لمبی اردو سیکس کہانی: حویلی کا راز، حصہ 2
دروازے پر دستک ہوئی تو فلک کی سانس تھم گئی۔ دو بجے تھے، اور وہی لمبی اردو سیکس کہانی اب ایک ایسے موڑ پر آ گئی تھی جس کا اس نے خواب میں بھی تصور نہیں کیا تھا۔ اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا، اور ریحان اندر آ گیا۔
ریحان کے ہاتھ میں وہی پرچہ تھا جو اس نے شام کو فلک کے کمرے کے دروازے کے نیچے سے سرکایا تھا۔ اس پرچے پر لکھا تھا کہ آدھی رات کو چھت پر آ جاؤ۔ فلک چھت پر نہیں گئی تھی، مگر ریحان خود آ گیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی چنگاری تھی جو پہلے دن سے فلک کو جلا رہی تھی۔
اس نے دروازہ اندر سے بند کیا اور کنڈی لگا دی۔ کمرے میں صرف ایک مدھم لیمپ جل رہا تھا۔ باہر حویلی کے صحن میں شمیم بوڑھی نوکرانی خراٹے لے رہی تھی۔ شوہر دبئی میں تھا، اور اس ایک ہفتے میں پہلی بار فلک کو لگا کہ یہ حویلی اس کی قید نہیں، اس کا جہاں ہے۔
ریحان نے دھیمی آواز میں کہا، تم چھت پر نہیں آئیں، تو میں نے سوچا شاید تم ڈر گئی ہو۔ فلک نے ہونٹ کاٹے اور بولی، ڈری نہیں، بس سوچ رہی تھی کہ یہ سب کہاں جائے گا۔ اس نے ایک قدم آگے بڑھایا، اب یہیں سے شروع ہوگا، اور یہیں ختم بھی ہماری مرضی سے ہوگا۔
اس کے ہاتھ فلک کے کندھوں پر آئے تو اس کا پورا بدن کانپ گیا۔ پانچ سال کی شادی میں اس نے کبھی ایسا لمس محسوس نہیں کیا تھا۔ ریحان کی انگلیاں اس کی گردن کی پشت پر پھسلنے لگیں، اور فلک کی آنکھیں خود بخود بند ہو گئیں۔
پھر اس کے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے ملے۔ یہ وہ بوسہ نہیں تھا جو چھت پر چارپائی پر ادھورا رہ گیا تھا۔ یہ بوسہ بھوکا تھا، بے چین تھا، اور فلک نے اس کا جواب اسی بھوک سے دیا۔ اس کی زبان اس کے منہ میں گھس آئی اور فلک نے اسے چوس لیا جیسے کوئی پیاسی عورت پانی پیتی ہے۔
ریحان کے ہاتھ اس کے کرتے کے بٹنوں پر آئے۔ ایک ایک بٹن کھلتا گیا اور فلک کی سانسیں تیز ہوتی گئیں۔ اس نے مزاحمت کا دکھاوا بھی نہیں کیا۔ جب کرتا اس کے کندھوں سے پھسلا تو اس کے دودھ جیسے سفید سینے پر صرف برا رہ گئی۔
ریحان نے اس کی برا کا ہک کھولا اور اس کے ممے اس کے سامنے ننگے ہو گئے۔ اس نے ایک ممے کو منہ میں لے لیا اور فلک کے منہ سے ایک سسکی نکلی۔ اس کی زبان اس کے نپل کے گرد گھوم رہی تھی اور دوسرے ممے کو اس کا ہاتھ مسل رہا تھا۔
فلک نے اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے مگر اس کی آنکھوں میں شرم کی جگہ اب صرف حوس تھی۔ جب اس کا ننگا سینہ سامنے آیا تو فلک نے اس پر ہاتھ پھیرا اور اس کے سخت پٹھوں کو محسوس کیا۔
ریحان نے اسے بستر پر لٹایا اور اس کی شلوار کی ڈوری کھولی۔ فلک نے اپنی کمر اٹھا کر اسے اتارنے میں مدد کی۔ اب وہ صرف پینٹی میں تھی، اور ریحان کی نظریں اس کے بدن پر ایسی پھر رہی تھیں جیسے کوئی بھوکا شیر شکار کو دیکھتا ہے۔
اس نے اس کی پینٹی کو ایک طرف سرکایا اور اس کی چوت کو انگلیوں سے چھوا۔ فلک گیلی ہو چکی تھی، اتنی گیلی کہ اس کی انگلیاں آسانی سے پھسل رہی تھیں۔ اس نے دو انگلیاں اندر ڈالیں اور فلک نے بستر کی چادر کو مٹھی میں بھینچ لیا۔
اہستہ کرو، فلک نے سرگوشی کی، شمیم جاگ جائے گی۔ ریحان نے مسکرا کر کہا، تو آواز مت نکالو، اور اس نے اپنی رفتار بڑھا دی۔ اس کی انگلیاں اس کی چوت کے اندر باہر ہو رہی تھیں اور فلک کے ہونٹوں سے دبی دبی آہیں نکل رہی تھیں۔
پھر فلک نے اسے روکا اور خود اس کی پتلون کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ جب اس کا لنڈ باہر آیا تو فلک کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ موٹا اور لمبا تھا، اور اس کی رگیں پھولی ہوئی تھیں۔ اس نے اسے ہاتھ میں لیا اور آہستہ آہستہ ہلانے لگی۔
ریحان نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈالا اور اس کا سر اپنے لنڈ کی طرف جھکایا۔ فلک نے پہلے اس کی ٹوپی کو زبان سے چاٹا، پھر اسے منہ میں لے لیا۔ اس کا منہ گرم تھا اور ریحان کے منہ سے ایک گہری آہ نکلی۔
وہ اس کے لنڈ کو چوس رہی تھی، کبھی آہستہ، کبھی تیز۔ اس کا تھوک اس کے لنڈ پر بہہ رہا تھا اور ریحان اس کے منہ میں دھکے لگا رہا تھا۔ فلک کی آنکھوں میں آنسو آ گئے مگر اس نے رکنے کا نام نہیں لیا۔
جب ریحان کی سانسیں بے قابو ہونے لگیں تو اس نے فلک کو اٹھایا اور بستر پر لٹا دیا۔ اس نے اس کی ٹانگیں کھولیں اور اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ فلک نے اس کی کمر کو پکڑ لیا اور بولی، اندر ڈالو، اب اور انتظار نہیں ہوتا۔
اس نے ایک زور کا دھکا لگایا اور اس کا لنڈ اس کی گیلی چوت میں پورا گھس گیا۔ فلک کے منہ سے ایک چیخ نکلنے والی تھی مگر اس نے اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لیا۔ اس کا لنڈ اس کے اندر اتنا بھرا ہوا لگ رہا تھا کہ فلک کو لگا وہ پھٹ جائے گی۔
ریحان نے دھکے لگانے شروع کیے، پہلے آہستہ، پھر تیز۔ ہر دھکے کے ساتھ فلک کا بدن بستر پر ہل رہا تھا۔ اس کے ممے اچھل رہے تھے اور ریحان نے انہیں ہاتھوں میں پکڑ لیا۔ ان کی چودائی کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی، گیلی چوت اور سخت لنڈ کی ٹکر کی آواز۔
تمہاری چوت کتنی گرم ہے، ریحان نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ فلک نے اس کی گردن پر کاٹا اور بولی، اور تمہارا لنڈ کتنا موٹا ہے، مجھے اور زور سے چودو۔ یہ سنتے ہی ریحان نے اپنی رفتار دگنی کر دی۔
اس نے فلک کی ایک ٹانگ اپنے کندھے پر اٹھا لی۔ اس پوزیشن میں اس کا لنڈ اور گہرائی میں جا رہا تھا۔ فلک کی آنکھیں الٹنے لگیں اور اس کے ناخن اس کی پیٹھ پر گڑ گئے۔ اسے لگا جیسے اس کے اندر کوئی آگ بھڑک رہی ہے۔
پھر ریحان نے اسے پلٹا اور اسے گھوڑی بنا دیا۔ فلک بستر پر گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل تھی، اور ریحان پیچھے سے اس کی چوت میں گھسا۔ اس پوزیشن میں ہر دھکا اس کی بچہ دانی تک پہنچ رہا تھا۔ فلک کی آہیں اب دب نہیں رہی تھیں۔
اس نے پیچھے سے اس کے ممے پکڑے اور انہیں مسلتے ہوئے دھکے لگاتا رہا۔ فلک نے اپنا سر تکیے میں دبا لیا تاکہ اس کی چیخیں باہر نہ جائیں۔ اس کی چوت سے پانی بہہ رہا تھا اور بستر کی چادر گیلی ہو رہی تھی۔
مجھے آنے والا ہے، فلک نے ہانپتے ہوئے کہا۔ ریحان نے جواب دیا، مجھے بھی، ایک ساتھ نکالتے ہیں۔ اس نے آخری چند زوردار دھکے لگائے اور پھر دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے۔ فلک کی چوت نے اس کے لنڈ کو نچوڑ لیا اور اس کا پانی اس کے اندر بہہ گیا۔
دونوں بستر پر ڈھیر ہو گئے، پسینے میں شرابور، ہانپتے ہوئے۔ ریحان نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ فلک نے اس کے سینے پر سر رکھا اور اس کے دل کی دھڑکن سنی۔ کمرے میں خاموشی تھی، صرف ان کی سانسوں کی آواز۔
کچھ دیر بعد ریحان نے کہا، پرچے میں لکھا تھا چھت پر آؤ، تم نہیں آئیں تو میں خود آ گیا۔ فلک نے مسکرا کر کہا، اچھا کیا، مگر ابھی رات باقی ہے۔ اس کی آنکھوں میں شرارت تھی۔ ریحان نے پوچھا، تمہارا مطلب؟ فلک بولی، چھت ابھی بھی وہیں ہے۔
وہ دونوں آہستہ سے کپڑے پہنے اور دبے پاؤں چھت کی سیڑھیاں چڑھے۔ حویلی سو رہی تھی۔ چاندنی چوک کی پرانی حویلی کی چھت پر چاندنی بکھری ہوئی تھی۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور فلک کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
چھت پر پرانی چارپائی پڑی تھی، وہی چارپائی جہاں پہلی رات ان کا بوسہ ادھورا رہ گیا تھا۔ ریحان نے فلک کو اس پر بٹھایا اور اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اس نے اس کی شلوار نیچے کی اور اس کی چوت کو چومنے لگا۔
کھلی ہوا میں، چاندنی کے نیچے، اس کی زبان اس کی چوت پر پھر رہی تھی۔ فلک نے چارپائی کی بان کو پکڑ لیا۔ اس کی زبان اس کے دانے پر گھوم رہی تھی اور فلک کا بدن اینٹھ رہا تھا۔ اسے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کوئی دیکھ نہ لے، اور یہی ڈر مزہ دگنا کر رہا تھا۔
جب فلک کی ٹانگیں کانپنے لگیں تو ریحان کھڑا ہوا اور اسے چارپائی پر جھکا دیا۔ اس نے پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈالا۔ چاندنی میں ان کے سائے دیوار پر ناچ رہے تھے۔ ہر دھکے کے ساتھ چارپائی چرچرا رہی تھی۔
ریحان نے اس کے بال کھینچے اور اس کی گردن پر بوسے دیے۔ فلک نے پیچھے ہاتھ بڑھا کر اس کی کمر پکڑی اور اسے اور اندر کھینچا۔ ان کی چودائی اب بے خوف تھی، کھلے آسمان کے نیچے، جیسے پوری دنیا سو رہی ہو اور صرف وہ دو جاگ رہے ہوں۔
فلک کی چوت نے دوسری بار پانی چھوڑا تو اس کی چیخ چاندنی میں گونج گئی۔ ریحان نے جلدی سے اس کا منہ ہاتھ سے بند کیا، مگر دیر ہو چکی تھی۔ نیچے صحن سے شمیم کی آواز آئی، کون ہے؟ دونوں کی سانس رک گئی۔
ریحان نے فوراً اپنا لنڈ باہر نکالا اور دونوں چارپائی کے پیچھے دبک گئے۔ شمیم سیڑھیوں کے نیچے کھڑی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔ پھر وہ بڑبڑائی، بلی ہوگی، اور واپس اپنی کوٹھری میں چلی گئی۔ فلک اور ریحان نے ایک دوسرے کو دیکھا اور دبی ہنسی ہنس پڑے۔
وہ جلدی سے کپڑے ٹھیک کر کے نیچے اترے۔ فلک کے کمرے میں آ کر دونوں نے سکون کی سانس لی۔ ریحان نے کہا، آج تو بچ گئے۔ فلک بولی، یہی تو مزہ تھا، ڈر کے بغیر یہ رات ادھوری رہتی۔ اس نے اس کے گال پر بوسہ دیا۔
بستر پر لیٹ کر فلک نے پوچھا، تمہارا انٹرویو کیسا رہا؟ ریحان نے جواب دیا، نوکری پکی سمجھو، اگلے ہفتے جوائننگ ہے۔ فلک کی مسکراہٹ ذرا پھیکی پڑ گئی۔ اس کا مطلب تھا کہ ریحان کا یہ آخری ہفتہ تھا، اور یہ رات شاید ان کی آخری رات تھی۔
ریحان نے اس کے چہرے کو ہاتھوں میں لیا اور کہا، جو بھی ہو، یہ رات ہمیشہ میری رہے گی۔ فلک کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے کہا، اور میری بھی۔ پھر اس نے اسے زور سے گلے لگا لیا، جیسے اسے ہمیشہ کے لیے اپنے اندر سمیٹ لینا چاہتی ہو۔
تیسری بار انہوں نے پیار کیا، اس بار آہستہ، نرمی سے، جیسے الوداع کہہ رہے ہوں۔ ریحان اس کے اوپر تھا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دھکے لگا رہا تھا۔ کوئی جلدی نہیں تھی، کوئی بھوک نہیں تھی، صرف ایک گہرا سکون تھا۔ فلک نے اس کے آنسو پونچھے۔
جب وہ دونوں تیسری بار جھڑے تو فجر کی اذان کی آواز دور سے آنے لگی۔ آسمان پر ہلکی سفیدی پھیل رہی تھی۔ ریحان نے جلدی سے کپڑے پہنے۔ فلک نے دراز سے وہ پرچہ نکالا جو ریحان نے اسے دیا تھا۔ اس نے اسے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیا اور کھڑکی سے باہر ہوا میں اڑا دیا۔
اب کوئی ثبوت نہیں، اس نے کہا۔ ریحان نے اس کا ہاتھ تھاما اور بولا، ثبوت کی ضرورت نہیں، یہ رات میرے دل میں لکھی ہے۔ فلک نے اسے دروازے تک چھوڑا۔ جاتے جاتے اس نے مڑ کر کہا، دبئی والے کو کبھی مت بتانا۔ فلک نے مسکرا کر کہا، یہ راز حویلی کی دیواروں میں دفن ہے۔
صبح جب شمیم چائے لائی تو فلک صحن میں بیٹھی تھی، بالکل نارمل، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ریحان اپنا بیگ پیک کر رہا تھا۔ اس کی ٹرین دوپہر کی تھی۔ شمیم نے پوچھا، بیٹی، رات کو چھت پر بلی تھی کیا؟ فلک نے چائے کا گھونٹ لیا اور بولی، ہاں شمیم، بس بلی ہی تھی۔
دوپہر کو ریحان رخصت ہوا۔ دروازے پر اس نے فلک کے پاؤں چھوئے، رسم کے مطابق، مگر اس کی انگلیوں نے ایک لمحے کے لیے اس کے ہاتھ کو چھوا۔ اس لمس میں پوری رات تھی۔ فلک نے کہا، اپنا خیال رکھنا، اور نوکری مبارک ہو۔
شام کو شوہر کی دبئی سے ویڈیو کال آئی۔ اس نے پوچھا، سب ٹھیک ہے؟ فلک نے کیمرے میں دیکھا اور مسکرائی، سب ٹھیک ہے۔ اس کی مسکراہٹ میں ایک راز تھا جو صرف وہ جانتی تھی۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ یہ رات اس کی اپنی رہے گی، کسی اور کی نہیں۔
رات کو جب وہ اپنے بستر پر لیٹی تو چادر پر ابھی بھی اس رات کی خوشبو تھی۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور سرگوشی میں بولی، شکریہ حویلی، تم نے میرا راز رکھا۔ پھر وہ گہری نیند سو گئی، ایک ایسی عورت کی طرح جس نے اپنی زندگی کی سب سے خوبصورت رات جی لی ہو۔
پہلی بار جھڑنے کے بعد فلک باتھ روم میں منہ دھونے گئی۔ اس نے نل کھولا اور ٹھنڈا پانی اپنے چہرے پر مارا۔ آئینے میں اس کا عکس اسے دیکھ رہا تھا، گال سرخ، ہونٹ سوجے ہوئے، بال بکھرے۔ وہ خود کو پہچان نہیں پا رہی تھی۔
تبھی دروازہ آہستہ سے کھلا اور ریحان اندر آ گیا۔ اس نے دروازہ بند کیا اور فلک کو دیوار سے لگا دیا۔ ابھی تو رات باقی ہے، اس نے اس کے کان میں کہا۔ فلک کے بدن میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی۔
اس نے فلک کا کرتا اوپر کیا اور اس کے مموں کو ہاتھوں میں لے لیا۔ ٹھنڈے باتھ روم میں اس کے گرم ہاتھ فلک کو پاگل کر رہے تھے۔ اس نے اس کے نپلوں کو انگلیوں سے مسلا اور فلک نے اس کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
ریحان گھٹنوں کے بل بیٹھا اور فلک کی شلوار نیچے کر دی۔ اس نے اس کی چوت کو چوما، پھر اپنی زبان اندر ڈال دی۔ فلک نے دیوار کو پکڑ لیا۔ اس کی زبان اس کی چوت کے اندر گھوم رہی تھی اور فلک کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔
پھر فلک نے اسے کھڑا کیا اور خود گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔ اس نے اس کے لنڈ کو منہ میں لیا جو ایک بار پھر سخت ہو چکا تھا۔ وہ اسے چوس رہی تھی اور ریحان اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا۔ باتھ روم کی ٹائلوں پر ان کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
ریحان نے اسے اٹھایا اور اسے دیوار کی طرف موڑ دیا۔ اس نے پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ ڈالا۔ فلک نے اپنے ہاتھ دیوار پر رکھے اور کمر کو پیچھے دھکیلا۔ ہر دھکے کے ساتھ اس کے ممے ہل رہے تھے۔
اس بار انہوں نے جلدی نہیں کی۔ ریحان آہستہ آہستہ دھکے لگا رہا تھا، ہر دھکے کو محسوس کرتے ہوئے۔ فلک کی چوت اس کے لنڈ کو کس رہی تھی۔ اس نے پیچھے ہاتھ بڑھا کر ریحان کی گردن پکڑی اور اسے اپنی طرف کھینچا۔
جب دونوں جھڑنے کے قریب آئے تو ریحان نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور فلک کے پیٹ پر اپنا پانی نکال دیا۔ فلک نے اسے دیکھا اور مسکرائی۔ پھر اس نے شاور کھولا اور دونوں گرم پانی کے نیچے کھڑے ہو گئے، ایک دوسرے کے بدن کو دھوتے ہوئے۔
شاور کے نیچے ریحان نے اسے گلے لگایا اور کہا، تمہارے بغیر یہ ہفتہ ادھورا رہتا۔ فلک نے اس کے سینے پر بوسہ دیا اور بولی، اور تمہارے بغیر میری زندگی۔ پانی ان کے بدنوں پر بہہ رہا تھا اور ان کے دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے۔
Readers who enjoyed “لمبی اردو سیکس کہانی: حویلی کا راز، حصہ 2” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔