اردو فحش کہانی: نوٹ نے جو راز کھولا
یہ اردو فحش کہانی اس رات سے شروع ہوتی ہے جب عائشہ نے اپنے شوہر کی پرانی شیروانی کی جیب میں ایک مڑا ہوا نوٹ پایا۔ لاہور کی اس سرد شام میں وہ الماری صاف کر رہی تھی اور فیصل دفتر کے کام سے دو دن کے لیے کراچی گیا ہوا تھا۔ نوٹ پر صرف ایک سطر لکھی تھی، رات گیارہ بجے، پرانی حویلی، کوئی سوال مت پوچھنا۔ عائشہ کی انگلیاں کانپنے لگیں اور اس کے دل کی دھڑکن اتنی تیز ہو گئی کہ اسے اپنی ہی سانس سنائی دینے لگی۔
عائشہ اکتیس سال کی تھی، شادی کو آٹھ سال ہو چکے تھے اور اس کی زندگی ایک طے شدہ راستے پر چل رہی تھی۔ صبح ناشتہ، دوپہر گھر کے کام، شام ٹی وی اور رات کو فیصل کے ساتھ وہی پرانی، جلدی ختم ہونے والی قربت۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک چھوٹا سا کاغذ کا ٹکڑا اس کی دنیا کو الٹ کر رکھ دے گا۔ اس نے نوٹ کو دوبارہ پڑھا، پھر تیسری بار، جیسے الفاظ بدل جائیں گے۔
پرانی حویلی۔ لاہور میں یہ نام صرف ایک ہی جگہ کے لیے استعمال ہوتا تھا، اندرون شہر میں ان کے خاندان کی وہ پرانی حویلی جو اب تقریبا خالی پڑی تھی۔ وہاں کبھی کبھار کوئی چوکیدار آتا تھا اور بس۔ عائشہ نے نوٹ کو اپنے دوپٹے کے پلّو میں باندھ لیا اور الماری بند کر دی۔ اس رات اسے نیند نہیں آئی۔ وہ کروٹیں بدلتی رہی اور سوچتی رہی کہ یہ نوٹ کس کے لیے تھا۔
اگلے دن دوپہر کو اس نے فیصل کو فون کیا۔ باتیں معمول کی تھیں، کھانا، بچے، کراچی کا موسم۔ عائشہ نے نوٹ کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے اندر ایک عجیب سا تجسس جاگ چکا تھا، ایک ایسی خواہش جو اس نے سالوں سے محسوس نہیں کی تھی۔ شام کو اس نے فیصلہ کر لیا۔ وہ خود اس حویلی جائے گی۔ رات گیارہ بجے۔
اس نے کالا سوٹ پہنا، چادر اوڑھی اور گھر سے نکلتے وقت ملازمہ سے کہا کہ وہ اپنی سہیلی کے گھر جا رہی ہے۔ رکشے میں بیٹھ کر اس کے ہاتھ پسینے سے بھیگ رہے تھے۔ اندرون شہر کی تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے اسے لگا جیسے وہ کوئی جرم کرنے جا رہی ہے۔ حویلی کے بڑے لکڑی کے دروازے پر پہنچ کر اس نے دستک دینے سے پہلے ایک لمحے کو رک کر سوچا، پھر اندر دھکیل دیا۔ دروازہ کھلا تھا۔
صحن میں چاندنی بکھری ہوئی تھی۔ پرانی حویلی کی دیواریں سائے میں ڈوبی تھیں اور ہوا میں نمی اور پرانی لکڑی کی خوشبو تھی۔ عائشہ دبے قدموں آگے بڑھی تو اسے اندرونی کمرے سے روشنی نظر آئی۔ ایک دیا جل رہا تھا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے دروازے کی دراڑ سے جھانکا اور اس کی سانس رک گئی۔ اندر عمران کھڑا تھا۔
عمران اس کا چچا زاد بھائی تھا، چونتیس سال کا، لمبا قد، گہری آنکھیں اور وہی شرارتی مسکراہٹ جو خاندان کی ہر شادی میں لڑکیوں کو دیوانہ بنا دیتی تھی۔ وہ کسی کا انتظار کر رہا تھا، بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ عائشہ سمجھ گئی۔ یہ نوٹ اسی نے لکھا تھا۔ کسی عورت کے لیے۔ اور وہ نوٹ غلطی سے فیصل کی شیروانی کی جیب میں چلا گیا تھا، شاید کسی شادی میں کپڑے بدلتے وقت۔
عائشہ کو پیچھے ہٹ جانا چاہیے تھا۔ اسے گھر لوٹ جانا چاہیے تھا اور یہ راز اپنے سینے میں دفن کر دینا چاہیے تھا۔ لیکن اس کے پاؤں جم گئے۔ عمران نے اسے دیکھ لیا۔ ایک لمحے کے لیے دونوں ساکت کھڑے رہے۔ پھر عمران کے چہرے پر حیرت کی جگہ ایک دھیمی مسکراہٹ آ گئی۔
عائشہ باجی، تم یہاں؟ اس کی آواز میں حیرت بھی تھی اور کچھ اور بھی، کچھ ایسا جسے عائشہ نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
تمہارا نوٹ میرے شوہر کی جیب میں کیسے پہنچا، عمران؟ عائشہ کی آواز کانپ رہی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی۔
عمران نے ایک لمبی سانس لی اور دیا کی روشنی میں قریب آیا۔ وہ نوٹ۔۔۔ وہ کسی اور کے لیے تھا۔ شادی میں شیروانیاں ایک جیسی تھیں، جیبیں بدل گئیں۔ اور وہ آئی نہیں۔ اس نے عائشہ کی طرف دیکھا، تم آ گئیں۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ دیا کی لو ہل رہی تھی اور دیواروں پر ان کے سائے ناچ رہے تھے۔ عائشہ نے محسوس کیا کہ اس کی چادر کا پلّو ڈھیلا ہو گیا ہے اور عمران کی نظریں اس کے گلے کی ننگی جلد پر ٹھہر گئی ہیں۔ اسے شرم آنی چاہیے تھی، لیکن اس کے بجائے اس کے جسم میں ایک گرم لہر دوڑ گئی۔
تمہیں جانا چاہیے، باجی، عمران نے دھیمی آواز میں کہا، لیکن وہ خود ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹا۔
اور اگر میں نہ جاؤں تو؟ عائشہ نے یہ الفاظ کہے اور خود حیران رہ گئی۔ اس کے ہونٹ خشک ہو رہے تھے۔
عمران نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس کے ہاتھ گرم اور مضبوط تھے۔ اس نے عائشہ کو اپنی طرف کھینچا اور ان کے جسم آپس میں ٹکرا گئے۔ عائشہ نے اس کے سینے کی دھڑکن محسوس کی، تیز، بے قرار۔ اس نے سر اٹھایا اور عمران نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔
یہ بوسہ فیصل کے بوسوں جیسا نہیں تھا۔ یہ بھوکا تھا، بے صبرا تھا، ایسا جیسے سالوں کی پیاس ایک لمحے میں بجھانی ہو۔ عمران کی زبان عائشہ کے منہ میں گھسی اور عائشہ نے ایک دبی ہوئی آہ بھری۔ اس کے ہاتھ عمران کی قمیض کے بٹنوں پر چلے گئے اور اس نے انہیں ایک ایک کر کے کھولنا شروع کر دیا۔
عمران نے عائشہ کی چادر کھینچ کر فرش پر پھینک دی۔ پھر اس نے اس کے سوٹ کے بٹن کھولے اور اس کی قمیض اتار دی۔ دیا کی روشنی میں عائشہ کا جسم چمک رہا تھا۔ اس نے کالا برا پہنا ہوا تھا اور اس کی چھاتیاں تنی ہوئی تھیں۔ عمران کی آنکھوں میں ایک جنگلی چمک آ گئی۔
تمہیں نہیں معلوم، باجی، تم کتنی خوبصورت ہو، اس نے سرگوشی کی اور اس کے برا کا ہک کھول دیا۔ عائشہ کی ننگی چھاتیاں آزاد ہو گئیں اور عمران نے ایک کو اپنے منہ میں لے لیا۔ اس نے نپل کو چوسا، کاٹا، چاٹا اور عائشہ چیخنے لگی۔
عمران، آہ، مت رکو، عائشہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں گاڑ دیں۔ اس کی چوت گیلی ہو رہی تھی اور اسے اپنی شلوار میں نمی محسوس ہو رہی تھی۔
عمران نے اس کی شلوار کا ناڑا کھولا اور اسے نیچے سرکا دیا۔ عائشہ کی گیلی چوت اس کے سامنے تھی۔ عمران گھٹنوں پر بیٹھ گیا اور اس نے اپنی زبان عائشہ کی چوت پر رکھ دی۔ عائشہ کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اس نے دیوار کا سہارا لیا اور اپنی کمر آگے کو دھکیل دی۔
عمران کی زبان اس کی چوت کے اندر گھس رہی تھی، اس کے دانے کو چوس رہی تھی۔ عائشہ کی آہیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کوئی مرد اسے اس طرح چاٹ سکتا ہے۔ فیصل تو بس جلدی جلدی کام ختم کرتا تھا۔ یہ۔۔۔ یہ تو ایک فن تھا۔
میں جھڑنے والی ہوں، عائشہ نے ہانپتے ہوئے کہا۔ اس کا جسم تن گیا، اس کی چوت نے عمران کی زبان کو زور سے دبایا اور پھر ایک زوردار لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔ وہ چیخی اور اس کا پانی نکل گیا۔ عمران نے اس کا سارا رس پی لیا۔
پھر عمران کھڑا ہوا اور اس نے اپنی شلوار اتار دی۔ اس کا لنڈ تنا ہوا تھا، موٹا اور لمبا، سرے پر چمک رہا تھا۔ عائشہ نے اسے دیکھا اور اس کے منہ میں پانی آ گیا۔ اس نے گھٹنے ٹیک دیے اور لنڈ کو اپنے منہ میں لے لیا۔
عائشہ نے لنڈ کو چوسنا شروع کیا۔ اس نے سرے کو چاٹا، پھر پورے لنڈ کو اپنے حلق تک اتارا۔ عمران نے اس کے سر کو پکڑ لیا اور آگے پیچھے کرنے لگا۔ عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے لیکن اس نے رکنے کا نام نہیں لیا۔ وہ اس لنڈ کو پوری طرح محسوس کرنا چاہتی تھی۔
بس، باجی، بس، عمران نے ہانپتے ہوئے کہا اور اسے اٹھا لیا۔ اس نے عائشہ کو فرش پر بچھے ہوئے گدے پر لٹا دیا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ پھر اس نے اپنا لنڈ عائشہ کی گیلی چوت کے منہ پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے میں اندر دھکیل دیا۔
عائشہ چیخ اٹھی۔ لنڈ اس کی چوت میں پورا گھس گیا تھا اور اسے لگا جیسے وہ پھٹ جائے گی۔ لیکن درد کے ساتھ ایک ایسا مزہ بھی تھا جو اس نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ عمران نے دھکے لگانے شروع کیے، پہلے آہستہ، پھر تیز، پھر اتنے تیز کہ گدا فرش پر سرکنے لگا۔
اور زور سے، عائشہ نے چیخ کر کہا، مجھے اور زور سے چودو۔ اس کے الفاظ سن کر عمران پاگل ہو گیا۔ اس نے عائشہ کی کمر پکڑ لی اور اسے اتنی شدت سے چودا کہ عائشہ کی چیخیں حویلی کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آنے لگیں۔
عمران نے پوزیشن بدلی۔ اس نے عائشہ کو الٹا لٹایا اور پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈال دیا۔ اس نے اس کے بال کھینچے اور اس کی گردن پر کاٹا۔ عائشہ کی چھاتیاں گدے پر رگڑ کھا رہی تھیں اور اس کی چوت عمران کے ہر دھکے پر پانی چھوڑ رہی تھی۔
میں پھر جھڑ رہی ہوں، عائشہ نے روتے ہوئے کہا۔ اس بار لہر اتنی شدید تھی کہ اس کا پورا جسم کانپنے لگا۔ اس کی چوت نے لنڈ کو نچوڑا اور عمران بھی نہ رک سکا۔ اس نے لنڈ باہر نکالا اور اپنا گرم پانی عائشہ کی پیٹھ اور چھاتیوں پر گرا دیا۔
دونوں ہانپتے ہوئے گدے پر گر پڑے۔ دیا بجھنے کو تھا۔ عائشہ نے عمران کے سینے پر سر رکھ دیا اور اس کی دھڑکن سنی۔ اسے کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔ صرف ایک گہری، مطمئن تھکن تھی۔
یہ غلط ہے، عائشہ نے سرگوشی کی، لیکن اس کی آواز میں کوئی سچائی نہیں تھی۔
تو پھر کل رات بھی آنا، عمران نے کہا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
اگلی رات فیصل ابھی کراچی میں تھا۔ عائشہ پھر حویلی گئی۔ اس بار عمران نے دروازہ پہلے سے کھولا ہوا تھا اور کمرے میں دو دیے جل رہے تھے۔ اس بار کوئی بات نہیں ہوئی۔ عمران نے اسے دیکھتے ہی اسے دیوار سے لگا لیا اور اس کے کپڑے پھاڑنے لگا۔
اس رات انہوں نے تین بار چدائی کی۔ ایک بار فرش پر، ایک بار پرانی چارپائی پر اور آخری بار صحن میں چاندنی کے نیچے۔ عائشہ نے عمران کے لنڈ کو اپنے منہ میں لے کر اس کا پانی پیا اور عمران نے اس کی چوت کو چاٹ چاٹ کر اسے دو بار جھڑایا۔ صبح اذان سے پہلے عائشہ گھر لوٹی۔
فیصل دو دن بعد واپس آیا۔ اسے کچھ پتہ نہیں چلا۔ لیکن عائشہ بدل چکی تھی۔ اس کی آنکھوں میں اب ایک راز تھا، اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ جو فیصل کبھی سمجھ نہیں پایا۔ اور اس کے دوپٹے کے پلّو میں اب بھی وہ نوٹ بندھا تھا، جس نے سب کچھ شروع کیا تھا۔
کبھی کبھی وہ نوٹ کو نکال کر دیکھتی ہے اور سوچتی ہے کہ اگر اس رات وہ گھر لوٹ جاتی تو کیا ہوتا۔ پھر وہ مسکراتی ہے، نوٹ کو واپس باندھ لیتی ہے اور عمران کے اگلے پیغام کا انتظار کرتی ہے۔ کیونکہ اب وہ جانتی ہے، کچھ راز کھلنے کے لیے ہی ہوتے ہیں۔
Readers who enjoyed “اردو فحش کہانی: نوٹ نے جو راز کھولا” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔