اردو دوست کی بہن کہانی: ماہ نور کی وائس نوٹ
رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے جب میرے فون پر ماہ نور کی وائس نوٹ ٹپکی، اور میں نے اسے ایک بار نہیں، تین بار سن کر بھی ڈیلیٹ نہیں کیا، کیونکہ مجھے سمجھ آ گیا تھا کہ یہ میری اردو دوست کی بہن کہانی کی وہ رات ہے جس کا میں نے کبھی خواب میں بھی سوچا نہ تھا۔ اس کی سانس مائیک کے اتنے قریب تھی کہ لگتا تھا وہ میرے کان میں بول رہی ہے۔
میں لکھنؤ کے پرانے شہر والے اس گھر کے مہمان کمرے میں لیٹا تھا، بلال برابر والے کمرے میں خراٹے لے رہا تھا، اور اس کی چھوٹی بہن ماہ نور چھت کے اس پار والے کمرے میں تھی۔ میں نے وائس نوٹ دوبارہ چلائی، اور اس بار اس کی آواز کے پیچھے چھت پر چلتی ہوا کی سرسراہٹ بھی سنائی دی۔ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
پھر اس کا میسج آیا، صرف چار لفظ، غلطی سے بھیج دی تھی۔ میں نے ہنس کر لکھا، کون سی غلطی، نام لینا بھی غلطی ہے کیا۔ اس نے فورا لکھا، تم نے سنی، میں نے لکھا، تین بار۔ تین نقطے دیر تک چمکتے رہے، پھر اس کا جواب آیا، اور چوتھی بار سنو گے تو کیا ہوگا۔ میرے منہ کا پانی خشک ہو گیا۔
اس کی سانس میں نیند نہیں تھی، شرم بھی نہیں تھی، بس ایک کھلی دعوت تھی جسے اس نے مذاق کا لبادہ پہنایا تھا۔ میں نے لکھا، تم سوئی نہیں ابھی تک، اس نے لکھا، نیند تمہاری وجہ سے اڑ گئی ہے۔ میں نے پوچھا، کیسے، اس نے جواب دیا، کل شام جب تم صحن میں چائے پی رہے تھے، میں تمہیں دیکھ رہی تھی۔
ماہ نور چوبیس سال کی تھی، بلال کی چھوٹی بہن، اور میں نے اسے ہمیشہ ایک معصوم لڑکی سمجھا تھا جو کتابیں پڑھتی ہے اور کم بولتی ہے۔ مگر آج رات وہ معصومیت کہیں غائب تھی۔ اس نے لکھا، میں نے تمہیں برسوں سے چاہا ہے ایان، مگر تم نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔ میرے ہاتھ سے فون چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
میں نے لکھا، برسوں سے، تم تو بچی تھیں، اس نے جواب دیا، بچی اب نہیں رہی۔ پھر اس نے ایک اور وائس نوٹ بھیجی، اس بار لمبی، اور اس میں اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ اس نے کہا، میں چھت پر آ رہی ہوں، دس منٹ میں، اگر ہمت ہے تو آ جانا۔
میں نے دس منٹ گنے، ہر منٹ ایک سال جتنا لمبا تھا۔ گھر کی گھڑی نے دو بجائے، اور میں دبے پاؤں کمرے سے نکلا۔ سیڑھیاں پرانی لکڑی کی تھیں، میں نے دیوار پکڑ کر ایک ایک سیڑھی چڑھی۔ چھت کا دروازہ کھلا تھا، اور باہر ٹھنڈی ہوا میرے چہرے سے ٹکرائی۔
چھت پر اندھیرا تھا، صرف دور کی گلیوں کی بتیوں کی ہلکی چمک تھی۔ ایک کونے میں پرانی چارپائی پڑی تھی، اور اس پر ماہ نور بیٹھی تھی، سفید سوتی سوٹ میں۔ اس کے بال کھلے تھے، ہوا میں اڑ رہے تھے، اور وہ مجھے دیکھ کر مسکرائی۔
تم آ گئے، اس نے دھیرے سے کہا، مجھے لگا تھا تم ڈر جاؤ گے۔ میں نے کہا، میں ڈرا نہیں، بس یقین نہیں آ رہا۔ اس نے میری طرف دیکھا، اور اس کی آنکھوں میں چاندنی چمک رہی تھی۔ تمہیں پتہ ہے، اس نے کہا، میں نے وہ وائس نوٹ جان بوجھ کر بھیجی تھی، مذاق صرف بہانہ تھا۔
اس کا ہاتھ ٹھنڈا تھا، مگر میری انگلیوں کے چھوتے ہی اس کی سانس تیز ہو گئی۔ میں نے کہا، ماہ نور، یہ ٹھیک نہیں، بلال میرا دوست ہے۔ اس نے میرا ہاتھ دبایا اور کہا، بلال سو رہا ہے، اور میں تم سے کچھ چھین نہیں رہی۔
میں نے اس کی ٹھوڑی پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کیا، اور پہلی بار اس کی آنکھوں میں وہ چاہت دیکھی جو وہ برسوں سے چھپاتی آئی تھی۔ پھر میں نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلے وہ بوسہ اتنا نرم تھا کہ لگا جیسے ہوا چھو گئی ہو، مگر پھر اس نے میرے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے دبایا۔
ہم چارپائی پر لیٹ گئے، وہ میرے اوپر تھی، اور اس کے جسم کا وزن میرے سینے پر محسوس ہو رہا تھا۔ اس کے بوبز میرے سینے سے دب رہے تھے، اور میں نے اس کی قمیض کے اوپر سے ہی انہیں دبایا۔ وہ سسکی، ایان، اور اس کی سسکی سن کر میرا لنڈ پوری طرح کھڑا ہو گیا۔
اس نے میری قمیض کے بٹن کھولے، ایک ایک کر کے، ہر بٹن کے ساتھ اس کی انگلیاں میری جلد کو چھوتی تھیں۔ جب میرا سینہ ننگا ہوا تو اس نے اس پر اپنا گال رکھا۔ پھر اس نے نیچے سرک کر میری پتلون کا بٹن کھولا۔ اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں، مگر اس کی آنکھوں میں کوئی ڈر نہیں تھا، صرف بھوک تھی۔
جب میرا لنڈ باہر آیا تو اس نے اسے ہاتھ میں لیا، پہلے ہلکے سے، پھر مضبوطی سے پکڑا۔ وہ گرم اور سخت تھا، اور اس کی مٹھی میں دھڑک رہا تھا۔ اس نے اسے منہ میں لیا، پہلے صرف سرے کو چوما، پھر آہستہ آہستہ اندر لیا۔ اس کی زبان میرے لنڈ کے گرد گھوم رہی تھی، اور میں نے اس کے بال پکڑ لیے۔
میں نے اسے روکا، کیونکہ میں ابھی جھڑنا نہیں چاہتا تھا۔ میں نے اسے پلٹا اور اس کی شلوار اتاری، اور چاندنی میں اس کی ننگی ٹانگیں دیکھ کر میری سانس رک گئی۔ جب میری انگلیاں اس کی چوت کو چھوئیں تو وہ گیلی تھی، پوری طرح گیلی۔ میں نے اس کی چوت پر منہ رکھا، اور اس کا ذائقہ نمکین اور میٹھا تھا۔
میں نے اس کی چوت کو چاٹا، زبان اندر باہر کی، اور اس کے دانے کو چوسا۔ وہ ہل رہی تھی، اس کی کمر اٹھ رہی تھی، اور اس کے منہ سے سسکیاں نکل رہی تھیں۔ میں نے ایک انگلی اس کی چوت میں ڈالی، پھر دوسری، اور اندر کی گرمی نے مجھے بتا دیا کہ وہ تیار ہے۔ اس نے کہا، ایان، بس اب، مجھے اور تڑپاؤ مت۔
میں نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا، اور آہستہ سے دباؤ ڈالا۔ وہ تنگ تھی، بہت تنگ، اور میرا لنڈ دھیرے دھیرے اندر گیا۔ وہ کراہی، اور میں نے رک کر اس کے ہونٹ چومے۔ پھر میں نے پورا اندر ڈالا، اور اس کی چوت میرے لنڈ کو کس رہی تھی، گرم اور گیلی۔ میں نے دھیرے دھیرے ہلنا شروع کیا۔
چارپائی چرچرانے لگی، اور ہمیں ہنسی آ گئی، مگر وہ ہنسی جلدی ہی سسکیوں میں بدل گئی۔ میں نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں، اور گہرائی بڑھ گئی۔ وہ چلا رہی تھی، ہاں، ایسے ہی، اور میں نے اس کے بوبز دبائے۔ اس کی چوت سے پانی بہہ رہا تھا، اور میں نے رفتار بڑھائی۔
پھر میں نے اسے پلٹا، کتے کی طرح، اور پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈالا۔ میں نے اس کے کولہے پکڑ کر زور زور سے دھکے لگائے۔ وہ چلا رہی تھی، ایان، میں جھڑ رہی ہوں، اور اس کی چوت نے میرے لنڈ کو اتنے زور سے کسا کہ میں بھی نہ رک سکا۔ میں نے اس کے اندر اپنا پانی نکالا، اور ہم دونوں چارپائی پر ڈھیر ہو گئے۔
ہم دیر تک ایسے ہی لیٹے رہے، اس کا سر میرے سینے پر تھا۔ دور کہیں اذان کی آواز آئی، فجر کا وقت ہو رہا تھا۔ اس نے کہا، بلال اٹھنے والا ہوگا، مجھے جانا چاہیے۔ دروازے پر رک کر اس نے پیچھے دیکھا اور کہا، یہ صرف شروعات تھی۔ پھر وہ غائب ہو گئی، اور اس کی خوشبو میرے کپڑوں میں بسی رہ گئی۔
اگلے دن گھر میں سب کچھ نارمل تھا، بلال ناشتے پر مذاق کر رہا تھا، اور ماہ نور چائے لے کر آئی۔ اس نے مجھے چائے دی، اور ہماری انگلیاں ایک لمحے کے لیے ٹکرائیں۔ اس نے نظریں جھکا لیں، مگر اس کے ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ تھی۔ کوئی کچھ نہیں سمجھا، اور یہی اس کھیل کا مزہ تھا۔
دن بھر ہم نے میسج کیے، ہر گھنٹے اس کا میسج آتا تھا۔ اس نے لکھا، شام کو بلال اپنے دوستوں کے ساتھ باہر جائے گا، تم میرے کمرے میں آنا۔ وہ چار گھنٹے چار صدیوں جتنے لمبے تھے۔
شام کو بلال واقعی چلا گیا۔ میں بہانے سے چھت پر گیا، اور وہاں سے اس کے کمرے کی کھڑکی میں کودنے کا پرانا راستہ یاد آیا۔ میں اس کے کمرے میں پہنچا، وہ دروازہ بند کر کے میرا انتظار کر رہی تھی، نہا کر آئی تھی، بال گیلے تھے۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی دروازہ اندر سے بند کیا۔
اس بار کوئی شرم نہیں تھی۔ اس نے مجھے دیوار سے لگایا اور میرے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑی۔ میں نے اس کی قمیض ایک جھٹکے میں اتاری، اور اس کے بوبز ننگے ہو گئے، گول اور بھرے ہوئے، نپل کھڑے۔ میں نے ایک نپل منہ میں لیا اور چوسا، دوسرے کو ہاتھ سے مسلا، اور وہ میرے بال نوچ رہی تھی۔
میں نے اسے بستر پر گرایا اور اس کی شلوار اتاری، اس کی چوت پہلے سے گیلی تھی۔ میں نے اس کی ٹانگیں پھیلائیں اور اپنا لنڈ ایک ہی جھٹکے میں اندر ڈالا۔ وہ چیخی، اور میں نے اس کا منہ ہاتھ سے دبایا، آہستہ، امی سن لیں گی۔ مگر اس کی آنکھوں میں شرارت تھی، اس نے میرا ہاتھ ہٹایا اور کہا، سننے دو۔
میں نے اسے گود میں اٹھایا، وہ میرے لنڈ پر بیٹھی تھی، اور میں کھڑا ہو کر اسے اچھال رہا تھا۔ اس کے بوبز میرے چہرے کے سامنے تھے، میں انہیں چوم رہا تھا۔ وہ میرے کندھوں پر جھکی تھی، اور اس کی چوت میرے لنڈ کو نگل رہی تھی۔ ہم دونوں پسینے میں بھیگے تھے، اور اس کے منہ سے مسلسل سسکیاں نکل رہی تھیں۔
پھر میں بستر پر لیٹ گیا اور وہ میرے اوپر آئی، میرے لنڈ پر بیٹھ کر خود ہلنے لگی۔ میں نے نیچے سے دھکے لگائے، اور ہر دھکے پر وہ اچھلتی۔ اس نے اپنے بوبز خود دبائے، اور مجھے دیکھ کر بولی، دیکھو، یہ سب تمہارا ہے۔ میں نے اس کی کمر پکڑ کر اسے اور تیز کیا، اور ہم دونوں ایک ساتھ جھڑے۔
اس کے بعد ہم بستر پر لیٹے رہے، وہ میرے بازو پر سر رکھے تھی۔ اس نے کہا، تمہیں پتہ ہے، میں نے تمہیں پہلی بار تب چاہا تھا جب میں سولہ کی تھی، تم بلال کے ساتھ کرکٹ کھیلنے آتے تھے۔ میں حیران رہ گیا، اتنے برس، اور تم نے کچھ کہا نہیں۔ اس نے کہا، کہتی تو کیا کہتی، تم تو مجھے بچی سمجھتے تھے۔
رات گئے میں اپنے کرائے کے کمرے پر واپس آیا، جو امین آباد کے پاس ایک چھوٹی گلی میں تھا۔ مگر آدھی رات کو دروازے پر دستک ہوئی، اور باہر ماہ نور کھڑی تھی، چادر میں لپٹی ہوئی۔ اس نے کہا، نیند نہیں آ رہی تھی، اور تمہارے بغیر بستر خالی لگ رہا تھا۔ میں نے اسے اندر کھینچا اور دروازہ بند کیا۔
تیسری بار سب سے دھیمی تھی، مگر سب سے گہری۔ ہم نے ایک دوسرے کے کپڑے اتارے، آہستہ آہستہ، ہر انچ کو چومتے ہوئے۔ اس نے میرے لنڈ کو ہاتھ میں لیا اور اسے اپنی چوت پر رگڑا۔ میں نے اسے اپنے اوپر لیا، آمنے سامنے، اور اس کی چوت میں داخل ہوا، اس بار کوئی جلدی نہیں تھی، بس ہم دونوں کی سانسیں ایک ہو رہی تھیں۔
ہم دھیرے دھیرے ہلے، ہر حرکت میں ایک دوسرے کو محسوس کرتے ہوئے۔ میں نے اس کے کان میں کہا، تم میری ہو، اس نے کہا، ہمیشہ سے تھی، تمہیں دیر لگی سمجھنے میں۔ باہر فجر کی اذان ہونے لگی، اور اسی وقت ہم دونوں جھڑے، ایک ساتھ، اس کا جسم میرے جسم میں سمٹا ہوا تھا۔
صبح کی پہلی روشنی کھڑکی سے اندر آئی، اور وہ میرے سینے پر سو رہی تھی۔ میں نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں اور سوچا کہ یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اس کی آنکھ کھلی، اس نے مجھے دیکھا اور مسکرائی، پھر بولی، اٹھو، چائے بناؤ، آج تمہاری باری ہے۔ میں نے کہا، چائے کے بعد ایک اور رات باقی ہے۔ اس نے میری ناک دبائی اور بولی، رات نہیں، اب تو ہر رات۔
Readers who enjoyed “اردو دوست کی بہن کہانی: ماہ نور کی وائس نوٹ” also read
8 curated storiesاردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2
رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔
اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ
راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔
اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں
آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔
اردو مامی کہانی: شادی والی رات
اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔
اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام
اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی 2026: مہنور کی آدھی رات
آدھی رات کو اسٹڈی کا دروازہ کھلا اور مہنور اندر آ گئی۔ یہ اردو سالی کی چدائی 2026 کی وہ کہانی ہے جو ایک سرد رات میں شروع ہوئی۔