سچی اردو سیکس کہانی: پارسل والا لڑکا
"باجی، آپ کا پارسل آیا ہے، میں گیٹ کے باہر کھڑا ہوں۔" میرا فون بجا اور سکرین پر انجان نمبر چمک رہا تھا۔ دوپہر کے دو بج رہے تھے اور میں اپنے بیڈ روم میں اکیلی لیٹی ہوئی تھی۔ یہ سچی اردو سیکس کہانی اسی ایک فون کال سے شروع ہوئی، جس نے میری تنہا زندگی میں آگ لگا دی۔
میں فرح ہوں، اکتیس سال کی، لکھنؤ میں رہتی ہوں۔ میرے شوہر عمران ٹریولنگ سیلز کی نوکری کرتے ہیں اور مہینے میں بیس دن شہر سے باہر رہتے ہیں۔ یہ گھر، یہ کمرے، یہ بستر، سب کچھ دن بھر میرا اکیلے کا ساتھی ہوتا ہے۔ اس دوپہر میں نے اپنی گلابی نائٹی پہنی ہوئی تھی جو گھٹنوں سے تھوڑی اوپر تک آتی تھی۔
"آ رہی ہوں، ایک منٹ رکو۔" میں نے کہا اور بستر سے اٹھ گئی۔ آئینے میں ایک نظر ڈالی، بال بکھرے ہوئے تھے اور چہرے پر نیند کی خماری تھی۔ میں نے سوچا کہ ڈیلیوری والا تو دو منٹ میں چلا جائے گا، اس لیے میں ویسے ہی نیچے چلی گئی۔
گیٹ کھولا تو سامنے ایک نوجوان لڑکا کھڑا تھا، بارش سے بھیگی ہوئی نیلی شرٹ، کندھے پر بیگ اور ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پارسل۔ اس کی عمر چوبیس پچیس سے زیادہ نہیں لگ رہی تھی۔ اس نے مجھے دیکھا اور اس کی نظریں ایک لمحے کے لیے میری نائٹی پر ٹھہر گئیں۔
"باجی، یہ آپ کا پارسل ہے، سی او ڈی ہے، تین سو چالیس روپے۔" اس کی آواز میں ہلکی سی گھبراہٹ تھی لیکن اس کی آنکھیں بے شرم تھیں۔ وہ میری ٹانگوں سے لے کر میرے سینے تک سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ مجھے شرم آنی چاہیے تھی، لیکن سچ کہوں تو میرے اندر کچھ ہلنے لگا۔
میں نے پرس سے پیسے نکالے اور اس کی طرف بڑھائے۔ پیسے لیتے وقت اس کی انگلیاں میرے ہاتھ کو چھو گئیں اور وہ ایک پل کو رکا۔ "شکریہ باجی۔" اس نے کہا اور مسکرایا۔ وہ مسکراہٹ میرے دل میں اتر گئی۔ میں پارسل لے کر اندر آ گئی، لیکن میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
اس کا نام دانش تھا، یہ مجھے اگلے ہفتے پتا چلا جب وہ پھر آیا۔ اب تو یہ معمول بن گیا تھا۔ ہر تین چار دن بعد کوئی نہ کوئی چھوٹا پارسل آ جاتا، کبھی کاسمیٹکس، کبھی کچن کا سامان۔ میں جان بوجھ کر چھوٹے چھوٹے آرڈر کرنے لگی تھی اور وہ ہر بار مسکراتا ہوا آتا۔
"باجی، آج تو آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں۔" ایک دن اس نے گیٹ پر کھڑے کھڑے کہہ دیا۔ میرے گال سرخ ہو گئے۔ "چپ کرو، کوئی سن لے گا۔" میں نے ہنستے ہوئے کہا، لیکن اندر سے میں خوش تھی۔ کتنے مہینوں بعد کسی مرد نے میری تعریف کی تھی۔
وہ اب بہانے بنانے لگا تھا۔ کبھی کہتا کہ ایڈریس کنفرم کرنا تھا، کبھی کہتا کہ پارسل پر نام صاف نہیں لکھا۔ وہ گیٹ پر پانچ منٹ رکتا، باتیں کرتا، اور اس کی نظریں میرے جسم پر پھرتی رہتیں۔ میں بھی اب اس کے آنے سے پہلے ہلکا میک اپ کر لیتی اور اچھی نائٹی پہنتی۔
ایک دن اس نے میرا نمبر مانگ لیا۔ "باجی، پارسل آنے سے پہلے کال کر دیا کروں گا تاکہ آپ کو انتظار نہ کرنا پڑے۔" بہانہ صاف تھا، لیکن میں نے نمبر دے دیا۔ اس رات اس کا میسج آیا، "باجی، سو گئیں؟" میں نے جواب دیا، "نہیں، نیند نہیں آ رہی۔" اس رات ہم دیر تک باتیں کرتے رہے۔
پھر وہ ساون کی ایک دوپہر آئی جس نے سب کچھ بدل دیا۔ آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے اور میں نے ابھی چائے بنائی تھی کہ فون بجا۔ "باجی، آپ کا پارسل ہے، میں پانچ منٹ میں پہنچ رہا ہوں، لیکن بارش بہت تیز ہونے والی ہے۔" دانش کی آواز میں جلدی تھی۔
وہ گیٹ پر پہنچا ہی تھا کہ آسمان پھٹ پڑا۔ موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔ وہ بھاگتا ہوا برآمدے میں آیا، پوری طرح بھیگ چکا تھا۔ اس کی شرٹ اس کے جسم سے چپک گئی تھی اور اس کے چوڑے کندھے صاف نظر آ رہے تھے۔ "باجی، تھوڑی دیر رک جاؤں؟ بارش رکے تو چلا جاؤں گا۔" اس نے کہا۔
میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ "ہاں ہاں، اندر آ جاؤ، چائے پیو گے؟" میں نے کہا۔ وہ اندر آیا اور صوفے پر بیٹھ گیا۔ میں کچن میں چائے بنانے گئی، لیکن میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ میں جانتی تھی کہ اس گھر میں اس وقت ہم دونوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔
میں دو کپ چائے لے کر آئی اور اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی۔ بارش کی آواز کھڑکیوں سے ٹکرا رہی تھی اور کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ اس کی نظریں میری بھیگی ہوئی نائٹی پر تھیں جو بارش کی چھینٹوں سے میرے جسم سے چپک گئی تھی۔
"باجی، آپ کو دیکھ کر لگتا نہیں کہ آپ شادی شدہ ہیں۔" اس نے اچانک کہا۔ میں نے چائے کا کپ نیچے رکھا۔ "اچھا؟ تو کیسی لگتی ہوں؟" میں نے پوچھا، میری آواز میں ایک چیلنج تھی۔ وہ اٹھا اور میرے صوفے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔
"آپ بہت حسین ہیں، باجی۔ میں جب سے آپ کو دیکھا ہے، راتوں کو سو نہیں پاتا۔" اس کے الفاظ میرے کانوں میں شہد کی طرح اترے۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور میرے گال کو چھوا۔ میں نے اس کا ہاتھ نہیں ہٹایا۔ اس لمحے میں نے فیصلہ کر لیا تھا۔
اس نے مجھے صوفے پر اپنی طرف کھینچا اور اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں پر آ گئے۔ پہلا بوسہ نرم تھا، جھجھکتا ہوا، لیکن پھر اس نے مجھے زور سے پکڑا اور اس کی زبان میرے منہ میں گھس گئی۔ میں نے اس کے بالوں میں انگلیاں ڈالیں اور اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔ میرے سینے میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔
اس کے ہاتھ میری نائٹی کے اندر گھس گئے اور اس نے میرے مموں کو دبایا۔ "آہ، باجی، کتنے نرم ہیں۔" وہ بڑبڑایا۔ میں نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ اس کا سینا چوڑا اور مضبوط تھا، پسینے اور بارش کی نمی سے چمک رہا تھا۔ میں نے اس کے سینے پر بوسے دیے اور اس نے ایک گہری سانس لی۔
اس نے میری نائٹی کو کندھوں سے نیچے سرکا دیا اور میرے ننگے ممے اس کے سامنے تھے۔ اس نے ایک ممے کو منہ میں لیا اور چوسنے لگا جبکہ دوسرے کو ہاتھ سے مسلتا رہا۔ میری چیخ نکل گئی، "دانش، آہ، ایسے ہی، اور زور سے۔" میرے نپل سخت ہو گئے تھے اور میرے جسم میں بجلی دوڑ رہی تھی۔
میں نے اس کی پینٹ کی زپ کھولی اور اس کا لنڈ باہر نکالا۔ وہ سخت اور گرم تھا، میری مٹھی میں پوری طرح سمایا ہوا نہیں تھا۔ میں نے اسے ہلایا اور دانش نے آنکھیں بند کر لیں۔ "باجی، آپ کے ہاتھ، آہ۔" پھر میں جھکی اور اس کے لنڈ کو اپنے منہ میں لے لیا۔
میں نے اسے چوسنا شروع کیا، پہلے آہستہ، پھر تیز۔ میری زبان اس کے لنڈ کے سر پر گھوم رہی تھی اور میں اسے گہرائی تک لے رہی تھی۔ دانش کے ہاتھ میرے بالوں میں تھے اور وہ میرے سر کو دھکیل رہا تھا۔ "ہاں باجی، ایسے ہی، بہت مزہ آ رہا ہے۔" اس کی آواز بھاری ہو گئی تھی۔
پھر اس نے مجھے اٹھایا اور صوفے پر لٹا دیا۔ اس نے میری ٹانگیں کھولیں اور میری چوت کو دیکھا جو پانی سے بھیگی ہوئی تھی۔ اس نے اپنی انگلیاں میری چوت میں ڈالیں اور ہلانے لگا۔ میں تڑپ اٹھی۔ "آہ، دانش، اور اندر، اور گہرائی تک۔" میری چوت سے پانی بہہ رہا تھا۔
اس نے اپنا لنڈ میری چوت کے منہ پر رکھا اور ایک جھٹکے سے اندر ڈال دیا۔ "آآآہ۔" میری چیخ پورے گھر میں گونج گئی۔ اس کا لنڈ میری چوت میں پوری طرح گھسا ہوا تھا اور مجھے ایک میٹھا درد محسوس ہوا۔ اس نے دھکے مارنے شروع کیے، پہلے آہستہ، پھر تیز اور گہرے۔
صوفہ ہلنے لگا اور بارش کی آواز میں ہماری سانسوں کی آواز گھل گئی۔ وہ مجھے چود رہا تھا اور میں اس کی پیٹھ کو نوچ رہی تھی۔ "باجی، آپ کی چوت کتنی گرم ہے، کتنی ٹائٹ ہے۔" وہ ہانپتے ہوئے بولا۔ میں نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں اور اسے اور اندر کھینچ لیا۔
اس نے مجھے اٹھایا اور دیوار سے لگا دیا۔ میری ایک ٹانگ اس کے کندھے پر تھی اور وہ کھڑے کھڑے مجھے چود رہا تھا۔ ہر دھکے کے ساتھ میرا جسم ہلتا اور میرے ممے اچھلتے۔ میں نے اس کے ہونٹوں کو کاٹا اور وہ اور زور سے دھکے مارنے لگا۔ مجھے لگا کہ میں پاگل ہو جاؤں گی۔
پھر وہ مجھے بیڈ روم میں لے گیا اور بستر پر پٹخ دیا۔ وہ میرے اوپر آیا اور اس نے میری ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ اس پوزیشن میں اس کا لنڈ میری چوت میں بہت گہرائی تک جا رہا تھا۔ "آہ، دانش، میں جھڑنے والی ہوں، مت رکنا۔" میں چلائی۔
اس نے اپنی رفتار بڑھا دی اور میں زور سے جھڑ گئی۔ میرا جسم کانپنے لگا اور میری چوت نے اس کے لنڈ کو نچوڑ لیا۔ "باجی، میں بھی، آہ۔" اس نے چند گہرے دھکے مارے اور میرے اندر ہی جھڑ گیا۔ اس کا گرم پانی میری چوت میں بہہ گیا اور ہم دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔
بارش اب بھی برس رہی تھی اور ہم بستر پر ننگے لیٹے تھے۔ اس نے مجھے اپنی بانہوں میں لیا اور میرے ماتھے پر بوسہ دیا۔ "باجی، آپ نے تو مجھے پاگل کر دیا۔" میں نے مسکرا کر کہا، "اب باجی کہنا بند کرو، میرا نام فرح ہے۔" وہ ہنسا اور مجھے اور زور سے لپٹ گیا۔
شام کو بارش رکی تو وہ جانے لگا۔ دروازے پر اس نے مجھے ایک لمبا بوسہ دیا اور کہا، "فرح، میں کل پھر آؤں گا، کوئی پارسل نہ بھی ہو تو۔" میں نے اس کی شرٹ درست کی اور کہا، "آ جانا، میں انتظار کروں گی۔" وہ بائیک پر بیٹھا اور چلا گیا، لیکن میرا جسم اب بھی اس کی یاد میں جل رہا تھا۔
اس رات میں نے اپنے شوہر کو فون کیا، لیکن بات کرتے وقت میرا دماغ دانش کے پاس تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ غلط ہے، لیکن میرے جسم نے مجھے جھوٹ بولنے نہیں دیا۔ مجھے وہ دھکے، وہ بوسے، وہ چیخیں سب یاد آ رہی تھیں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔
اگلی صبح میرا فون بجا۔ دانش کا میسج تھا، "فرح، کل دوپہر کو پھر آ جاؤں؟ اس بار کوئی بہانہ نہیں، بس تم سے ملنے۔" میں نے مسکرا کر جواب لکھا، "آ جاؤ، دروازہ کھلا رہے گا۔" میری انگلیاں کانپ رہی تھیں، لیکن میرے دل میں ایک نئی زندگی کی دھڑکن تھی۔
اگلی دوپہر دانش وقت سے پہلے آ گیا۔ اس بار اس کے پاس کوئی پارسل نہیں تھا، صرف ایک چھوٹا سا لفافہ تھا جس میں اس نے میری پسند کی چوڑیاں رکھی تھیں۔ "یہ تمہارے لیے، فرح۔" اس نے کہا اور میری کلائی میں چوڑیاں پہنا دیں۔ اس کا چھونا مجھے پھر سے گرم کرنے لگا تھا۔
ہم صوفے پر بیٹھے اور اس نے مجھے اپنی طرف کھینچا۔ "کل رات میں سو نہیں پایا، تمہاری یاد آتی رہی۔" اس نے میرے کان میں سرگوشی کی۔ میں نے اس کی گردن پر بوسہ دیا اور اس کی شرٹ کے اندر ہاتھ ڈال دیا۔ اس کا جسم گرم تھا اور اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔
اس نے میری قمیض کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے اور میرے مموں کو آزاد کر دیا۔ اس نے انہیں چوسنا شروع کیا اور میں نے اس کے بال پکڑ لیے۔ "آہ، دانش، تم تو مجھے مار ڈالو گے۔" میری چوت گیلی ہونے لگی تھی اور میں اس کے لنڈ کو اپنی ٹانگوں کے درمیان محسوس کر سکتی تھی۔
اس بار اس نے مجھے کچن کی سلیب پر بٹھایا۔ ٹھنڈی سلیب میری ننگی جلد کو چھو رہی تھی اور دانش میرے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے میری ٹانگیں کھولیں اور اپنا لنڈ میری چوت میں ڈال دیا۔ کھڑے کھڑے اس نے مجھے چودنا شروع کیا اور میں سلیب کو پکڑے ہوئے چیخ رہی تھی۔
"فرح، تمہاری چوت میں میرا لنڈ، آہ، کتنا مزہ آ رہا ہے۔" وہ ہانپ رہا تھا۔ میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اس کے ہونٹوں کو چوسا۔ ہم دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے تھے اور کچن میں ہماری آوازیں گونج رہی تھیں۔ یہ چدائی کل سے بھی زیادہ جنگلی تھی۔
پھر اس نے مجھے گھمایا اور سلیب پر جھکا دیا۔ وہ پیچھے سے میرے اندر گھسا اور اس نے میرے بال پکڑ لیے۔ ڈوگی پوزیشن میں اس کے دھکے بہت گہرے تھے اور میری چیخیں نکل رہی تھیں۔ "اور زور سے، دانش، اور گہرائی تک۔" میں نے التجا کی۔
ہم دونوں ایک ساتھ جھڑے۔ میرا جسم کانپ رہا تھا اور وہ میرے اوپر جھکا ہوا ہانپ رہا تھا۔ اس نے میرے کان میں کہا، "فرح، میں ہر روز آنا چاہتا ہوں۔" میں نے مسکرا کر کہا، "تو آؤ نا، کون روک رہا ہے؟" ہماری یہ نئی زندگی ابھی شروع ہوئی تھی۔
Readers who enjoyed “سچی اردو سیکس کہانی: پارسل والا لڑکا” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔