اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی

N
10 min read2 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

ممی کا دوپٹہ جب ٹیبل فین میں پھنسا، اسی لمحے سے یہ اردو مامی سیکس کہانی شروع ہوئی۔ لکھنؤ کی پرانی حویلی کا صحن، دوپہر کی دھوپ، اور میں، عمران، بائیس سال کا، یونیورسٹی میں داخلے کے کام سے تین دن کے لیے ممی کے گھر آیا ہوا۔

فین کی تیز ہوا میں ممی کا ہلکا گلابی دوپٹہ اڑا اور پنکھڑی میں لپٹ گیا۔ وہ چیخی، "عمران! پکڑو اسے، ورنہ پھٹ جائے گا!"

میں کرسی پر چڑھا۔ ممی میرے بالکل نیچے کھڑی تھیں، ان کے ہاتھ میرے گھٹنوں کے پاس۔ میں نے فین کا بٹن بند کیا اور الجھا ہوا دوپٹہ نکالنے لگا۔ کپڑا اتنا پھنسا تھا کہ کھینچنے پر ممی کو بھی اوپر کھینچنا پڑا۔

اچانک میرا توازن بگڑا۔ میں کرسی سے پھسلا اور ممی نے مجھے پکڑنے کے لیے بانہیں پھیلائیں۔ میں ان کے اوپر گرا، میرا چہرہ ان کے سینے میں دھنس گیا۔ ان کی چھاتیاں نرم اور بھری ہوئی، میرے گالوں پر دبی ہوئی تھیں۔

دو سیکنڈ۔ صرف دو سیکنڈ وہ رکیں۔ پھر انہوں نے مجھے دھکیلا، ہنستے ہوئے۔ "ارے! آنکھیں کہاں ہیں تمہاری؟"

لیکن ان کی ہنسی میں کچھ اور تھا۔ ان کی آنکھیں میرے چہرے پر ٹھہریں، اور ان کے گال گلابی ہو گئے۔ ممی کی عمر بتیس سال تھی، شادی کو آٹھ سال ہو گئے تھے، ماموں دبئی میں کام کرتے تھے اور سال میں ایک بار آتے تھے۔ وہ حویلی میں اکیلی رہتی تھیں۔

شام کو کھانے پر ممی نے کہا، "تمہارے ماموں کو فون پر بتایا، وہ بہت خوش ہوئے کہ تم آئے ہو۔"

"ممی، آپ اکیلی کیسے رہ لیتی ہیں اتنے بڑے گھر میں؟" میں نے پوچھا۔

انہوں نے ایک لمحہ مجھے دیکھا۔ "عادت ہو گئی ہے۔ ویسے بھی،" ان کے ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ آئی، "اکیلی عورت کو بہت کچھ سنبھالنا پڑتا ہے۔"

اس جملے کا مطلب میں سمجھ گیا، اور انہیں بھی معلوم تھا کہ میں سمجھ گیا۔

رات کو میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔ ممی اندر آئیں، ہاتھ میں تیل کی کٹوری۔ "سر میں درد ہے، ذرا مالش کر دو گے؟"

میں بستر پر بیٹھ گیا۔ وہ میرے سامنے بیٹھ گئیں، پیٹھ میری طرف۔ ان کے بال کھلے تھے، لمبے اور خوشبودار۔ میں نے تیل ان کے سر پر لگایا اور انگلیاں چلانے لگا۔

"ہاں، ایسے ہی،" انہوں نے آنکھیں بند کر لیں۔ "تمہارے ہاتھ بہت اچھے ہیں۔"

میرے ہاتھ ان کے کندھوں پر آئے۔ ان کی قمیض کا گلا کافی گہرا تھا۔ میری انگلیاں ان کی ننگی جلد پر پھسل رہی تھیں۔ ان کی سانس تیز ہو گئی۔

"تمہیں معلوم ہے،" ممی نے دھیرے سے کہا، آنکھیں بند کیے، "جب تم چھوٹے تھے، تم میری گود میں سر رکھ کر سوتے تھے۔ اب تم اتنے بڑے ہو گئے ہو۔"

"اور آپ ویسی کی ویسی ہیں،" میں نے کہا۔ "بلکہ اور خوبصورت۔"

انہوں نے آنکھیں کھولیں اور آئینے میں میری طرف دیکھا۔ ہماری نظریں آئینے میں ملیں۔ ان کے ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ تھی، وہ مسکراہٹ جو عورت تب دیتی ہے جب وہ جانتی ہے کہ مرد اسے چاہتا ہے۔

"عمران،" انہوں نے کہا، "تم اب بچے نہیں رہے۔"

"نہیں رہا،" میں نے کہا، اور میرے ہاتھ ان کے کندھوں سے ذرا نیچے سرکے۔

"ممی،" میں نے دھیرے سے کہا۔

"ہمم؟"

"آپ بہت خوبصورت ہیں۔"

وہ مڑیں۔ ہمارے چہرے ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔ ان کی آنکھوں میں سوال تھا، اور اجازت بھی۔ میں نے ان کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔

پہلے تو وہ ساکت رہیں، پھر انہوں نے میرے بالوں میں انگلیاں ڈال دیں اور بوسہ گہرا کر دیا۔ ان کی زبان میرے منہ میں آئی، گرم اور بے تاب۔ آٹھ سال کی پیاس ایک بوسے میں اتر رہی تھی۔

میرے ہاتھ ان کی قمیض کے اندر گئے۔ ان کی چھاتیاں بڑی اور نرم تھیں، میری ہتھیلی میں پوری نہ سما رہی تھیں۔ میں نے انہیں دبایا تو ان کے منہ سے سسکاری نکلی۔

"عمران،" انہوں نے میرے کان میں سرگوشی کی، "دروازہ بند کر دو۔"

میں نے اٹھ کر دروازہ بند کیا اور کنڈی لگائی۔ جب مڑا تو ممی بستر پر لیٹی تھیں، ان کی قمیض کے بٹن کھلے ہوئے۔ ان کی چھاتیاں آدھی ننگی، چاندنی میں چمک رہی تھیں۔

میں ان پر جھکا۔ میں نے ان کی ایک چھاتی کو منہ میں لیا۔ ان کی ڈنٹھی سخت ہو گئی۔ وہ میرے سر کو دبائے جا رہی تھیں۔ "ہاں، چوسو، زور سے۔"

میرا ایک ہاتھ نیچے گیا۔ ان کی شلوار کا ازاربند کھولا اور ہاتھ اندر ڈالا۔ ان کی پینٹی گیلی تھی۔ میری انگلی ان کی چوت پر پھسلی، گیلی اور گرم۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور دبایا۔

"اندر ڈالو،" انہوں نے کہا۔

میں نے دو انگلیاں اندر ڈالیں۔ وہ تنگ تھیں، اور ان کی دیواریں میری انگلیوں کو جکڑ رہی تھیں۔ میں نے انگلیاں آگے پیچھے کیں۔ ان کا جسم کمان کی طرح تن گیا۔

"عمران! میں جھڑ رہی ہوں!"

ان کا جسم کانپا۔ ان کی چوت سے پانی نکلا، میرا ہاتھ بھیگ گیا۔ وہ ہانپ رہی تھیں، ان کی چھاتیاں اوپر نیچے ہو رہی تھیں۔

پھر انہوں نے مجھے دیکھا، آنکھوں میں شرارت۔ "اب میری باری۔" انہوں نے میرا پاجامہ نیچے کیا۔ میرا لنڈ تنا ہوا، پورا تیار۔ انہوں نے اسے ہاتھ میں لیا اور دھیرے سے دبایا۔

"اتنا بڑا،" انہوں نے مسکرا کر کہا، اور پھر اسے منہ میں لے لیا۔

ان کا منہ گرم تھا۔ وہ اوپر نیچے ہو رہی تھیں، ان کی زبان میرے لنڈ کی نوک پر گھوم رہی تھی۔ میں نے ان کے بال پکڑے۔ "ممی، میں نکلنے والا ہوں۔"

"نکالو،" انہوں نے منہ سے نکالے بغیر کہا۔ "میرے منہ میں۔"

میں ان کے منہ میں جھڑ گیا۔ انہوں نے سب نگل لیا اور ہونٹ صاف کیے۔ پھر وہ میرے پاس لیٹ گئیں، میرا سر اپنی چھاتیوں پر رکھا۔

"یہ بات کسی کو نہیں بتانی،" انہوں نے کہا۔ "یہ ہمارا راز ہے۔"

"وعدہ،" میں نے کہا۔

اگلی دوپہر حویلی میں کوئی نہیں تھا۔ نوکرانی بازار گئی تھی۔ ممی چھت پر کپڑے سکھا رہی تھیں۔ میں اوپر گیا۔ ہوا چل رہی تھی، ان کا دوپٹہ اڑ رہا تھا۔

"ممی،" میں نے پیچھے سے ان کی کمر میں بانہیں ڈال دیں۔

وہ چونکیں، پھر میرے ساتھ لگ گئیں۔ "کوئی دیکھ لے گا۔"

"کوئی نہیں ہے۔" میرے ہاتھ ان کی چھاتیوں پر آئے۔ میں نے انہیں قمیض کے اوپر سے دبایا۔

انہوں نے مڑ کر مجھے بوسہ دیا، جنگلی اور بے قرار۔ "اندر چلو، اسٹور روم میں۔"

چھت کا اسٹور روم چھوٹا تھا، پرانے صندوقوں سے بھرا۔ انہوں نے دروازہ بند کیا۔ میں نے ان کی قمیض اتاری۔ ان کی چھاتیاں آزاد ہو گئیں۔ میں نے انہیں منہ میں لیا، باری باری چوسا۔

انہوں نے میرا پاجامہ کھولا اور میرا لنڈ باہر نکالا۔ وہ صندوق پر بیٹھ گئیں اور ٹانگیں پھیلائیں۔ "آؤ،" انہوں نے کہا۔ "مجھے چودو۔"

میں ان کے سامنے گھٹنوں پر بیٹھا۔ پہلے میں نے ان کی چوت کو چاٹا۔ وہ گیلی تھیں، ان کا ذائقہ نمکین اور میٹھا۔ ان کی ٹانگیں میرے کندھوں پر تھیں۔ وہ سسکار رہی تھیں۔

پھر میں کھڑا ہوا۔ انہوں نے میرے لنڈ کو پکڑا اور اپنی چوت پر رکھا۔ میں نے ایک دھکا دیا اور اندر چلا گیا۔ وہ بہت گیلی تھیں، میں آسانی سے پورا اندر اتر گیا۔

"ہاں!" وہ چلائیں۔ "زور سے، عمران، زور سے چودو مجھے!"

میں نے دھکے مارنے شروع کیے۔ صندوق ہل رہا تھا۔ ان کی چھاتیاں ہر دھکے پر اچھل رہی تھیں۔ میں نے ان کی کمر پکڑی اور تیز کیا۔

"میں جھڑ رہی ہوں! میں جھڑ رہی ہوں!" ان کا جسم اکڑا، ان کی چوت نے میرے لنڈ کو جکڑ لیا۔

ان کے جھڑنے سے میرا بھی بند ٹوٹا۔ میں نے دو زوردار دھکے مارے اور ان کے اندر ہی نکل گیا۔ میرا پانی ان کی گہرائی میں اترا۔

ہم دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے تھے۔ ممی نے میرے چہرے کو ہاتھوں میں لیا۔ "تم نے مجھے آٹھ سال بعد عورت ہونے کا احساس دلایا۔"

اس رات ہم نے کھانا ساتھ کھایا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ لیکن ٹیبل کے نیچے ان کا پاؤں میرے پاؤں سے لگا رہا۔

کھانے کے بعد ممی برتن دھو رہی تھیں۔ میں پانی کا گلاس لینے کچن میں گیا۔ وہ سنک کے سامنے جھکی ہوئی تھیں۔ میرا ضبط جواب دے گیا۔ میں نے پیچھے سے ان سے لپٹ کر ان کی گردن پر بوسہ دیا۔

"عمران!" انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، لیکن مڑ کر میرا ساتھ دیا۔ "تم بہت بے صبرے ہو۔"

"آپ نے بنایا ہے،" میں نے کہا، اور ان کے ہونٹ چومے۔ ان کے ہاتھ گیلے تھے، انہوں نے میرے چہرے پر پانی کے قطرے لگا دیے۔ ہم دونوں ہنس پڑے، پھر بوسہ گہرا ہو گیا۔

میں نے ان کی قمیض کے اوپر سے ان کی چھاتیاں دبائیں۔ انہوں نے سسکاری لی اور میرا ہاتھ پکڑا۔ "نہیں، ابھی نہیں۔ نوکرانی آتی ہوگی۔ رات کو، تمہارے کمرے میں۔ وعدہ۔"

وہ رات طویل تھی۔ جب سب سو گئے، ممی میرے کمرے میں آئیں۔ اس بار انہوں نے خود دروازہ بند کیا۔ وہ بستر پر آئیں اور میری قمیض اتارنے لگیں۔

"آج میں تمہیں پورا چاہتی ہوں،" انہوں نے کہا۔

ہم نے ایک دوسرے کے کپڑے اتارے۔ چاندنی میں ان کا ننگا جسم چمک رہا تھا۔ میں ان پر لیٹا۔ انہوں نے میری کمر میں ٹانگیں لپیٹ لیں اور میرے لنڈ کو اپنی چوت پر رکھا۔

میں دھیرے دھیرے اندر اترا۔ وہ تنگ اور گیلی تھیں۔ ہم نے دھیرے دھیرے شروع کیا، پھر تیز۔ بستر چرچرانے لگا تو ممی نے تکیہ منہ پر رکھ لیا تاکہ آواز باہر نہ جائے۔

میں نے ان کی چھاتیوں کو چوسا، ان کی گردن چومی۔ وہ میرے نیچے مچل رہی تھیں۔ "اور تیز،" انہوں نے تکیے کے پیچھے سے کہا۔

میں نے رفتار بڑھائی۔ ان کا جسم اکڑا اور وہ جھڑ گئیں، تکیے میں دبی سسکاری کے ساتھ۔ میں بھی اسی لمحے ان کے اندر نکلا۔

ہم ایک دوسرے کی بانہوں میں سو گئے۔ صبح اذان سے پہلے وہ اٹھیں، کپڑے پہنے اور میرے ماتھے پر بوسہ دے کر چلی گئیں۔

تیسرے دن میرے جانے کا وقت آیا۔ اسٹیشن پر ممی مجھے چھوڑنے آئیں۔ بھیڑ میں انہوں نے میرا ہاتھ دبایا۔

"داخلہ مل جائے تو پھر آنا،" انہوں نے کہا، آنکھوں میں وہی شرارت۔ "ممی تمہارا انتظار کرے گی۔"

ٹرین چلی۔ میں نے کھڑکی سے دیکھا، وہ پلیٹ فارم پر کھڑی ہاتھ ہلا رہی تھیں، ان کا گلابی دوپٹہ ہوا میں اڑ رہا تھا، وہی دوپٹہ جس نے یہ سب شروع کیا تھا۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Married Cheating

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: 29 سالہ دانیال جب اپنے دوست کامران کی بیوی ماہ نور کی دیکھ بھال کے لیے آتا ہے، تو ایک سنی ہوئی فون کال دونوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی” also read

8 curated stories
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2

رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ

راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔

⏱️ 20 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں

آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی کہانی: شادی والی رات

اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔

⏱️ 15 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام

اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو سالی کی چدائی 2026: مہنور کی آدھی رات

آدھی رات کو اسٹڈی کا دروازہ کھلا اور مہنور اندر آ گئی۔ یہ اردو سالی کی چدائی 2026 کی وہ کہانی ہے جو ایک سرد رات میں شروع ہوئی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views