اردو کہانی سیکس: بھوپال میں عائشہ کی چوت میں فرحان کا لنڈ، گرم چدائی
تم نے میری کتاب کیوں اٹھائی، عائشہ نے کتابوں کی دکان کے درمیان میں آواز اونچی کر کے کہا اور فرحان کے ہاتھ سے وہ موٹی جلد والی کتاب چھیننے کی کوشش کی، یہ اردو کہانی سیکس کا مجموعہ میں نے پہلے دیکھا تھا اور تم جانتے ہو کہ میں اسے تین دن سے ڈھونڈ رہی ہوں۔ فرحان نے کتاب اپنے سینے سے لگا لی اور مسکرا کر بولا کہ پہلے آئے وہ پہلے پائے، تم دیر سے آئی ہو تو یہ میری ہوئی، اور اس کی آنکھوں میں ایک شرارت تھی جو عائشہ کو اور بھی غصہ دلا رہی تھی۔ دکان میں دو تین گاہک ان دونوں کو دیکھ رہے تھے مگر ان دونوں کو کوئی پروا نہیں تھی، عائشہ نے کہا کہ تم ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہو، جب بھی کوئی اچھی کتاب آتی ہے تم اسے اپنے لیے رکھ لیتے ہو۔
فرحان نے ہنس کر کہا کہ اچھا تو تم یہ کتاب لینا چاہتی ہو، مجھے بتاؤ اس میں ایسی کیا خاص بات ہے، اور عائشہ کا چہرہ سرخ ہو گیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس مجموعے میں گرم کہانیاں ہیں اور فرحان جان بوجھ کر اسے چھیڑ رہا تھا۔ عائشہ نے دبی آواز میں کہا کہ تمہیں اس سے کیا مطلب، کتاب میری پسند کی ہے اور تمہارا کام ہے اسے بیچنا، چھیننا نہیں، فرحان نے جواب دیا کہ بیچنا تو میرا کام ہے مگر تم جیسی خوبصورت گاہک سے بحث کرنا میری عادت بن گئی ہے۔ اس نے کتاب میز پر رکھ دی اور کہا کہ چلو ایک شرط لگاتے ہیں، اگر تم نے اس کتاب کے پہلے صفحے کا نام بتا دیا تو یہ تمہاری، ورنہ آج شام کی چائے تمہارے ذمے۔ عائشہ نے اس کی طرف گھور کر دیکھا اور کہا کہ تم بہت چالاک ہو، مگر میں شرط سے نہیں ڈرتی۔
شام کی چائے کا وعدہ پورا کرنے کے لیے فرحان اس کے ساتھ چل پڑا اور دونوں اس کے فلیٹ پہنچ گئے، عائشہ کے فلیٹ پر پہنچ کر اس نے دروازہ کھولا اور کہا کہ اندر آ جاؤ، مگر جوتے باہر اتار دینا، فرحان نے ہنس کر جوتے اتارے اور صوفے پر بیٹھ گیا۔ عائشہ باورچی خانے میں گئی اور دو کپ کافی بنائی، اس کے ہاتھ تھوڑے کانپ رہے تھے کیونکہ وہ جانتی تھی کہ آج کی شام عام شام نہیں رہے گی۔ فرحان نے کمرے میں کتابوں کی الماری دیکھی اور کہا کہ تمہارے پاس تو میری دکان سے زیادہ کتابیں ہیں، عائشہ نے کافی کا کپ اس کی طرف بڑھایا اور کہا کہ کتابیں میری کمزوری ہیں اور تم میری کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہو۔ دونوں نے کافی پی، باتیں کیں، اور باتوں کے درمیان فرحان نے عائشہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔
عائشہ نے پہلے تو ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی مگر پھر اس نے اپنا ہاتھ وہیں رہنے دیا، فرحان نے اس کی انگلیوں کو آہستہ سے چوما اور کہا کہ تمہارے ہاتھ بہت نرم ہیں، عائشہ نے شرما کر کہا کہ تم ہر لڑکی سے یہی کہتے ہو گے، فرحان نے کہا کہ میں ہر لڑکی سے بحث نہیں کرتا، تم سے بحث کرنا ہی میری عادت ہے۔ اس نے عائشہ کو اپنی طرف کھینچا، عائشہ صوفے پر اس کے قریب آ گئی، اور دونوں کے درمیان کی دوری ختم ہو گئی۔ فرحان نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا، اس کی آنکھوں میں دیکھا، اور آہستہ سے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلا بوسہ نرم تھا، دوسرا گہرا، اور تیسرے بوسے میں عائشہ نے اس کی گردن میں اپنی انگلیاں پھنسا لیں۔
کافی کے کپ میز پر ٹھنڈے ہونے لگے اور کمرے میں صرف ان کی سانسوں کی آواز رہ گئی، فرحان نے عائشہ کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے اور عائشہ نے اس کی قمیض کو کندھوں سے نیچے سرکا دیا۔ عائشہ کی جلد پر اس کے ہاتھ کی گرمی پھیل رہی تھی، فرحان نے اس کی گردن کو چوما، اس کے کندھوں کو چوما، اور پھر اس کے سینے کی طرف بڑھا۔ عائشہ نے آنکھیں بند کر لیں اور کہا کہ آہستہ کرو، فرحان نے کہا کہ آہستہ ہی تو کر رہا ہوں، مگر تمہاری سانسیں مجھے تیز ہونے پر مجبور کر رہی ہیں۔ اس نے اس کا بلاؤز اتار دیا، عائشہ نے اس کی بنیان اتار دی، اور دونوں ایک دوسرے کے جسم کی گرمی کو محسوس کرنے لگے۔
فرحان نے عائشہ کو صوفے پر لٹا دیا، اس کی شلوار کی ڈوری کھولی، اور آہستہ سے اس کی شلوار نیچے سرکا دی، عائشہ نے شرم سے اپنی آنکھیں بند کر لیں مگر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ فرحان نے اس کی رانوں کو چوما، اس کی چوت کے قریب اپنے ہونٹ لے گیا، اور اس کی گیلی جلد کو اپنی زبان سے چھوا تو عائشہ کے منہ سے ایک لمبی آہ نکل گئی۔ عائشہ نے کہا کہ فرحان، یہ کیا کر رہے ہو، فرحان نے کہا کہ وہی جو تم چاہتی ہو، اور اس نے اپنی زبان کو اور گہرا کر دیا۔ عائشہ نے اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسا لیں، اس کا جسم ہلنے لگا، اور اس کی چوت سے گرم پانی نکلنے لگا۔
جب عائشہ کا جسم کانپنے لگا تو فرحان نے اوپر اٹھ کر اپنے کپڑے اتارے، اس کا لنڈ سخت اور گرم تھا، عائشہ نے اسے اپنے ہاتھ میں پکڑا اور آہستہ سے سہلایا تو فرحان نے ایک گہری سانس لی۔ عائشہ نے کہا کہ تمہارا لنڈ بہت گرم ہے، فرحان نے کہا کہ تمہاری چوت نے اسے اور گرم کر دیا ہے، اور اس نے اپنا لنڈ عائشہ کی چوت کے منہ پر رکھ دیا۔ پہلے وہ آہستہ آہستہ اندر گیا، عائشہ نے اس کی کمر کو پکڑ لیا، پھر فرحان نے ایک جھٹکے میں اپنا لنڈ پورا اندر کر دیا تو عائشہ نے زور سے اس کا نام لیا۔ دونوں کی چدائی تیز ہو گئی، صوفہ ہلنے لگا، عائشہ کی آوازیں کمرے میں گونجنے لگیں، اور فرحان نے اس کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے اس کی چوت میں اپنا لنڈ اندر باہر کرنا جاری رکھا۔
عائشہ نے اپنی ٹانگیں فرحان کی کمر کے گرد لپیٹ لیں، فرحان نے اس کے سینے کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا، اور ہر جھٹکے کے ساتھ عائشہ کا جسم اوپر اٹھنے لگا۔ عائشہ نے کہا کہ اور تیز کرو، مجھے اور چاہیے، فرحان نے کہا کہ یہی تو میں چاہتا تھا کہ تم خود مانگو، اور اس نے اپنی رفتار اور بڑھا دی۔ عائشہ کی چوت سے پانی بہنے لگا، اس کا جسم اکڑنے لگا، اور ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ وہ جھڑ گئی، اس کی آواز کمرے میں پھیل گئی۔ فرحان نے بھی اپنی رفتار تیز کی، اس کا لنڈ عائشہ کی چوت میں پھسلنے لگا، اور چند لمحوں بعد اس نے اپنا گرم پانی عائشہ کی چوت کے اندر چھوڑ دیا۔ دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے، پسینے سے بھیگے ہوئے، اور کچھ دیر تک خاموش رہے۔
آرام کے بعد فرحان نے عائشہ کو گود میں اٹھایا اور بیڈروم کی طرف لے گیا، عائشہ نے اس کی گردن میں بازو ڈال لیے اور کہا کہ اب تم کیا کرنے والے ہو، فرحان نے کہا کہ اب تمہیں بیڈ پر صحیح سے چودوں گا، عائشہ نے ہنس کر کہا کہ تمہاری زبان بہت گندی ہے، فرحان نے کہا کہ تمہیں یہی گندی زبان پسند ہے۔ بیڈ پر پہنچ کر اس نے عائشہ کو پیٹ کے بل لٹایا، اس کی کمر کو چوما، اس کے کولہوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا، اور اس کی چوت کو پیچھے سے چھوا۔ عائشہ نے اپنا سر تکیے میں چھپا لیا مگر اس کے کولہے اوپر اٹھ گئے، فرحان نے کہا کہ دیکھو تم خود ہی تیار ہو، عائشہ نے کہا کہ چپ رہو اور شروع کرو۔
فرحان نے اپنا لنڈ عائشہ کی چوت میں پیچھے سے داخل کیا، اس بار رفتار پہلے سے تیز تھی، عائشہ کے کولہے ہر جھٹکے کے ساتھ ہل رہے تھے، اور بیڈ کی چادر ان کے نیچے سلجھنے لگی۔ عائشہ نے کہا کہ ہاں، ایسے ہی، اور تیز، فرحان نے اس کی کمر کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور اپنا لنڈ اور گہرا کر دیا۔ عائشہ کی آوازیں اب کھل کر نکل رہی تھیں، اس نے تکیے کو زور سے پکڑ لیا، اس کا جسم پسینے سے چمکنے لگا، اور فرحان نے اس کے کان میں کہا کہ تمہاری چوت بہت گرم ہے، مجھے تمہیں چھوڑنے کا دل نہیں کر رہا۔ عائشہ نے کہا کہ تو مت چھوڑو، آج رات تم میرے ہی ہو، اور اس بات نے فرحان کی رفتار کو اور تیز کر دیا۔
کچھ دیر بعد فرحان نے عائشہ کو پلٹا کر اس کے اوپر آنے کو کہا، عائشہ اس کے اوپر بیٹھ گئی، اپنا لنڈ اپنی چوت میں خود ڈالا، اور آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونے لگی۔ فرحان نے اس کے سینے کو پکڑا، اس کے نپلز کو اپنی انگلیوں سے چھیڑا، اور عائشہ نے اپنی آنکھیں بند کر کے اپنا سر پیچھے کر لیا۔ عائشہ کی چوت فرحان کے لنڈ پر پھسل رہی تھی، اس کا پانی فرحان کے پیٹ پر بہ رہا تھا، اور دونوں کی سانسیں ایک ساتھ تیز ہو رہی تھیں۔ عائشہ نے کہا کہ میں پھر جھڑنے والی ہوں، فرحان نے کہا کہ جھڑ جاؤ، میں بھی تمہارے ساتھ ہی جھڑوں گا، اور دونوں نے ایک ساتھ اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔ عائشہ فرحان کے سینے پر گر گئی، دونوں ہانپ رہے تھے، اور کمرے میں صرف ان کی سانسوں کی آواز تھی۔
شاور کے نیچے فرحان نے عائشہ کو دیوار سے لگایا، اس کے گیلے بالوں کو پیچھے کیا، اور اس کے ہونٹوں کو چوما، عائشہ نے اس کے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور آہستہ سے سہلایا تو وہ پھر سخت ہو گیا۔ فرحان نے عائشہ کی چوت کو اپنی انگلیوں سے کھولا، اس کی گیلی جلد پر اپنا لنڈ رگڑا، اور پھر آہستہ سے اسے اندر کر دیا، عائشہ نے دیوار کو پکڑ لیا اور کہا کہ یہ بہت اچھا لگ رہا ہے۔ پانی ان دونوں کے جسموں پر بہہ رہا تھا، فرحان کے جھٹکے تیز ہو رہے تھے، عائشہ کی آواز پانی کی آواز میں مل رہی تھی، اور اس نے کہا کہ مجھے ایسے ہی چودتے رہو۔ فرحان نے اس کی ٹانگ اوپر اٹھائی، اپنا لنڈ اور گہرا کیا، اور عائشہ نے اس کی گردن کو چومتے ہوئے اپنا جسم اس کے حوالے کر دیا۔
صبح کی پہلی روشنی کھڑکی سے اندر آئی تو عائشہ نے آنکھیں کھولیں اور دیکھا کہ فرحان اسے دیکھ رہا ہے، اس نے کہا کہ تم سوئے نہیں، فرحان نے کہا کہ تمہیں دیکھنا نیند سے زیادہ اچھا لگ رہا تھا، عائشہ نے شرما کر اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپا لیا۔ فرحان نے کہا کہ آج دکان پر پھر بحث کریں گے، عائشہ نے کہا کہ آج بحث نہیں، آج میں سیدھا تمہارے پاس آؤں گی، فرحان نے کہا کہ تو پھر کتاب کا بہانہ ختم ہو جائے گا، عائشہ نے کہا کہ بہانہ ختم ہو جائے تو بھی تم مجھے ڈھونڈ ہی لو گے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو چوما، عائشہ اٹھ کر چائے بنانے گئی، اور فرحان نے بیڈ سے ہی آواز لگا کر کہا کہ چائے میں چینی کم رکھنا۔ عائشہ نے باورچی خانے سے جواب دیا کہ چینی کم، اور تمہاری شرارت کم نہیں ہو گی۔
صبح کی چائے کے بعد عائشہ نے فرحان سے کہا کہ تم اب دکان جاؤ، ورنہ تمہارا ملازم تمہیں ڈھونڈتا ہوا یہاں آ جائے گا، فرحان نے کہا کہ ملازم کو میں نے خود چھٹی دی ہے، آج میری دکان تم ہو، عائشہ نے ہنس کر اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا کہ تمہاری باتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ فرحان نے اسے باورچی خانے کی طرف کھینچ لیا، عائشہ نے کہا کہ یہاں کیا کر رہے ہو، فرحان نے کہا کہ یہاں کی روشنی میں تم اور بھی خوبصورت لگ رہی ہو، اور اس نے عائشہ کو کاؤنٹر سے لگا دیا۔ عائشہ کی سانسیں تیز ہو گئیں، اس نے فرحان کی قمیض پکڑ لی، اور دونوں نے ایک گہرا بوسہ لیا جس میں صبح کی چائے کی مٹھاس بھی تھی اور رات کی گرمی بھی۔
فرحان نے عائشہ کی قمیض اوپر کی، اس کے پیٹ کو چوما، اس کی کمر کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا، اور عائشہ نے اپنی ٹانگیں کاؤنٹر پر رکھ دیں۔ فرحان نے اس کی شلوار نیچے سرکائی، اس کی چوت کو اپنی انگلیوں سے چھوا، اور عائشہ نے کہا کہ آہستہ، مگر اس کی آواز میں آہستہ کی درخواست نہیں بلکہ اور کی خواہش تھی۔ فرحان نے اپنا لنڈ نکالا، عائشہ کی چوت کے منہ پر رکھا، اور آہستہ سے اندر کر دیا، عائشہ نے اس کی گردن کو پکڑ لیا اور کہا کہ ہاں، ایسے ہی۔ کاؤنٹر پر برتن ہلنے لگے، عائشہ کی آواز باورچی خانے میں گونجنے لگی، اور فرحان نے ہر جھٹکے کے ساتھ اسے اور قریب کر لیا۔
عائشہ نے کہا کہ مجھے تمہاری یہ بے باکی بہت پسند ہے، فرحان نے کہا کہ تمہاری چوت کی گرمی مجھے ہر بار نیا لگتی ہے، اور اس نے اپنی رفتار تیز کر دی۔ عائشہ کا جسم کانپنے لگا، اس نے فرحان کو زور سے پکڑ لیا، اور ایک لمحے میں وہ جھڑ گئی، اس کا پانی فرحان کے لنڈ پر بہہ گیا۔ فرحان نے بھی چند تیز جھٹکوں کے بعد اپنا گرم پانی اس کی چوت میں چھوڑ دیا، دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ عائشہ نے کہا کہ اب تو تم واقعی دکان جاؤ، فرحان نے کہا کہ جاؤں گا، مگر شام کو پھر یہی بحث کریں گے، عائشہ نے مسکرا کر کہا کہ بحث تو بہانہ ہے، اصل بات تو تم جانتے ہی ہو۔
Readers who enjoyed “اردو کہانی سیکس: بھوپال میں عائشہ کی چوت میں فرحان کا لنڈ، گرم چدائی” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔