سچی اردو سیکس کہانی: لکھنؤ کی درزن رضیہ
یہ سچی اردو سیکس کہانی ہے، میرے اپنے لفظوں میں لکھی ہوئی، اور میں ہوں رضیہ، بتیس سال کی، لکھنؤ کے امین آباد بازار میں "رضیہ بوتیک" چلانے والی ایک بیوہ۔ دو سال ہو گئے میرے شوہر کو گئے ہوئے، اور ان دو سالوں میں میں نے سلائی مشین کی سوئی کو ہی اپنا ساتھی بنا لیا تھا۔ اس صبح میں نے ابھی دکان کا شٹر آدھا ہی اٹھایا تھا کہ گلی کے موڑ سے ایک نوجوان آتا دکھائی دیا، کندھے پر بھاری سلائی مشین لادے ہوئے، پسینے میں بھیگی قمیض، اور وہی تھا عمران، چھبیس سال کا میرا نیا ماسٹر کٹر، اپنے پہلے دن کی صبح۔
میں نے اسے اندر بلایا اور کہا مشین وہاں کونے میں رکھ دو۔ وہ جھکا تو اس کی بانہوں کے پٹھے تن گئے، اور میں نے خود کو اسے گھورتے ہوئے پکڑا۔ دو سال سے میں نے کسی مرد کو اس نظر سے نہیں دیکھا تھا۔ اس نے کہا، "باجی، میں عمران، کل فون پر بات ہوئی تھی۔" میں نے مسکرا کر کہا، "باجی نہیں، رضیہ باجی بھی نہیں، بس رضیہ کہو۔ دکان میں سب برابر ہیں۔"
دکان چھوٹی تھی مگر سجی ہوئی۔ آگے کاؤنٹر، پیچھے ٹرائل روم جس کا پردہ ہمیشہ آدھا کھلا رہتا، اور سب سے پیچھے کٹنگ روم جہاں بڑی میز پر کپڑے کٹتے تھے۔ میں نے اسے کام سمجھایا، ناپ لینے کا طریقہ، کپڑے کی پہچان۔ وہ دھیان سے سنتا رہا، اور اس کی نظریں بار بار میرے ہاتھوں پر ٹک جاتیں۔ میں نے جان بوجھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا، "گھبراؤ مت، میں سب سکھا دوں گی۔"
پہلی گاہک گیارہ بجے آئی، ایک نوجوان لڑکی شادی کے جوڑے کے لیے۔ میں نے عمران سے کہا، "آؤ، ناپ لینا سیکھو۔" لڑکی ٹرائل روم میں گئی اور میں نے پردہ کھینچا۔ عمران اندر آیا، ہاتھ میں انچی ٹیپ۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر لڑکی کی کمر پر رکھا اور کہا، "ڈھیلا نہیں، کس کے ناپ لو۔" لڑکی ہنس پڑی۔ عمران کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اور میں نے اس کے کان میں سرگوشی کی، "ہاتھ مت کانپنے دو۔ عورتیں کانپتے ہاتھوں کو فوراً پہچان لیتی ہیں۔"
لڑکی کے جانے کے بعد دکان میں سناٹا چھا گیا۔ میں نے عمران سے کہا کہ میرا ناپ لے کر دکھائے، "پریکٹس ہو جائے گی۔" وہ ہچکچایا۔ میں ٹرائل روم میں گئی اور پردہ کھلا چھوڑ دیا۔ میں نے کہا، "آؤ۔" وہ اندر آیا، انچی ٹیپ لے کر۔ میں نے اس کے ہاتھ اپنے کندھوں پر رکھے۔ اس کی انگلیاں میری گردن کو چھو گئیں تو میرے جسم میں ایک لہر دوڑ گئی۔ میں نے آہستہ سے کہا، "نیچے، کمر تک لے جاؤ۔"
اس نے ٹیپ میری کمر کے گرد لپیٹی۔ اس کے ہاتھ میری پیٹھ پر تھے، گرم اور مضبوط۔ میں نے جان بوجھ کر سانس تیز کی۔ میں مڑی اور اس کے اتنے قریب آ گئی کہ میری سانس اس کے چہرے پر پڑنے لگی۔ میں نے کہا، "عمران، تمہارے ہاتھ بہت گرم ہیں۔" اس نے نظریں جھکا لیں۔ میں نے اس کی ٹھوڑی اوپر کی اور کہا، "ڈرو مت، میں کاٹتی نہیں۔" پھر میں نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔
وہ پہلے تو ساکت رہا، پھر اس نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ اس کا بوسہ بھوکا تھا، نوجوان اور بے قرار۔ میں نے اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ اس کے سینے کے بال میرے ہاتھوں میں چبھے۔ میں نے اس کی گردن چومی، اس کے کان کی لو کو دانتوں سے دبایا۔ وہ کراہا، "رضیہ۔۔۔" میں نے کہا، "شش، دکان کھلی ہے، آواز نیچی رکھو۔"
میں نے اس کی پینٹ کی زپ کھولی اور اس کا لنڈ باہر نکالا۔ وہ سخت اور گرم تھا، میری مٹھی میں دھڑک رہا تھا۔ میں نے اسے آہستہ آہستہ ہلانا شروع کیا۔ عمران کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ میں گھٹنوں پر بیٹھ گئی اور اسے اپنے منہ میں لے لیا۔ اس کا ذائقہ نمکین تھا، مردانہ۔ میں نے اس کی ٹوپی کو زبان سے چاٹا، پھر پورا اندر لیا۔ وہ میرے بالوں میں انگلیاں پھنسائے کراہنے لگا۔
اچانک باہر گھنٹی بجی۔ کوئی گاہک آیا تھا۔ میں فوراً اٹھی، ہونٹ پونچھے، اور پردہ ٹھیک کر کے باہر نکل آئی۔ عمران ٹرائل روم میں ہی رہا، سانس سنبھالتا ہوا۔ گاہک ایک ادھیڑ عمر کی عورت تھی، صرف دوپٹے کا کپڑا لینے آئی تھی۔ میں نے جلدی سے اسے نمٹایا۔ جب وہ گئی تو میں نے شٹر آدھا گرا دیا اور بورڈ پلٹ کر "بند ہے" کر دیا۔
میں واپس ٹرائل روم گئی۔ عمران وہیں کھڑا تھا، اس کا چہرہ سرخ۔ میں نے کہا، "جہاں چھوڑا تھا، وہیں سے شروع کرتے ہیں۔" میں نے اپنی قمیض اتاری، پھر شلوار۔ میں صرف انگیا اور پینٹی میں اس کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کی نظریں میرے دودھ پر جم گئیں۔ میں نے انگیا کا ہک کھولا اور میرے دودھ آزاد ہو گئے، بھاری اور نرم۔ وہ آگے بڑھا اور انہیں اپنے ہاتھوں میں لے لیا، دبایا، چوما۔
اس نے میرے ایک نپل کو منہ میں لیا اور چوسنے لگا۔ میں نے اس کے بال پکڑ لیے۔ میری چوت گیلی ہونے لگی۔ میں نے اسے کٹنگ روم میں لے جایا اور بڑی میز پر لٹا دیا۔ میں اس کے اوپر چڑھ گئی۔ میں نے اس کی پینٹ پوری اتار دی۔ اس کا لنڈ اب پوری طرح تنا ہوا تھا، میری رانوں کے درمیان دھڑک رہا تھا۔
میں نے اپنی پینٹی ایک طرف کی اور اس کی ٹوپی کو اپنی چوت کے ہونٹوں پر رگڑا۔ میں پوری طرح گیلی ہو چکی تھی۔ میں نے آہستہ آہستہ اس پر بیٹھنا شروع کیا۔ وہ میرے اندر اترنے لگا، انچ در انچ۔ میں نے ایک لمبی سانس لی اور پوری طرح اس پر بیٹھ گئی۔ اس کا لنڈ میری چوت میں پورا سما گیا تھا۔ میں نے کچھ لمحے ویسے ہی رہ کر اسے محسوس کیا۔
پھر میں اس کے اوپر ہلنے لگی۔ میز ہل رہی تھی۔ میں نے اس کے ہاتھ اپنے دودھ پر رکھے۔ وہ انہیں دباتا رہا، میرے نپل کو انگلیوں میں مروڑتا رہا۔ میں نے رفتار بڑھائی۔ میری چوت اس کے لنڈ کو کس کر پکڑ رہی تھی۔ میں نے کہا، "اور زور سے، عمران، اور زور سے۔" اس نے میری کمر پکڑی اور نیچے سے دھکے لگانے لگا۔ ہر دھکے کے ساتھ میز چرمرائی۔
میں نے پوزیشن بدلی۔ میں میز پر الٹی لیٹ گئی اور اسے پیچھے سے آنے کو کہا۔ اس نے میری کمر پکڑی اور ایک ہی جھٹکے میں پورا اندر کر دیا۔ میں چیخ پڑی، پھر منہ دبا لیا۔ وہ تیز تیز دھکے لگانے لگا۔ اس کے ہاتھ میری چھاتیوں تک پہنچے اور انہیں پیچھے سے دبایا۔ میری چوت میں آگ لگی ہوئی تھی۔ میں نے کہا، "مت رکو، مت رکو۔"
مجھے لگا میرا پانی نکلنے والا ہے۔ میری ٹانگیں کانپنے لگیں۔ میں نے چلایا، "عمران، میں جھڑنے والی ہوں۔" اس نے رفتار اور بڑھا دی۔ ایک زوردار لہر میرے جسم میں دوڑی اور میں جھڑ گئی، میری چوت اس کے لنڈ کے گرد سکڑتی رہی۔ اس کے چند دھکوں بعد وہ بھی جھڑ گیا، گرم پانی میرے اندر چھوڑتا ہوا۔ ہم دونوں ہانپتے ہوئے میز پر ڈھیر ہو گئے۔
ہم نے کپڑے ٹھیک کیے اور شٹر اٹھا دیا۔ شام تک ہم نے کام کیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، مگر ہر بار جب ہماری نظریں ملتیں، میرے پیٹ میں گدگدی ہوتی۔ ایک بار میں نے اسے چائے کا کپ تھمایا تو اس نے میری انگلیاں دبا دیں۔ میں نے جلدی سے ہاتھ چھڑایا، مگر میرے گال سرخ ہو گئے تھے۔
آخری گاہک کے جانے کے بعد میں نے شٹر گرا دیا۔ عمران نے پوچھا، "میں چلوں؟" میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا، "ابھی نہیں۔" میں نے دکان کی لائٹیں مدھم کیں اور اسے کاؤنٹر کے پیچھے کھینچ لیا۔ میں نے اس کی قمیض اتاری اور اس کے سینے پر اپنے ہونٹ پھیرے۔ وہ مجھے دیکھتا رہا، اس کی آنکھوں میں وہی بھوک تھی جو دوپہر کو تھی۔
میں نے اسے فرش پر بٹھایا اور اس کی گود میں بیٹھ گئی۔ اس بار میں نے اس کا لنڈ منہ میں لے کر اچھی طرح چوسا، گہرائی تک۔ میری زبان اس کی ٹوپی کے گرد گھومتی رہی۔ وہ میرے بال پکڑے کراہتا رہا۔ پھر میں اس کے سامنے گھٹنوں پر جھکی اور اسے پیچھے سے لینے کو کہا۔ دکان کے فرش پر، کپڑوں کے تھانوں کے درمیان، اس نے مجھے کتے کی طرح چودا۔
اس کے ہاتھ میری کمر پر تھے، اس کے دھکے گہرے اور تیز۔ میری چیخیں دکان میں گونج رہی تھیں۔ میں نے کہا، "ہاں، ایسے ہی، مت رکو۔" میری چوت اس کے ہر دھکے پر سکڑ رہی تھی۔ میں پہلی بار جھڑی تو میری ٹانگیں جواب دے گئیں، مگر اس نے مجھے سنبھالے رکھا اور چودتا رہا۔ میں دوسری بار جھڑی، اور پھر وہ بھی جھڑ گیا، میری پیٹھ پر گرم پانی چھوڑتا ہوا۔
رات کو وہ چلا گیا اور میں گھر آئی، مگر نیند نہیں آئی۔ میری چوت اب بھی دھڑک رہی تھی۔ میں بستر پر لیٹی اپنے ہاتھ سے خود کو چھونے لگی۔ میں نے اپنی انگلیاں اندر کیں اور عمران کے بارے میں سوچا، اس کے ہاتھ، اس کا لنڈ، اس کی سانس۔ میں نے تیز تیز انگلیاں چلائیں اور چند منٹ میں پھر جھڑ گئی، چادر مٹھی میں بھینچے ہوئے۔
صبح میں جلدی دکان پہنچی۔ وہ پہلے سے وہاں تھا، شٹر کے باہر کھڑا، مسکراتا ہوا۔ میں نے شٹر اٹھایا اور اسے اندر کھینچ لیا۔ "دکان کھلنے میں آدھا گھنٹہ ہے،" میں نے کہا اور اس کی پینٹ کھول دی۔ میں نے اسے دیوار سے لگایا اور اس کے لنڈ پر بیٹھ گئی، کھڑے کھڑے۔ یہ تیز اور جنگلی تھا۔ اس نے میری رانوں کو اٹھا رکھا تھا اور میں اس پر اچھل رہی تھی۔
ہم دونوں جلدی جھڑ گئے۔ میں نے اسے صاف کیا، کپڑے ٹھیک کیے، اور شٹر پورا اٹھا دیا۔ دن بھر ہم نے کام کیا، اور ہر موقع پر ایک دوسرے کو چھوا۔ کاؤنٹر کے پیچھے اس نے میری کمر میں ہاتھ ڈالا۔ کٹنگ روم میں میں نے اس کے گال پر بوسہ دیا۔ گاہکوں کو کچھ پتہ نہ چلا، مگر ہم دونوں جانتے تھے کہ ہمارے درمیان کیا چل رہا ہے۔
شام کو دکان بند کرتے وقت میں نے شٹر گرایا، تالا لگایا، اور اپنی چابیوں کے گچھے سے ایک چابی نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھ دی۔ وہ حیران ہوا۔ میں نے کہا، "یہ ڈپلیکیٹ ہے، دکان کی۔ اب تمہیں باہر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔" اس نے میرا ہاتھ چوما اور چابی مٹھی میں بند کر لی۔ میں نے شٹر کے باہر کھڑے ہو کر اسے جاتے ہوئے دیکھا، اور میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ کل صبح وہ چابی لے کر خود اندر آئے گا۔
چابی ملنے کے تین دن بعد، ایک رات دکان بند کر کے میں گھر جانے ہی والی تھی کہ شٹر کے باہر سے ہلکی سی کھٹکھٹ سنائی دی۔ میں نے شٹر کا چھوٹا دروازہ کھولا تو عمران کھڑا تھا، ہاتھ میں وہی ڈپلیکیٹ چابی۔ اس نے مسکرا کر کہا، "سوچا چابی آزما لوں، کہیں نقلی تو نہیں۔" میں نے اسے اندر کھینچ لیا اور دروازہ بند کر دیا۔
دکان میں اندھیرا تھا، صرف گلی کی لائٹ شیشے سے آ رہی تھی۔ وہ مجھے کاؤنٹر سے لگا کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے میری قمیض کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے، جلدی نہیں کی۔ ہر بٹن کے ساتھ اس کے ہونٹ میری جلد پر اترتے گئے۔ جب میری قمیض کھلی تو اس نے میرے دودھ کو ہاتھوں میں لیا اور آہستہ آہستہ دبانے لگا۔ میں نے اس کا سر اپنے سینے میں دبا لیا۔
میں نے اس کی پینٹ کھولی اور اس کا لنڈ باہر نکالا۔ وہ پہلے سے تنا ہوا تھا۔ میں گھٹنوں پر بیٹھی اور اسے منہ میں لیا۔ اس بار میں نے اسے خوب چوسا، گہرائی تک لے جا کر۔ وہ دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا کراہتا رہا۔ پھر میں اٹھی، اپنی شلوار اتاری، اور کاؤنٹر پر ہاتھ ٹکا کر جھک گئی۔
اس نے پیچھے سے میری چوت میں اپنا لنڈ اتارا۔ میں گیلی تھی، وہ آسانی سے اندر چلا گیا۔ اس نے میری کمر پکڑی اور دھکے لگانے شروع کیے۔ اندھیری دکان میں صرف ہماری سانسوں اور میز کی چرمراہٹ کی آواز تھی۔ میں نے کہا، "اور تیز، عمران۔" اس نے میرے بال پکڑے اور رفتار بڑھا دی۔
میں پہلے جھڑی، میری ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اس نے مجھے سنبھالا اور چودتا رہا۔ پھر اس نے مجھے گھمایا، کاؤنٹر پر بٹھایا، اور میری ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ کر پھر اندر کیا۔ اس پوزیشن میں وہ بہت گہرا جا رہا تھا۔ میں نے اس کے کندھے نوچ لیے۔ ہم دونوں ایک ساتھ جھڑے، میں چیخی اور اس نے میرا منہ اپنے ہاتھ سے بند کر دیا۔
بعد میں ہم فرش پر بیٹھے رہے، کپڑوں کے تھانوں کے درمیان۔ اس نے کہا، "رضیہ، یہ چابی میں کبھی واپس نہیں کروں گا۔" میں نے ہنس کر کہا، "واپس مانگی بھی کس نے ہے۔" اس نے میری پیشانی چومی اور چلا گیا۔ میں نے تالا لگایا اور گھر آ گئی، مگر اس رات میری نیند میں بھی وہی دکان، وہی اندھیرا، اور وہی ہاتھ تھے۔
Readers who enjoyed “سچی اردو سیکس کہانی: لکھنؤ کی درزن رضیہ” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔