اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام

S
11 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

تم ابھی تک شادی کیوں نہیں کی عمران؟ عائشہ نے چائے کا کپ آگے بڑھاتے ہوئے مسکرا کر پوچھا اور اس کی آنکھوں میں شرارت صاف نظر آ رہی تھی۔ یہ اردو دوست کی بیوی کہانی اسی شام سے شروع ہوئی تھی جب لکھنؤ کے پرانے شہر والے گھر میں چائے کی خوشبو اور ہلکی سی خاموشی ایک ساتھ پھیل رہی تھی۔

تم کانپور سے اتنی دور آئے ہو اور پھر بھی شرماتے ہو، عائشہ نے چائے میں چینی گھولتے ہوئے کہا۔ عمران نے جواب دیا کہ شرمانا اس کی عادت نہیں ہے بلکہ وہ صرف احترام کرتا ہے۔ عائشہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور آہستہ سے بولی کہ احترام اور چاہت میں فرق ہوتا ہے اور یہ فرق آج وہ اسے سمجھائے گی۔

عائشہ کے شوہر دبئی میں کام کرتے تھے اور گھر میں اکثر خاموشی رہتی تھی۔ اس شام وہ اکیلی نہیں تھی کیونکہ عمران اس کے شوہر کا بچپن کا دوست تھا اور چند دنوں کے لیے مہمان بن کر آیا تھا۔ اس کی موجودگی نے گھر کی خاموشی کو توڑ دیا تھا اور عائشہ کے دل میں ایک عجیب سی ہلچل پیدا کر دی تھی۔

چائے ختم ہونے کے بعد عائشہ اٹھی اور برتن سمیٹنے لگی مگر عمران نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس کے ہاتھ کی گرمی عائشہ کی کلائی میں اتر گئی اور وہ ایک لمحے کے لیے رک گئی۔ عمران نے آہستہ سے کہا کہ وہ اسے ایسے کام نہیں کرنے دے گا جب وہ یہاں موجود ہے۔

دونوں کے درمیان فاصلہ آہستہ آہستہ کم ہو رہا تھا اور ڈرائنگ روم کی روشنی مدھم ہوتی جا رہی تھی۔ عائشہ نے عمران کے قریب آ کر اس کی قمیض کا کالر ٹھیک کیا اور اس کی انگلیاں اس کی گردن کو چھو گئیں۔ عمران نے ایک گہری سانس لی اور اس کی کمر پر ہاتھ رکھ دیا۔

یہ مت کرو، عائشہ نے ہنستے ہوئے کہا مگر اس کی آواز میں روکنے کا ارادہ نہیں تھا۔ عمران نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے۔ پہلا بوسہ نرم تھا مگر دوسرا بوسہ گہرا اور بھوکا تھا جیسے دونوں نے برسوں کی پیاس ایک ساتھ بجھانی ہو۔

عائشہ نے عمران کی زبان کو اپنی زبان سے چھوا اور اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ عمران نے اس کی کمر کو مضبوطی سے پکڑا اور اسے صوفے کی طرف لے گیا۔ اس کے ہاتھ عائشہ کے جسم پر گھوم رہے تھے اور ہر لمس کے ساتھ عائشہ کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔

تم جانتے ہو یہ غلط ہے، عائشہ نے بوسوں کے درمیان سرگوشی کی۔ عمران نے جواب دیا کہ اس لمحے میں صرف وہ دونوں ہیں اور دنیا کی کوئی بات ان کے درمیان نہیں آ سکتی۔ عائشہ نے اس کی بات سن کر اس کے ہونٹوں کو پھر سے چوم لیا اور اس کی رضامندی اس کے ہر عمل میں صاف نظر آ رہی تھی۔

عمران نے عائشہ کے دوپٹے کو آہستہ سے اتارا اور اس کے کندھوں پر بوسے دینے لگا۔ عائشہ نے آنکھیں بند کر لیں اور اس کی گردن پر عمران کے ہونٹوں کی گرمی محسوس کی۔ اس کے ہاتھ عمران کی پیٹھ پر گھوم رہے تھے اور وہ اسے اپنے اور قریب کھینچ رہی تھی۔

عائشہ کی قمیض کے بٹن ایک ایک کر کے کھلنے لگے اور عمران کی نظریں اس کے سینے پر ٹھہر گئیں۔ اس نے عائشہ کے سینے کو ہاتھوں میں لیا اور آہستہ سے دبایا تو عائشہ کے منہ سے ایک ہلکی سی آہ نکلی۔ عمران نے اس کے سینے پر بوسہ دیا اور اس کی زبان سے اس کے نپل کو چھیڑنے لگا۔

آہ عمران، آہستہ کرو، عائشہ نے کہا مگر اس کے ہاتھ عمران کا سر اپنے سینے پر دبا رہے تھے۔ عمران نے اس کی بات کو نظرانداز نہیں کیا بلکہ اور نرمی سے اس کے سینے کو چومنے لگا اور پھر اچانک اسے ہلکے سے کاٹ لیا۔ عائشہ نے اس کی پیٹھ کو ناخنوں سے پکڑ لیا اور اس کی سانسیں اور تیز ہو گئیں۔

عمران نے عائشہ کی شلوار کی ڈوری کھولی اور اسے آہستہ سے نیچے سرکایا۔ عائشہ کی ٹانگیں ہلکی سی کانپ رہی تھیں مگر اس کی آنکھوں میں شرم کے ساتھ ساتھ ایک واضح چاہت بھی تھی۔ عمران نے اس کی رانوں پر ہاتھ پھیرا اور پھر اس کی چوت کو چھوا تو عائشہ نے ایک لمبی سانس لی۔

تمہاری چوت بہت گرم ہے، عمران نے سرگوشی کی اور اپنی انگلی سے اسے آہستہ سے سہلانے لگا۔ عائشہ نے اپنی ٹانگیں اور کھول دیں اور بولی کہ اسے اور چاہیے اور وہ رکے نہیں۔ عمران نے اپنی انگلی اس کی چوت کے اندر ڈالی اور آہستہ آہستہ حرکت دینے لگا۔

عائشہ کی چوت سے پانی نکلنے لگا اور اس کی آوازیں کمرے میں گونجنے لگیں۔ عمران نے دوسری انگلی بھی ڈال دی اور اس کی چوت کو اندر سے رگڑنے لگا۔ عائشہ نے صوفے کی گدی کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اس کا جسم ہلنے لگا۔

عمران نے اپنا منہ عائشہ کی چوت پر رکھ دیا اور اپنی زبان سے اسے چاٹنے لگا۔ اس کی زبان عائشہ کی چوت کے ہر حصے پر گھوم رہی تھی اور عائشہ کی آہیں اور بلند ہو رہی تھیں۔ عائشہ نے عمران کے بالوں کو پکڑا اور اس کا چہرہ اپنی چوت پر دبا دیا۔

بس عمران، بس، مجھے اور تڑپاؤ مت، عائشہ نے کانپتی آواز میں کہا۔ عمران نے زبان کی رفتار تیز کر دی اور عائشہ کا جسم ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ کانپ اٹھا۔ اس کی چوت سے پانی بہہ نکلا اور وہ پہلی بار اس شام جھڑ گئی۔

عائشہ نے عمران کی پتلون کھولی اور اس کا لنڈ باہر نکال لیا۔ اس کا لنڈ سخت اور بڑا تھا اور عائشہ نے اسے ہاتھ میں لے کر آہستہ سے ہلانا شروع کر دیا۔ عمران نے آنکھیں بند کر لیں اور اس کے منہ سے ایک گہری آہ نکلی۔

تمہارا لنڈ بہت موٹا ہے، عائشہ نے ہنستے ہوئے کہا اور اس کے لنڈ پر بوسہ دیا۔ عمران نے جواب دیا کہ یہ اب اس کا ہے اور وہ اسے پورا لے سکتی ہے۔ عائشہ نے اس کے لنڈ کو منہ میں لیا اور آہستہ آہستہ چوسنے لگی۔

عائشہ کی زبان عمران کے لنڈ پر گھوم رہی تھی اور وہ اسے گہرائی تک لے جا رہی تھی۔ عمران نے اس کے بالوں کو پکڑا اور آہستہ سے اس کے منہ میں حرکت دینے لگا۔ اس کی آوازیں عائشہ کو اور گرم کر رہی تھیں اور وہ اور تیزی سے چوسنے لگی۔

بس عائشہ، ورنہ میں ابھی جھڑ جاؤں گا، عمران نے کہا اور اسے اوپر اٹھا لیا۔ عائشہ نے ہنس کر کہا کہ وہ ابھی اسے جھڑنے نہیں دے گی کیونکہ اسے اس کا لنڈ اپنی چوت میں چاہیے۔ عمران نے اسے بانہوں میں اٹھایا اور بیڈ روم کی طرف لے گیا۔

بیڈ روم میں عمران نے عائشہ کو بستر پر لٹایا اور اس کے اوپر آ گیا۔ اس نے عائشہ کی ٹانگیں کھولیں اور اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھ دیا۔ عائشہ نے اس کی کمر کو پکڑا اور بولی کہ وہ اسے آہستہ سے اندر ڈالے۔

عمران نے اپنا لنڈ آہستہ سے عائشہ کی چوت میں دھکیلا اور عائشہ نے ایک لمبی آہ بھری۔ اس کی چوت پہلے سے گیلی تھی اس لیے لنڈ آسانی سے اندر چلا گیا۔ عمران نے تھوڑا رک کر عائشہ کے چہرے کو دیکھا اور پھر پورا لنڈ اندر کر دیا۔

آہ، بہت اچھا لگ رہا ہے، عائشہ نے کہا اور اپنی ٹانگیں عمران کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ عمران نے آہستہ آہستہ دھکے دینے شروع کیے اور ہر دھکے کے ساتھ عائشہ کی آواز بلند ہوتی گئی۔ اس کی چوت عمران کے لنڈ کو مضبوطی سے جکڑ رہی تھی۔

عمران نے رفتار بڑھا دی اور عائشہ کے سینے کو چومتے ہوئے زور زور سے چدائی کرنے لگا۔ عائشہ نے اس کی پیٹھ پر ناخن چلائے اور بولی کہ وہ اور زور سے کرے۔ عمران نے اس کی بات مان لی اور اس کی چوت میں اپنا لنڈ پوری طاقت سے مارنے لگا۔

عمران نے عائشہ کو پلٹا کر گھوڑی بنا دیا اور اس کی کمر پر ہاتھ رکھا۔ اس نے پیچھے سے اپنا لنڈ عائشہ کی چوت میں ڈالا اور زور سے دھکے دینے لگا۔ عائشہ نے بستر کی چادر کو پکڑ لیا اور اس کی آوازیں اور بلند ہو گئیں۔

پیچھے سے چدائی عائشہ کو بہت پسند آ رہی تھی کیونکہ عمران کا لنڈ اس کی چوت میں اور گہرائی تک جا رہا تھا۔ عمران نے اس کے کولہوں پر ہلکے سے تھپڑ مارے اور اس کے بالوں کو کھینچ کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا۔ عائشہ نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا اور مسکرا دی۔

عمران نے عائشہ کو پھر سے سیدھا لٹایا اور اس کی ایک ٹانگ اپنے کندھے پر رکھ لی۔ اس پوزیشن میں اس کا لنڈ عائشہ کی چوت میں ایک نئے زاویے سے جا رہا تھا اور عائشہ کی آہیں رک نہیں رہی تھیں۔ عمران نے اس کی ٹانگ کو چوما اور دھکوں کی رفتار برقرار رکھی۔

مجھے تمہارا لنڈ اپنی چوت میں بہت اچھا لگ رہا ہے، عائشہ نے صاف لفظوں میں کہا۔ عمران نے جواب دیا کہ اس کی چوت بہت ٹائٹ اور گرم ہے اور وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتا۔ دونوں کی باتیں ایک دوسرے کو اور گرم کر رہی تھیں اور چدائی کی شدت بڑھتی جا رہی تھی۔

عمران کی سانسیں تیز ہو گئیں اور اس نے کہا کہ وہ اب جھڑنے والا ہے۔ عائشہ نے اسے روکا نہیں بلکہ اپنی ٹانگیں اور مضبوطی سے لپیٹ لیں اور بولی کہ وہ اس کے اندر ہی جھڑے۔ عمران نے آخری چند زوردار دھکے دیے اور اپنا پانی عائشہ کی چوت میں چھوڑ دیا۔

تم نے مجھے آج بہت خوش کر دیا، عائشہ نے آہستہ سے کہا۔ عمران نے مسکرا کر جواب دیا کہ یہ خوشی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور رات ابھی باقی ہے۔ عائشہ نے ہنس کر کہا کہ وہ اسے پھر سے چاہتی ہے مگر پہلے تھوڑا آرام کر لے۔

عائشہ عمران کے اوپر بیٹھ گئی اور اس کا لنڈ اپنی چوت میں خود ڈال لیا۔ اس نے آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہونا شروع کیا اور اس کے سینے عمران کے چہرے کے سامنے ہل رہے تھے۔ عمران نے اس کے سینے کو ہاتھوں میں لیا اور اس کے نپل چوسنے لگا۔

عائشہ نے رفتار بڑھا دی اور اس کی آوازیں کمرے میں گونجنے لگیں۔ عمران نے اس کی کمر کو پکڑا اور نیچے سے دھکے دینے لگا۔ دونوں کی حرکت ایک تال میں آ گئی اور عائشہ کا جسم پھر سے جھڑنے کے قریب پہنچ گیا۔

عمران، میں پھر جھڑ رہی ہوں، عائشہ نے چیخ کر کہا اور اس کا جسم کانپ اٹھا۔ اس کی چوت سے پانی بہہ نکلا اور عمران کا لنڈ اس پانی میں بھیگ گیا۔ عمران نے اسے مضبوطی سے پکڑا اور خود بھی اس کے اندر جھڑ گیا۔

دونوں تھک کر بستر پر گر گئے اور ایک دوسرے کی بانہوں میں سو گئے۔ رات کے آخری پہر میں عائشہ نے عمران کا ہاتھ پکڑا اور اس کی انگلیوں سے کھیلنے لگی۔ عمران نے نیند میں ہی اسے اپنے قریب کھینچ لیا اور اس کے بالوں میں منہ چھپا لیا۔

اگلی صبح سورج کی روشنی کھڑکی سے اندر آئی اور عائشہ کی آنکھ کھلی۔ عمران اس کے ساتھ ہی سویا ہوا تھا اور اس کا ایک ہاتھ ابھی بھی عائشہ کی کمر پر تھا۔ عائشہ نے آہستہ سے اس کا ہاتھ ہٹایا اور بستر سے اٹھ کر کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوئی۔

عمران نے آنکھیں کھولیں اور مسکرا کر پوچھا کہ کیا وہ چائے بنائے گی۔ عائشہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور بولی کہ چائے تو بنے گی مگر پہلے وہ اسے ناشتے میں ایک اور بوسہ دے گی۔ عمران اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اس کے ہونٹوں پر ایک لمبا بوسہ دیا۔

🔒 Bonus Scene locked

اگلی شام چھت پر عائشہ اور عمران کے درمیان ایک ایسی بات ہوئی جس نے ان کی کہانی کو ایک نئے موڑ پر پہنچا دیا۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Married Cheating

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: 29 سالہ دانیال جب اپنے دوست کامران کی بیوی ماہ نور کی دیکھ بھال کے لیے آتا ہے، تو ایک سنی ہوئی فون کال دونوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

Read Next Story

More stories by Salman Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام” also read

8 curated stories
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2

رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ

راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی

اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔

⏱️ 20 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں

آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی کہانی: شادی والی رات

اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔

⏱️ 15 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو سالی کی چدائی 2026: مہنور کی آدھی رات

آدھی رات کو اسٹڈی کا دروازہ کھلا اور مہنور اندر آ گئی۔ یہ اردو سالی کی چدائی 2026 کی وہ کہانی ہے جو ایک سرد رات میں شروع ہوئی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views