دیسی اردو سیکس اسٹوری: آدھی رات کے کالز، حصہ ۱
فون کی وائبریشن نے ثمینہ کو گہری نیند سے جھنجھوڑ دیا۔ اس نے بستر کے کنارے رکھے فون کو ٹٹولا اور اسکرین کی تیز روشنی میں آنکھیں چندھیا گئیں۔ اسکرین پر نامعلوم نمبر جھلملا رہا تھا، +971 سے شروع ہونے والا۔
گھڑی پر نظر پڑی تو رات کا ایک بجا تھا۔ فرحان بینک کی نائٹ شفٹ پر تھا اور گھر میں صرف پنکھے کی گھرگھراہٹ تھی۔ ثمینہ نے کال اٹھائی اور فون کان سے لگایا۔ دوسری طرف پہلے خاموشی تھی، پھر کسی کے سانس لینے کی ہلکی آواز آئی۔
ہیلو؟ ثمینہ نے نیند بھری آواز میں کہا۔ وہ مرد بولا، معاف کیجیے، کیا یہ راشد کا نمبر ہے؟ اس کی آواز گہری تھی، تھوڑی بھاری، جیسے نیند سے جاگا ہو۔ ثمینہ نے جواب دیا، نہیں، آپ نے غلط نمبر ملایا ہے۔
وہ ہلکا سا ہنسا۔ اس ہنسی میں کچھ ایسا تھا کہ ثمینہ کے سینے میں دھڑکن ایک دم تیز ہو گئی۔ اس نے کہا، معاف کیجیے، اتنی رات کو جگایا۔ لیکن آپ کی آواز۔۔۔ کہیں سنی ہوئی لگ رہی ہے۔
ثمینہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ آپ کون ہیں؟ وہ بولا، عمران، دبئی سے بات کر رہا ہوں۔ پھر وہ ایک پل رکا اور اس کی آواز بدل گئی، رکیے، کیا آپ۔۔۔ ثمینہ ہو؟ لکھنؤ والی ثمینہ؟
پندرہ سال پرانی یادیں بجلی کی طرح اس کے ذہن میں کوند گئیں۔ عمران۔ کالج کا وہ لڑکا جس کے لیے اس نے اپنی ڈائری کے صفحے بھرے تھے، جسے دیکھ کر وہ کینٹین میں چائے کا کپ ہاتھ میں لیے ٹھٹھک جاتی تھی۔ ثمینہ کی آواز کانپ گئی، عمران؟ تم ہو؟
ہاں میں ہوں، وہ بولا، اور اس کی ہنسی میں حیرت اور خوشی دونوں تھے۔ تمہاری آواز بالکل ویسی ہی ہے، پندرہ سال میں ذرا نہیں بدلی۔ ثمینہ کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے ڈر تھا کہیں فون میں سنائی نہ دے جائے۔
بات چیت شروع ہوئی اور وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔ عمران نے بتایا کہ وہ دبئی میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہے، اکیلا رہتا ہے، شادی نہیں کی۔ ثمینہ نے بتایا کہ اس کی شادی فرحان سے ہوئی ہے، وہ بینک منیجر ہے اور آج کل نائٹ شفٹ چل رہی ہے۔
تو آج رات تم اکیلی ہو، عمران نے کہا۔ اس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ ثمینہ کے گال گرم ہو گئے۔ اس نے بات بدلی، کالج کے دن یاد ہیں تمہیں؟ وہ لائبریری، وہ کینٹین کی چائے؟
سب یاد ہے، ثمینہ بولی۔ تم ہمیشہ دیر سے آتے تھے اور پچھلی قطار میں بیٹھتے تھے۔ عمران ہنسا، اور تم ہمیشہ پہلی قطار میں، سب سے سنجیدہ لڑکی۔ ثمینہ مسکرائی، اسے اپنا وہ پرانا روپ یاد آ گیا۔
بات کرتے کرتے رات کے دو بج گئے۔ عمران نے کہا، کل پھر کال کروں؟ اسی وقت پر؟ ثمینہ نے ایک پل سوچا۔ اس کے شوہر کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آیا، پھر عمران کی آواز نے سب دھو دیا۔ اس نے بولی، کرو۔
اسے دو دن پہلے کی رات یاد آ گئی، جب فرحان کی چھٹی تھی۔ وہ دونوں کمرے میں تھے اور فرحان نے اندر سے دروازہ بند کر دیا تھا۔ ثمینہ کو وہ رات ایک ایک لمحہ یاد تھی۔
فرحان نے اسے بستر پر لٹایا تھا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے تھے۔ اس کے ہاتھ ثمینہ کی قمیض کے بٹن کھولنے لگے تھے۔ ثمینہ کی سانسیں تیز ہو گئی تھیں اور اس نے فرحان کی گردن میں بانہیں ڈال دی تھیں۔
فرحان نے اس کی قمیض اتار دی تھی اور اس کے بوبز کو ہاتھوں میں بھر لیا تھا۔ اس نے نپلوں کو زبان سے چھوا تھا اور ثمینہ نے سسکی بھری تھی۔ اس کی انگلیاں فرحان کے بالوں میں الجھ گئی تھیں۔
فرحان کا لن تن چکا تھا اور ثمینہ کی چوت گیلی ہو رہی تھی۔ اس نے ثمینہ کی شلوار کا ناڑا کھولا اور شلوار گھٹنوں تک سرکا دی۔ اس کی انگلی ثمینہ کی چوت کے دانے پر گھومی اور ثمینہ نے کمر اچھال دی۔
اور اندر، ثمینہ نے کہا تھا۔ فرحان مسکرایا تھا اور اس کی ٹانگیں پھیلا دی تھیں۔ اس نے اپنا لن اس کی چوت کے منہ پر رکھا تھا اور آہستہ سے اندر دھکیلا تھا۔ ثمینہ نے اس کے کندھوں کو زور سے پکڑ لیا تھا۔
چودائی کی رفتار بڑھتی گئی تھی اور بستر چرچرانے لگا تھا۔ ثمینہ کی چیخیں تکیے میں دب گئی تھیں۔ فرحان نے اسے پلٹایا تھا اور پیچھے سے لیا تھا، اس کے ہاتھ اس کے بوبز کو دباتے رہے تھے۔
دونوں ایک ساتھ جھڑے تھے اور پسینے میں بھیگے بستر پر گر پڑے تھے۔ فرحان نے اسے بانہوں میں بھرا تھا اور دونوں سو گئے تھے۔ ثمینہ نے یہ سوچ کر آنکھیں بند کیں کہ فرحان اسے خوش رکھتا ہے، پھر بھی آج اس کا دل کہیں اور اٹکا تھا۔
اگلی رات ثمینہ سوئی نہیں تھی۔ وہ بستر پر لیٹی فون کو گھور رہی تھی۔ ٹھیک ایک بجے اسکرین روشن ہوئی اور وہی +971 نمبر جھلملایا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور اس نے کانپتے ہاتھوں سے کال اٹھائی۔
سو رہی تھیں؟ عمران کی آواز آئی۔ ثمینہ بولی، تمہارا انتظار کر رہی تھی۔ وہ ہنسا، سچ کہہ رہی ہو؟ ثمینہ نے کہا، ہاں، سچ۔ آج سارا دن تمہاری آواز کانوں میں گونجتی رہی۔
باتیں آہستہ آہستہ گہری ہونے لگیں۔ عمران نے پوچھا، فرحان خوش رکھتا ہے تمہیں؟ ثمینہ ایک پل چپ رہی۔ پھر بولی، رکھتا ہے۔ لیکن آج کل وہ رات کو گھر نہیں ہوتا، نائٹ شفٹ ہے۔
عمران کی آواز دھیمی ہو گئی۔ اس نے کہا، اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں کبھی اکیلا نہ چھوڑتا۔ ثمینہ کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ اس نے بات بدلی، لیکن عمران نے بات نہ بدلنے دی۔
یاد ہے، اس نے کہا، کالج کی لائبریری میں تم میرے اتنے قریب بیٹھتی تھیں کہ تمہارے بالوں کی خوشبو آتی تھی۔ میں پڑھنے کا بہانہ کرتا تھا، لیکن دیکھتا تمہیں تھا۔ ثمینہ کے کان گرم ہو گئے، تمہیں اب بھی سب یاد ہے؟
سب یاد ہے، عمران بولا۔ تمہاری وہ نیلی چوڑیاں، تمہاری ہنسی، وہ دن جب بارش میں تم بھیگ گئی تھیں اور تمہارا دوپٹہ۔۔۔ وہ رکا۔ ثمینہ بولی، آگے بولو۔ وہ بولا، تمہارا دوپٹہ تمہارے بدن سے چپک گیا تھا اور میں نے نظریں جھکا لی تھیں۔
ثمینہ کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ اس نے سرگوشی میں کہا، تم نے کبھی کچھ کہا کیوں نہیں؟ عمران بولا، ڈرتا تھا۔ تم اتنی اچھی لگتی تھیں کہ لگتا تھا چھو لوں گا تو ٹوٹ جاؤ گی۔
پھر اس نے وہ کہا جس سے ثمینہ کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اگر میں ابھی تمہارے کمرے میں ہوتا، تو میں دروازہ بند کرتا، تمہیں دیوار سے لگاتا اور تمہارے ہونٹوں کو چوم لیتا۔ اتنی زور سے کہ تمہاری سانس رک جائے۔
ثمینہ کی انگلیاں بے اختیار چادر کو مٹھی میں بھینچ گئیں۔ عمران بولتا رہا، میں تمہاری قمیض کے بٹن ایک ایک کر کے کھولتا۔ تمہارے بوبز کو ہاتھوں میں بھرتا، انہیں چومتا، چوستا۔ تم سسکیاں بھرتیں اور میں رکتا نہیں۔
میں تمہاری شلوار اتارتا اور تمہاری چوت کو اپنی انگلیوں سے سہلاتا، اس نے کہا۔ تم گیلی ہو جاتیں، میرے نام کی سسکیاں بھرتیں۔ ثمینہ کا ہاتھ خود بخود اس کی ران پر چلا گیا۔
ثمینہ نے فون کو تکیے پر رکھا اور اسپیکر آن کر دیا۔ اس کی انگلیاں اس کی شلوار کے ناڑے تک پہنچیں اور اس نے ناڑا کھول دیا۔ عمران کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی، بتاؤ ثمینہ، تمہیں کیسا لگ رہا ہے؟
اس کی انگلی اس کی چوت کے دانے پر گھومی۔ ثمینہ نے سسکی، اچھا لگ رہا ہے، بہت اچھا۔ عمران بولا، آنکھیں بند کرو اور سوچو کہ یہ میری انگلی ہے۔ بتاؤ، تم گیلی ہو؟
ہاں، ثمینہ نے سرگوشی کی۔ اس کی انگلی اس کی چوت میں ڈوبی ہوئی تھی اور وہ عمران کی آواز کی لے پر ہل رہی تھی۔ اس کے دوسرے ہاتھ نے اس کے بوبز کو قمیض کے اوپر سے دبایا۔
اور تیز کرو، عمران بولا۔ میرے لیے کرو۔ ثمینہ نے اپنی انگلیوں کی رفتار بڑھا دی۔ اس کی کمر بستر پر اچھلنے لگی اور اس کی سسکیاں تیز ہو گئیں۔
میں تمہارے اندر ہونا چاہتا ہوں، عمران کی آواز بھاری ہو گئی تھی۔ تمہیں بستر پر لٹا کر تمہاری ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھنا چاہتا ہوں۔ تمہیں اتنی زور سے چودنا چاہتا ہوں کہ تم چیخ پڑو۔
ثمینہ کا جسم کانپنے لگا۔ اس کی انگلیاں تیزی سے حرکت کر رہی تھیں اور اس کے بوبز کے نپل تن گئے تھے۔ وہ عروج پر پہنچی اور اس کی چیخ تکیے میں دب گئی۔ اس کا پورا بدن لرز اٹھا۔
فون پر عمران کی بھاری سانسیں سنائی دے رہی تھیں۔ دونوں دیر تک خاموش رہے، صرف سانسوں کی آواز تھی۔ پھر عمران نے دھیمی آواز میں کہا، ثمینہ، یہ صرف فون پر نہیں رہے گا۔
کیا مطلب؟ ثمینہ نے پوچھا۔ عمران بولا، میں کل لکھنؤ آ رہا ہوں۔ کل شام کی فلائٹ ہے۔ ثمینہ کے دل کی دھڑکن ایک پل کے لیے رک سی گئی، کیا؟ سچ کہہ رہے ہو؟
بالکل سچ، وہ بولا۔ پندرہ سال ہو گئے تمہیں دیکھے۔ اب اور انتظار نہیں ہوتا۔ ثمینہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے بولی، میں انتظار کروں گی۔
اگلا دن ثمینہ کے لیے صدی جتنا لمبا تھا۔ وہ صبح سے بار بار گھڑی دیکھتی، بار بار فون اٹھا کر چیک کرتی کہ کہیں عمران کا میسج تو نہیں آیا۔ فرحان صبح ڈیوٹی سے لوٹا تھا اور ناشتے کے بعد سو گیا تھا، اسے کچھ پتہ نہ چلا۔
دوپہر کو ثمینہ نے الماری کھولی اور کپڑے نکالنے لگی۔ اس نے وہ نیلی سوٹ نکالی جو فرحان کو بہت پسند تھی۔ آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اس نے اپنے بال سنوارے اور ہونٹوں پر ہلکی لپ اسٹک لگائی۔
شام کو فرحان پھر ڈیوٹی چلا گیا۔ جاتے ہوئے اس نے ثمینہ کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا، رات کو دروازہ اچھی طرح بند کر لینا۔ ثمینہ نے مسکرا کر سر ہلایا، لیکن اس کے پیٹ میں تتلیاں اڑ رہی تھیں۔
رات کے بارہ بجے وہ بستر پر لیٹ گئی، فون ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑے۔ ایک بجنے میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا۔ یہ ایک گھنٹہ اس کی زندگی کا سب سے لمبا گھنٹہ تھا۔ اس نے عمران کا نمبر فون میں سیو کیا تھا اور نام لکھا تھا، صرف عمران۔ وہ اس نام کو بار بار دیکھتی رہی۔
ٹھیک ایک بجے فون بجا۔ ثمینہ نے ایک سیکنڈ بھی ضائع کیے بغیر کال اٹھائی۔ عمران کی آواز آئی، پہنچ گیا ہوں۔ ثمینہ بولی، کہاں ہو؟ وہ بولا، ہوٹل میں ہوں، تمہارے گھر سے بس بیس منٹ دور۔
دونوں کی آوازیں خود بخود سرگوشیوں میں بدل گئیں۔ عمران بولا، کل ملو گی مجھ سے؟ ثمینہ نے کہا، پتہ نہیں، فرحان کی ڈیوٹی۔۔۔ وہ رکی۔ عمران بولا، ڈرو مت، میں سب سنبھال لوں گا۔ بس ایک بار مل لو، پندرہ سال کا انتظار ہے۔
ثمینہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے کہا، میں بھی تم سے ملنا چاہتی ہوں، بہت چاہتی ہوں۔ عمران کی آواز بھر آئی، تو پھر کل۔ میں تمہیں میسج کروں گا، جگہ اور وقت۔
اسی وقت کمرے کے دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ ثمینہ کا دل دھک سے رہ گیا اور فون اس کے ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا۔ باہر سے فرحان کی آواز آئی، ثمینہ، دروازہ کھولو، میں ہوں۔
ثمینہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے جلدی سے فون کو تکیے کے نیچے چھپانے کی کوشش کی، لیکن فون پر عمران کی گھبرائی ہوئی آواز آئی، فون مت کاٹنا، ثمینہ، فون مت کاٹنا۔ وہ سرگوشی میں بولی، فرحان آ گیا ہے، چپ رہو۔
دروازہ کھلا اور فرحان اندر داخل ہوا۔ اس کی وردی پر شکنیں تھیں اور چہرے پر تھکن تھی۔ لیکن اس کی نظریں سیدھی بستر پر گئیں، جہاں تکیے کے نیچے سے فون کی ہلکی روشنی جھلک رہی تھی۔
فرحان نے ایک قدم آگے بڑھایا اور جھک کر تکیے کے نیچے سے فون نکال لیا۔ ثمینہ کی سانس رک گئی۔ اس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا، لیکن الفاظ حلق میں اٹک گئے۔
اسکرین کی نیلی روشنی فرحان کے چہرے پر پڑی۔ کال کا ٹائمر اب بھی چل رہا تھا اور اسکرین پر ایک نام جھلملا رہا تھا، عمران۔
پندرہ سال پہلے کی وہ دوپہر ثمینہ کو آج بھی ایک ایک لمحہ یاد تھی۔ کالج کی لائبریری میں سناٹا تھا، صرف پنکھے کی آواز اور کتابوں کے ورق پلٹنے کی سرسراہٹ۔ وہ آخری قطار کی میز پر بیٹھی نوٹس بنا رہی تھی۔
عمران اچانک اس کے سامنے والی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں بھی کتاب تھی، لیکن اس کی نظریں کتاب پر نہیں تھیں۔ ثمینہ نے نظریں جھکا لیں، لیکن اس کے گال سرخ ہو گئے تھے۔
کیا پڑھ رہی ہو؟ اس نے پوچھا تھا۔ ثمینہ نے کتاب کا نام بتایا تھا۔ عمران مسکرایا تھا، تم ہمیشہ پڑھتی رہتی ہو۔ کبھی میرے ساتھ کینٹین چلو گی؟ ثمینہ نے شرما کر سر ہلایا تھا۔
وہ دونوں کتابوں کے بہانے ایک دوسرے کے قریب سرکتے گئے تھے۔ میز کے نیچے ان کے گھٹنے ٹکرائے تھے اور دونوں نے جلدی سے پیر پیچھے کیے تھے، لیکن پھر دوبارہ قریب آ گئے تھے۔
عمران نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھاما تھا۔ میز کے اوپر کتابوں کی آڑ میں اس کی انگلیاں اس کی انگلیوں میں الجھ گئی تھیں۔ ثمینہ کے دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ اسے لگا لائبریرین سن لے گی۔
تم بہت خوبصورت ہو، عمران نے سرگوشی میں کہا تھا۔ ثمینہ نے نظریں اٹھائیں اور ان کی آنکھیں ملیں۔ اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا کہ ثمینہ کا سانس رک گیا تھا۔
عمران نے میز کے گرد گھوم کر اس کے پاس والی کرسی کھسکائی تھی اور بیٹھ گیا تھا۔ اب ان کے کندھے چھو رہے تھے۔ اس نے ثمینہ کے گال پر آئی لٹ کو انگلی سے ہٹایا تھا اور اس کا ہاتھ وہیں رک گیا تھا۔
لائبریری میں کوئی نہیں تھا۔ عمران نے آہستہ سے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا تھا۔ اس کے ہونٹ ثمینہ کے ہونٹوں سے بس ایک سانس کی دوری پر تھے۔ ثمینہ نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔
اس کے ہونٹوں نے اس کے ہونٹوں کو چھوا تھا، پہلے ہلکا سا، پھر گہرا۔ ثمینہ نے اس کی قمیض کو مٹھی میں بھینچ لیا تھا۔ اس کا پہلا بوسہ تھا اور اس کا پورا بدن کانپ رہا تھا۔
عمران کا ہاتھ اس کی کمر پر تھا اور اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ ثمینہ کے بوبز اس کے سینے سے دب گئے تھے۔ اس کے ہونٹوں کی گرمی اس کی رگوں میں دوڑ گئی تھی۔
تبھی لائبریری کا دروازہ چرچرایا تھا۔ دونوں بجلی کی طرح الگ ہوئے تھے۔ لائبریرین اندر آئی تھی اور دونوں نے کتابوں میں منہ چھپا لیا تھا۔ لیکن ان کے پیر میز کے نیچے اب بھی چھو رہے تھے۔
اس دن کے بعد وہ دونوں کبھی اکیلے نہ مل سکے تھے۔ امتحان آئے، پھر چھٹیاں، پھر زندگی انہیں الگ سمتوں میں لے گئی تھی۔ وہ ادھورا بوسہ پندرہ سال تک ثمینہ کے دل میں ایک چنگاری بن کر سلگتا رہا تھا۔
دیسی اردو سیکس اسٹوری: آدھی رات کے کالز، حصہ ۲
Readers who enjoyed “دیسی اردو سیکس اسٹوری: آدھی رات کے کالز، حصہ ۱” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔