اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات

N
12 min read1 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

لاہور میں مون سون کی پہلی بارش اس رات ایسی برسی کہ گلیوں میں پانی بھر گیا۔ یہ اردو جیجا سالی سیکس کہانی اسی بھیگی رات سے شروع ہوتی ہے۔ فہد باتھ روم سے نکلا تو اس کے کمر سے تولیا ڈھیلا ہو کر فرش پر گر پڑا۔

عین اسی لمحے دروازہ کھلا۔ ماہ نور اندر آئی اور ٹھٹھک کر رک گئی۔ اس کی آنکھیں ایک لمحے کے لیے اس کے ننگے جسم پر ٹھہر گئیں۔ پھر وہ چیخی اور دروازہ بند کر کے باہر بھاگ گئی۔

فہد کی عمر چونتیس سال تھی۔ اس کی بیوی صائمہ اسپتال میں نرس تھی اور آج کل نائٹ شفٹ پر تھی۔ صائمہ کی چھوٹی بہن ماہ نور، تئیس سال کی، سی ایس ایس کی تیاری کے لیے ایک مہینے سے ان کے گھر رہ رہی تھی۔

فہد نے جلدی سے تولیا اٹھا کر لپیٹا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ شرمندگی بھی تھی اور کچھ اور بھی۔ اس نے ماہ نور کی آنکھوں میں جو دیکھا تھا، وہ صرف حیرت نہیں تھی۔

ناشتے کی میز پر دونوں خاموش تھے۔ صائمہ رات کی ڈیوٹی سے تھک کر سو رہی تھی۔ ماہ نور نظریں جھکائے پراٹھا توڑ رہی تھی۔ اس کے گال سرخ تھے۔

"وہ... رات کو معذرت،" فہد نے کھنکارتے ہوئے کہا۔ "دروازہ بند کرنا بھول گیا تھا۔" ماہ نور نے نظریں اٹھائیں۔ "کوئی بات نہیں جیجا جی۔" اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ شرمندگی والی نہیں۔ کچھ اور۔

فہد نے چائے کا گھونٹ بھرا۔ اس کا ہاتھ ہلکا سا کانپ رہا تھا۔ ماہ نور کی نظریں اس کے چہرے سے نیچے اس کی کھلی شرٹ کے گریبان تک گئیں۔ فہد نے بٹن بند کرنے کی کوشش کی تو ماہ نور بولی، "رہنے دیں۔ گرمی ہے۔"

دن بھر فہد دفتر میں بے چین رہا۔ اس کے ذہن میں بار بار وہی منظر گھوم رہا تھا۔ ماہ نور کی آنکھیں۔ اس کا رکنا۔ اس کا دیکھنا۔ وہ خود کو سمجھاتا رہا کہ یہ محض اتفاق تھا، لیکن اس کا جسم اس کی بات نہیں مان رہا تھا۔

شام کو گھر آیا تو صائمہ ڈیوٹی کے لیے نکل رہی تھی۔ "ماہ نور کا خیال رکھنا،" اس نے جلدی میں کہا اور چلی گئی۔ دروازہ بند ہوا۔ گھر میں صرف فہد اور ماہ نور رہ گئے۔ باہر بادل گرج رہے تھے۔

بجلی چلی گئی۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوب گیا۔ ماہ نور لاؤنج میں موم بتی جلائے بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی۔ موم بتی کی روشنی میں اس کا چہرہ سنہری لگ رہا تھا۔ اس نے ہلکے گلابی رنگ کا سوٹ پہنا تھا، دوپٹہ کندھے سے ڈھلکا ہوا۔

"موم بتی بجھ جائے گی تو اندھیرا ہو جائے گا،" فہد نے کہا اور اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا۔ ماہ نور نے کتاب بند کی۔ "تو ہونے دیں۔ کبھی کبھی اندھیرا اچھا لگتا ہے۔"

باہر بارش تیز ہو گئی۔ کھڑکیوں پر پانی برسنے کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔ فہد نے دیکھا کہ ماہ نور اسے گھور رہی ہے۔ اس کی آنکھوں میں وہی چمک تھی جو کل رات تھی۔

"جیجا جی،" اس نے دھیرے سے کہا۔ "آپ کو پتہ ہے، میں نے کل رات جو دیکھا..." فہد کا گلا خشک ہو گیا۔ "ماہ نور، وہ اتفاق تھا۔ بھول جاؤ۔"

"میں بھولنا نہیں چاہتی،" ماہ نور نے کہا اور صوفے پر اس کے قریب سرک آئی۔ ان کے گھٹنے ٹکرائے۔ "سچ بتائیں۔ آپ نے بھی تو مجھے دیکھا تھا۔ اس نظر سے۔"

فہد پیچھے ہٹنا چاہتا تھا، لیکن اس کا جسم ہلا نہیں۔ ماہ نور کا ہاتھ اس کے ہاتھ پر آیا۔ اس کی انگلیاں اس کی انگلیوں میں الجھ گئیں۔ "صائمہ آپی کو پتہ نہیں چلے گا،" اس نے سرگوشی کی۔ "وہ صبح چھ بجے سے پہلے نہیں آتیں۔"

فہد نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "یہ غلط ہے ماہ نور۔" "تو پھر آپ کا دل اتنی زور سے کیوں دھڑک رہا ہے؟" اس نے اپنا ہاتھ اس کے سینے پر رکھ دیا۔ فہد کی دھڑکن اس کی ہتھیلی کے نیچے تیز تھی۔

اس نے جھک کر اس کے ہونٹ چوم لیے۔ پہلا بوسہ نرم تھا، ڈرتا ہوا۔ پھر ماہ نور نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور زور سے چوما۔ اس کی زبان اس کے منہ میں گھس گئی۔ فہد کی مزاحمت ٹوٹ گئی۔

اس نے اسے اپنی گود میں کھینچ لیا۔ ماہ نور اس کی گود میں بیٹھ گئی، اس کی ٹانگیں اس کے گرد لپٹی ہوئیں۔ اس کا دوپٹہ فرش پر گر گیا۔ فہد کے ہاتھ اس کی کمر پر پھرنے لگے، پھر اوپر اس کے مموں تک۔

"آہستہ،" ماہ نور نے اس کے کان میں کہا۔ "پہلے مجھے دیکھو۔" اس نے اپنی قمیض کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے۔ اس کے سفید ممے موم بتی کی روشنی میں چمک رہے تھے۔ فہد کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔

اس نے جھک کر ایک ممے کو منہ میں لے لیا۔ اس کی زبان نپل کے گرد گھومی۔ ماہ نور نے اس کے بال پکڑ لیے۔ "ہاں... ایسے ہی..." اس کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ فہد کا دوسرا ہاتھ دوسرے ممے کو دبا رہا تھا۔

ماہ نور نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولے اور اس کے سینے پر ہونٹ رکھ دیے۔ اس کی زبان اس کے نپل پر پھری۔ فہد کراہا۔ اس کا لنڈ پینٹ میں تن کر کھڑا ہو گیا تھا۔ ماہ نور نے اسے محسوس کیا اور مسکرائی۔

اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کی پینٹ کی زپ کھولی اور اندر ہاتھ ڈالا۔ فہد کی سانس رک گئی۔ اس کی نرم انگلیاں اس کے لنڈ کو چھوئیں۔ "اتنا بڑا،" اس نے حیرت سے کہا۔ فہد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دبایا۔

بجلی واپس آ گئی۔ تیز روشنی میں دونوں چونکے۔ ماہ نور جلدی سے قمیض کے بٹن بند کرنے لگی۔ فہد نے اس کا ہاتھ روکا۔ "رکو۔" اس نے اسے اٹھایا اور بیڈ روم کی طرف لے گیا۔

بیڈ روم میں اس نے دروازہ بند کیا۔ ماہ نور بستر پر بیٹھ گئی۔ فہد نے اس کے سامنے گھٹنے ٹیکے اور اس کی شلوار کا ناڑا کھولا۔ ماہ نور نے سانس روک لی۔ شلوار نیچے سرکی۔

اس کی چوت گیلی چمک رہی تھی۔ فہد نے ایک انگلی اندر ڈالی۔ ماہ نور اچھل پڑی۔ "جیجا جی..." اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ فہد نے انگلی اندر باہر کی۔ اس کی چوت اور گیلی ہوتی گئی۔

اس نے منہ اس کی چوت پر رکھ دیا۔ اس کی زبان اس کے دانے کو ڈھونڈنے لگی۔ ماہ نور بستر کی چادر پکڑ کر چیخی۔ "آہ... جیجا جی... وہیں..." اس کی کمر خود بخود اوپر اٹھنے لگی۔

فہد کی زبان تیزی سے چل رہی تھی۔ ماہ نور کا جسم کانپنے لگا۔ اس کی ٹانگیں اس کے سر کے گرد کس گئیں۔ پہلی بار اس کی چوت سے پانی نکلا۔ وہ ہانپتی ہوئی بستر پر گر پڑی۔

"اب میری باری،" ماہ نور نے کہا اور اسے بستر پر دھکیلا۔ اس نے اس کی پینٹ اتاری۔ اس کا لنڈ آزاد ہو کر تن گیا۔ ماہ نور کی آنکھیں چمکیں۔ وہ جھکی اور اسے منہ میں لے لیا۔

اس کی زبان لنڈ کے سرے کے گرد گھومی۔ فہد نے بستر کی چادر مٹھی میں بھینچ لی۔ "آہ... ماہ نور..." اس کا منہ اوپر نیچے ہو رہا تھا۔ اس کا ہاتھ اس کے ٹٹوں کو سہلا رہا تھا۔

فہد نے اسے اوپر کھینچا۔ "اب بس۔" اس نے اسے بستر پر لٹایا اور اس کے اوپر آیا۔ اس کا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رگڑا۔ ایک ہی دھکے میں اندر گھس گیا۔ ماہ نور کی چیخ نکل گئی۔

وہ دھکے لگانے لگا۔ پہلے آہستہ، پھر تیز۔ ہر دھکا اس کے اندر گہرائی تک جاتا۔ ماہ نور اس کی پیٹھ نوچ رہی تھی۔ "تیز... اور تیز..." باہر بارش اور تیز ہو گئی تھی، جیسے ان کے ساتھ شامل ہو۔

فہد نے رفتار کم کر کے گہرے دھکے لگائے۔ ہر بار اس کا لنڈ پورا باہر آ کر پھر اندر جاتا۔ ماہ نور اس احساس سے تڑپ رہی تھی۔ اس کی چوت اسے کس کر پکڑ رہی تھی۔

"ایسے ہی،" وہ کراہی۔ "ایسے ہی جیجا جی..." اس کی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد کس گئیں۔ اس کی کمر اس کے دھکوں کے ساتھ اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ دونوں کا پسینہ ایک ہو گیا تھا۔

فہد نے اسے اٹھا کر دیوار سے لگایا۔ کھڑے کھڑے اسے چودنے لگا۔ ماہ نور کی ٹانگیں اس کی کمر سے لپٹی تھیں۔ اس کے ممے اس کے سینے سے دبے تھے۔ ہر دھکے پر اس کا جسم ہلتا۔

پھر اسے بستر پر اوندھا لٹا کر پیچھے سے لیا۔ اس کا ہاتھ اس کی کمر پر تھا۔ اس کی رفتار بڑھتی گئی۔ ماہ نور تکیہ کاٹتے ہوئے کراہ رہی تھی۔ اسے دوسری بار پانی نکلا، اس بار بہت تیز۔

فہد نے اسے پلٹا اور اسے اپنے اوپر بٹھایا۔ ماہ نور خود اوپر نیچے ہونے لگی۔ اس کی کمر گول گھوم رہی تھی۔ اس کے ہاتھ اپنے مموں کو دبا رہے تھے۔ اس کے چہرے پر مستی تھی۔

"میں آنے والا ہوں،" فہد نے دانت پیس کر کہا۔ "اندر ہی نکالو،" ماہ نور نے کہا۔ اس کا جسم اکڑا۔ اس کی منی اس کے اندر بہہ گئی۔ دونوں ایک ساتھ فارغ ہو کر گر پڑے۔

کچھ دیر دونوں خاموش رہے۔ باہر بارش اب ہلکی ہو گئی تھی۔ ماہ نور اس کے سینے پر سر رکھے لیٹی تھی۔ اس کی انگلیاں اس کے سینے پر لکیریں بنا رہی تھیں۔

"صائمہ آپی کو کبھی پتہ نہیں چلے گا،" ماہ نور نے دھیرے سے کہا۔ فہد نے اس کے بال سہلائے۔ "یہ صرف اس مہینے تک ہے۔ جب تمہارا امتحان ختم ہو گا..." ماہ نور نے اس کا منہ بند کر دیا۔ "ابھی اس کے بارے میں مت سوچو۔"

اگلی رات صائمہ پھر نائٹ شفٹ پر تھی۔ دروازہ بند ہوا۔ ماہ نور لاؤنج میں اس کا انتظار کر رہی تھی۔ اس نے آج کالا سوٹ پہنا تھا۔ "آج میں بتاؤں گی کہ کیا کرنا ہے،" اس نے کہا۔

اس رات ماہ نور نے اسے صوفے پر بٹھایا اور خود اس کی گود میں آ کر بیٹھی۔ اس نے اس کی شرٹ اتاری اور اس کے سینے کو چوما۔ اس کے ہاتھ اس کی پینٹ کھول رہے تھے۔ "آج جلدی نہیں،" اس نے کہا۔ "آج میں تمہیں تڑپاؤں گی۔"

اس نے اس کے لنڈ کو ہاتھ میں لیا اور آہستہ آہستہ سہلایا۔ فہد بے چین ہو گیا۔ "ماہ نور..." "چپ،" اس نے کہا اور جھک کر اسے چوما۔ اس کی زبان دھیرے دھیرے چل رہی تھی۔ فہد کی مٹھیاں بھنچ گئیں۔

جب وہ پوری طرح تیار ہو گیا تو ماہ نور اس کے اوپر بیٹھ گئی۔ اس نے اسے اپنے اندر لیا اور دھیرے دھیرے ہلنے لگی۔ موم بتی کی روشنی میں اس کا جسم لہر کھا رہا تھا۔ فہد نے اس کے ممے پکڑ لیے۔

"دیکھو مجھے،" ماہ نور نے کہا۔ فہد نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ "تم میری ہو،" اس نے کہا۔ "صرف اس مہینے کے لیے سہی۔" فہد نے اسے کس کر پکڑ لیا اور نیچے سے دھکے لگانے لگا۔

صوفہ چرچرانے لگا۔ ماہ نور کی کراہیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ "ہاں... ایسے... مت رکو..." فہد کی رفتار بڑھتی گئی۔ اس نے اسے اٹھایا اور بیڈ روم تک لے گیا، راستے میں بھی رکا نہیں۔

بستر پر اس نے اسے ہر انداز سے لیا۔ کبھی اوپر سے، کبھی پیچھے سے، کبھی کھڑا کر کے۔ ماہ نور ہر بار اس کے ساتھ تھی۔ اس کی آواز بیٹھ گئی تھی چیختے چیختے۔

صبح کے چار بجے دونوں تھک کر سو گئے۔ چھ بجے صائمہ کے آنے سے پہلے ماہ نور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ بستر کی چادر بدلی گئی۔ کوئی نشان نہیں چھوڑا گیا۔

ناشتے کی میز پر تینوں بیٹھے تھے۔ صائمہ تھکی ہوئی تھی۔ "تم دونوں ٹھیک ہو؟" اس نے پوچھا۔ "بالکل،" فہد نے کہا۔ ماہ نور نے چائے کا گھونٹ بھرا۔ میز کے نیچے اس کا پاؤں فہد کے پاؤں سے ٹکرایا اور وہیں رہا۔

فہد نے اسے دیکھا۔ ماہ نور کے ہونٹوں پر وہی مسکراہٹ تھی۔ اس نے دھیرے سے کہا، "جیجا جی، آج رات آپی کی ڈیوٹی پھر نائٹ ہے نا؟" صائمہ نے سر ہلایا۔ "ہاں۔" ماہ نور نے فہد کی طرف دیکھ کر آنکھ ماری۔ "پھر تو آج رات بھی بارش ہو گی۔"

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Married Cheating

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: 29 سالہ دانیال جب اپنے دوست کامران کی بیوی ماہ نور کی دیکھ بھال کے لیے آتا ہے، تو ایک سنی ہوئی فون کال دونوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات” also read

8 curated stories
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2

رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ

راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی

اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔

⏱️ 20 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں

آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی کہانی: شادی والی رات

اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔

⏱️ 15 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام

اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو سالی کی چدائی 2026: مہنور کی آدھی رات

آدھی رات کو اسٹڈی کا دروازہ کھلا اور مہنور اندر آ گئی۔ یہ اردو سالی کی چدائی 2026 کی وہ کہانی ہے جو ایک سرد رات میں شروع ہوئی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views