Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

لمبی اردو سیکس کہانی: حویلی کا راز، حصہ 1

N
9 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

یہ لمبی اردو سیکس کہانی شروع ہوتی ہے پرانی دلی کی ایک حویلی کے دروازے پر، جہاں شام کے سائے لمبے ہو رہے تھے اور فلک کے دل کی دھڑکن اس کے کانوں میں بج رہی تھی۔ اس کا شوہر دبئی میں تھا، حویلی میں صرف وہ اور بوڑھی ملازمہ شمیم تھیں، اور آج اس کے دیور ریحان لکھنؤ سے آ رہے تھے۔ فلک نے آئینے میں خود کو دیکھا، دوپٹہ درست کیا، اور نہ جانے کیوں اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔

دروازے پر دستک ہوئی اور شمیم نے دروازہ کھولا۔ ریحان اندر داخل ہوا، اکتیس سال کا لمبا چوڑا نوجوان، آنکھوں میں شرارت اور ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ۔ اس نے فلک کو دیکھا اور ایک پل کو اس کی نظریں اس کے چہرے سے نیچے پھسل گئیں۔ فلک کو لگا جیسے اس کے جسم پر کسی نے گرم ہاتھ پھیر دیا ہو۔

"بھابھی، السلام علیکم،" ریحان نے کہا اور آگے بڑھ کر اس کے پاؤں چھوئے۔ اس کے ہاتھ کا لمس فلک کے پاؤں پر ایک لمحے کو ٹھہرا، ضرورت سے زیادہ دیر۔ فلک نے جلدی سے پاؤں پیچھے کھینچے اور مسکرا دی۔ "وعلیکم السلام۔ سفر کیسا رہا؟"

"لمبا، پر اب اچھا لگ رہا ہے،" ریحان نے کہا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس نظر میں کچھ تھا جو فلک کو اندر تک ہلا گیا۔ پانچ سال کی شادی میں اس کے شوہر نے اسے کبھی اس طرح نہیں دیکھا تھا۔

کھانے کے دوران ریحان نے اپنی نوکری کے انٹرویو کے بارے میں بتایا۔ وہ ایک ہفتہ حویلی میں ٹھہرے گا۔ فلک نے سنا اور دل میں ایک عجیب سی ہلچل محسوس کی۔ ایک ہفتہ، ایک ہی چھت کے نیچے، ایک جوان مرد کے ساتھ۔

رات کو فلک اپنے کمرے میں کپڑے بدل رہی تھی کہ دروازہ کھٹکا۔ "کون؟" "میں ہوں بھابھی، پانی ملے گا؟" ریحان کی آواز تھی۔ فلک نے جلدی سے قمیض پہنی، دوپٹہ کندھے پر ڈالا اور دروازہ کھولا۔ ریحان وہاں کھڑا تھا، صرف بنیان اور پاجامے میں، اس کے چوڑے کندھے اور بازو دیکھ کر فلک کا گلا خشک ہو گیا۔

اس نے پانی کا گلاس دیا اور ان کے ہاتھ چھو گئے۔ بجلی سی دوڑ گئی۔ ریحان نے گلاس لیا اور پیتے ہوئے اسے دیکھتا رہا۔ پانی کی بوند اس کے ہونٹ سے ٹھوڑی پر پھسلی اور فلک کی نظریں وہیں جم گئیں۔

"شکریہ بھابھی،" اس نے کہا اور مڑ گیا۔ فلک دروازہ بند کر کے بستر پر گر پڑی۔ اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا اور اس کی چوت میں ایک عجیب سی گدگدی ہو رہی تھی۔ اس نے خود کو ڈانٹا، یہ سوچنا بھی گناہ تھا۔ پر جسم تو جسم ہے۔

اگلی صبح فلک صحن میں کپڑے سکھا رہی تھی۔ ہوا چلی اور اس کا دوپٹہ اڑ کر ریحان کے چہرے پر جا گرا جو وہیں سے گزر رہا تھا۔ ریحان نے دوپٹہ پکڑا اور اسے سونگھ لیا۔ "بھابھی، آپ کے دوپٹے میں خوشبو ہے،" اس نے شرارت سے کہا۔

فلک کا چہرہ لال ہو گیا۔ "واپس دو،" اس نے ہاتھ بڑھایا۔ ریحان نے دوپٹہ دیا پر دیتے ہوئے اس کی کلائی پکڑ لی۔ "بھابھی، آپ بہت خوبصورت ہیں،" وہ دھیرے سے بولا۔ فلک نے کلائی چھڑائی اور اندر بھاگ گئی، پر اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔

دوپہر کو فلک نے شمیم کو بازار بھیج دیا۔ حویلی میں صرف وہ اور ریحان تھے۔ وہ باورچی خانے میں کھانا بنا رہی تھی کہ ریحان پیچھے آ کھڑا ہوا۔ "میں مدد کروں؟" "نہیں، تم بیٹھو،" فلک نے کہا۔

پر ریحان نہیں ہٹا۔ وہ اس کے اتنے قریب کھڑا تھا کہ فلک کو اس کے جسم کی گرمی محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے سبزی کاٹتے ہوئے ہاتھ بڑھایا اور ان کا کندھا چھو گیا۔ فلک نے چھری رکھ دی۔ "ریحان، پیچھے ہٹو۔"

"کیوں بھابھی؟ ڈر لگ رہا ہے؟" اس کی آواز میں چیلنج تھا۔ فلک مڑی اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ اتنا قریب تھا کہ اس کی سانس اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ ایک پل کو فلک کو لگا کہ وہ اسے چوم لے گا۔

اسی وقت فون بجا۔ فلک نے چونک کر فون اٹھایا، شوہر کا نمبر تھا۔ "ہیلو؟" "فلک، کیسی ہو؟ ریحان پہنچ گیا؟" شوہر کی آواز سن کر فلک کو گناہ کا احساس ہوا۔ "ہاں، پہنچ گیا ہے،" اس نے کہا اور ریحان کو دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔

شام کو چھت پر کپڑے اتارتے ہوئے فلک نے دیکھا کہ ریحان سامنے والی چھت پر کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے ہاتھ ہلایا۔ فلک نے نظریں چرائیں پر دل میں ایک شرارت جاگی۔ اس نے جان بوجھ کر جھک کر کپڑے اٹھائے، اس کا سینہ نمایاں ہو گیا۔ ریحان کی نظریں وہیں جم گئیں۔

رات کے کھانے کے بعد ریحان نے کہا، "بھابھی، چھت پر چلیں؟ موسم اچھا ہے۔" فلک نے ہچکچاہٹ کے بعد ہاں کہہ دی۔ چھت پر چاندنی پھیلی تھی اور ہوا میں ٹھنڈک تھی۔ وہ دونوں چارپائی پر بیٹھ گئے، درمیان میں تھوڑا فاصلہ۔

"بھابھی، بھائی آپ کو وقت نہیں دیتے،" ریحان نے اچانک کہا۔ فلک چونکی۔ "کیا مطلب؟" "مطلب یہ کہ دبئی میں بیٹھا شوہر بیوی کی تنہائی نہیں سمجھتا۔" اس کی آواز میں ہمدردی تھی اور کچھ اور بھی۔

فلک کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ پانچ سال سے وہ یہ تنہائی جھیل رہی تھی اور آج پہلی بار کسی نے اسے سمجھا تھا۔ ریحان نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ "روئیے مت بھابھی۔"

اس کے ہاتھ کی گرمی فلک کے جسم میں دوڑ گئی۔ اس نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش نہیں کی۔ ریحان نے اس کے قریب سرک کر اس کے آنسو پونچھے۔ اس کی انگلیاں اس کے گال پر ٹھہریں اور پھر اس کے ہونٹوں کے قریب آ گئیں۔

فلک نے آنکھیں بند کر لیں۔ ریحان کے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے چھو گئے۔ پہلے ہلکا سا لمس، پھر گہرا بوسہ۔ فلک کے جسم میں آگ لگ گئی۔ اس نے اسے دھکا نہیں دیا، بلکہ اس کے بالوں میں ہاتھ ڈال دیے۔

ریحان نے اسے چارپائی پر لٹا دیا اور اس کے اوپر آ گیا۔ اس کا لنڈ اس کی ران سے ٹکرا رہا تھا، سخت اور بڑا۔ فلک کی چوت بھیگ چکی تھی۔ پانچ سال کی پیاس آج بجھنے والی تھی۔

اس نے فلک کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ ایک، دو، تین۔ اس کے ممے ننگے ہو گئے۔ ریحان نے انہیں ہاتھوں میں لیا اور دبایا۔ فلک سسک پڑی۔ "آہ، ریحان۔"

ریحان نے اس کے ایک ممے کو منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا۔ دوسرے کو ہاتھ سے مسلتا رہا۔ فلک کی کمر دھنس گئی۔ اس نے ریحان کا سر اپنے سینے پر دبا دیا۔ "اور زور سے،" وہ بڑبڑائی۔

ریحان نیچے سرکا اور اس کی شلوار کا ناڑا کھول دیا۔ اس نے شلوار نیچے کھسکائی اور فلک کی چوت ننگی ہو گئی، بھیگی اور پھولی ہوئی۔ ریحان نے اسے دیکھا اور اس کی آنکھوں میں بھوک تھی۔

اس نے انگلی سے اس کی چوت کو چھوا اور فلک کانپ گئی۔ "کتنی گیلی ہو بھابھی،" وہ ہنسا۔ پھر اس نے منہ لگا دیا اور چوت کو چاٹنے لگا۔ فلک کی چیخ نکل گئی۔ اس کے شوہر نے کبھی یہ نہیں کیا تھا۔

ریحان کی زبان اس کے دانے پر گھوم رہی تھی اور فلک پاگل ہو رہی تھی۔ اس نے اس کے بال پکڑ لیے اور اس کا منہ اپنی چوت پر دبا دیا۔ "ہاں، وہیں، وہیں۔"

فلک کا جسم اکڑنے لگا۔ وہ جھڑنے والی تھی کہ اچانک نیچے سے شمیم کی آواز آئی، "بیگم صاحبہ! فون آیا ہے!" دونوں چونکے۔ ریحان نے منہ اٹھایا، اس کے ہونٹ گیلے تھے۔ فلک نے جلدی سے کپڑے درست کیے۔

نیچے جا کر فلک نے فون اٹھایا۔ شوہر تھا، ویڈیو کال پر۔ "فلک! تمہیں دیکھے مدت ہو گئی،" وہ بولا۔ فلک کا چہرہ لال تھا، ہونٹ سوجے ہوئے، بال بکھرے۔ "تم ٹھیک ہو؟ چہرہ لال کیوں ہے؟" شوہر نے پوچھا۔

"گرمی ہے،" فلک نے بہانہ بنایا۔ اس کے پیچھے ریحان کھڑا مسکرا رہا تھا۔ شوہر نے ریحان سے بات کی اور فون رکھ دیا۔ فلک نے سکھ کا سانس لیا، پر اس کی ٹانگوں کے درمیان اب بھی آگ تھی۔

رات کو فلک اپنے کمرے میں لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔ اس کے جسم میں اب بھی ریحان کے ہاتھوں کی یاد تھی۔ دروازے کے نیچے سے ایک کاغذ سرکا۔ فلک نے اٹھایا، ریحان کی لکھائی تھی، "آدھی رات کو چھت پر آ جانا۔ جو ادھورا رہا، وہ پورا کریں گے۔"

فلک کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے کاغذ مٹھی میں بھینچ لیا۔ جانا چاہیے یا نہیں؟ شوہر کی امانت، حویلی کی عزت، سب داؤ پر تھا۔ پر جسم کی پیاس عزت سے بڑی ہو گئی تھی۔

اس نے گھڑی دیکھی، بارہ بجنے میں دس منٹ تھے۔ وہ اٹھی اور دوپٹہ اوڑھا۔ دروازہ کھولنے ہی والی تھی کہ باہر سے دستک ہوئی۔ ہلکی سی، پر واضح۔ فلک کا سانس رک گیا۔

اس نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا۔ سامنے ریحان کھڑا تھا، آنکھوں میں وہی بھوک، ہونٹوں پر وہی مسکراہٹ۔ "انتظار نہیں ہوا بھابھی،" وہ دھیرے سے بولا اور اندر قدم رکھ دیا۔

فلک پیچھے ہٹی اور اس کی کمر دیوار سے لگ گئی۔ ریحان نے دروازہ بند کیا اور اس کی طرف بڑھا۔ اس کے ہاتھ فلک کی کمر پر آ گئے اور اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ اس کا سخت لنڈ فلک کے پیٹ سے ٹکرایا۔

"آج رات تم میری ہو،" ریحان نے اس کے کان میں سرگوشی کی اور اس کی گردن کو چوم لیا۔ فلک نے آنکھیں بند کر لیں اور اس کے بازوؤں میں ڈھے گئی۔ باہر چاند بادلوں میں چھپ گیا، جیسے اس راز پر پردہ ڈال رہا ہو۔

اگلا حصہ جلد آ رہا ہے...

🔒 Bonus Scene locked

ریحان کے کمرے کی بتی آدھی رات کو بھی جل رہی تھی، اور فلک کے ہاتھ میں اس کا چھوڑا ہوا نوٹ تھا۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
📖 The story continues

لمبی اردو سیکس کہانی: حویلی کا راز، حصہ 2

Continue to Part 2 →
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “لمبی اردو سیکس کہانی: حویلی کا راز، حصہ 1” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views