Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

نئی اردو سیکس کہانی: دروازے کے نیچے کا خط

N
14 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

دوپہر کے ڈھائی بجے تھے۔ صبا صحن سے کپڑے اتار کر اندر آئی تھی اور دروازے کی کنڈی لگانے کے لیے جھکی تو اس کی انگلیاں ایک تہہ شدہ کاغذ سے ٹکرائیں جو کسی نے دروازے کے نیچے سے اندر دھکیلا تھا۔ اس کا دل ایک دم اتنی زور سے دھڑکا کہ اسے لگا سینے کی دھڑکن پڑوس تک سنائی دے جائے گی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہ معمولی سا کاغذ اس کی زندگی کی ایک نئی اردو سیکس کہانی کا پہلا صفحہ بننے والا ہے۔

اس نے کانپتے ہاتھوں سے کاغذ کھولا۔ لکھاوٹ مردانہ تھی، موٹے حروف، بے باک انداز۔ نہ نام، نہ دستخط۔ صرف چند سطریں جو پڑھتے ہی اس کے گالوں پر لالی دوڑ گئی۔

خط میں لکھا تھا، میں روز تمہیں دیکھتا ہوں صبا۔ صبح جب تم بالکنی میں کپڑے سکھاتی ہو، دوپہر جب تم دکانوں سے سودا لے کر لوٹتی ہو۔ تمہاری چال، تمہاری ہنسی، تمہارے دوپٹے کی خوشبو، سب میرے دماغ میں بس گیا ہے۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب خاموش نہیں رہوں گا۔

اگلی سطر پڑھ کر اس کی سانس اٹک گئی۔ لکھا تھا، کل دوپہر تین بجے گلی کے اس پار میری درزی کی دکان پر آ جانا۔ پچھلا کمرہ کھلا ہوگا۔ میں تمہیں وہ سب دوں گا جو تمہارا شوہر مہینوں سے نہیں دے سکا۔ ڈرو مت، یہ خط کسی نے نہیں دیکھا، اور یہ بات صرف ہم دونوں کے درمیان رہے گی۔

صبا کا پہلا ردعمل غصہ تھا۔ اتنی ہمت۔ اس کے اپنے گھر کے دروازے پر یہ بے شرمی۔ اس نے خط کو مٹھی میں بھینچ لیا، پھاڑنے ہی والی تھی کہ انگلیاں رک گئیں۔ نہ جانے کیوں، کاغذ پھٹا نہیں۔ اس نے اسے دوبارہ سیدھا کیا، تہہ کیا، اور شلوار کی جیب میں رکھ لیا۔

کھڑکی کے پردے کی اوٹ سے اس نے گلی کے اس پار دیکھا۔ درزی کی دکان پر وہی لڑکا مشین پر جھکا تھا، چھببیس ستائیس سال کا، گھنے بال، مضبوط بازو۔ جیسے اسے محسوس ہوا ہو، اس نے سر اٹھایا اور سیدھا صبا کی کھڑکی کی طرف دیکھا۔ صبا جلدی سے پیچھے ہٹی، مگر دل کی دھڑکن اور تیز ہو گئی۔

اس کا شوہر رشید ٹرک ڈرائیور تھا، سکھر کے راستے پر گیا ہوا تھا، ابھی دو ہفتے اور لگنے تھے۔ گھر میں وہ اکیلی تھی، اور اس اکیلے پن میں آج ایک عجیب سی بجلی دوڑ گئی تھی۔ سارا دن وہ گھر کے کاموں میں لگی رہی، مگر دماغ اسی خط پر اٹکا رہا۔

رات کو بستر پر لیٹی تو خط تکیے کے نیچے تھا۔ اس نے اسے نکالا، مدھم بتی کی روشنی میں پھر پڑھا۔ پڑھتے پڑھتے اس کا ہاتھ خود بخود اس کے سینے سے ہوتا ہوا نیچے سرک گیا۔ شلوار کے ناڑے کے اوپر سے ہی اس نے اپنی چوت کو سہلایا، اور ایک دبی ہوئی آہ اس کے ہونٹوں سے نکل گئی۔ برسوں بعد اس کے جسم میں یہ آگ بھڑکی تھی۔

اگلی صبح اس نے فیصلہ کر لیا۔ وہ ڈرنے والی عورت نہیں تھی۔ اگر یہ لڑکا کھیل کھیلنا چاہتا ہے تو وہ کھیل کے اصول خود طے کرے گی۔ اس نے الماری سے ایک سلائی کے لیے رکھی قمیض نکالی اور دوپہر کے کھانے کے بعد دکان کی طرف چل دی۔

دکان میں گھستے ہی گھنٹی بجی۔ عمران نے سر اٹھایا اور اسے دیکھ کر اس کے ہاتھ میں پکڑا فیتہ کانپنے لگا۔ صبا نے قمیض کاؤنٹر پر رکھی اور سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ بولی، قمیض کی سلائی کرانی تھی، مگر لگتا ہے تمہارے ہاتھ آج کانپ رہے ہیں۔ خط لکھنے والوں کے ہاتھ تو نہیں کانپتے۔

عمران کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس نے ہکلاتے ہوئے کہا، باجی، وہ، میں، معاف کر دیں، مجھ سے غلطی ہو گئی۔ صبا نے ایک قدم آگے بڑھ کر اس کی بات کاٹ دی۔ غلطی۔ تم نے خط میں جو کچھ لکھا تھا، کیا وہ سب غلط تھا۔ یا صرف لکھنے کی ہمت تھی، کرنے کی نہیں۔

دکان میں ایک گاہک آنے کی آہٹ ہوئی تو عمران نے جلدی سے شٹر آدھا گرا دیا اور تختی لٹکا دی، دس منٹ میں واپس۔ پھر اس نے صبا کا ہاتھ پکڑا اور اسے دکان کے پچھلے کمرے میں لے گیا۔ کمرے میں کپڑوں کے تھان لگے تھے، ایک طرف چارپائی بچھی تھی، اور ہوا میں استری کیے کپڑوں کی مہک تھی۔

دروازہ بند ہوتے ہی صبا نے پہل کی۔ اس نے عمران کے کرتے کے بٹن کھولنے شروع کر دیے اور بولی، خط میں بڑی بڑی باتیں لکھی تھیں، اب کر کے دکھاؤ۔ عمران نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنی طرف کھینچا اور اس کی گردن پر بوسوں کی بوچھاڑ کر دی۔ صبا کی سانسیں تیز ہو گئیں۔

اس کے ہاتھ صبا کی قمیض کے اندر سرک گئے۔ اس نے اس کے ممے کو برا کے اوپر سے دبایا تو صبا کے منہ سے ایک سسکی نکلی۔ صبا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھا اور بولی، ایسے نہیں، پورا کھول کر۔ ہمت ہے تو پوری ہمت دکھاؤ۔

عمران نے کانپتے ہاتھوں سے اس کی قمیض اتاری، پھر شلوار کا ناڑا کھولا۔ صبا صرف برا اور پینٹی میں اس کے سامنے کھڑی تھی، اور اس کی آنکھوں میں کوئی شرم نہیں تھی، صرف بھوک تھی۔ عمران نے اسے چارپائی پر لٹایا اور اس کے اوپر جھک گیا۔

اس نے برا کی ہک کھولی اور اس کے ننگے مموں کو ہاتھوں میں بھر لیا۔ پھر ایک نپل کو منہ میں لے کر چوسنے لگا۔ صبا نے اس کے بالوں میں انگلیاں گاڑ دیں اور دبی آواز میں بولی، اور زور سے، ہاں، ایسے ہی۔ اس کا جسم کمان کی طرح تن گیا۔

عمران کا ہاتھ نیچے سرکا اور پینٹی کے اوپر سے اس کی چوت کو سہلانے لگا۔ کپڑا گیلا ہو چکا تھا۔ صبا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر ڈالا اور بولی، رک کیوں گئے، جو کرنا ہے کرو۔ اس کی انگلیاں اس کی گیلی چوت میں اتر گئیں اور صبا نے چارپائی کی چادر کو مٹھی میں بھینچ لیا۔

اب صبا کی باری تھی۔ اس نے عمران کو دھکا دے کر بٹھایا اور اس کی شلوار کھول دی۔ اس کا لنڈ تن کر کھڑا تھا، موٹا اور لمبا۔ صبا نے اسے ہاتھ میں پکڑا اور آہستہ آہستہ ہلانے لگی۔ عمران کے منہ سے گہری آہ نکلی۔ پھر صبا نے جھک کر اس کی ٹوپی کو زبان سے چاٹا اور پورے لنڈ کو منہ میں لے لیا۔

کمرے میں صرف چوسنے کی آوازیں اور دونوں کی تیز سانسیں گونج رہی تھیں۔ عمران نے اس کے سر کو پکڑا اور ہلکے دھکے دینے لگا۔ صبا کی آنکھوں میں پانی آ گیا، مگر اس نے منہ نہیں ہٹایا۔ جب اسے لگا کہ وہ چھوٹنے والا ہے تو اس نے لنڈ باہر نکالا اور بولی، ابھی نہیں، ابھی تو شروعات ہے۔

صبا چارپائی پر لیٹ گئی اور ٹانگیں پھیلا دیں۔ عمران اس کے درمیان آیا اور اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رگڑنے لگا۔ صبا بے چین ہو کر بولی، اندر ڈالو، اب تڑپاؤ مت۔ ایک ہی جھٹکے میں وہ پورا اس کے اندر اتر گیا، اور صبا کے حلق سے ایک لمبی آہ نکلی۔

دھکے تیز ہوتے گئے۔ چارپائی چرچرانے لگی۔ صبا نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں اور ہر دھکے پر اس کا ساتھ دینے لگی۔ کمرے کی ہوا بھاری ہو گئی تھی، پسینے اور خواہش کی ملی جلی مہک سے۔ صبا چلا اٹھی، اور زور سے، مجھے پورا چاہیے۔

عمران نے اسے پلٹا اور گھوڑی بنا دیا۔ پیچھے سے اس نے ایک بار پھر اس کی چوت میں لنڈ ڈالا اور اس کے کولہوں کو پکڑ کر تیز دھکے دینے لگا۔ صبا کے ممے ہر دھکے پر ہل رہے تھے۔ اس نے چادر کو دانتوں میں دبا لیا تاکہ آواز باہر نہ جائے۔

پھر صبا نے اسے روکا، خود اوپر آئی اور اس کے لنڈ پر بیٹھ گئی۔ اس نے آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونا شروع کیا، اپنے مموں کو خود ہی سہلاتے ہوئے۔ عمران نے اس کی کمر پکڑی اور نیچے سے دھکے دینے لگا۔ دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے میں گڑی تھیں۔

عروج قریب تھا۔ صبا کی چوت نے لنڈ کو بھینچنا شروع کر دیا۔ وہ چلائی، میں چھوٹنے والی ہوں، رک مت۔ عمران نے دو تین گہرے دھکے اور دیے اور دونوں ایک ساتھ چھوٹ گئے۔ صبا کا پانی بہہ نکلا، اور عمران کا گرم پانی اس کی چوت میں اتر گیا۔ وہ اس کے سینے پر ڈھیر ہو گئی، دونوں ہانپ رہے تھے۔

کچھ دیر بعد عمران نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور بولا، تم میری ہو گئیں صبا۔ صبا نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور سختی سے بولی، کسی کی نہیں ہوئی میں۔ یہ بات اس کمرے سے باہر نہیں جائے گی۔ سمجھے۔ اور ہاں، اگلا خط لکھنے کی ضرورت نہیں، میں خود آؤں گی۔

وہ کپڑے پہن کر دکان سے نکلی تو شام ڈھل رہی تھی۔ گلی میں کوئی نہیں تھا۔ گھر پہنچ کر اس نے دروازہ بند کیا اور آئینے میں خود کو دیکھا۔ اس کے چہرے پر وہ چمک تھی جو برسوں سے غائب تھی۔ اس رات اس نے اچھی طرح کھانا کھایا اور بے فکر سوئی۔

تین دن بعد دوپہر کو اس نے عمران کو فون کیا۔ نمبر اس نے خط والے کاغذ کے پچھلے حصے پر لکھا دیکھا تھا۔ بولی، رشید ابھی نہیں آئے گا۔ گھر آ جاؤ، دروازہ کھلا رکھوں گی۔ اور ہاں، وہ سلائی والی قمیض لیتے آنا، بہانہ چاہیے ہوگا۔

عمران قمیض کا تھیلا لیے آیا۔ اندر آتے ہی صبا نے دروازے کی کنڈی لگائی اور اسے بیڈروم میں لے گئی۔ بولی، آج جلدی نہیں ہے۔ آج پورا وقت ہے، اور آج میں تمہیں بتاؤں گی کہ عورت کو کیسے خوش کیا جاتا ہے۔

اس نے بتی مدھم کی اور خود اس کے سامنے کپڑے اتارنے لگی، ایک ایک کر کے۔ عمران کی نظریں اس کے جسم پر جمی تھیں۔ جب وہ ننگی اس کے سامنے کھڑی ہوئی تو اس نے اسے بستر پر دھکیلا اور اس کے کپڑے خود اتارنے لگی۔ اس کا لنڈ پہلے ہی تن چکا تھا۔

صبا اس کے اوپر لیٹ گئی اور اس کے ہونٹوں کو چومنے لگی، لمبے گہرے بوسے۔ اس کے ہاتھ اس کے سینے پر پھر رہے تھے، نیچے اس کی رانوں پر۔ عمران نے اس کے مموں کو دبایا اور اس کی گردن پر دانت گاڑ دیے۔ صبا نے سسکی بھری، آہستہ کاٹو، نشان نہ پڑے۔

پھر وہ نیچے سرکی اور اس کے لنڈ کو منہ میں لے لیا۔ اس بار وہ ماہر لگ رہی تھی، زبان سے ہر حصے کو چھیڑتے ہوئے۔ عمران نے بستر کی چادر مٹھی میں بھینچی۔ صبا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے چوسنا جاری رکھا، اور یہ نظارہ اسے پاگل کر رہا تھا۔

عمران نے اسے کھینچ کر اوپر کیا اور اس کی چوت کو چاٹنے لگا۔ اس کی زبان اندر باہر ہو رہی تھی، اور صبا کی کمر بستر سے اٹھ گئی۔ وہ چلائی، بس وہیں، وہیں رکو۔ اس کی انگلیاں اس کے بالوں میں تھیں، اور پھر ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ وہ چھوٹ گئی۔ اس کا پانی عمران کے چہرے پر تھا۔

ابھی اس کی سانس سنبھلی بھی نہ تھی کہ صبا نے اسے لٹایا اور خود اس کے لنڈ پر بیٹھ گئی۔ اس نے دھیرے دھیرے حرکت شروع کی، پھر رفتار بڑھائی۔ بستر چرچرانے لگا۔ صبا کے بال بکھر گئے، پسینہ اس کی گردن سے بہہ کر اس کے مموں کے درمیان اتر رہا تھا۔

عمران نے اسے پلٹ کر بستر کے کنارے پر جھکایا۔ پیچھے سے اس نے اس کی چوت میں لنڈ ڈالا اور اس کے بال پکڑ کر دھکے دینے لگا۔ صبا کی آہیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ اس نے تکیے میں منہ دبا لیا۔ عمران نے اس کی گانڈ پر ہلکا سا تھپڑ مارا تو وہ اور بھڑک اٹھی۔

دونوں پسینے میں شرابور تھے۔ عمران نے رفتار اور بڑھائی، اور صبا کو محسوس ہوا کہ ایک اور طوفان اٹھ رہا ہے۔ وہ چلائی، اندر ہی چھوڑو، آج کوئی ڈر نہیں۔ چند گہرے دھکوں کے بعد دونوں ایک ساتھ چھوٹ گئے۔ صبا بستر پر اوندھی گر پڑی، اس کا جسم کانپ رہا تھا۔

دیر تک وہ ایک دوسرے کی بانہوں میں لیٹے رہے۔ پھر صبا نے چائے بنائی اور دونوں صحن میں بیٹھ کر پینے لگے، جیسے پرانے شناسا ہوں۔ عمران بولا، تم بدل گئی ہو صبا۔ صبا نے مسکرا کر کہا، بدلی نہیں، جاگی ہوں۔ اور یہ جاگنا تمہارے اس خط کی مہربانی ہے۔

اگلے ہفتے شام کو صبا پھر دکان کے پچھلے کمرے میں تھی۔ اس بار وقت کم تھا، مگر بھوک زیادہ۔ دروازہ بند ہوتے ہی دونوں ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے۔ کپڑے جلدی جلدی اترے۔ عمران نے اسے تھانوں کے ڈھیر سے ٹکا کر کھڑے کھڑے اس کی چوت میں لنڈ ڈال دیا۔

کھڑے کھڑے دھکے، اس کے ممے ہاتھوں میں، اس کی گردن پر بوسے۔ صبا نے ایک ٹانگ اٹھا کر اس کی کمر پر رکھی تاکہ وہ اور گہرائی تک جائے۔ تھان ہل رہے تھے۔ وہ دبی آواز میں بولی، جلدی کرو، کوئی آ جائے گا۔ اس خطرے نے مزہ دوبالا کر دیا تھا۔

عمران نے اسے گھما کر تھان پر جھکایا اور پیچھے سے تیز دھکے دینے لگا۔ چند منٹوں میں دونوں چھوٹ گئے۔ صبا نے جلدی سے کپڑے پہنے، بال سنوارے، اور بولی، کل پھر۔ عمران نے اس کا ہاتھ چوما اور کہا، تمہارے بغیر اب نیند نہیں آتی۔

اس رات صبا کے دروازے کے نیچے ایک اور کاغذ ملا۔ وہی بے باک لکھاوٹ، پھر بغیر دستخط۔ لکھا تھا، تمہاری چوت کی خوشبو اب بھی میرے ہاتھوں میں بسی ہے۔ کل دوپہر کا انتظار نہیں ہو رہا۔ صبا نے خط پڑھ کر مسکرایا اور اسے اپنی دراز میں چھپا دیا۔

دو دن بعد اچانک ٹرک کا ہارن گلی میں گونجا۔ رشید وقت سے پہلے لوٹ آیا تھا۔ اس وقت عمران صبا کے گھر میں تھا۔ صبا نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اسے پچھلی گلی والے دروازے سے نکالا۔ عمران دیوار پھلانگ کر نکل گیا، اور صبا نے جلدی سے بال سنوار کر دروازہ کھولا۔

رشید دو دن رکا۔ صبا نے فرض شناس بیوی کا کردار نبھایا، مگر اس کا دل کہیں اور تھا۔ رشید کے جانے کی رات اس نے چین کی سانس لی۔ اگلی دوپہر دروازے پر دستک ہوئی۔ عمران تھا، ہاتھ میں ناپ کا فیتہ، چہرے پر وہی شرارت بھری مسکراہٹ۔

اس رات دیر گئے صبا چپکے سے گھر سے نکلی۔ گلی سنسان تھی۔ وہ عمران کی دکان کے شٹر کے پاس رکی، جیب سے ایک تہہ شدہ کاغذ نکالا اور اسے شٹر کے نیچے سے اندر سرکا دیا۔ کاغذ پر اس کی اپنی لکھاوٹ میں لکھا تھا، کل دوپہر، پچھلا کمرہ۔ دروازہ میں خود کھولوں گی۔ دستخط کی جگہ صرف ایک بوسے کا نشان تھا۔

شٹر کے نیچے سے کاغذ اندر سرک گیا، اور صبا مڑ کر اندھیرے میں گھر کی طرف چل دی، ہونٹوں پر وہ مسکراہٹ لیے جو صرف وہی سمجھ سکتی تھی۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “نئی اردو سیکس کہانی: دروازے کے نیچے کا خط” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views