دیسی اردو کہانی: آفریں کی یاد والی رات
لوگ کہتے ہیں کہ دیسی اردو چدائی کی کہانیاں صرف کتابوں میں ہوتی ہیں، مگر آفریں جانتی تھی کہ اصل زندگی کبھی کبھی کتابوں سے بھی آگے نکل جاتی ہے۔ اس وقت وہ باورچی خانے میں آٹا گوندھ رہی تھی اور اس کے ہاتھوں کی گرمی میں پانچ سال پرانی ایک یاد اچانک تازہ ہو گئی تھی۔ لکھنؤ کے اردو کتاب میلے کی وہ شام، کتابوں کی الماریوں کے درمیان تنگ گلی، اور پیچھے سے اس کے جسم سے لگتا ہوا ایک مضبوط سینہ۔
فرحان نے اس دن اونچی الماری سے کتاب اتارنے میں اس کی مدد کی تھی۔ اس کا ہاتھ کتاب پر تھا اور فرحان کا ہاتھ اس کے ہاتھ پر۔ پھر نہ جانے کیسے وہ دونوں کتابوں کے اسٹال کے پردے کے پیچھے کھنچ گئے تھے۔ آفریں کی شادی کو اس وقت صرف آٹھ مہینے ہوئے تھے اور اس کی انگلی میں انگوٹھی چمک رہی تھی، مگر فرحان کے ہونٹوں نے اس کی گردن کو چھوا تو اس کا پورا جسم کانپ اٹھا تھا۔
"تمہارے شوہر کو پتہ چل گیا تو؟" آفریں نے ہانپتے ہوئے پوچھا تھا۔ فرحان نے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی، "تو کہہ دینا کہ کتاب نے مجھے چوم لیا۔" وہ ہنسی تھی، مگر اس کی ہنسی اس کے گلے میں ہی اٹک گئی تھی جب فرحان کا ہاتھ اس کی کمر سے نیچے سرکا تھا۔ پردے کے باہر لوگ کتابیں الٹ پلٹ رہے تھے اور اندر آفریں کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔
اس کے بعد وہ پانچ سال تک ایک دوسرے سے ٹھیک سے ملے نہیں تھے۔ بس شادی بیاہ میں دور سے سلام دعا۔ اور آج، آٹے کے پیڑے بناتے ہوئے آفریں کے ہاتھ کانپ رہے تھے، کیونکہ آج رات فرحان کھانے پر آ رہا تھا۔ اس کا شوہر کانپور گیا ہوا تھا، دو دن کے کاروباری دورے پر، اور گھر میں صرف آفریں تھی۔ اس نے جان بوجھ کر فرحان کو بلایا تھا۔ یا شاید بے ارادہ۔ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔
دروازے کی گھنٹی بجی تو آفریں کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ نیلے رنگ کا سوٹ، ہلکا سا کاجل، اور وہ خوشبو جو اس نے خاص آج کے لیے لگائی تھی۔ دروازہ کھولا تو فرحان کھڑا تھا، ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ، چہرے پر وہی شرارتی مسکراہٹ۔ "بھابھی، خوشبو تو ایسی کہ پڑوسی بھی آ جائیں،" اس نے کہا اور آفریں کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
کھانا دسترخوان پر لگا تھا۔ دال، چاول، قورمہ، اور تازہ روٹیاں۔ فرحان نے ہر نوالے کی تعریف کی، مگر اس کی نظریں بار بار آفریں کے چہرے پر ٹھہر جاتیں۔ "تم بدل گئی ہو، آفریں،" اس نے اچانک کہا۔ "کتاب میلے والی لڑکی کہاں گئی؟" آفریں کا ہاتھ کانپا اور چمچ پلیٹ سے ٹکرا گیا۔ "وہیں ہے،" اس نے دھیمی آواز میں کہا، "بس کسی نے اسے چھوا نہیں پانچ سال سے۔"
خاموشی چھا گئی۔ صرف پنکھے کی آواز تھی۔ پھر فرحان نے اپنا ہاتھ میز پر بڑھایا اور آفریں کی انگلیوں کو چھو لیا۔ بجلی سی دوڑ گئی۔ آفریں نے ہاتھ نہیں ہٹایا۔ "دروازہ بند کر دو،" اس نے کہا۔ فرحان اٹھا، دروازے کی کنڈی لگائی، اور واپس آیا تو آفریں کھڑی تھی، اس کی سانسیں تیز، اس کی آنکھوں میں پانچ سال کی پیاس۔
فرحان نے اسے دیوار سے لگا دیا۔ اس کے ہونٹ آفریں کے ہونٹوں پر تھے، اور اس بار کوئی پردہ نہیں تھا، کوئی ڈر نہیں تھا۔ آفریں نے اس کے بالوں میں انگلیاں گاڑ دیں اور اسے اور قریب کھینچ لیا۔ اس کی زبان فرحان کے منہ میں تھی اور اس کا جسم اس کے جسم سے چپکا ہوا تھا۔ فرحان کا ایک ہاتھ اس کی قمیض کے اندر سرکا اور اس کے مموں کو دبوچ لیا۔ آفریں کے منہ سے سسکی نکلی۔
"آہستہ،" آفریں نے کہا، مگر اس کی آواز میں التجا تھی، روک نہیں۔ فرحان نے اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے، ایک ایک کر کے، اور ہر بٹن کے ساتھ آفریں کی بے چینی بڑھتی گئی۔ جب قمیض زمین پر گری تو فرحان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے اس کی برا کا ہک کھولا اور اس کے ننگے ممے اس کے ہاتھوں میں تھے۔ وہ انہیں چومنے لگا، چوسنے لگا، اور آفریں کی چوت گیلی ہونے لگی۔
آفریں نے فرحان کی شرٹ کھینچی اور اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا۔ اس کے ہاتھ نیچے سرکے اور فرحان کی پتلون کا بٹن کھولا۔ اندر اس کا لنڈ پہلے سے کھڑا تھا، سخت اور گرم۔ آفریں نے اسے ہاتھ میں لیا اور دھیرے دھیرے ہلانے لگی۔ فرحان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے بیڈروم کی طرف لے گیا۔ "وہیں، جہاں تم سوتی ہو،" اس نے کہا۔
بیڈ پر گرتے ہی کپڑے کہیں کے کہیں ہوئے۔ آفریں صرف اپنی چڈی میں تھی اور فرحان مکمل ننگا۔ اس نے آفریں کی ٹانگیں پھیلائیں اور اس کی چوت کو دیکھا، گیلی اور پھولی ہوئی۔ "کتنی پیاسی ہو تم،" اس نے کہا اور اپنی انگلی اس کی چوت میں ڈال دی۔ آفریں چیخی۔ انگلی اندر باہر ہونے لگی اور پھر دوسری انگلی بھی شامل ہو گئی۔ آفریں کا جسم بستر پر مچھلی کی طرح تڑپنے لگا۔
پھر فرحان نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ آفریں نے اس کی کمر پکڑ لی۔ "ڈال دو،" اس نے کہا، "پانچ سال انتظار کیا ہے۔" فرحان نے ایک زوردار دھکا دیا اور اس کا لنڈ جڑ تک اندر چلا گیا۔ آفریں کی آنکھیں پھیل گئیں۔ درد اور مزے کا ملا جلا احساس اس کے پورے جسم میں دوڑ گیا۔ فرحان رکا نہیں۔ وہ دھکے مارتا رہا، تیز اور گہرے، اور بیڈ چرچرانے لگا۔
آفریں نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ ہر دھکے کے ساتھ اس کے ممے ہلتے اور فرحان انہیں چومتا جاتا۔ "اور تیز،" آفریں چلائی۔ "اور اندر۔" فرحان نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور اب اس کا لنڈ اور بھی گہرا جا رہا تھا۔ آفریں کی چوت نے اسے کس کر پکڑ لیا تھا اور اندر کی دیواریں سکڑ رہی تھیں۔
پھر فرحان نے پوزیشن بدلی۔ اس نے آفریں کو گھوڑی بنایا۔ اس کی گانڈ ہوا میں تھی اور فرحان پیچھے سے اس میں گھسا۔ آفریں نے تکیہ منہ میں دبا لیا تاکہ آواز باہر نہ جائے۔ پیچھے سے دھکے اور بھی گہرے لگ رہے تھے۔ فرحان کا ایک ہاتھ آگے بڑھا اور اس کی چوت کے دانے کو مسلنے لگا۔ دوہرا مزہ۔ آفریں کا جسم کانپنے لگا۔
"میں آنے والی ہوں،" آفریں نے تکیے میں منہ دبائے کہا۔ "نکالو اپنا پانی میرے اندر۔" فرحان نے آخری چند زوردار دھکے مارے اور پھر دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے۔ آفریں کی چوت نے اس کا سارا پانی نچوڑ لیا۔ وہ دونوں پسینے میں شرابور بستر پر ڈھیر ہو گئے۔ پنکھا چل رہا تھا اور ان کی سانسیں دھیرے دھیرے ٹھہر رہی تھیں۔
کچھ دیر بعد فرحان نے سگریٹ سلگائی۔ آفریں اس کے سینے پر سر رکھے لیٹی تھی۔ "کتاب میلے والی لڑکی واپس آ گئی،" فرحان نے کہا۔ آفریں مسکرائی۔ "وہ کہیں گئی ہی نہیں تھی۔ بس انتظار کر رہی تھی۔" فرحان نے اس کے ماتھے کو چوما۔ "تمہارا شوہر کب آ رہا ہے؟" "پرسوں۔" "تو کل رات بھی میں یہیں ہوں۔" آفریں نے اس کے ہاتھ کو اپنے مموں پر رکھ دیا۔ "کل رات تو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی۔"
آدھی رات کو وہ دونوں پھر ایک ہو گئے۔ اس بار آفریں اوپر تھی۔ وہ فرحان کے لنڈ پر بیٹھی اور دھیرے دھیرے اوپر نیچے ہونے لگی۔ اس کے لمبے بال اس کے چہرے پر آ رہے تھے اور فرحان نے انہیں ہٹا کر اس کے ہونٹ چومے۔ نیچے سے فرحان بھی دھکے مار رہا تھا۔ آفریں کی رفتار بڑھتی گئی، تیز، تیز تر، یہاں تک کہ وہ چیخ پڑی اور اس کی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔ فرحان کا لنڈ اس کے اندر ہی تھا اور اس کا گرم پانی آفریں کی رانوں پر بہنے لگا۔
اس کے بعد وہ دونوں باتھ روم میں گئے۔ شاور کے نیچے گرم پانی بہہ رہا تھا اور فرحان نے آفریں کو دیوار سے لگا دیا۔ پانی ان کے ننگے جسموں پر بہہ رہا تھا۔ فرحان نے آفریں کی ایک ٹانگ اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھی اور اس کا لنڈ پھر اس کی چوت میں چلا گیا۔ کھڑے کھڑے، پانی میں، دھکے لگ رہے تھے۔ آفریں کی چیخیں پانی کی آواز میں دب رہی تھیں۔ اس نے فرحان کے کندھے پر دانت گاڑ دیے جب وہ تیسری بار جھڑی۔ فرحان نے اسے مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا، جیسے چھوڑے گا تو وہ بہہ جائے گی۔
تولیے میں لپٹی آفریں نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ اس کی گردن پر فرحان کے دانتوں کے نشان تھے، اس کے ہونٹ سوجے ہوئے تھے، اور اس کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو پانچ سال سے غائب تھی۔ اس نے نشانوں کو چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ شوہر پرسوں آئے گا، تب تک یہ نشان مدھم ہو جائیں گے، مگر آج کی رات کی گرمی اس کے جسم میں ہفتوں رہے گی۔
صبح کے چار بجے فرحان جانے لگا۔ دروازے پر اس نے آفریں کو پھر چوما، لمبا اور گہرا۔ "یہ رات میں کبھی نہیں بھولوں گا،" اس نے کہا۔ آفریں نے اس کی شرٹ کا کالر ٹھیک کیا اور بولی، "بھولنا بھی مت۔ کیونکہ اگلی بار میں تمہیں بلاؤں گی، اور اگلی بار دروازہ میں خود بند کروں گی۔" فرحان ہنسا اور اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ آفریں نے دروازہ بند کیا، کنڈی لگائی، اور مسکراتے ہوئے بیڈروم کی طرف چل دی۔
اگلی رات فرحان وعدے کے مطابق آیا۔ اس بار آفریں نے کھانا چھت پر لگوایا تھا۔ لکھنؤ کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور آسمان پر تارے جھلملا رہے تھے۔ کھانے کے بعد وہ دونوں چھت کی منڈیر کے پاس کھڑے تھے۔ فرحان نے پیچھے سے آفریں کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔ اس کے ہاتھ اس کے پیٹ پر تھے اور اس کے ہونٹ اس کی گردن پر۔
آفریں نے صرف ایک نائٹی پہنی تھی، اندر کچھ نہیں۔ فرحان کا ہاتھ نیچے سرکا اور اس کی نائٹی اوپر اٹھا دی۔ کھلی چھت، تاروں بھرا آسمان، اور آفریں کی ننگی ٹانگیں۔ فرحان نے اسے منڈیر کی طرف موڑا اور پیچھے سے اس کی چوت میں انگلی ڈال دی۔ آفریں نے منڈیر پکڑ لی۔ اس کے منہ سے سسکی نکلی جو ہوا میں گھل گئی۔
پھر فرحان نے اپنی پتلون نیچے کی اور اپنا لنڈ باہر نکالا۔ وہ پیچھے سے آفریں میں گھسا۔ کھڑے کھڑے، چھت پر، تاروں کے نیچے۔ ہر دھکے کے ساتھ آفریں کی نائٹی ہلتی اور اس کے ممے نائٹی کے اندر اچھلتے۔ فرحان نے نائٹی کا گلا پھاڑ دیا اور اس کے ممے باہر نکال لیے۔ اس کے ہاتھ انہیں دبوچ رہے تھے جبکہ نیچے سے اس کا لنڈ اندر باہر ہو رہا تھا۔
آفریں نے پیچھے ہاتھ بڑھا کر فرحان کے بال پکڑ لیے۔ "کوئی دیکھ لے گا،" وہ ہانپی۔ "دیکھنے دو،" فرحان نے کہا اور دھکے تیز کر دیے۔ آفریں کی چوت نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا۔ فرحان نے آخری زوردار دھکا مارا اور اپنا سارا پانی اس کے اندر چھوڑ دیا۔ وہ دونوں منڈیر پر جھکے رہے، ہانپتے ہوئے، تارے ان پر مسکراتے ہوئے۔
آفریں نے مڑ کر فرحان کو چوما۔ اس کی پھٹی نائٹی ہوا میں لہرا رہی تھی۔ "اب تم ہر ہفتے آؤ گے،" اس نے کہا۔ یہ سوال نہیں تھا، حکم تھا۔ فرحان مسکرایا۔ "ہر ہفتے نہیں،" اس نے کہا، "جب تم بلاؤ گی۔" آفریں نے اس کے لنڈ کو پھر ہاتھ میں لیا، جو ابھی بھی سخت تھا۔ "تو میں ابھی بلا رہی ہوں،" وہ بولی اور گھٹنوں پر بیٹھ گئی۔
Readers who enjoyed “دیسی اردو کہانی: آفریں کی یاد والی رات” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔