفتے اس دکان پر آتی تھی اور نئی کتابیں چنتی تھی۔ عمران تیس سال کا تھا اور اس کے کزن کا دوست تھا۔ وہ اس پرانی دکان کا مالک تھا اور کتابوں سے عشق کرتا تھا۔
ان کی بحث کتاب کے آخری صفحے سے شروع ہوئی تھی۔ زارا کا کہنا تھا کہ ہیروئن کو اپنی خواہش کھل کر مانگنی چاہیے تھی۔ عمران کا کہنا تھا کہ خاموشی میں بھی ایک کشش ہوتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔
بحث آہستہ آہستہ چھیڑ چھاڑ میں بدل گئی۔ عمران نے زارا کے ہاتھ سے کتاب لی اور اس کے قریب آ گیا۔ زارا نے اس کی طرف دیکھا اور بولی کہ تم ہمیشہ جیتنا چاہتے ہو۔ عمران نے جواب دیا کہ آج تم جیت لو، مگر شرط پر۔
زارا نے پوچھا کہ شرط کیا ہے۔ عمران نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی کہ شام کو دکان بند ہونے کے بعد وہیں رکو۔ زارا کا دل تیز دھڑکنے لگا۔ اس نے ہاں میں سر ہلایا اور باہر جانے کا بہانہ کیا۔
شام کو جب دکان بند ہوئی تو زارا پچھلے کمرے میں آئی۔ وہاں کتابوں کی الماریوں کے درمیان ایک چھوٹی سی جگہ تھی۔ عمران نے دروازہ بند کیا اور اس کی طرف بڑھا۔ اس نے زارا کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچا۔
عمران نے زارا کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے۔ پہلے بوسہ نرم تھا، پھر گہرا ہو گیا۔ زارا نے اس کی قمیض پکڑ لی اور اسے اور قریب کھینچا۔ دونوں کی سانسیں تیز ہو گئیں۔
عمران نے زارا کی گردن پر بوسے دیے اور اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ زارا نے اس کی پیٹھ کو سہلایا۔ اس نے اس کے کان میں کہا کہ تم بحث میں بھی اتنے ضدی ہو۔ عمران ہنسا اور اس کے گال پر کاٹ لیا۔
زارا نے خود آگے بڑھ کر عمران کی قمیض کے بٹن کھولے۔ اس کا سینہ ننگا ہوا تو زارا نے اس پر ہاتھ پھیرا۔ عمران نے اس کے کرتی کی ڈوری کھولی۔ اس کا دوپٹہ نیچے گر گیا۔
عمران نے زارا کے سینے کو ہاتھوں میں لیا اور نرمی سے دبایا۔ اس کے نپل سخت ہو گئے۔ اس نے انہیں منہ میں لے کر چوسا۔ زارا نے اس کے بال پکڑے اور آہ بھری۔
زارا نے عمران کی پینٹ کھولی اور اس کا لنڈ ہاتھ میں لیا۔ وہ گرم اور سخت تھا۔ اس نے اسے آہستہ آہستہ ہلایا۔ عمران نے اس کے کندھے پکڑے اور آنکھیں بند کیں۔
زارا نے گھٹنوں پر بیٹھ کر اس کا لنڈ منہ میں لیا۔ اس نے اسے آہستہ آہستہ چوسا اور زبان سے اس کے سرے کو سہلایا۔ عمران نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ زارا کی چوت گیلی ہو رہی تھی۔
عمران نے زارا کو اٹھایا اور میز پر بٹھایا۔ اس نے اس کی شلوار نیچے کی اور اس کی چوت کو دیکھا۔ وہ گیلی اور چمک رہی تھی۔ اس نے انگلیوں سے اسے سہلایا۔
اس کی انگلیاں زارا کی چوت میں داخل ہوئیں تو زارا نے میز کو پکڑ لیا۔ اس کی کمر اوپر اٹھی۔ عمران کی انگلیاں تیز حرکت کرنے لگیں۔ زارا نے پہلی بار جھڑ کر اس کا ہاتھ گیلا کر دیا۔
زارا نے بولی کہ اب اور انتظار نہیں ہوتا۔ عمران نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ اس نے آہستہ سے اندر دھکیلا۔ زارا نے اس کی کمر کو پکڑا اور اسے اندر کھینچا۔
جب اس کا پورا لنڈ اندر چلا گیا تو دونوں ایک لمحے رکے۔ پھر عمران نے آہستہ آہستہ حرکت شروع کی۔ ہر دھکا گہرا ہوتا گیا۔ زارا نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔
ان کی چدائی کی رفتار بڑھ گئی۔ میز ہلنے لگی اور کتابیں ہلکی سی سرکنے لگیں۔ زارا نے اس کے کان میں کہا کہ اور تیز کرو۔ عمران نے اس کے سینے کو پکڑ کر تیز دھکے لگائے۔
عمران نے زارا کو میز سے اٹھا کر الماری سے لگا دیا۔ وہ کھڑے ہو کر اسے چودنے لگا۔ زارا نے الماری پکڑی اور اس کی ہر حرکت کا جواب دیا۔ اس کی آوازیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔
زارا دوسری بار جھڑی تو اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو زور سے جکڑا۔ عمران نے رفتار کم نہیں کی۔ اس کا جسم پسینے سے تر تھا۔ زارا نے اس کا نام لے کر پکارا۔
آخر میں عمران نے تیز دھکے لگا کر اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑا۔ دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ زارا ہنسی اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ ان کی بحث اب ایک نئی کہانی بن چکی تھی۔
اگلے دن زارا اپنے فلیٹ میں تھی جب عمران کا پیغام آیا۔ اس نے لکھا تھا کہ کتاب کا نیا انجام آج رات لکھیں گے۔ زارا نے جواب دیا کہ آج رات میرے فلیٹ پر آؤ۔ وہ شام سے ہی اس کا انتظار کرنے لگی۔
عمران رات کو اس کے فلیٹ آیا۔ زارا نے دروازہ کھولا اور اسے اندر کھینچ لیا۔ اس نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا۔ عمران نے اس کی کمر پکڑی اور اسے صوفے تک لے گیا۔
صوفے پر زارا نے عمران کی قمیض اتاری اور اس کے سینے پر بوسے دیے۔ عمران نے اس کی قمیض اوپر کی اور اس کے سینے کو چوسا۔ زارا نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر دیں۔
زارا نے اس کا لنڈ ہاتھ میں لے کر تیز ہلایا۔ پھر وہ اس پر بیٹھ گئی اور اس کا لنڈ اپنی چوت میں لے لیا۔ وہ اوپر نیچے حرکت کرنے لگی۔ عمران نے اس کی کمر پکڑی اور نیچے سے دھکے لگائے۔
اس پوزیشن میں زارا کی چوت گہرائی تک اسے محسوس کر رہی تھی۔ وہ تیز حرکت کر رہی تھی اور اس کے سینے ہل رہے تھے۔ عمران نے اس کے سینے کو پکڑا اور اسے چوما۔ زارا نے جھڑ کر اس پر گر گئی۔
پھر عمران نے اسے الٹا کر پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈالا۔ وہ تیز دھکے لگانے لگا۔ زارا نے تکیہ پکڑا اور آہیں بھریں۔ اس کی چوت سے پانی بہنے لگا۔
عمران نے اس کی پیٹھ پر بوسے دیے اور تیز چودتا رہا۔ زارا نے پھر جھڑ کر اسے جکڑ لیا۔ عمران نے اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑا۔ دونوں صوفے پر لیٹ کر ہانپنے لگے۔
تیسرے دن عمران نے زارا کو اپنی چھت پر بلایا۔ لکھنؤ کی شام کی ہوا ٹھنڈی تھی۔ چھت پر چارپائی بچھی تھی اور دور سے اذان کی آواز آ رہی تھی۔ زارا نے اس کا ہاتھ پکڑا۔
چھت پر عمران نے زارا کو دیوار سے لگایا اور اسے چوما۔ اس نے اس کی شلوار نیچے کی۔ زارا نے اس کا لنڈ پکڑا اور اپنی چوت پر رگڑا۔ دونوں کی سانسیں تیز ہو گئیں۔
عمران نے پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈالا اور تیز چودنے لگا۔ زارا نے دیوار پکڑی۔ کھلے آسمان کے نیچے ان کی چدائی اور بھی بے باک تھی۔ زارا نے آہیں بھرتے ہوئے جھڑ گئی۔
پھر زارا نے اس کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اس کا لنڈ چوسا۔ اس نے اسے گہرائی تک لیا۔ عمران نے اس کے بال پکڑے۔ زارا نے اسے پھر اپنی چوت میں لے کر تیز حرکت کی۔
عمران نے اسے چارپائی پر لٹایا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں۔ وہ گہرے دھکے لگانے لگا۔ زارا نے اس کی بانہیں پکڑیں۔ دونوں ایک ساتھ جھڑے اور ہانپتے ہوئے لیٹ گئے۔
زارا نے ہنس کر کہا کہ کتاب کا انجام اب سمجھ آیا۔ عمران نے کہا کہ اب ہر کتاب کا انجام ہم خود لکھیں گے۔ دونوں نے چھت پر بیٹھ کر چائے پی۔ زارا نے اس کا ہاتھ تھاما اور بولی کہ کل پھر دکان پر بحث کریں گے۔
اگلی شام دکان میں پھر بحث چھڑ گئی۔ ایک گاہک نے حیرت سے انہیں دیکھا۔ زارا نے آنکھ ماری اور عمران نے مسکرا دیا۔ دونوں جانتے تھے کہ بحث کے بعد پچھلا کمرہ ان کا انتظار کر رہا ہے۔ زارا نے کتاب بند کی اور بولی کہ آج رات انجام پھر لکھیں گے۔
اگلی صبح زارا دکان پر آئی تو عمران نے اسے ایک نئی کتاب دی۔ اس کتاب کے پہلے صفحے پر اس نے لکھا تھا کہ یہ کہانی تمہارے لیے ہے۔ زارا نے کتاب کھولی اور پہلی سطر پڑھ کر مسکرا دی۔ اس میں ان کی بحث کا ذکر تھا۔
دوپہر کو دکان میں کم گاہک تھے۔ عمران نے زارا کو پچھلے کمرے میں بلایا۔ وہاں اس نے اسے الماری سے لگایا اور اس کے ہونٹ چومے۔ زارا نے اس کی قمیض پکڑی اور اسے قریب کھینچا۔
عمران نے زارا کی کرتی اوپر کی اور اس کے سینے کو چوسا۔ زارا نے اس کے بال پکڑے۔ اس نے اس کی شلوار نیچے کی اور اس کی چوت کو انگلیوں سے سہلایا۔ زارا گیلی ہو کر اس کی طرف جھکی۔
زارا نے عمران کا لنڈ نکالا اور اسے چوسنے لگی۔ وہ آہستہ آہستہ گہرائی تک لے رہی تھی۔ عمران نے الماری پکڑی اور آہیں بھریں۔ زارا نے اسے دیکھ کر مسکرایا اور تیز چوسا۔
پھر عمران نے زارا کو میز پر لٹایا اور اس کی چوت میں لنڈ ڈالا۔ وہ تیز دھکے لگانے لگا۔ میز ہلنے لگی۔ زارا نے اس کی کمر پکڑی اور ہر دھکے کا جواب دیا۔
زارا نے جھڑ کر اسے زور سے پکڑا۔ عمران نے اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسا۔ زارا نے اپنی کرتی ٹھیک کی اور باہر آ کر کتابیں سجانے لگی۔
رات کو زارا کے فلیٹ میں عمران نے اس کے لیے کھانا بنایا۔ کھانے کے بعد دونوں بالکونی میں بیٹھے۔ لکھنؤ کی ہوا میں چائے کی خوشبو تھی۔ عمران نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اندر لے گیا۔
اندر عمران نے زارا کو بستر پر لٹایا۔ اس نے اس کی چوت کو زبان سے چاٹا۔ زارا نے بستر کی چادر پکڑی اور آہیں بھریں۔ اس کی چوت سے پانی بہنے لگا۔ عمران نے اسے چاٹ کر صاف کیا اور پھر چاٹتا رہا۔
زارا نے عمران کو اپنے اوپر کھینچا اور اس کا لنڈ اپنی چوت میں لے لیا۔ وہ دونوں آہستہ آہستہ حرکت کرنے لگے۔ پھر رفتار بڑھی۔ زارا نے اس کی پیٹھ پر ناخن چلائے۔ عمران نے اس کے سینے کو چوما۔
دونوں ایک ساتھ جھڑے۔ عمران نے اس کی چوت میں پانی چھوڑا۔ زارا نے اسے گلے لگایا اور بولی کہ تم بحث میں ہارتے نہیں، مگر بستر پر جیت جاتے ہو۔ عمران ہنسا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
اگلے دن دکان میں ایک پرانی کتاب ملی جس کا انجام پھٹا ہوا تھا۔ زارا نے کہا کہ ہم اس کا انجام خود لکھیں گے۔ عمران نے کہا کہ انجام ہماری کہانی جیسا ہوگا۔ دونوں نے کتاب کو الماری میں رکھا اور ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا دیے۔
شام کو چھت پر دونوں نے پھر ملاقات کی۔ عمران نے زارا کو چارپائی پر بٹھایا اور اس کے سامنے گھٹنے ٹیکے۔ اس نے اس کی چوت چاٹی۔ زارا نے اس کے بال پکڑے اور جھڑ گئی۔ پھر وہ اس پر بیٹھ کر تیز حرکت کرنے لگی۔
چھت پر ان کی چدائی دیر تک چلی۔ آخر میں دونوں ہانپتے ہوئے لیٹ گئے۔ زارا نے آسمان کی طرف دیکھا اور بولی کہ یہ دیسی کہانی اب ہماری اپنی ہے۔ عمران نے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا کہ کل پھر نئی بحث، نیا انجام۔
رات کو جب دکان بند ہوئی تو زارا پچھلے کمرے میں عمران کا انتظار کر رہی تھی۔ عمران نے دروازہ بند کیا اور اس کی طرف مسکرا کر دیکھا۔ زارا نے اس کے ہاتھ میں ایک نئی کتاب تھمائی۔ اس کتاب کے اندر ایک خط تھا جس میں اس نے اپنی خواہش لکھی تھی۔
عمران نے خط پڑھا اور زارا کو اپنی طرف کھینچا۔ اس نے اس کے ہونٹوں پر گہرا بوسہ دیا۔ زارا نے اس کی قمیض کے بٹن کھولے اور اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا۔ دونوں کی سانسیں تیز ہو گئیں اور کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
عمران نے زارا کی گردن پر بوسے دیے اور اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ زارا نے اس کی پیٹھ کو سہلایا اور اس کے کان میں سرگوشی کی۔ عمران نے اس کے کرتی کی ڈوری کھولی اور اس کے سینے کو ہاتھوں میں لیا۔ زارا نے آہ بھر کر اسے اور قریب کھینچا۔
زارا نے عمران کی پینٹ کھولی اور اس کا لنڈ ہاتھ میں لیا۔ وہ اسے آہستہ آہستہ ہلانے لگی۔ عمران نے اس کے کندھے پکڑے۔ زارا نے گھٹنوں پر بیٹھ کر اس کا لنڈ منہ میں لیا اور آہستہ آہستہ چوسا۔
عمران نے زارا کو اٹھایا اور میز پر بٹھایا۔ اس نے اس کی شلوار نیچے کی اور اس کی چوت کو انگلیوں سے سہلایا۔ زارا گیلی ہو چکی تھی۔ اس کی انگلیاں اندر گئیں تو زارا نے میز کو زور سے پکڑا اور آہیں بھریں۔
پھر عمران نے اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈالا۔ وہ آہستہ آہستہ حرکت کرنے لگا، پھر رفتار بڑھا دی۔ میز ہلنے لگی۔ زارا نے اس کی کمر پکڑی اور ہر دھکے کا جواب دیا۔ اس کی آوازیں کمرے کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھیں۔
عمران نے زارا کو الماری سے لگایا اور پیچھے سے اسے چودنے لگا۔ زارا نے الماری پکڑی اور اس کی حرکت کا ساتھ دیا۔ وہ دوسری بار جھڑی تو اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو جکڑ لیا۔ عمران نے اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑا۔
دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ زارا نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ عمران نے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا کہ یہ خط سب سے اچھی کتاب ہے۔ زارا ہنسی اور بولی کہ اگلا خط کل ملے گا۔
اگلی رات زارا نے ایک اور خط لکھا اور دکان کے پچھلے کمرے میں رکھا۔ عمران نے خط پڑھ کر اسے فون کیا۔ دونوں نے رات کو ملنے کا وعدہ کیا۔ زارا نے فون رکھ کر مسکرایا اور اپنی کتاب بند کی۔
رات کو دونوں پھر ملے اور اس خط کی ہر سطر کو سچ کر دیا۔ عمران نے زارا کی چوت کو چاٹا، پھر اسے تیز چودا۔ زارا نے جھڑ کر اسے پکڑا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر کہا کہ یہ کہانی کبھی ختم نہیں ہوگی۔
Readers who enjoyed “دیسی کہانی: زارا کی چوت میں عمران کا لنڈ” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔