گندی اردو کہانی: لکھنؤ اپارٹمنٹ میں فرح کی چوت میں بلال کا لنڈ، دیوار کے پار کی آواز سے شروع ہوئی رات
دیوار کے پار سے آنے والی آواز نے فرح کی نیند توڑ دی، وہ لکھنؤ کے اپنے اپارٹمنٹ میں بستر پر لیٹی ہوئی تھی اور پڑوسیوں کی لڑائی صاف سنائی دے رہی تھی، ایک مرد کی بھاری آواز اور ایک عورت کی تیز آواز آپس میں ٹکرا رہی تھیں، یہ ایک گندی اردو کہانی کی شروعات جیسی لگ رہی تھی، مگر فرح کے لیے یہ صرف آواز نہیں تھی، یہ ایک ایسی گرمی تھی جو اس کے جسم میں اتر گئی تھی۔
فرح کی عمر اٹھائیس سال تھی، وہ ایک دفتر میں کام کرتی تھی اور شام کو گھر آ کر اکیلی رہتی تھی، اس رات وہ پانی کا گلاس لے کر دیوار کے پاس کھڑی ہو گئی، اس نے کان لگا کر سنا، مرد کہہ رہا تھا کہ تم ہر بات پر جھگڑتی ہو، عورت کہہ رہی تھی کہ تم مجھے سمجھتے ہی نہیں، ان کی آوازوں میں غصہ تھا، مگر اس غصے کے نیچے کوئی اور تڑپ بھی چھپی ہوئی تھی۔
اچانک آوازیں دھیمی ہو گئیں، پھر ایک ہلکی سی ہنسی سنائی دی، پھر بستر کی چرچراہٹ، فرح کا دل تیز دھڑکنے لگا، وہ جانتی تھی کہ اب وہ دونوں کیا کر رہے ہیں، اس نے اپنے ہونٹ کاٹ لیے، اس کا جسم گرم ہو گیا، وہ واپس بستر پر آ گئی، مگر نیند اس کی آنکھوں سے دور چلی گئی تھی۔
اگلی شام فرح سیڑھیوں سے نیچے جا رہی تھی جب اس کی نظر بلال پر پڑی، بلال اکتیس سال کا تھا، لمبا قد، گہری آنکھیں، وہی پڑوسی جس کی آواز اس نے رات کو سنی تھی، اس نے مسکرا کر کہا کہ معاف کیجیے، رات کو شور ہو گیا تھا، فرح نے کہا کہ کوئی بات نہیں، مگر اس کی نظریں بلال کے ہونٹوں پر رک گئیں۔
بلال نے کہا کہ کبھی چائے پر آئیے، فرح نے ہنس کر کہا کہ چائے تو ٹھیک ہے، مگر شور کم کیجیے، بلال ہنس پڑا، اس کی ہنسی میں ایک شرارت تھی، فرح کے دل میں ایک عجیب سی ہلچل ہوئی، وہ سیڑھیاں اترتے ہوئے بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہی تھی، بلال بھی اسے دیکھ رہا تھا۔
اس رات پھر دیوار کے پار آواز آئی، مگر اس بار صرف ایک آواز تھی، بلال اکیلا فون پر کسی سے بات کر رہا تھا، وہ کہہ رہا تھا کہ وہ چلی گئی ہے، اب گھر خالی ہے، فرح نے سانس روک کر سنا، اس کا مطلب صاف تھا، بلال کی بیوی یا ساتھی گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی، فرح کے جسم میں ایک نئی امید جاگی۔
اگلے دن بلال نے دروازے پر دستک دی، اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی پلیٹ تھی، اس نے کہا کہ یہ بریانی ہے، زیادہ بن گئی تھی، فرح نے دروازہ کھولا، وہ ایک ہلکے سے قمیض میں تھی، بلال کی نظریں اس کے جسم پر ٹھہر گئیں، فرح نے اسے اندر بلا لیا، وہ دونوں صوفے پر بیٹھ گئے۔
باتیں کرتے ہوئے بلال کا ہاتھ فرح کے ہاتھ سے ٹکرا گیا، فرح نے ہاتھ نہیں ہٹایا، بلال نے اس کی انگلیاں پکڑ لیں، فرح کی سانسیں تیز ہو گئیں، اس نے بلال کی طرف دیکھا، بلال نے آگے بڑھ کر اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا، فرح نے اس کا جواب دیا، اس کا جسم اس کی طرف جھک گیا۔
بوسہ آہستہ شروع ہوا، پھر گہرا ہو گیا، بلال نے فرح کو اپنی بانہوں میں کھینچ لیا، اس کے سینے فرح کے سینے سے دب گئے، فرح نے اس کی قمیض پکڑ لی، اس کی زبان بلال کی زبان سے ملی، اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا، اس نے محسوس کیا کہ اس کی دھڑکن بلال بھی سن سکتا ہے۔
بلال نے فرح کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے، فرح نے اسے روکا نہیں، اس نے خود اپنی قمیض اتار دی، اس کا برا سامنے آ گیا، بلال نے اس کے سینوں کو ہاتھوں میں لیا، انہیں آہستہ سے دبایا، فرح نے آنکھیں بند کر لیں، اس کے منہ سے ہلکی سی آہ نکلی، اس کا جسم کانپنے لگا۔
بلال نے اس کا برا کھولا، اس کے سینے آزاد ہو گئے، اس نے ایک نپل کو منہ میں لیا، اسے چوسا، فرح نے اس کے بال پکڑ لیے، اس کا سر پیچھے کی طرف جھک گیا، بلال نے دوسرے سینے کو ہاتھ سے دبایا، فرح کی ٹانگیں خود بخود کھل گئیں، اس کا جسم اس کے لیے تیار تھا۔
فرح نے بلال کی قمیض اتاری، اس کے سینے پر بوسے دیے، اس نے اس کی پینٹ کھولی، اس کا لنڈ سخت ہو کر سامنے آ گیا، فرح نے اسے ہاتھ میں پکڑا، اس کی گرمی اس کی ہتھیلی میں محسوس ہوئی، اس نے اسے آہستہ سے ہلایا، بلال نے گہری سانس لی، اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔
فرح نیچے جھکی، اس نے بلال کے لنڈ کو اپنے منہ میں لیا، اس کی زبان اس کی نوک پر گھومی، بلال نے اس کے سر کو پکڑا، فرح نے اسے گہرائی تک لیا، اس کی آنکھوں میں پانی آ گیا، مگر وہ رکی نہیں، بلال کی آوازیں کمرے میں گونجنے لگیں، اس کا جسم تن گیا۔
بلال نے فرح کو روکا، اسے صوفے پر لٹایا، اس نے اس کی شلوار اتاری، اس کی چوت گیلی ہو چکی تھی، اس نے انگلیاں اس میں ڈالیں، فرح کا جسم اچھل پڑا، اس کی انگلیاں اندر باہر حرکت کرنے لگیں، فرح نے اس کے کندھے پکڑ لیے، اس کی آہیں بلند ہونے لگیں، اس کا جسم لذت سے کانپ رہا تھا۔
بلال نے اپنی زبان اس کی چوت پر رکھی، اسے چاٹا، فرح کی ٹانگیں اس کے کندھوں پر تھیں، اس کا جسم اوپر اٹھ گیا، اس نے چادر کو مضبوطی سے پکڑا، اس کا پہلا عروج قریب آ گیا، اس نے بلال کا نام پکارا، اس کا جسم لرز گیا، اس کی سانسیں بے ترتیب ہو گئیں۔
فرح ابھی سانس لے ہی رہی تھی کہ بلال اس پر چڑھ گیا، اس نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا، فرح نے ٹانگیں کھول دیں، بلال آہستہ سے اندر داخل ہوا، فرح کا جسم اسے مضبوطی سے پکڑ گیا، اس کی آنکھیں بلال کی آنکھوں میں تھیں، اس نے اس کی پیٹھ پکڑ لی۔
حرکت آہستہ شروع ہوئی، پھر تیز ہو گئی، فرح کی چوت بلال کے لنڈ کو جکڑ رہی تھی، ہر دھکے پر فرح آہ بھرتی تھی، بلال نے اس کے سینوں کو پکڑا، انہیں دبایا، اس نے اس کے ہونٹوں کو کاٹا، ان کے جسم پسینے میں بھیگ گئے، صوفہ ہلنے لگا۔
فرح نے بلال کو نیچے دھکیلا، وہ اس پر سوار ہو گئی، اس نے اپنی کمر گھمائی، بلال کا لنڈ اس کے اندر گہرائی تک گیا، اس کے بال اس کے چہرے پر گر گئے، اس نے بلال کے سینے پر ہاتھ رکھے، وہ اوپر نیچے ہونے لگی، بلال نے اس کی کمر پکڑ کر اسے حرکت دی۔
اس حالت میں فرح دوسری بار عروج پر پہنچی، اس کا جسم کانپ گیا، اس کی آواز بلند ہو گئی، بلال نے اسے مضبوطی سے پکڑا، پھر اسے الٹا کر پیچھے سے لیا، فرح گھٹنوں پر کھڑی ہو گئی، بلال نے پیچھے سے اس کی چوت میں داخل کیا، اس کی ہر ضرب گہری تھی۔
یہ حالت فرح کو بہت پسند آئی، بلال ہر بار زور سے دھکا دیتا تھا، اس کے سینے ہل رہے تھے، اس نے فرح کے بال پکڑے، انہیں آہستہ سے کھینچا، فرح کی آہیں جاری رہیں، اس کا جسم پھر عروج کی طرف بڑھ گیا، بلال کی رفتار بڑھ گئی، اس کی سانسیں تیز ہو گئیں۔
بلال عروج کے قریب آیا تو اس نے فرح کو پلٹا، پھر آمنے سامنے لیا، اس کا لنڈ اس کی چوت میں گہرائی تک تھا، فرح کی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد تھیں، وہ دونوں ایک ساتھ عروج پر پہنچے، بلال کا منی اس کے اندر بہہ گیا، فرح کے جسم نے اس کی گرمی محسوس کی، وہ لرز گئی۔
دونوں سانس لیتے ہوئے صوفے پر لیٹے رہے، بلال نے فرح کی پیشانی پر بوسہ دیا، فرح ہنسی، اس نے کہا کہ دیوار کے پار سننا کبھی اتنا اچھا نہیں لگا تھا، بلال ہنس پڑا، اس نے اس کا ہاتھ پکڑا، کل پھر ملنے کا وعدہ کیا، فرح کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
اس رات وہ دونوں پھر ملے، اس بار آہستہ، بلال نے فرح کے پورے جسم پر بوسے دیے، اس کی چوت کو پھر چھوا، فرح نے اس کے لنڈ کو ہاتھ میں لیا، اسے ہلایا، وہ دونوں ایک دوسرے کو دیر تک محسوس کرتے رہے، ان کے جسم پھر مل گئے، وہ دونوں آہستہ آہستہ عروج پر پہنچے۔
صبح فرح دفتر گئی تو اس کے چہرے پر ایک راز بھری مسکراہٹ تھی، سیڑھیوں پر بلال ملا تو اس نے آنکھ ماری، فرح نے اپنی فائل کھولی، مگر اس کا ذہن گزشتہ رات میں تھا، وہ اس کے پاس جا کر آہستہ سے بولی، آج رات پھر، بلال نے سر ہلایا۔
اس شام بلال پھر فرح کے گھر آیا، اس نے دروازہ کھولتے ہی اسے دیوار سے لگا کر بوسہ دیا، فرح نے اس کی قمیض پکڑ لی، وہ دونوں دالان میں ہی ایک دوسرے کو چھونے لگے، فرح کی سانسیں تیز ہو گئیں، بلال کے ہاتھ اس کے جسم پر گھومنے لگے، اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔
فرح نے بلال کو صوفے پر دھکیلا، وہ اس کی گود میں بیٹھ گئی، اس نے اپنی شلوار اوپر کی، بلال کے لنڈ کو اپنی چوت میں رکھا، بلال نے اس کی کمر پکڑی، فرح اوپر نیچے ہونے لگی، اس کے سینے بلال کے چہرے سے ٹکرائے، بلال نے انہیں چوسا، فرح زور سے آہ بھرنے لگی۔
صوفے پر ان کی رفتار بڑھ گئی، فرح کا جسم پسینے میں بھیگ گیا، بلال نے اس کے کولہے پکڑ کر دبائے، فرح نے اس کی گردن کاٹی، بلال نے اس کی چوت میں گہرائی تک داخل کیا، فرح عروج پر پہنچی تو اس نے بلال کا نام پکارا، بلال نے اسے مضبوطی سے گلے لگایا۔
پھر وہ دونوں کمرے میں گئے، فرح آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنی قمیض اتارنے لگی، بلال نے پیچھے سے اسے گلے لگایا، اس کے ہاتھ اس کے سینوں پر تھے، اس کا لنڈ اس کی پیٹھ سے ٹکرا رہا تھا، فرح نے آئینے میں اس کی آنکھوں کو دیکھا، اس کے ہونٹ کھل گئے۔
آئینے کے سامنے بلال نے اسے پیچھے سے لیا، فرح کے ہاتھ میز پر تھے، اس کی ہر ضرب گہری تھی، اس کی چوت بلال کے لنڈ کو مضبوطی سے پکڑ رہی تھی، فرح کی آہیں کمرے میں گونج رہی تھیں، بلال نے اس کے بال پکڑے، انہیں آہستہ سے کھینچا، فرح کا جسم کانپ گیا۔
وہ دونوں بستر پر گر گئے، فرح نے بلال کے لنڈ کو منہ میں لے کر پھر چوسا، اس کی زبان اس کے گرد گھومی، بلال نے اس کے سر کو سہلایا، اس کا جسم تن گیا، اس نے فرح کو روکا، وہ اس پر چڑھ گیا، اس کا لنڈ پھر اس کی چوت میں داخل ہو گیا، وہ دونوں آہستہ آہستہ حرکت کرنے لگے۔
اس بار وہ دونوں دیر تک ایک دوسرے کو محسوس کرتے رہے، فرح نے بلال کا چہرہ دیکھا، بلال نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا، فرح کی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد تھیں، اس کی انگلیاں اس کی پیٹھ پر لکیریں بنا رہی تھیں، وہ دونوں ایک ساتھ سانس لے رہے تھے، عروج آیا تو فرح نے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا، بلال کا منی اس کے اندر بہہ گیا، فرح نے اس کی گرمی محسوس کی، وہ دونوں مسکرائے، فرح نے آہستہ سے کہا، کل رات پھر دیوار کے پار سے تمہاری آواز سنوں گی، بلال نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا۔
اگلی رات بلال چھت پر فرح کا انتظار کر رہا تھا، فرح آہستہ سے سیڑھیاں چڑھ کر آئی، اس نے ایک ہلکی سی قمیض پہنی ہوئی تھی، بلال نے اسے دیکھتے ہی اپنی بانہوں میں کھینچ لیا، اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا، فرح نے اس کا جواب دیا، ان کے اوپر آسمان میں تارے چمک رہے تھے، ان کی سانسیں تیز ہو گئیں۔
بلال نے فرح کی قمیض کے بٹن کھولے، اس کے سینوں کو ہاتھوں میں لیا، انہیں آہستہ سے دبایا، فرح نے آنکھیں بند کر لیں، اس کے منہ سے ہلکی سی آہ نکلی، بلال نے اس کے ایک نپل کو منہ میں لیا، اسے چوسا، فرح نے اس کے بال پکڑ لیے، اس کا جسم کانپنے لگا۔
فرح نے بلال کی قمیض اتاری، اس کے سینے پر بوسے دیے، اس نے اس کی پینٹ کھولی، اس کا لنڈ سخت ہو کر سامنے آ گیا، فرح نے اسے ہاتھ میں پکڑا، اسے آہستہ سے ہلایا، پھر نیچے جھک کر اسے اپنے منہ میں لیا، اس کی زبان اس کی نوک پر گھومی، بلال نے گہری سانس لی۔
بلال نے فرح کو روکا، اسے دیوار سے لگایا، اس نے اس کی شلوار اتاری، اس کی چوت گیلی ہو چکی تھی، اس نے انگلیاں اس میں ڈالیں، فرح کا جسم اچھل پڑا، اس کی انگلیاں اندر باہر حرکت کرنے لگیں، فرح نے اس کے کندھے پکڑ لیے، اس کی آہیں بلند ہونے لگیں، اس کا جسم لذت سے کانپ رہا تھا۔
بلال نے اپنی زبان اس کی چوت پر رکھی، اسے چاٹا، فرح کی ٹانگیں اس کے کندھوں پر تھیں، اس کا جسم اوپر اٹھ گیا، اس نے بلال کے بال پکڑے، اس کا پہلا عروج قریب آ گیا، اس نے بلال کا نام پکارا، اس کا جسم لرز گیا، اس کی سانسیں بے ترتیب ہو گئیں۔
فرح ابھی سانس لے ہی رہی تھی کہ بلال اس پر چڑھ گیا، اس نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا، فرح نے ٹانگیں کھول دیں، بلال آہستہ سے اندر داخل ہوا، فرح کا جسم اسے مضبوطی سے پکڑ گیا، اس کی آنکھیں بلال کی آنکھوں میں تھیں، حرکت آہستہ شروع ہوئی، پھر تیز ہو گئی، ہر دھکے پر فرح آہ بھرتی تھی۔
فرح نے بلال کو نیچے دھکیلا، وہ اس پر سوار ہو گئی، اس نے اپنی کمر گھمائی، بلال کا لنڈ اس کے اندر گہرائی تک گیا، وہ اوپر نیچے ہونے لگی، بلال نے اس کی کمر پکڑ کر اسے حرکت دی، اس حالت میں فرح دوسری بار عروج پر پہنچی، اس کا جسم کانپ گیا، بلال نے اسے الٹا کر پیچھے سے لیا، وہ دونوں ایک ساتھ عروج پر پہنچے، بلال کا منی اس کے اندر بہہ گیا، فرح نے اس کی گرمی محسوس کی، وہ دونوں مسکرائے، فرح نے آہستہ سے کہا، کل پھر چھت پر ملوں گی۔
Readers who enjoyed “گندی اردو کہانی: لکھنؤ اپارٹمنٹ میں فرح کی چوت میں بلال کا لنڈ، دیوار کے پار کی آواز سے شروع ہوئی رات” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔