اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں
"تمہیں پتا ہے بھابھی،" عمران نے نوٹ بک بند کرتے ہوئے کہا، "یہ اردو بھابھی سیکس کہانی والے قصے تو کتابوں میں ہوتے ہیں، مگر تمہاری آنکھوں میں جو کہانی چھپی ہے، وہ کسی کتاب سے کم نہیں۔" فرزانہ کے ہاتھ سے چائے کا کپ چھوٹنے ہی والا تھا۔
شام کے سات بج رہے تھے۔ لکھنؤ کے چوک محلے کی گلی میں مغرب کی اذان ابھی تھمی تھی۔ عادل اپنے کمرے میں ہوم ورک کر رہا تھا اور اسلم کی دکان سے واپسی میں ابھی تین گھنٹے باقی تھے۔ فرزانہ نے کپ میز پر رکھا اور بولی، "عمران، یہ کیسی باتیں کر رہے ہو؟ میں تم سے بڑی ہوں۔"
"بڑی؟" عمران ہنسا۔ وہ چوبیس سال کا تھا، لمبا قد، گہری آنکھیں، اور بات کرنے کا ایسا انداز کہ سامنے والا بھول جائے کہ وہ استاد ہے یا کچھ اور۔ "بھابھی، عمر تو صرف نمبروں کا کھیل ہے۔ تم تو ابھی بھی کالج کی لڑکی لگتی ہو۔"
فرزانہ کا دل زور سے دھڑکا۔ بتیس سال کی عمر، دس سال کا بیٹا، اور شوہر جو دکان کی فکر میں اسے چھونے کا وقت بھی نہیں نکالتا تھا۔ کتنے مہینوں سے کسی نے اس کی تعریف نہیں کی تھی۔ اس نے بات بدلنے کی کوشش کی، "عادل کا ہوم ورک دیکھ لو، کل اس کا ٹیسٹ ہے۔"
عمران نے نوٹ بک کھولی۔ صفحے کے حاشیے پر اس نے کچھ لکھا تھا۔ فرزانہ نے جھک کر دیکھا تو اس کے چہرے کی رنگت بدل گئی۔ وہاں لکھا تھا: "تم مسکراتی ہو تو کمرے کی بتیاں بھی شرما جاتی ہیں۔"
"یہ کیا ہے؟" اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
"سچ،" عمران نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ "جو سچ تم سننا چاہتی ہو، مگر کسی نے کہا نہیں۔"
فرزانہ اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے چائے کا پانی چڑھایا اور سوچنے لگی کہ یہ لڑکا پاگل ہے یا وہ خود پاگل ہو رہی ہے۔ کچن کی کھڑکی سے ٹھنڈی ہوا آ رہی تھی۔ اکتوبر کی شام تھی، موسم بدل رہا تھا۔
پیچھے قدموں کی آہٹ ہوئی۔ عمران دروازے پر کھڑا تھا۔ "بھابھی، عادل پوچھ رہا تھا کہ چائے میں الائچی ڈالوں یا نہیں۔"
"تم... تم اندر کیوں آئے؟" فرزانہ نے مڑ کر دیکھا۔
عمران نے دو قدم آگے بڑھائے۔ کچن چھوٹا تھا، ان کے درمیان اب صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ تھا۔ "کیونکہ تم بھاگ رہی ہو، اور میں جاننا چاہتا ہوں کہ کس سے بھاگ رہی ہو۔ مجھ سے یا اپنے آپ سے؟"
فرزانہ کی سانس رک گئی۔ اس نے اسے دھکا دینے کے لیے ہاتھ اٹھایا، مگر عمران نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس کی انگلیاں گرم تھیں۔ "چھوڑو مجھے،" وہ بولی، مگر اس کی آواز میں غصہ نہیں تھا۔ ڈر تھا۔ خواہش کا ڈر۔
عمران نے اس کا ہاتھ اپنے گال پر رکھا۔ "دیکھو، میں تمہیں تکلیف نہیں دینا چاہتا۔ بس اتنا چاہتا ہوں کہ تم جان لو کہ تم ابھی زندہ ہو۔ تمہاری آنکھوں میں ابھی آگ ہے، بھابھی۔"
اس لمحے فرزانہ کو لگا جیسے برسوں کی پیاس ایک ساتھ جاگ اٹھی ہو۔ اسلم تو اسے چھوتا بھی تھا تو ایسے جیسے فرض ادا کر رہا ہو۔ پانچ منٹ، اندھیرا، اور پھر خراٹے۔ اس نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش نہیں کی۔
باہر سے عادل کی آواز آئی، "امی! میرا جیومیٹری باکس کہاں ہے؟" دونوں چونکے۔ فرزانہ نے جلدی سے ہاتھ چھڑایا اور بولی، "میں... میں دیکھتی ہوں۔ تم ڈرائنگ روم میں جاؤ۔"
عمران مسکرایا۔ "جی بھابھی۔" وہ مڑا، پھر رکا۔ "اور ہاں، کل میں جلدی آؤں گا۔ عادل کے ٹیسٹ کی تیاری کرانی ہے۔"
اس رات فرزانہ کو نیند نہیں آئی۔ اسلم دس بجے آیا، کھانا کھایا، اور بستر پر لیٹتے ہی سو گیا۔ فرزانہ چھت کو تکتی رہی۔ اس کے کانوں میں عمران کی آواز گونج رہی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو چھوا، اور پہلی بار برسوں بعد اسے لگا کہ اس کا جسم ابھی مرا نہیں ہے۔
اگلی شام فرزانہ نے جان بوجھ کر نیلی ساری پہنی۔ وہ ساری جو اسلم نے شادی کے بعد کبھی پہننے کو نہیں کہا تھا۔ اس نے ہلکا سا کاجل بھی لگایا۔ آئینے میں دیکھ کر وہ خود حیران ہوئی۔ "یہ میں کیا کر رہی ہوں؟" اس نے خود سے پوچھا۔ جواب اس کے دل کی دھڑکن میں تھا۔
عمران چھ بجے آیا۔ اسے دیکھتے ہی اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ "آج تو چاند زمین پر اتر آیا ہے،" اس نے دھیرے سے کہا۔ عادل ابھی اسکول سے آیا تھا اور ٹی وی دیکھ رہا تھا۔
ٹیوشن شروع ہوئی۔ عمران عادل کو سوال سمجھا رہا تھا، مگر اس کی نظریں بار بار فرزانہ پر جا رہی تھیں۔ فرزانہ صوفے پر بیٹھی سویٹر بن رہی تھی، مگر اس کا دھیان کہیں اور تھا۔ ہر بار جب ان کی نظریں ملتیں، اس کے پیٹ میں تتلیاں اڑنے لگتیں۔
آٹھ بجے عادل اپنے دوست کے گھر کھیلنے چلا گیا۔ اسلم کی واپسی میں دو گھنٹے تھے۔ گھر میں صرف وہ دونوں رہ گئے۔ خاموشی اتنی گہری تھی کہ گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔
عمران نے نوٹ بک بند کی اور فرزانہ کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ "بھابھی، میں نے کل رات سوچا۔ میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا۔ اگر تم کہو تو میں کل سے نہیں آؤں گا۔"
فرزانہ نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں سچائی تھی۔ اور خواہش بھی۔ "مت جاؤ،" وہ بولی۔ یہ دو لفظ کہنے میں اس کی ساری ہمت لگ گئی۔
عمران نے اس کا ہاتھ تھاما۔ اس بار فرزانہ نے ہاتھ نہیں چھڑایا۔ اس نے اپنی انگلیاں اس کی انگلیوں میں پھنسا لیں۔ "تمہیں ڈر نہیں لگتا؟" اس نے پوچھا۔
"لگتا ہے،" عمران نے کہا۔ "مگر تمہارے بغیر رہنے کا ڈر اس سے بڑا ہے۔"
پھر اس نے فرزانہ کے گال کو چھوا۔ اس کی انگلیاں نرم تھیں۔ فرزانہ نے آنکھیں بند کر لیں۔ برسوں بعد کسی نے اسے ایسے چھوا تھا جیسے وہ کوئی قیمتی چیز ہو۔ عمران نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا، پھر اس کی بند آنکھوں پر، پھر اس کے ہونٹوں کے قریب رک گیا۔
"کہو کہ رک جاؤں،" اس نے سرگوشی کی۔
فرزانہ نے اس کی گردن میں بانہیں ڈال دیں۔ "مت رکو،" وہ بولی۔ "آج مت رکو۔"
ان کے ہونٹ ملے۔ پہلا بوسہ نرم تھا، جھجکتا ہوا۔ پھر فرزانہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا لیں اور اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔ بوسہ گہرا ہو گیا۔ عمران کی زبان اس کے منہ میں گھسی اور فرزانہ نے ایک ایسی آہ بھری جو اس نے برسوں سے دبائی ہوئی تھی۔
عمران کے ہاتھ اس کی پیٹھ پر پھرنے لگے۔ اس نے ساری کے پلّو کو کندھے سے سرکایا۔ فرزانہ کا بلاوز پسینے سے چپک گیا تھا۔ "تم بہت خوبصورت ہو،" عمران نے اس کی گردن پر بوسے دیتے ہوئے کہا۔ "اتنی خوبصورت کہ دیکھ کر سانس رک جائے۔"
فرزانہ نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر اس کی خواہش کانپنے سے بڑی تھی۔ عمران کی چھاتی چوڑی اور گرم تھی۔ اس نے اپنا چہرہ اس کی چھاتی میں چھپا لیا اور اس کی خوشبو کو اندر تک اتار لیا۔
عمران نے اسے گود میں اٹھا لیا۔ فرزانہ ہلکی پھلکی نہیں تھی، مگر اس کی بانہوں میں طاقت تھی۔ وہ اسے بیڈروم کی طرف لے گیا۔ فرزانہ نے اس کی گردن میں منہ چھپا لیا۔ اس کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے لگا عمران بھی سن رہا ہوگا۔
بستر پر لٹاتے ہی عمران نے اس کے اوپر جھک کر اسے دیکھا۔ "تمہیں یقین ہے؟" اس نے آخری بار پوچھا۔
"ہاں،" فرزانہ بولی۔ "مجھے آج اپنی زندگی واپس چاہیے۔"
عمران نے اس کی ساری کھولنی شروع کی۔ ایک ایک تہہ ہٹاتے ہوئے وہ اس کے جسم کو بوسے دے رہا تھا۔ پیٹ، ناف، کولہے۔ فرزانہ کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ جب اس نے اس کا بلاوز کھولا تو فرزانہ نے شرم سے آنکھیں بند کر لیں۔
"آنکھیں کھولو،" عمران نے کہا۔ "میں تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں۔ پوری تمہیں۔"
فرزانہ نے آنکھیں کھولیں۔ عمران کی نظروں میں اتنی چاہت تھی کہ اس کی شرم پگھل گئی۔ اس نے خود اپنے بلاوز کے بقیہ بٹن کھول دیے۔ عمران نے اس کے مموں کو ہاتھوں میں لیا۔ وہ بھرے ہوئے اور نرم تھے۔ اس نے انہیں دبایا اور فرزانہ کے منہ سے سسکی نکل گئی۔
پھر عمران نے اپنا منہ اس کے ایک ممے پر رکھا۔ اس کی زبان نپل کے گرد گھومی اور فرزانہ نے بستر کی چادر مٹھی میں بھینچ لی۔ "آہ... عمران..." وہ کراہی۔ دوسرے ممے کو وہ ہاتھ سے سہلا رہا تھا، نپل کو انگلیوں میں گھما رہا تھا۔
فرزانہ کا جسم آگ کی طرح جل رہا تھا۔ اس نے عمران کی پینٹ کی زپ کھولی۔ اس کا لنڈ تنا ہوا تھا، موٹا اور لمبا۔ فرزانہ نے اسے ہاتھ میں لیا۔ گرم، سخت، دھڑکتا ہوا۔ اس نے اسے سہلانا شروع کیا اور عمران نے آنکھیں بند کر کے آہ بھری۔
"بھابھی... تمہارے ہاتھ..." وہ کراہا۔
فرزانہ نے اسے بستر پر لٹایا اور اس کے اوپر جھک گئی۔ اس نے پہلی بار کسی مرد کے لنڈ کو اپنے منہ میں لیا۔ اسلم نے کبھی اسے ایسا کرنے کو نہیں کہا تھا، اور اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ مگر آج وہ سب کرنا چاہتی تھی جو اس نے کبھی نہیں کیا تھا۔
اس نے لنڈ کے سرے کو چوما، پھر اسے آہستہ آہستہ منہ میں لیا۔ عمران نے اس کے بال پکڑ لیے۔ "ہاں... ایسے ہی... بہت اچھا..." وہ سسک رہا تھا۔ فرزانہ نے اس کی سسکیوں سے حوصلہ پایا اور تیز ہو گئی۔ اس کا منہ لنڈ کے گرد کسا ہوا تھا، زبان سرے پر گھوم رہی تھی۔
عمران نے اسے روکا۔ "رکو، ورنہ ابھی نکل جائے گا۔ اور میں ابھی تمہارے اندر جانا چاہتا ہوں۔"
اس نے فرزانہ کو بستر پر لٹایا اور اس کی ٹانگیں کھولیں۔ اس کی چوت گیلی تھی، پانی سے بھری ہوئی۔ عمران نے اپنی انگلی اس پر پھیری اور فرزانہ اچھل پڑی۔ "کتنی گیلی ہو تم،" اس نے مسکرا کر کہا۔ "تمہارا جسم تو کب سے تیار تھا۔"
اس نے دو انگلیاں اس کی چوت میں ڈالیں۔ فرزانہ نے چیخ روکنے کے لیے اپنا ہاتھ منہ پر رکھا۔ انگلیاں اندر باہر ہو رہی تھیں، اور اس کا انگوٹھا اس کے دانے کو سہلا رہا تھا۔ فرزانہ کی کمر بستر سے اٹھنے لگی۔ "بس... بس اب... مجھے تم چاہیے... پورے تم..."
عمران اس کے اوپر آیا۔ اس نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور دھیرے دھیرے اندر دھکیلا۔ فرزانہ نے اس کی پیٹھ کو ناخنوں سے کھروچا۔ وہ موٹا تھا، اور برسوں بعد اسے ایسا بھرا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ "آہ... ہاں... اندر... اور اندر..."
پھر چدائی شروع ہوئی۔ پہلے دھیرے، پھر تیز۔ عمران کی کمر ہل رہی تھی، اس کے لنڈ کی ہر ٹھوکر فرزانہ کی چوت کی گہرائیوں تک پہنچ رہی تھی۔ فرزانہ نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ "اور زور سے... مجھے محسوس کراؤ کہ میں زندہ ہوں..."
کمرہ ان کی سانسوں اور بستر کی چرچراہٹ سے بھر گیا۔ عمران نے اس کے مموں کو چوستے ہوئے دھکے تیز کر دیے۔ فرزانہ کی آنکھوں کے آگے تارے ناچنے لگے۔ اس کی چوت عمران کے لنڈ کو کس رہی تھی، ہر دھکے پر پانی نکل رہا تھا۔
"میں... میں آنے والی ہوں..." فرزانہ چلائی۔
"آؤ،" عمران نے اس کے کان میں کہا۔ "میرے ساتھ آؤ۔"
اور پھر وہ جھڑ گئی۔ اس کے جسم میں ایک لہر دوڑی، اس کی چوت نے عمران کے لنڈ کو زور سے کسا، اور اس کے منہ سے ایک لمبی سسکی نکلی۔ اسی لمحے عمران بھی جھڑ گیا۔ اس نے اپنا گرم پانی اس کی چوت میں چھوڑا اور اس کے اوپر گر پڑا۔ دونوں ہانپ رہے تھے۔
کچھ دیر وہ ایسے ہی لیٹے رہے۔ پھر فرزانہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "میں نے گناہ کیا ہے،" وہ بولی۔
عمران نے اس کے آنسو پونچھے۔ "تم نے زندگی جی ہے۔ گناہ وہ ہوتا جو تم اپنے ساتھ کر رہی تھیں، خود کو مار رہی تھیں۔"
فرزانہ نے اسے گلے لگا لیا۔ اسے پتا تھا کہ یہ غلط ہے۔ مگر اسے یہ بھی پتا تھا کہ وہ اسے روک نہیں سکتی۔ اس شام کچھ ٹوٹا تھا، اور کچھ جڑا بھی تھا۔
اگلے دن عادل اسکول گیا ہوا تھا۔ عمران معمول سے ایک گھنٹہ پہلے آ گیا۔ فرزانہ نے دروازہ کھولا تو وہ اسے دیکھ کر رک گیا۔ اس نے گلابی سوٹ پہنا تھا، بال کھلے تھے۔ "آج تم..." وہ بولا، پھر خاموش ہو گیا۔
فرزانہ نے اسے اندر کھینچا اور دروازہ بند کر دیا۔ "آج باتیں کم،" وہ بولی۔ یہ پہلی بار تھا کہ اس نے پہل کی تھی۔
وہ اس پر ٹوٹ پڑی۔ اس کی شرٹ کھینچی، اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے۔ عمران حیران بھی تھا اور خوش بھی۔ "تو بھابھی نے فیصلہ کر لیا؟" اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
"فرزانہ کہو،" اس نے کہا۔ "بستر میں میں بھابھی نہیں ہوں۔"
اس دن انہوں نے صوفے پر ہی شروع کر دیا۔ فرزانہ نے اس کی پینٹ کھولی اور اس کے لنڈ کو ہاتھ میں لے کر سہلانے لگی۔ عمران نے اس کے سوٹ کے اوپر سے ہی اس کے مموں کو دبانا شروع کیا۔ پھر اس نے اس کا کرتا اوپر کیا اور اس کے مموں کو منہ میں لے لیا۔
فرزانہ نے اس کا سر اپنے سینے میں دبایا۔ "چوسو... اور زور سے چوسو..." وہ کراہ رہی تھی۔ عمران نے اس کی نپل کو دانتوں سے ہلکا سا کاٹا اور فرزانہ کی چیخ نکل گئی۔
پھر فرزانہ نے اسے صوفے پر بٹھایا اور اس کی گود میں بیٹھ گئی۔ اس نے اپنی شلوار ایک طرف کی اور عمران کے لنڈ پر بیٹھ گئی۔ لنڈ اس کی گیلی چوت میں آسانی سے اتر گیا۔ "آہ..." دونوں ایک ساتھ کراہے۔
فرزانہ اوپر نیچے ہونے لگی۔ اس کی چوت عمران کے لنڈ کو نگل رہی تھی۔ عمران نے اس کے کولہے پکڑ رکھے تھے اور نیچے سے دھکے لگا رہا تھا۔ ہر دھکے پر فرزانہ کی سسکیاں تیز ہو رہی تھیں۔
"تم... تم بہت اچھی ہو..." عمران ہانپ رہا تھا۔ "اتنی اچھی کہ... آہ..."
فرزانہ نے اس کی گردن پر کاٹا۔ "چپ... بس کرتے رہو... مجھے مت روکو..." اس کی رفتار بڑھ گئی۔ صوفہ ہلنے لگا۔ ان کے جسم پسینے سے چپک گئے تھے۔
اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ دونوں جم گئے۔ "امی! میں آ گیا!" عادل کی آواز تھی۔ فرزانہ نے جلدی سے اٹھ کر کپڑے ٹھیک کیے۔ عمران نے پینٹ پہنی۔ دل دونوں کے زور زور سے دھڑک رہے تھے۔
فرزانہ نے دروازہ کھولا۔ عادل اندر آیا۔ "سر آج جلدی آ گئے؟" اس نے پوچھا۔
"ہاں بیٹا، تمہارے ٹیسٹ کی تیاری کرانی تھی،" عمران نے مسکرا کر کہا۔ اس کی آواز میں ذرا بھی گھبراہٹ نہیں تھی۔ فرزانہ حیران ہوئی کہ یہ لڑکا کتنا ہوشیار ہے۔
ٹیوشن ہوئی، مگر فرزانہ کا دھیان کہیں اور تھا۔ ہر بار جب عمران عادل کو کچھ سمجھاتا، وہ فرزانہ کی طرف دیکھ کر آنکھ مارتا۔ فرزانہ کو ہنسی بھی آتی اور ڈر بھی لگتا۔ یہ کھیل خطرناک تھا، مگر اسی خطرے میں مزہ تھا۔
رات کو اسلم آیا۔ کھانا کھاتے ہوئے اس نے کہا، "تم آج کل خوش لگ رہی ہو۔" فرزانہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ "وہ... عادل کے نمبر اچھے آ رہے ہیں، اسی لیے،" اس نے جلدی سے کہا۔ اسلم نے سر ہلایا اور ٹی وی دیکھنے لگا۔
اگلی شام طوفان آنے والا تھا۔ آسمان پر بادل چھائے تھے۔ عمران آیا تو اس کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے۔ "بارش شروع ہو گئی،" اس نے کہا۔ فرزانہ نے اسے تولیہ دیا۔ تولیہ دیتے ہوئے ان کے ہاتھ ملے اور دونوں رک گئے۔
"آج عادل کہاں ہے؟" عمران نے پوچھا۔
"اپنے ماموں کے گھر گیا ہے۔ کل آئے گا،" فرزانہ نے دھیرے سے کہا۔ اس کی آنکھوں میں دعوت تھی۔
عمران نے تولیہ ایک طرف پھینکا اور اسے بانہوں میں بھر لیا۔ بارش کی آواز کھڑکیوں پر پڑ رہی تھی۔ انہوں نے کپڑے اتارنے میں دیر نہیں کی۔ آج کوئی جلدی نہیں تھی، کوئی ڈر نہیں تھا۔ صرف وہ دونوں تھے اور بارش تھی۔
بستر پر عمران نے فرزانہ کو الٹا لٹایا۔ اس نے اس کی پیٹھ پر بوسے دیے، ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ ساتھ نیچے تک۔ فرزانہ کانپ رہی تھی۔ پھر اس نے اس کے کولہوں کو چوما، انہیں ہاتھوں سے کھولا، اور اپنی زبان اس کی چوت پر پھیری۔
فرزانہ نے تکیے میں منہ چھپا لیا۔ "آہ... یہ... یہ کیا کر رہے ہو..." اس کی آواز لرز رہی تھی۔ عمران کی زبان اس کی چوت کو چاٹ رہی تھی، اس کے دانے کو چوس رہی تھی۔ فرزانہ کا پانی بہنے لگا۔ اس نے چادر کو مٹھیوں میں بھینچ لیا۔
"تمہارا ذائقہ... بہت میٹھا ہے،" عمران نے کہا اور پھر سے لگ گیا۔ اس کی زبان اندر تک جا رہی تھی۔ فرزانہ کی کمر اٹھنے لگی۔ وہ اپنے کولہے اس کے منہ پر رگڑ رہی تھی۔ "بس... اور... میں... آہ..."
وہ اس کے منہ میں ہی جھڑ گئی۔ اس کا جسم کانپا، اس کی چیخ تکیے میں دب گئی۔ عمران نے اس کا سارا پانی پی لیا اور اوپر آ کر اسے چوما۔ فرزانہ نے اپنے ہی ذائقے کو اس کے ہونٹوں پر محسوس کیا۔
"اب میری باری،" فرزانہ نے کہا۔ اس نے عمران کو لٹایا اور اس کے لنڈ کو منہ میں لے لیا۔ اس بار وہ ماہر ہو گئی تھی۔ اس کا سر اوپر نیچے ہو رہا تھا، اس کا ہاتھ لنڈ کی جڑ کو سہلا رہا تھا۔ عمران کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔
"بھابھی... فرزانہ... میں..." وہ کراہا۔
"نکال دو،" فرزانہ نے لنڈ منہ سے نکال کر کہا۔ "میرے منہ میں نکال دو۔ میں دیکھنا چاہتی ہوں۔"
عمران نے اس کے بال پکڑے اور اس کے منہ میں جھڑ گیا۔ گرم پانی اس کے حلق میں اترا۔ فرزانہ نے اسے نگل لیا اور مسکرائی۔ "نمکین ہے،" وہ بولی۔ دونوں ہنس پڑے۔
پھر انہوں نے اصلی چدائی کی۔ عمران نے فرزانہ کو گھوڑی بنایا۔ وہ چاروں ہاتھوں پیروں پر تھی، اس کے کولہے اٹھے ہوئے تھے۔ عمران نے پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈالا۔ "آہ... بہت گہرا..." فرزانہ کراہی۔
دھکے تیز تھے۔ عمران کے ہاتھ اس کے مموں کو پیچھے سے دبا رہے تھے۔ ہر دھکے پر فرزانہ کے کولہے اس کی رانوں سے ٹکرا رہے تھے۔ آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔ بارش بھی تیز ہو گئی تھی، جیسے آسمان بھی ان کے ساتھ تھا۔
"اور زور سے... پھاڑ دو مجھے..." فرزانہ چلا رہی تھی۔ اسے اب کوئی شرم نہیں تھی۔ وہ صرف عورت تھی، اور وہ صرف مرد تھا۔
عمران نے اس کے بال پکڑے اور کھینچے۔ "تم میری ہو،" وہ ہانپ رہا تھا۔ "صرف میری۔"
"ہاں... تمہاری... صرف تمہاری..." فرزانہ نے جواب دیا۔ اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو کسا اور وہ پھر جھڑ گئی۔ اس کے پیچھے عمران بھی جھڑا، اس کا پانی اس کی چوت میں بھرتا چلا گیا۔
وہ بستر پر گر پڑے۔ بارش کی آواز اب دھیمی ہو گئی تھی۔ فرزانہ عمران کی چھاتی پر سر رکھے اس کی دھڑکن سن رہی تھی۔ "یہ کب تک چلے گا؟" اس نے پوچھا۔
"جب تک تم چاہو،" عمران نے کہا۔ "میں کہیں نہیں جا رہا۔"
اچانک باہر سے کسی کی آواز آئی۔ "فرزانہ! دروازہ کھولو!" اسلم کی آواز تھی۔ وہ آج جلدی آ گیا تھا۔ دونوں کی سانس رک گئی۔ گھڑی میں نو بجے تھے۔ اسلم کبھی نو بجے نہیں آتا تھا۔
فرزانہ نے جلدی سے چادر لپیٹی۔ عمران نے کپڑے اٹھائے اور باتھ روم میں گھس گیا۔ فرزانہ نے دروازہ کھولا۔ اسلم بھیگا ہوا کھڑا تھا۔ "بارش بہت تیز ہے، دکان بند کر دی،" اس نے کہا۔
"عادل کہاں ہے؟" اسلم نے پوچھا۔
"ماموں کے گھر،" فرزانہ نے کہا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
اسلم اندر آیا۔ "یہ تولیہ کس کا ہے؟" اس نے صوفے پر پڑے گیلے تولیے کی طرف اشارہ کیا۔
فرزانہ کا دماغ تیزی سے چلا۔ "عمران آیا تھا، بارش میں بھیگ گیا تھا۔ ابھی باتھ روم میں ہے۔"
اسی وقت عمران باتھ روم سے نکلا۔ اس کے بال گیلے تھے۔ "السلام علیکم انکل،" اس نے کہا۔ "بارش میں پھنس گیا تھا۔"
"وعلیکم السلام،" اسلم نے کہا۔ "چائے پیو گے؟"
"نہیں انکل، امی انتظار کر رہی ہوں گی،" عمران نے کہا اور چلا گیا۔ جاتے ہوئے اس نے فرزانہ کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک پیغام تھا: کل پھر۔
اسلم نے کپڑے بدلے اور کھانا کھایا۔ فرزانہ اسے دیکھ رہی تھی۔ یہ وہ مرد تھا جس سے اس نے نکاح کیا تھا، جس کے بچے کی ماں وہ تھی۔ اور آج اس نے اسے دھوکا دیا تھا۔ اس کے دل میں ایک کانٹا چبھا۔
مگر پھر اسے عمران کی بانہوں کا احساس یاد آیا۔ اس کی تعریفیں، اس کے بوسے، وہ آگ جو اس نے اس میں جلائی تھی۔ اس نے فیصلہ کر لیا۔ وہ اس آگ کو بجھنے نہیں دے گی۔
اگلی شام عمران آیا تو فرزانہ نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ "آج کوئی دستک نہیں ہوگی،" وہ بولی۔ "آج کی شام صرف ہماری ہے۔"
عمران نے اسے اٹھا لیا اور بیڈروم کی طرف بڑھا۔ فرزانہ نے اس کی گردن میں بانہیں ڈالیں اور اس کے کان میں کہا، "آج مجھے ایسے چاہو جیسے کل کبھی نہ آئے۔"
اور عمران نے اسے ویسے ہی چاہا۔ بار بار، اس رات کے ہر پہر میں۔ جب وہ آخر میں اس کی بانہوں میں سوئی تو اس کے چہرے پر سکون تھا۔ برسوں بعد پہلی بار وہ پوری طرح عورت محسوس کر رہی تھی۔ زندہ، چاہی گئی، اور آزاد۔
Readers who enjoyed “اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں” also read
8 curated storiesاردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2
رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔
اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ
راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔
اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی
اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔
اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں
آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔
اردو مامی کہانی: شادی والی رات
اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔
اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام
اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی 2026: مہنور کی آدھی رات
آدھی رات کو اسٹڈی کا دروازہ کھلا اور مہنور اندر آ گئی۔ یہ اردو سالی کی چدائی 2026 کی وہ کہانی ہے جو ایک سرد رات میں شروع ہوئی۔