Pakistani Sex Kahani: لاہور میں عائشہ کی چوت میں عمران کا لنڈ
عائشہ اس دوپہر بالکونی میں کھڑی کپڑے سکھا رہی تھی جب نیچے ایک ٹرک آ کر رکا اور اس میں سے سامان اترنے لگا۔ لاہور کے اس فلیٹ میں نیا کرایہ دار آ رہا تھا، یہ بات عائشہ کو سوسائٹی کی عورتوں سے پہلے ہی معلوم ہو چکی تھی۔ اس نے دیکھا کہ ایک لمبا سا آدمی بکس اٹھا کر اوپر آ رہا ہے، اس کا چہرہ تھکا ہوا تھا لیکن مسکراہٹ تازہ تھی۔ جب وہ آدمی تیسرے فلور پر پہنچا تو اس نے عائشہ کی طرف دیکھا اور کہا، السلام علیکم، میں عمران ہوں، آپ کے سامنے والے فلیٹ میں رہنے آیا ہوں۔
عائشہ کی عمر تیس سال تھی، اس کا شوہر دبئی میں کام کرتا تھا اور سال میں ایک بار ہی لاہور آتا تھا۔ عمران کی عمر بتیس سال تھی، وہ ایک کمپنی میں نوکری کرتا تھا اور اکیلا رہتا تھا۔ دونوں کے درمیان پہلی ملاقات میں ہی ایک عجیب سی کشش پیدا ہو گئی تھی، عائشہ نے اسے پانی پلایا اور عمران نے شکریہ ادا کیا۔ عائشہ نے سوچا کہ نیا پڑوسی اچھا لگتا ہے، اور عمران نے سوچا کہ سامنے والی خاتون بہت خوبصورت ہے۔
اگلے دن عمران نے عائشہ سے کہا کہ اس کے فلیٹ میں کچھ سامان سیٹ کرنا ہے، کیا وہ مدد کر سکتی ہے۔ عائشہ نے خوشی سے ہاں کہہ دی، کیونکہ گھر میں اکیلی رہ کر وہ بور ہو چکی تھی۔ دونوں نے مل کر بکس کھولے، کتابیں الماری میں رکھیں، اور برتن کچن میں سجائے۔ کام کے دوران عمران نے کئی بار عائشہ کی طرف دیکھا، اور عائشہ نے بھی اس کی نظروں کو محسوس کیا۔ دونوں کے درمیان خاموشی میں کچھ ایسا تھا جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا تھا۔
شام کو جب کام ختم ہوا تو عمران نے عائشہ کو چائے کی دعوت دی۔ عائشہ نے پہلے تو جھجھک محسوس کی، لیکن پھر مان گئی۔ دونوں نے بالکونی میں بیٹھ کر چائے پی اور باتیں کیں، گاؤں کی، شہر کی، اور زندگی کی۔ عمران نے بتایا کہ اس کی بیوی سے طلاق ہو چکی ہے، اور اب وہ اکیلا رہتا ہے۔ عائشہ نے بتایا کہ اس کا شوہر دور رہتا ہے، اور کبھی کبھی راتیں بہت لمبی لگتی ہیں۔ دونوں کی آنکھوں میں ایک دوسرے کے لیے ہمدردی اور کچھ اور بھی تھا۔
چائے ختم ہونے کے بعد جب عائشہ جانے لگی تو عمران نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ عائشہ رک گئی، لیکن اس نے ہاتھ نہیں چھڑایا۔ عمران نے کہا، عائشہ، تم جانتی ہو میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔ عائشہ نے دھیرے سے کہا، عمران، یہ غلط ہے، کوئی دیکھ لے گا۔ عمران نے کہا، دروازہ بند ہے، کوئی نہیں دیکھے گا، اور اس نے عائشہ کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ عائشہ نے پہلے تو منع کیا، لیکن پھر اس نے عمران کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
عمران نے عائشہ کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور اسے دھیرے سے چومنے لگا۔ عائشہ کا جسم کانپنے لگا، کیونکہ اسے کسی نے اتنے پیار سے کبھی چھوا نہیں تھا۔ عمران نے اس کی قمیض کے بٹن کھولے اور اس کے بوبز پر ہاتھ رکھا۔ عائشہ کے بوبز بھرے ہوئے تھے اور عمران نے انہیں سہلایا، پھر ایک کو منہ میں لے کر چوسا۔ عائشہ نے آنکھیں بند کر لیں اور اس کے منہ سے ہلکی سی سسکاری نکلی۔
عائشہ نے کہا، عمران، دھیرے، مجھے ڈر لگ رہا ہے، اور عمران نے کہا، ڈرنے کی ضرورت نہیں، میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں دوں گا۔ اس نے عائشہ کی شلوار کی ڈوری کھولی اور اس کی چوت پر ہاتھ رکھا۔ عائشہ کی چوت گیلی ہو چکی تھی اور عمران کی انگلیاں اس پر گھومنے لگیں۔ عائشہ نے عمران کی شرٹ پکڑ لی اور کہا، ہاں، ایسے ہی، اور عمران نے دو انگلیوں سے اسے اور مشتعل کیا۔
عائشہ نے عمران کی پینٹ کی زپ کھولی اور اس کا لنڈ باہر نکالا۔ وہ دیکھ کر عائشہ نے شرما کر منہ پھیر لیا، لیکن عمران نے اسے اپنی طرف کیا اور کہا، چھو کر دیکھو، یہ تمہارے لیے ہی کھڑا ہے۔ عائشہ نے دھیرے سے اس کے لنڈ کو ہاتھ میں لیا اور سہلانے لگی۔ عمران نے آنکھیں بند کر لیں اور کہا، عائشہ، تم بہت اچھا کرتی ہو۔ عائشہ نے مسکرا کر اس کے لنڈ پر چوما اور پھر اسے منہ میں لے کر چوسنے لگی۔
عمران نے عائشہ کے بال پکڑ لیے اور دھیرے دھیرے اس کے منہ میں دھکے لگانے لگا۔ عائشہ نے اس کے لنڈ کو گہرائی تک لیا اور اپنی زبان سے اسے سہلایا۔ کچھ دیر بعد عمران نے عائشہ کو صوفے پر لٹایا اور اس کے اوپر آ گیا۔ اس نے اپنا لنڈ عائشہ کی چوت کے منہ پر رکھا اور دھیرے سے اندر دھکیلا۔ عائشہ نے کہا، آہ، عمران، بہت بڑا ہے، اور عمران نے رک کر اسے سنبھلنے کا وقت دیا۔
پھر عمران نے ایک زور کا دھکا لگایا اور اس کا لنڈ پوری طرح عائشہ کی چوت میں سما گیا۔ عائشہ نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر سے لپیٹ لیں اور دونوں ایک لے میں ہلنے لگے۔ عمران کے دھکے دھیرے دھیرے تیز ہونے لگے اور عائشہ کی سسکاریاں کمرے میں گونجنے لگیں۔ اس نے کہا، اور تیز، مجھے اور چاہیے، اور عمران نے اپنی رفتار بڑھا دی۔ عائشہ کے بوبز ہر دھکے کے ساتھ ہل رہے تھے اور عمران نے انہیں پکڑ کر دبایا۔
عائشہ کو پہلی بار عروج تب ملا جب عمران نے اسے نیچے سے اوپر کی طرف زور سے دھکا دیا۔ اس کا جسم کانپا اور اس کی چوت نے عمران کے لنڈ کو کس کر جکڑ لیا۔ اس نے کہا، میں جھڑ رہی ہوں، رکنا مت، اور عمران نے تب تک دھکے لگائے جب تک عائشہ کی سانسیں معمول پر نہیں آ گئیں۔ عائشہ نے اسے کس کر گلے لگا لیا اور کہا، عمران، آج پہلی بار مجھے ایسا لگا کہ میں بھی کسی کو چاہیے ہوں۔
لیکن دوپہر ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ عمران نے عائشہ کو پلٹ کر گھوڑی بنایا اور پیچھے سے اس کی چوت میں اپنا لنڈ پھر سے ڈالا۔ عائشہ نے صوفے کا کنارہ پکڑ لیا اور ہر دھکے پر آگے پیچھے ہونے لگی۔ عمران نے اس کی کمر پکڑی اور تیز دھکے لگائے، جس سے عائشہ کی چوت سے گیلا پن ٹپکنے لگا۔ اس نے کہا، عائشہ، تمہاری چوت بہت ٹائٹ ہے، اور عائشہ نے ہنس کر کہا، تو پھر اسے سنبھال کر رکھو۔
اس پوز میں عمران کا لنڈ عائشہ کی چوت میں اور گہرائی تک جا رہا تھا۔ عائشہ نے اپنی انگلیوں سے صوفے کو کس کر پکڑ لیا اور اس کے منہ سے مسلسل سسکاریاں نکل رہی تھیں۔ عمران نے اس کی پیٹھ پر چوما اور کہا، میں اب زیادہ دیر نہیں ٹک پاؤں گا۔ عائشہ نے کہا، میرے اندر ہی جھڑ جاؤ، آج کوئی ڈر نہیں ہے، اور یہ سن کر عمران کے دھکے اور تیز ہو گئے۔
عمران نے آخری زور کے دھکوں کے ساتھ اپنا پانی عائشہ کی چوت میں چھوڑ دیا۔ دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے اور پھر ایک دوسرے کے بغل میں گر گئے۔ عائشہ نے عمران کے سینے پر سر رکھا اور کہا، یہ بات کسی کو پتہ نہیں چلنی چاہیے۔ عمران نے کہا، یہ ہمارا راز رہے گا، عائشہ، اور عائشہ نے اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔
تھوڑی دیر بعد عائشہ اٹھی اور دونوں نے ساتھ میں چائے بنائی۔ کچن میں کھڑے ہو کر عمران نے اسے پیچھے سے گلے لگایا اور کہا، کل پھر سے۔ عائشہ نے ہنس کر کہا، پہلے آج تو ختم ہونے دو، لیکن اس کی آنکھوں میں صاف دکھ رہا تھا کہ وہ بھی یہی چاہتی تھی۔ دونوں نے چائے پی اور پھر عائشہ اپنے فلیٹ میں چلی گئی، لیکن دونوں کے دلوں میں ایک نئی آگ جل چکی تھی۔
اگلی صبح عائشہ جب کام پر آئی تو اس کے چہرے پر ایک الگ ہی چمک تھی۔ اس نے عمران کو دیکھ کر مسکرایا اور عمران نے اسے آنکھ ماری۔ دونوں نے دن بھر ایک دوسرے کو چھیڑا، کبھی ہاتھ چھو لیا، کبھی نظریں ملا لیں۔ دوپہر کو جب عائشہ نے کہا، عمران، آج میں تھوڑی دیر رک سکتی ہوں، تو عمران نے دروازہ بند کر دیا۔
اس دوپہر دونوں نے پھر سے ایک دوسرے کو پیار کیا، اس بار بیڈروم میں، بستر پر، پوری آزادی کے ساتھ۔ عائشہ نے اپنی قمیض خود اتاری اور عمران کے سامنے کھڑی ہو گئی، بغیر کسی شرم کے۔ عمران نے اسے بستر پر لٹایا اور اس کے پورے جسم پر چوما، گردن سے لے کر پیروں تک۔ عائشہ نے کہا، عمران، آپ تو مجھے ملکہ بنا دیتے ہو، اور عمران نے کہا، تم ملکہ ہی ہو، عائشہ۔
اس بار عائشہ اوپر آئی اور عمران کے لنڈ پر بیٹھ گئی۔ اس نے دھیرے دھیرے اوپر نیچے ہونا شروع کیا اور اس کے بوبز ہوا میں ہلنے لگے۔ عمران نے انہیں پکڑ کر دبایا اور عائشہ کی رفتار بڑھنے لگی۔ عائشہ نے آنکھیں بند کر لیں اور اپنے ہونٹوں کو کاٹ لیا، جب اس کا جسم پھر سے کانپنے لگا۔ اس نے کہا، میں پھر سے جھڑ رہی ہوں، اور عمران نے اسے کمر سے پکڑ کر اور تیز کر دیا۔
شام کو جب عائشہ جانے لگی تو عمران نے اسے ایک نیا دوپٹہ دیا، ہلکے گلابی رنگ کا۔ عائشہ نے اسے اوڑھا اور کہا، یہ میں ہمیشہ پہنوں گی، تاکہ آپ کو یاد رہے کہ پڑوس کیسے شروع ہوا تھا۔ عمران نے اسے گلے لگایا اور کہا، دوپٹے کی خوشبو اب مجھے تمہاری یاد دلائے گی، ہر صبح۔ عائشہ ہنس کر چلی گئی اور عمران دروازے پر کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
اس کے بعد ہر صبح دوپٹے کی خوشبو عمران کے لیے ایک نیا پیغام لاتی تھی۔ کبھی عائشہ اسے دیکھ کر مسکرا دیتی، کبھی دونوں کی نظریں مل جاتیں اور دونوں کو دوپہر کی یاد آ جاتی۔ ایک ہفتے بعد جب عائشہ کا شوہر دبئی سے فون پر بولا کہ وہ اگلے مہینے آئے گا، تو عائشہ نے عمران کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا، تب تک جتنا ہو سکے، اتنا پیار کر لیتے ہیں۔ عمران نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا، ہاں، ہر دن، ہر دوپہر۔
ایک مہینے بعد جب شوہر لاہور آیا تو عائشہ نے عام زندگی گزارنی شروع کر دی، لیکن اس کے دل میں عمران کی یادیں بسی ہوئی تھیں۔ عمران سامنے والے فلیٹ سے اسے دیکھ کر مسکراتا اور عائشہ آنکھوں کے اشارے سے جواب دیتی۔ دونوں جانتے تھے، ٹرک کی وہ آمد ان کی کہانی کی شروعات تھی، لیکن اختتام نہیں، اور اگلی بار جب کوئی نیا سامان آئے گا تو وہ پھر ملیں گے۔
اگلی شام جب عائشہ برتن دھو رہی تھی، عمران کچن میں آیا اور پیچھے سے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ دیا۔ عائشہ نے چونک کر دیکھا اور کہا، عمران، کوئی آ جائے گا، اور عمران نے کہا، دروازہ بند ہے، بس دو منٹ۔ اس نے عائشہ کی قمیض اوپر اٹھائی اور اس کی پیٹھ پر چوما، جس سے عائشہ کی سانسیں تیز ہو گئیں۔
عمران نے عائشہ کو سنک کے پاس گھمایا اور اس کی شلوار نیچے سرکائی۔ اس نے اپنا لنڈ نکالا اور عائشہ کی چوت میں دھیرے سے ڈالا، جبکہ عائشہ نے سنک کو پکڑ لیا۔ ہر دھکے کے ساتھ برتن ہلکے سے ہل رہے تھے اور عائشہ اپنی سسکاری دبانے کے لیے ہونٹ کاٹ رہی تھی۔ عمران نے اس کے بوبز پر ہاتھ رکھا اور کہا، تمہاری آواز سننا مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔
عائشہ نے کہا، عمران، جلدی کرو، کوئی بیل بجا دے گا، اور عمران نے اپنی رفتار بڑھا دی۔ اس نے آخری دھکوں کے ساتھ اپنا پانی عائشہ کی چوت میں چھوڑ دیا اور دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ عائشہ نے جلدی سے اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور ہنس کر کہا، کچن میں یہ پہلی بار ہوا ہے، اور آخری بار نہیں ہوگا۔
اس رات عائشہ جب گھر گئی تو اسے کچن کی وہ دو منٹ والی یاد بار بار آ رہی تھی۔ اگلی صبح جب وہ عمران سے ملی تو اس نے شرما کر نظریں جھکا لیں، لیکن عمران نے اسے آنکھ ماری اور دونوں کو پھر سے دوپہر کا انتظار تھا۔
دوپہر کو جب کام ختم ہوا تو عمران نے عائشہ کو بیڈروم میں بلایا اور اسے بستر پر لٹایا۔ اس نے عائشہ کے پیروں پر چوما اور دھیرے دھیرے اوپر کی طرف بڑھا، اس کی ٹانگوں پر، اس کی کمر پر، اور پھر اس کے بوبز پر۔ عائشہ نے آنکھیں بند کر لیں اور کہا، عمران، آپ ہر بار کچھ نیا کر دیتے ہو، اور عمران نے کہا، تمہارے لیے ہر بار نیا ہی ہوگا۔
عمران نے عائشہ کی چوت پر اپنی زبان رکھی اور اسے چاٹنے لگا، جس سے عائشہ کا جسم کانپنے لگا۔ اس نے عمران کے بال پکڑ لیے اور کہا، بس، اب اور نہیں، اندر ڈالو، اور عمران نے مسکرا کر اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈالا۔ دونوں ایک لے میں ہلنے لگے اور کچھ ہی دیر میں دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے، ایک دوسرے کی بانہوں میں لپٹے ہوئے۔
Readers who enjoyed “Pakistani Sex Kahani: لاہور میں عائشہ کی چوت میں عمران کا لنڈ” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔