اردو دیور بھابھی کہانی: لکھنؤ کی شبانہ اور دانش
شبانہ نے کچن کی الماری میں چھپا ہوا خط تیسری بار پڑھا تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ خط میں صرف دو سطریں تھیں، دیور دانش کی لکھائی میں۔ تمہاری ہنسی سن کر دل قابو میں نہیں رہتا، بھابھی۔ شبانہ نے خط کو مٹھی میں بھینچ لیا اور سوچا کہ اسے پھاڑ کر پھینک دینا چاہیے۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے خط کو دوبارہ الماری کے پیچھے چھپا دیا، جہاں اسے کسی کی نظر نہ پڑے۔ یہ اردو دیور بھابھی کہانی اسی خط سے شروع ہوتی ہے۔
دانش تین دن پہلے ہی لکھنؤ آیا تھا، پڑھائی کے سلسلے میں چند ہفتوں کے لیے بھائی کے گھر ٹھہرنے۔ شبانہ کا شوہر عمران دفتر کے کام سے اکثر باہر رہتا تھا اور گھر میں زیادہ تر شبانہ اکیلی ہوتی تھی۔ دانش کے آنے کے بعد گھر کی خاموشی ٹوٹ گئی تھی۔ وہ صبح چائے بناتا، شبانہ کو اخبار پڑھ کر سناتا اور شام کو چھت پر اس کے ساتھ بیٹھ کر گپیں مارتا۔ شبانہ نے محسوس کیا کہ وہ دانش کی موجودگی کا انتظار کرنے لگی ہے۔
اس رات عمران نے فون پر بتایا کہ وہ کل صبح تک واپس نہیں آ سکیں گے، کام لمبا کھنچ گیا ہے۔ شبانہ نے فون رکھا تو دل میں ایک عجیب سی ہلچل تھی۔ اس نے دانش کے لیے کھانا لگایا اور دونوں نے خاموشی سے کھانا کھایا۔ کھانے کے دوران دانش بار بار اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شبانہ نے پوچھا، کیا دیکھ رہے ہو، تو دانش نے مسکرا کر کہا، کچھ نہیں بھابھی، بس سوچ رہا ہوں کہ بھائی کتنے خوش قسمت ہیں۔
کھانے کے بعد دانش نے کہا، بھابھی، چھت پر چلیں، موسم اچھا ہے۔ شبانہ پہلے ہچکچائی، پھر مان گئی۔ چھت پر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور شہر کی بتیاں دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ دانش نے چارپائی بچھائی اور دونوں بیٹھ گئے۔ باتوں باتوں میں دانش نے کہا، بھابھی، وہ خط آپ نے پڑھا۔ شبانہ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس نے کہا، تمہیں شرم نہیں آتی، میں تمہاری بھابھی ہوں۔ دانش نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا، دل کو کون سمجھائے، بھابھی۔
شبانہ نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی، مگر دانش کی گرفت مضبوط تھی۔ اس نے شبانہ کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ دیا جہاں دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ شبانہ کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ دانش نے آہستہ سے اس کے قریب آ کر اس کے گال پر بوسہ دیا۔ شبانہ نے آنکھیں بند کر لیں۔ دانش نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور وہ بوسہ دھیرے دھیرے گہرا ہوتا گیا۔ شبانہ کے ہاتھ دانش کی قمیض کو مٹھی میں بھینچنے لگے۔
دانش نے شبانہ کو چارپائی پر لٹا دیا اور اس کے اوپر آ گیا۔ اس نے شبانہ کے کرتے کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ شبانہ نے کہا، دانش، یہ غلط ہے، کوئی دیکھ لے گا۔ دانش نے کہا، رات کے اس وقت چھت پر کوئی نہیں آتا، بھابھی۔ اس نے شبانہ کے سینے پر بوسے دینے شروع کیے، اس کے مموں کو چوما اور ہلکے سے کاٹا۔ شبانہ کے منہ سے سسکاری نکل گئی۔ اس نے دانش کے سر کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
دانش کا ہاتھ شبانہ کی شلوار کے اندر سرک گیا۔ اس کی انگلیاں شبانہ کی چوت پر گھومنے لگیں اور شبانہ کی ٹانگیں خود بخود کھل گئیں۔ شبانہ نے کہا، آہستہ کرو، دانش۔ دانش نے اس کی چوت میں دو انگلیاں ڈال دیں اور اندر باہر کرنے لگا۔ شبانہ کا بدن کانپنے لگا۔ اس نے دانش کی پتلون کی زپ کھولی اور اس کا لن باہر نکال لیا۔ وہ سخت اور گرم تھا۔ شبانہ نے اسے ہاتھ میں لے کر ہلانا شروع کیا۔
دانش نے شبانہ کی چوت پر اپنا لن رگڑنا شروع کیا اور پھر ایک ہی جھٹکے میں اندر ڈال دیا۔ شبانہ نے اپنی چیخ روکنے کے لیے دانش کے کندھے پر کاٹ لیا۔ دانش اس پر جھک کر دھکے مار رہا تھا، ہر دھکا پہلے سے گہرا۔ شبانہ کی چوت سے پانی بہ رہا تھا اور دانش کا لن اندر باہر ہو رہا تھا۔ چھت کی خاموشی میں دونوں کی سانسوں کی آواز گونج رہی تھی۔
دانش نے شبانہ کو گود میں اٹھا لیا اور چارپائی کے کنارے بیٹھ کر اسے اپنے اوپر بٹھا لیا۔ شبانہ نے اس کے کندھوں کو پکڑ لیا اور خود اوپر نیچے ہونے لگی۔ اس کے ممے دانش کے چہرے کے سامنے جھول رہے تھے اور دانش انہیں چوم رہا تھا۔ شبانہ کی رفتار تیز ہوتی گئی اور پھر اس کا بدن اکڑ گیا۔ وہ جھڑ گئی اور اس کی چوت نے دانش کے لن کو زور سے جکڑ لیا۔ دانش بھی رک نہیں پایا اور اپنا پانی شبانہ کی چوت کے اندر ہی چھوڑ دیا۔
دونوں کچھ دیر ویسے ہی بیٹھے رہے، پسینے سے بھیگے ہوئے۔ شبانہ نے اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور دانش کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ڈر بھی تھا اور ایک عجیب سی خوشی بھی۔ دانش نے کہا، بھابھی، یہ خط تو صرف شروعات تھی۔ شبانہ نے مسکرا کر کہا، چپ رہو، نیچے چلو، کوئی جاگ نہ جائے۔ دونوں سیڑھیوں سے نیچے اتر گئے، مگر شبانہ جانتی تھی کہ اب یہ راز ان دونوں کے درمیان ہمیشہ رہے گا۔
اگلی دوپہر عمران نے پھر فون کیا کہ کام ایک دن اور لمبا ہو گیا ہے، وہ پرسوں صبح پہنچیں گے۔ شبانہ نے یہ خبر دانش کو دی تو دانش کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ اس نے کہا، بھابھی، تو آج رات پھر چھت پر۔ شبانہ نے اسے ڈانٹا، مگر اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی۔ شام کو شبانہ نے کھانا بنایا اور جان بوجھ کر دانش کی پسند کی چیزیں بنائیں۔ دانش نے کھانا کھاتے ہوئے اس کی تعریف کی اور شبانہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ شبانہ نے ہاتھ نہیں ہٹایا۔
رات کو دانش شبانہ کے کمرے کے دروازے پر آیا۔ شبانہ نے دروازہ کھولا تو دانش نے اسے دیوار سے لگا دیا اور اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا۔ اس بار شبانہ نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ اس نے دانش کی قمیض اتار دی اور اس کے سینے پر بوسے دینے لگی۔ دانش نے شبانہ کا کرتا اتار دیا اور اس کے مموں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ وہ انہیں دباتا رہا اور چومتا رہا۔ شبانہ نے اس کا لن پکڑ لیا اور منہ میں لے لیا۔ اس نے آہستہ آہستہ چوسنا شروع کیا اور دانش نے اس کے سر کو پکڑ لیا۔
دانش نے شبانہ کو بستر پر لٹا دیا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں۔ اس نے اپنا لن اس کی چوت میں ڈال دیا اور دھکے مارنے لگا۔ شبانہ نے بستر کی چادر کو مٹھی میں بھینچ لیا۔ دانش کی رفتار تیز ہوتی گئی اور شبانہ کی سسکاریاں بڑھتی گئیں۔ دانش نے اس کی چوت کو چاٹا، پھر دوبارہ لن ڈال دیا۔ اس بار شبانہ نے اسے زور سے جکڑ لیا اور دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے۔ دانش نے شبانہ کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا، بھابھی، آپ میری سب سے بڑی کمزوری بن گئی ہیں۔
شبانہ نے دانش کو گلے لگا لیا اور کہا، یہ بات کسی کو پتہ نہیں چلنی چاہیے، ورنہ گھر ٹوٹ جائے گا۔ دانش نے وعدہ کیا کہ یہ راز صرف ان دونوں کے درمیان رہے گا۔ اس رات کے بعد شبانہ نے خط کو الماری سے نکال کر اپنے پرس میں رکھ لیا، تاکہ وہ ہمیشہ اس کے پاس رہے۔ وہ جانتی تھی کہ عمران کی واپسی کے بعد بھی دانش کی یہ یادیں اس کے دل میں رہیں گی۔
اس کے بعد والی رات دانش نے شبانہ کو ایک اور خط دیا، اس بار کھانے کی میز پر پلیٹ کے نیچے رکھ کر۔ خط میں لکھا تھا، کل رات والی بات بھولنا مت، بھابھی۔ شبانہ نے خط پڑھ کر اسے چوم لیا اور پھر پھاڑ دیا۔ اس نے دانش کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا، تم نے مجھے بدل دیا ہے، دانش۔ دانش نے کہا، بھابھی، آپ نے مجھے بھی بدل دیا ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا اور کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے۔ گھر کی خاموشی میں ان کے دل کی دھڑکنیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔
شبانہ نے سوچا کہ اس نے زندگی میں کبھی اتنی ہمت نہیں دکھائی تھی، مگر دانش کے ساتھ ہر لمحہ اسے زندہ ہونے کا احساس دلاتا تھا۔ اس نے دانش کے ہاتھ پر اپنا سر رکھ دیا اور دونوں دیر تک ویسے ہی بیٹھے رہے، جیسے وقت تھم گیا ہو۔ شبانہ کے دل میں اب کوئی پچھتاوا نہیں تھا، صرف ایک خاموش خوشی تھی جو اسے ہر صبح دانش کا چہرہ دیکھنے پر مجبور کرتی تھی۔
اگلی صبح شبانہ نے ناشتے پر دانش کو دیکھا تو اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ عمران کا فون آیا کہ وہ شام تک پہنچ جائیں گے۔ شبانہ نے فون رکھا اور دانش کی طرف دیکھا۔ دانش نے آنکھ مار دی اور شبانہ نے جلدی سے نظریں جھکا لیں۔ اس کے دل میں ایک نیا خوف تھا اور ایک نئی چاہت بھی۔ گھر میں سب کچھ معمول کے مطابق لگ رہا تھا، مگر شبانہ جانتی تھی کہ رات کی چھت والی کہانی اب ان کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے، اور یہ راز ہمیشہ ان دونوں کے درمیان محفوظ رہے گا۔
اس رات کے بعد دانش نے شبانہ کو ایک اور خط دیا، اس بار صبح کی چائے کے کپ کے نیچے رکھ کر۔ خط میں لکھا تھا کہ رات کو جب سب سو جائیں تو چھت کی سیڑھیوں پر ملنا۔ شبانہ نے خط پڑھ کر مسکرا دیا اور اسے اپنے دوپٹے میں چھپا لیا۔ رات کو جب گھر خاموش ہو گیا تو شبانہ دبے پاؤں سیڑھیوں پر پہنچی۔ دانش وہاں پہلے سے کھڑا تھا۔
دانش نے شبانہ کو دیوار سے لگا دیا اور اس کی گردن پر بوسے دینے لگا۔ شبانہ نے اس کی قمیض کے بٹن کھول دیے اور اس کے سینے پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ دانش نے شبانہ کی شلوار کا نالا کھولا اور اس کی چوت پر انگلیاں پھیرنے لگا۔ شبانہ کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ اس نے دانش کا لن پکڑ لیا اور اسے اپنی چوت پر رگڑنے لگی۔
دانش نے اسے سیڑھیوں پر ہی جھکا دیا اور پیچھے سے اپنا لن اس کی چوت میں ڈال دیا۔ ہر دھکے کے ساتھ شبانہ کی سسکاریاں بڑھتی گئیں۔ دانش نے اس کے مموں کو پیچھے سے پکڑ لیا اور دباتا رہا۔ شبانہ جھڑ گئی اور اس کی چوت نے دانش کے لن کو جکڑ لیا۔ دانش نے بھی اپنا پانی اس کے اندر چھوڑ دیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا اور خاموشی سے اپنے اپنے کمروں میں واپس چلے گئے۔
Readers who enjoyed “اردو دیور بھابھی کہانی: لکھنؤ کی شبانہ اور دانش” also read
8 curated storiesاردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2
رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔
اردو ساس بہو کہانی: فرزانہ اور نادیہ کا راز
لاہور کی پرانی حویلی میں ساس فرزانہ اور بہو نادیہ کی کہانی، جہاں چھت پر پکڑے جانے کے بعد ایک راز دونوں عورتوں کو ایک کر دیتا ہے۔ اردو ساس بہو کہانی کا سب سے بولڈ باب۔
اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ
راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔
اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی
اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔
اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں
آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔
اردو مامی کہانی: شادی والی رات
اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔