اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں
فون کی گھنٹی نے کچن کی ہلچل کو ایک پل کے لیے روک دیا، اور عائشہ کی آواز اسپیکر پر گونجی، "سنو فہیم، بازار میں رش بہت ہے، مجھے دیر ہو جائے گی۔ کھانا تم دونوں کھا لینا، میرا انتظار مت کرنا۔" یہ وہ لمحہ تھا جہاں سے یہ اردو جیجا سالی کہانی اصل میں شروع ہوئی، کیونکہ حنا نے اپنے جیجا کی طرف دیکھا اور اس کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو ایک شریف سالی کی آنکھوں میں نہیں ہوتی۔
راولپنڈی کا وہ گھر شام کے سائے میں ڈوبا ہوا تھا۔ بائیس سالہ حنا اپنی بڑی بہن عائشہ کے گھر ایک ہفتے سے مہمان تھی، اور تیس سالہ فہیم، اس کا جیجا، وہ مرد تھا جسے دیکھ کر حنا کے دل میں پہلے ہی دن سے کچھ ہلچل مچی ہوئی تھی۔ لمبا قد، چوڑے کندھے، اور وہ مسکراہٹ جو وہ صرف حنا کو دیکھ کر مسکراتا تھا، جب عائشہ آس پاس نہ ہو۔
"تو پھر، جیجا جی،" حنا نے فون رکھتے ہوئے کہا، آٹے سے بھرے ہاتھوں کو ہوا میں ہلاتی ہوئی۔ "آپا نے ہمیں اکیلا چھوڑ دیا۔ اب کھانا ہم دونوں کو مل کر بنانا پڑے گا۔"
فہیم کچن کے دروازے پر کھڑا تھا، آستینیں چڑھائے ہوئے۔ "میں کھانا بنانا نہیں جانتا، سالی صاحبہ۔ میں صرف کھانا جانتا ہوں۔"
"تو آج سیکھ لیجیے،" حنا نے شرارت سے کہا، اور اسے اپنے پاس بلایا۔ "آٹا گوندھنا آتا ہے آپ کو؟"
فہیم اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا۔ کچن چھوٹا تھا، اور حنا کا جسم اس کے جسم سے تقریباً ٹکرا رہا تھا۔ اس نے آٹے کی پرات میں ہاتھ ڈالے، اور حنا نے اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیے۔ "اس طرح،" اس نے سرگوشی کی، اس کے ہاتھوں کو گول گول گھماتی ہوئی۔ "نرمی سے... لیکن مضبوطی سے۔"
فہیم کی سانس اس کی گردن پر محسوس ہو رہی تھی۔ "تمہیں یہ سب کس نے سکھایا، حنا؟"
"امی نے،" اس نے کہا، اور پھر مڑ کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ان کے چہرے اب چند انچ کے فاصلے پر تھے۔ "لیکن کچھ چیزیں میں نے خود سیکھی ہیں۔"
"مثلاً؟" فہیم کی آواز بھاری ہو گئی تھی۔
حنا نے جواب دینے کے بجائے اپنے ہاتھ سے تھوڑا سا آٹا اٹھایا اور فہیم کے گال پر لگا دیا۔ "مثلاً یہ کہ جیجا کو کیسے تنگ کیا جاتا ہے۔"
فہیم ہنسا، لیکن اس کی ہنسی میں کچھ اور بھی تھا۔ اس نے بھی آٹا اٹھایا اور حنا کے گال پر لگایا، پھر اس کی گردن پر۔ سفید آٹا اس کی گندمی جلد پر چمک رہا تھا۔ "اب برابر،" اس نے کہا۔
"برابر؟" حنا نے ایک ابرو اٹھائی۔ "جیجا جی، آپ نے تو ابھی شروعات دیکھی ہے۔" اس نے پرات سے ہاتھ نکالے، نل پر دھوئے، اور پھر اچانک فہیم کی قمیض کے بٹن کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ "آپ کی قمیض پر بھی آٹا لگ گیا ہے۔ صاف کر دوں؟"
فہیم نے اس کا ہاتھ نہیں روکا۔ حنا نے پہلا بٹن کھولا، پھر دوسرا۔ اس کی چھاتی کے بال نظر آئے، پسینے سے ہلکے گیلے۔ حنا کی انگلیاں اس کی جلد پر پھریں، آٹا صاف کرنے کے بہانے، لیکن اس کا لمس بہانہ نہیں تھا۔
"حنا،" فہیم نے اس کی کلائی پکڑ لی۔ "تمہیں پتہ ہے تم کیا کر رہی ہو؟"
"بالکل پتہ ہے،" اس نے کہا، اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس کی کلائی سے اپنا ہاتھ نہیں چھڑایا۔ "ایک ہفتے سے میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ مجھے کیسے دیکھتے ہیں۔ جب آپا کچن میں ہوتی ہیں، آپ کی نظریں میرے... میرے دوپٹے سے پھسل کر کہیں اور جاتی ہیں۔"
فہیم کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ "میں... میں تمہاری بہن کا شوہر ہوں۔"
"اور میں آپ کی سالی ہوں،" حنا نے کہا، اور اس کے قریب آ گئی۔ اس کے ممے اب فہیم کی چھاتی سے ٹکرا رہے تھے۔ "سالی تو آدھی گھر والی ہوتی ہے، سنا نہیں آپ نے؟" اس نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ "اور آج آپا بہت دیر سے آئیں گی۔"
فہیم کی مزاحمت ٹوٹ گئی۔ اس نے حنا کو اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلا بوسہ جلدی میں تھا، بھوکا، ایک ہفتے کی دبی ہوئی خواہش کا دھماکہ۔ حنا نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈالے اور اسے اپنے اور قریب کھینچ لیا۔
"کچن میں نہیں،" وہ بوسے کے درمیان بولی۔ "کوئی آ جائے گا۔ آپا کی سہیلی کبھی بھی..."
"تو کہاں؟" فہیم نے اس کی گردن پر بوسہ دیتے ہوئے پوچھا۔
"میرے کمرے میں،" حنا نے کہا، اور اس کا ہاتھ پکڑ کر سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔ "جلدی۔"
کمرے کا دروازہ بند ہوتے ہی فہیم نے حنا کو دیوار سے لگا دیا۔ اس کے ہاتھ اس کے کرتے کے دامن میں گئے اور اسے اوپر اٹھا دیا۔ حنا نے ہاتھ اوپر کیے اور کرتا اتر گیا۔ نیچے صرف ایک سفید برا اور شلوار تھی۔ فہیم کی آنکھیں اس کے جسم پر ٹھہر گئیں۔
"تم... تم بہت خوبصورت ہو،" اس نے کہا، اور اس کی برا کا ہک کھول دیا۔ اس کے ممے باہر آ گئے، گول، بھرے ہوئے، نپل سخت۔ فہیم نے ایک کو اپنے منہ میں لے لیا، زبان سے گول گول گھماتے ہوئے، دوسرے کو ہاتھ سے دباتے ہوئے۔
حنا کے منہ سے ایک سسکی نکلی۔ "ہاں... ایسے ہی... جیجا جی..."
"اب جیجا جی نہیں،" فہیم نے اس کے نپل کو دانتوں سے ہلکا کاٹتے ہوئے کہا۔ "اب صرف فہیم۔"
"فہیم،" حنا نے سرگوشی کی، اور اس لفظ نے فہیم کے اندر کچھ جلا دیا۔ اس نے اس کی شلوار کا ناڑا کھولا اور اسے نیچے سرکا دیا۔ حنا اب صرف پینٹی میں تھی۔ فہیم اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
اس نے اس کی پینٹی کو ایک طرف کیا اور اس کی چوت کو دیکھا، گیلی، پھولی ہوئی۔ اس نے اپنی زبان باہر نکالی اور اس کی چوت پر پھیر دی، اوپر سے نیچے، ایک لمبا چاٹا۔ حنا کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اس نے دیوار کا سہارا لیا۔
فہیم کی زبان اب اس کے دانے پر تھی، تیز، گول گول۔ اس کے ہاتھ اس کی رانوں پر تھے، انہیں پھیلائے ہوئے۔ حنا کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ "فہیم... میں... میں آنے والی ہوں..."
اور وہ جھڑ گئی۔ اس کی چوت سے پانی نکلا، فہیم کے چہرے پر، اور اس نے سب چاٹ لیا، ایک قطرہ بھی ضائع کیے بغیر۔ حنا کی ٹانگیں اتنی کانپ رہی تھیں کہ وہ کھڑی نہیں ہو پا رہی تھی۔ فہیم نے اسے اٹھایا اور بستر پر لٹا دیا۔
حنا نے اٹھ کر فہیم کی قمیض کے باقی بٹن کھولے، اسے اتار پھینکا۔ پھر اس کی پتلون کا بیلٹ کھولا۔ اس کا لنڈ باہر آیا، لمبا، موٹا، پوری طرح کھڑا۔ حنا کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ "تو یہ ہے وہ جو میں ایک ہفتے سے محسوس کر رہی تھی،" اس نے شرارت سے کہا، اور اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
اس نے اسے ہلایا، پہلے آہستہ، پھر تیز۔ فہیم کے منہ سے آہ نکلی۔ پھر حنا نے اسے اپنے منہ میں لے لیا۔ اس کی زبان لنڈ کے سرے پر گھومی، پھر وہ نیچے تک گئی۔ فہیم نے اس کے بال مٹھی میں بھر لیے۔
"حنا... بس... میں..." لیکن حنا نہیں رکی۔ وہ تیز ہو گئی، اس کا سر آگے پیچھے ہلتا ہوا، اور فہیم اس کے منہ میں جھڑ گیا۔ گرم منی اس کے گلے میں اتر گئی۔ اس نے سب نگل لیا اور اوپر دیکھ کر مسکرائی۔
"اب برابر،" اس نے کہا، اور بستر پر لیٹ گئی، ٹانگیں پھیلا کر۔ "اب میری باری۔"
فہیم اس کے اوپر آیا۔ اس کا لنڈ، جو ابھی جھڑا تھا، پھر سے کھڑا ہونے لگا تھا۔ حنا کی ہمت اور اس کا جسم اسے پاگل کر رہا تھا۔ اس نے اپنے لنڈ کے سرے کو اس کی چوت پر رگڑا، اسے تڑپاتے ہوئے۔
"ڈالو نا،" حنا بولی۔ "تڑپاؤ مت۔"
"کہو کہ تم چاہتی ہو،" فہیم نے کہا۔
"میں چاہتی ہوں،" حنا نے سسکتے ہوئے کہا۔ "اپنی سالی کو چودو، فہیم۔"
ان الفاظ نے فہیم کے اندر آگ لگا دی۔ اس نے ایک ہی دھکے میں اپنا پورا لنڈ اس کی چوت میں اتار دیا۔ حنا کے منہ سے ایک دبی ہوئی چیخ نکلی۔ وہ اتنا بھرا ہوا محسوس ہوا، اتنا گہرا۔ فہیم نے ہلنا شروع کیا، پہلے آہستہ، لمبے دھکے، پھر تیز۔
حنا کی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپٹ گئیں۔ اس کے ناخن اس کی پیٹھ میں دھنس گئے۔ "ہاں... ہاں... اور تیز..." وہ بڑبڑائی۔ "اپنی سالی کو ایسے ہی چودو..."
فہیم تیز ہو گیا۔ بستر چرچرانے لگا۔ کمرے میں صرف ان کی سانسوں کی آواز تھی، جلد کے ٹکرانے کی آواز، اور دبی ہوئی سسکیاں۔ حنا کا جسم اس لہر کی طرف بڑھ رہا تھا جسے وہ پہچانتی تھی۔
اور پھر وہ آئی۔ اس کی چوت نے فہیم کے لنڈ کو کس کر پکڑ لیا، اس کا پورا جسم کانپا، اور وہ دوسری بار جھڑ گئی۔ اس کی چیخ کو فہیم نے اپنے ہونٹوں سے دبا دیا۔
اس کے جھڑنے نے فہیم کو بھی کنارے پر پہنچا دیا۔ اس نے کچھ اور زوردار دھکے دیے، پھر اس کے اندر ہی آ گیا، اس کی گرم منی اس کی چوت میں بھر گئی۔ دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹے رہے۔
"تمہیں پتہ ہے،" فہیم نے ہانپتے ہوئے کہا۔ "میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ..."
"شش،" حنا نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔ "سوچو مت۔ بس محسوس کرو۔" اس نے کروٹ بدلی اور اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔ "آپا کے آنے میں ابھی دو گھنٹے ہیں۔"
"دو گھنٹے؟" فہیم نے مسکرا کر اسے دیکھا۔ "تو پھر ہم یہ وقت ضائع کیوں کر رہے ہیں؟"
اس نے حنا کو پلٹا دیا، اسے گھوڑی بنایا۔ وہ اس کے پیچھے آیا، اس کی کمر پکڑی، اور پیچھے سے اندر گیا۔ حنا نے تکیہ مٹھی میں بھر لیا۔ اس پوزیشن میں وہ اور بھی گہرا جا رہا تھا۔ فہیم کا ایک ہاتھ آگے بڑھا اور اس کے ممے کو دبایا، دوسرا اس کے دانے پر۔
حنا پاگل ہو رہی تھی۔ آگے سے اس کا دانہ، پیچھے سے اس کے دھکے، ہر طرف سے لذت۔ "فہیم... میں پھر... میں پھر آنے والی ہوں..."
وہ تیسری بار جھڑی، اس بار اتنی زور سے کہ اس کی ٹانگیں جواب دے گئیں۔ فہیم نے اسے سنبھالا، اس کے اندر ہلتے ہوئے، اور پھر وہ بھی آیا، اس کے اندر، اس کا نام بڑبڑاتے ہوئے۔ "حنا... حنا..."
وہ دونوں بستر پر ڈھیر ہو گئے۔ حنا نے گھڑی دیکھی۔ ابھی ڈیڑھ گھنٹہ باقی تھا۔ "کھانا؟" اس نے شرارت سے پوچھا۔ "آپا نے کہا تھا کھانا ہم دونوں کھا لیں۔"
فہیم ہنسا۔ "تمہیں اب بھی بھوک ہے؟"
"ایک طرح کی بھوک تو مٹ گئی،" حنا نے اس کے سینے پر انگلی پھیرتے ہوئے کہا۔ "لیکن پیٹ کی بھوک باقی ہے۔ چلو، کچن میں جو آٹا گوندھا تھا، اس کی روٹیاں بناتے ہیں۔"
وہ دونوں کپڑے پہن کر نیچے آئے۔ کچن میں آٹے کی پرات ویسی ہی پڑی تھی۔ حنا نے روٹیاں بیلنی شروع کیں، فہیم نے سالن گرم کیا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے، وہ مسکراہٹ جو صرف دو لوگ مسکرا سکتے ہیں جنہوں نے ابھی کوئی راز بانٹا ہو۔
کھانا کھاتے ہوئے فہیم نے اس کا ہاتھ میز کے نیچے پکڑ لیا۔ "حنا، یہ... یہ صرف آج کی بات ہے؟"
حنا نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ "جیجا جی، میں یہاں ابھی دس دن اور ہوں۔" اس نے اس کا ہاتھ دبایا۔ "اور آپا بازار تو روز جاتی ہیں۔"
فہیم کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ وہ میز کے گرد آیا، حنا کو کرسی سے اٹھایا، اور اسے کچن کی دیوار سے لگا کر اس کے ہونٹوں پر جھک گیا۔
اسی لمحے باہر کار کا ہارن بجا۔ دونوں ٹھٹھکے، ہونٹ ابھی ملے ہوئے تھے۔ عائشہ کی کار گیٹ کے باہر کھڑی تھی۔
حنا نے جلدی سے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا، فہیم پیچھے ہٹا، اور دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے حنا نے سرگوشی کی، "کل پھر، جب آپا..."
Readers who enjoyed “اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں” also read
8 curated storiesاردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2
رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔
اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ
راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔
اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی
اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔
اردو مامی کہانی: شادی والی رات
اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔
اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام
اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی 2026: مہنور کی آدھی رات
آدھی رات کو اسٹڈی کا دروازہ کھلا اور مہنور اندر آ گئی۔ یہ اردو سالی کی چدائی 2026 کی وہ کہانی ہے جو ایک سرد رات میں شروع ہوئی۔