Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو نرس کی چدائی: لاہور کے فلیٹ میں ڈاکٹر بلال نے نرس عائشہ کو جم کر چودا

S
11 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

عائشہ نے لاکر کا دروازہ کھولا تو اندر ایک چھوٹا سا کاغذ رکھا تھا، جس پر بلال کی لکھائی میں صرف یہ لکھا تھا کہ آج رات چائے میرے فلیٹ پر پیو، اور اس لمحے اس کے دل نے زور سے دھڑکنا شروع کر دیا کیونکہ اسے لگا کہ یہ محض چائے کی دعوت نہیں ہے، بلکہ اردو نرس کی چدائی کی کہانی کا وہ پہلا صفحہ ہے جس کا وہ کئی ہفتوں سے انتظار کر رہی تھی۔

وہ پورے دن وارڈ میں مصروف رہی تھی، مریضوں کے چارٹ بھرے تھے، انجکشن لگائے تھے، ڈاکٹروں کی ہدایات نوٹ کی تھیں، مگر اس کاغذ کے بعد اس کا ذہن بار بار اسی لائن پر لوٹ رہا تھا اور وہ خود کو مسکراتے ہوئے روک نہیں پا رہی تھی۔

بلال اسی اسپتال میں سینئر ڈاکٹر تھا، چونتیس سال کا، لمبا قد، گہری آواز، اور جب وہ وارڈ سے گزرتا تو نرسیں اس کی طرف دیکھے بغیر نہیں رہتی تھیں، مگر عائشہ کے ساتھ اس کا رشتہ کچھ اور تھا، ایک خاموش سمجھوتہ، ایک آنکھوں کی بات۔

کئی ہفتوں سے دونوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی باتیں چل رہی تھیں، کبھی کافی کے کپ پر ہاتھ کا ہلکا سا چھونا، کبھی رات کی ڈیوٹی میں ایک دوسرے کے قریب کھڑے ہو کر مریض کا چارٹ دیکھنا، اور ہر بار ہوا میں ایک ایسی گرمی رہ جاتی تھی جسے دونوں محسوس کرتے تھے مگر زبان پر نہیں لاتے تھے۔

شام کو جب عائشہ نے یونیفارم بدلی تو اس نے آئینے میں خود کو دیکھا، بال کھولے، ہلکی سی لپ اسٹک لگائی، اور ایک سادہ مگر خوبصورت سوٹ پہنا جس میں اس کا جسم صاف نظر آ رہا تھا، اور اسے خود پر ایک عجیب اعتماد محسوس ہوا۔

اس نے بلال کو کوئی پیغام نہیں بھیجا، بس اس نوٹ کو اپنے بیگ میں رکھا اور اسپتال سے نکل کر رکشے میں بیٹھ گئی، اور پورے راستے اس کے دل میں ایک ہی سوال گھومتا رہا کہ آج رات کیا ہونے والا ہے۔

لاہور کی رات کی ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی، سڑکوں پر روشنیاں جل رہی تھیں، دکانیں کھلی تھیں، اور عائشہ کی سانسیں اس کے قدموں سے تیز چل رہی تھیں جب وہ بلال کے فلیٹ کی عمارت کے سامنے پہنچی۔

اس نے گھنٹی بجائی تو دروازہ فورا کھلا، بلال نے ایک سادہ کرتا پہنا تھا، اس کی آستینیں کہنیوں تک چڑھی تھیں، اس کے ہاتھوں کی رگیں صاف نظر آ رہی تھیں، اور اس کی مسکراہٹ میں وہی شرارت تھی جو عائشہ کو ہمیشہ اپنی طرف کھینچتی تھی۔

اندر آتے ہی عائشہ کو چائے کی خوشبو آئی، میز پر دو کپ رکھے تھے، ایک چھوٹی سی پلیٹ میں بسکٹ تھے، اور کمرے کی ہلکی روشنی میں صوفہ اتنا نرم لگ رہا تھا کہ اس پر بیٹھتے ہی سارا دن کی تھکن اتر گئی۔

بلال نے چائے کا کپ اس کی طرف بڑھایا اور کہا کہ تم آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو، عائشہ نے ہنس کر کہا کہ یہ تعریف ڈیوٹی کے بعد تھکی ہوئی نرس پر بھی جچتی ہے، اور دونوں کی ہنسی کمرے میں گونج گئی۔

باتیں آہستہ آہستہ گہری ہوتی گئیں، پہلے اسپتال کی باتیں، پھر تنہائی کی باتیں، پھر ان لمحوں کی باتیں جن میں دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا مگر کچھ کہا نہیں تھا، اور ہر جملے کے ساتھ ان کے درمیان فاصلہ کم ہوتا گیا۔

عائشہ نے ہی پہل کی، اس نے اپنا کپ میز پر رکھا، بلال کے قریب سرکی، اور اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا، اور اس چھوٹے سے لمس نے دونوں کے جسم میں ایک بجلی سی دوڑا دی۔

بلال نے اس کا ہاتھ تھاما، اس کی انگلیوں کو اپنی انگلیوں میں لیا، اور آہستہ سے اس کی کلائی پر ہونٹ رکھ دیے، عائشہ نے آنکھیں بند کر لیں اور ایک لمبی سانس لی، جیسے وہ اس لمحے کو اپنے اندر اتار رہی ہو۔

پھر بلال نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا، اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے، اور پہلا بوسہ اتنا نرم تھا کہ عائشہ کو لگا جیسے وقت رک گیا ہو، مگر دوسرا بوسہ گہرا تھا، بھوکا تھا، اور اس نے عائشہ کے ہونٹوں کو اپنے دانتوں سے ہلکا سا دبایا۔

عائشہ نے اس کی گردن میں اپنے ہاتھ ڈالے، اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی، اور جب بلال کی زبان اس کی زبان سے ملی تو اس کے جسم میں ایک لہر سی اٹھی اور اس کی چوت گیلی ہونے لگی۔

دونوں صوفے پر ایک دوسرے سے لپٹ گئے، بلال نے عائشہ کے سوٹ کے اوپر سے ہی اس کے مموں کو دبانا شروع کیا، عائشہ نے سسکی لی اور اس کے سینے سے لگ گئی، اور اس کے نپل سخت ہو کر کپڑے میں سے محسوس ہونے لگے۔

عائشہ نے بلال کا کرتا اوپر کیا، اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا، اس کے پیٹ کی سختی کو محسوس کیا، اور نیچے ہاتھ لے جا کر اس کے لنڈ کو پاجامے کے اوپر سے پکڑ لیا جو پہلے ہی سخت ہو چکا تھا۔

بلال نے آہ بھری اور کہا کہ تم نے تو مجھے پاگل کر دیا ہے، عائشہ نے مسکرا کر کہا کہ ابھی تو شروعات ہے، اور اس نے اس کے لنڈ کو آہستہ آہستہ اوپر نیچے سہلانا شروع کیا۔

پھر دونوں بیڈروم میں چلے گئے، عائشہ نے اپنا سوٹ اتارا، پھر قمیض اتاری، اور جب وہ صرف برا اور شلوار میں رہ گئی تو بلال کی آنکھیں اس کے جسم پر جم گئیں، اور اس نے اسے پیچھے سے پکڑ کر اس کی گردن پر بوسے دینے شروع کر دیے۔

بلال نے اس کی برا کا ہک کھولا، اس کے ممے آزاد ہو گئے، اس نے ایک ممے کو منہ میں لیا اور چوسنے لگا، دوسرے کو ہاتھ سے دبانے لگا، اور عائشہ نے اس کے سر کو اپنے سینے سے لگا کر سسکیاں لینا شروع کر دیں۔

عائشہ کی چوت اب پوری طرح گیلی تھی، اس کی شلوار کا کپڑا گیلا محسوس ہو رہا تھا، بلال نے اس کی شلوار اتاری، پھر اس کی پینٹی کو ایک طرف کیا، اور اپنی انگلی سے اس کی چوت کو سہلانے لگا۔

اس نے پہلے ایک انگلی اندر ڈالی، پھر دو انگلیاں، اور آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا، عائشہ نے اس کی کلائی پکڑ لی، اس کی ٹانگیں کھل گئیں، اور اس کے منہ سے سسکیاں نکلنے لگیں کہ اور تیز کرو، اور مت رکو۔

بلال نے اس کی چوت کو چاٹنا شروع کیا، اس کی زبان اس کے دانے پر گھوم رہی تھی، عائشہ نے بیڈ کی چادر کو مٹھیوں میں پکڑ لیا، اس کا جسم کپکپانے لگا، اور ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ وہ جھڑ گئی، اس کا پانی بہہ نکلا اور اس کی سانسیں تیز ہو گئیں۔

عائشہ نے بلال کو اپنے اوپر کھینچ لیا، اس کا پاجامہ اتارا، اس کے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لیا، اسے چوما، پھر اسے اپنے منہ میں لیا اور آہستہ آہستہ چوسنے لگی، اور بلال نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈال کر آہیں بھرنا شروع کر دیں۔

اس کا لنڈ اب پوری طرح سخت اور موٹا تھا، عائشہ نے اسے اپنی زبان سے اوپر سے نیچے تک چاٹا، اس کے سرے پر اپنی زبان گھمائی، اور بلال نے کہا کہ بس اب اور برداشت نہیں ہوتا، مجھے اندر جانا ہے۔

بلال نے عائشہ کو سیدھا لٹایا، اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں، اور اپنے لنڈ کو اس کی چوت کے منہ پر رکھ کر آہستہ سے اندر دھکیل دیا، عائشہ نے ایک لمبی آہ بھری کیونکہ اس کا لنڈ موٹا تھا اور اس کی چوت پوری طرح بھر گئی تھی۔

پہلے چند دھکے آہستہ تھے، پھر بلال کی رفتار بڑھ گئی، اس کا لنڈ اندر باہر ہو رہا تھا، عائشہ کی چوت کی دیواریں اسے جکڑ رہی تھیں، اور کمرے میں دونوں کی سانسوں اور جسموں کے ٹکرانے کی آواز گونج رہی تھی۔

عائشہ نے اس کی کمر کو اپنی ٹانگوں سے جکڑ لیا، اس کے ہونٹوں کو چومنے لگی، اور ہر دھکے پر وہ چیختی کہ ہاں، اور تیز، مجھے اور زور سے چودو، بلال نے اس کی بات مان لی اور اپنی رفتار اور بڑھا دی۔

کچھ دیر بعد بلال نے اسے پلٹا دیا، عائشہ گھوڑی بن گئی، اس نے اپنا سر تکیے پر رکھا، اپنی کمر کو اوپر اٹھایا، اور بلال نے پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ پھر سے ڈال دیا اور زور زور سے دھکے مارنے لگا۔

اس پوز میں بلال کا لنڈ اور گہرا جا رہا تھا، عائشہ کے ممے نیچے لٹک کر ہل رہے تھے، بلال نے ایک ہاتھ سے اس کا ممہ پکڑا، دوسرے سے اس کی کمر کو تھاما، اور اس کی چوت میں اپنا پانی چھوڑنے سے پہلے اس کی رفتار اور تیز کر دی۔

عائشہ پھر سے جھڑ گئی، اس کا جسم کانپنے لگا، اس کی چوت نے بلال کے لنڈ کو زور سے جکڑ لیا، اور اسی لمحے بلال بھی جھڑ گیا، اس کا گرم پانی عائشہ کی چوت میں بہہ گیا، اور دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر بیڈ پر گر گئے۔

کچھ دیر دونوں خاموش لیٹے رہے، صرف ان کی سانسیں سنائی دے رہی تھیں، بلال نے عائشہ کے ماتھے پر بوسہ دیا، عائشہ نے اس کے سینے پر سر رکھ دیا، اور اسے لگا کہ یہ رات ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

آدھے گھنٹے بعد عائشہ نے پھر پہل کی، اس نے بلال کے لنڈ کو ہاتھ میں لیا، اسے سہلایا، چوما، اور جب وہ پھر سخت ہو گیا تو وہ اس کے اوپر بیٹھ گئی اور اس کے لنڈ کو اپنی چوت میں خود اتار لیا۔

اوپر بیٹھ کر عائشہ نے آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونا شروع کیا، اس کے ممے بلال کے چہرے کے سامنے ہل رہے تھے، بلال نے انہیں چوسنا شروع کیا، اور عائشہ نے اپنی رفتار بڑھا دی، اس کی چوت بلال کے لنڈ پر پوری طرح بیٹھ رہی تھی۔

اس بار عائشہ نے کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھا، وہ کبھی آہستہ ہوتی، کبھی تیز، کبھی رک کر بلال کے ہونٹ چومتی، اور بلال نے اس کی کمر کو پکڑ کر اسے اور نیچے دبایا تاکہ اس کا لنڈ اور گہرا جائے۔

عائشہ کی سسکیاں پھر تیز ہو گئیں، اس نے بلال کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا کہ تمہارا لنڈ میری چوت کے اندر اتنا اچھا لگ رہا ہے کہ میں اسے باہر نہیں نکالنا چاہتی، اور بلال نے ہنس کر اسے اور زور سے نیچے کھینچ لیا۔

دونوں پھر ایک ساتھ جھڑے، عائشہ کا پانی بلال کے لنڈ پر بہہ گیا، بلال کا پانی اس کی چوت میں بھر گیا، اور عائشہ اس کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی، اس کے بال اس کے چہرے پر بکھر گئے۔

رات گہری ہوتی گئی، دونوں نے ایک ساتھ شاور لیا، پانی کے نیچے ایک دوسرے کو صابن لگایا، اور شاور میں بھی بلال نے عائشہ کی چوت کو انگلیوں سے سہلایا اور اس کے مموں کو چوما، جس سے عائشہ پھر گرم ہو گئی۔

شاور کے بعد دونوں نے تولیے لپیٹے، پھر سے بیڈ پر آ گئے، عائشہ نے بلال کے کان میں کہا کہ آج کی رات میں نے کبھی نہیں بھولنی، بلال نے جواب دیا کہ یہ تو صرف شروعات ہے، کل وارڈ میں پھر ملیں گے۔

عائشہ نے مسکرا کر اس کے ہونٹ چومے اور کہا کہ اگلی بار نوٹ تمہارے لاکر میں ہوگا، بلال نے ہنس کر کہا کہ میں انتظار کروں گا، اور اسی لمحے عائشہ نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے سینے پر رکھ لیا۔

🔒 Bonus Scene locked

بلال کے فلیٹ میں وہ لمحہ جب عائشہ نے دروازے کے پاس رک کر کچھ ایسا کہا کہ رات کا رخ ہی بدل گیا۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Shabana Ansari

View all →

Readers who enjoyed “اردو نرس کی چدائی: لاہور کے فلیٹ میں ڈاکٹر بلال نے نرس عائشہ کو جم کر چودا” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views