اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ

A
10 min read2 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

رات کے گیارہ بج رہے تھے جب عادل کے موبائل پر راحت بھابی کا وائس نوٹ آیا۔ اس نے پلے دبایا تو کانوں میں بھابی کی بھری ہوئی، کانپتی آواز گونجی: "خالد... تمہارے بغیر نیند نہیں آتی... وہ لال والی... آج پہن رکھی ہے..." آگے کی بات سنتے ہی عادل کے ہاتھ کانپنے لگے، کیونکہ یہ ایک ایسی urdu bhabhi ki chudai کی رات کی شروعات تھی جس کا اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔

عادل چھبیس سال کا بینک کلرک تھا، دو مہینے پہلے ہی لکھنؤ ٹرانسفر ہو کر آیا تھا۔ راحت بھابی کے مکان کی اوپر والی منزل پر اس نے ایک کمرہ کرائے پر لیا تھا۔ نیچے راحت بھابی اپنے شوہر خالد کے ساتھ رہتی تھیں، جو رات کو ٹیکسی چلاتا تھا اور صبح منہ اندھیرے گھر لوٹتا تھا۔

عادل نے وائس نوٹ دوبارہ چلایا۔ اس بار آواز صاف سنائی دی۔ راحت بھابی کی سانسیں تیز تھیں، اور الفاظ کے بیچ میں وہ ہلکی سی سسکیاں لے رہی تھیں۔ "جلدی آ جانا... میں انتظار نہیں کر سکتی..." یہ پیغام خالد بھائی کے لیے تھا، اس میں کوئی شک نہیں تھا۔ مگر غلطی سے یہ عادل کے نمبر پر آ گیا تھا۔

عادل کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ راحت بھابی انتیس سال کی تھیں، گورا رنگ، بھرا ہوا جسم، اور چلتے وقت ان کی چال میں ایک خاص ادا تھی۔ محلے کے کئی لڑکے ان پر نظر رکھتے تھے، مگر عادل نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ بھابی خود اس کے فون پر ایسی باتیں بھیجیں گی۔

تیسری بار نوٹ چلانے ہی والا تھا کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ عادل نے جلدی سے فون چھپایا اور دروازہ کھولا۔ سامنے راحت بھابی کھڑی تھیں۔ انہوں نے گلابی رنگ کی نائٹی پہن رکھی تھی، بال کھلے تھے، اور چہرے پر گھبراہٹ صاف نظر آ رہی تھی۔

"عادل... وہ... تمہیں کوئی وائس نوٹ آیا؟" ان کی آواز کانپ رہی تھی۔ عادل نے معصوم بننے کی کوشش کی۔ "کون سا وائس نوٹ، بھابی؟" راحت بھابی نے اندر قدم رکھا اور دروازہ بند کر دیا۔ "جھوٹ مت بولو۔ ابھی ابھی غلطی سے تمہارے نمبر پر چلا گیا۔ ڈیلیٹ کر دو، پلیز۔"

عادل کے ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ آ گئی۔ "کون سا والا، بھابی؟ وہ جس میں آپ کہہ رہی تھیں کہ... تمہارے بغیر نیند نہیں آتی؟" راحت بھابی کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ "تم نے سن لیا؟" وہ آگے بڑھیں اور فون چھیننے کی کوشش کی۔ عادل نے ہاتھ اوپر کر لیا۔

"بھابی، اتنی جلدی کیا ہے؟ خالد بھائی تو صبح آئیں گے۔" عادل نے اسپیکر آن کر کے نوٹ پھر سے چلا دیا۔ کمرے میں راحت بھابی کی بھری آواز گونجنے لگی: "وہ لال والی پہن رکھی ہے... آ کر خود ہی اتار دینا..." راحت بھابی نے جھپٹ کر فون چھیننے کی کوشش کی، اور اسی کوشش میں ان کا بھرا ہوا سینہ عادل کے سینے سے جا لگا۔

دونوں ایک لمحے کے لیے جم گئے۔ راحت بھابی کی گرم سانسیں عادل کے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں گھبراہٹ کے ساتھ ساتھ کچھ اور بھی تھا، ایک چھپی ہوئی چاہت۔ عادل نے موقع دیکھا اور ان کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔

راحت بھابی نے پہلے تو دھکا دینے کی کوشش کی، مگر پھر ان کے ہونٹ نرم پڑ گئے۔ ان کی زبان عادل کی زبان سے الجھ گئی۔ عادل کا ایک ہاتھ ان کی کمر پر تھا، دوسرا ان کے کولہوں پر۔ نائٹی کے پتلے کپڑے کے نیچے ان کا گرم جسم صاف محسوس ہو رہا تھا۔

"یہ غلط ہے، عادل..." راحت بھابی نے ہونٹ الگ کرتے ہوئے سرگوشی کی، مگر ان کی باہیں عادل کی گردن سے لپٹی ہوئی تھیں۔ "بھابی، غلط تو وہ وائس نوٹ بھیجنا تھا۔" عادل نے ان کے کان کی لو کو ہلکے سے کاٹا۔ راحت بھابی کے منہ سے ایک دبی ہوئی سسکی نکلی۔

عادل نے انہیں اٹھا کر چارپائی پر لٹا دیا۔ نائٹی اوپر سرک گئی تھی اور ان کی گوری رانوں کی جھلک نظر آ رہی تھی۔ عادل نے نائٹی کے اسٹریپ نیچے کھینچے۔ اندر انہوں نے لال رنگ کی برا پہن رکھی تھی، بالکل ویسے جیسے وائس نوٹ میں کہا تھا۔

"تو یہ ہے وہ لال والی..." عادل نے برا کا ہک کھولا۔ راحت بھابی کے بھرے ہوئے ممے آزاد ہو کر ہلنے لگے۔ عادل نے ایک ممے کو منہ میں لے لیا اور دوسرے کو ہاتھ سے دبانے لگا۔ راحت بھابی کی کمر دھنوی کی طرح اٹھنے لگی۔ "آہ... عادل... آہستہ..."

عادل کی زبان ان کے نپل کے گرد گھوم رہی تھی۔ وہ کبھی چوستا، کبھی ہلکے سے کاٹتا۔ راحت بھابی کے ہاتھ اس کے بالوں میں الجھ گئے۔ "اور زور سے... کاٹو انہیں..." ان کی آواز میں اب شرم کی جگہ چاہت نے لے لی تھی۔

عادل کا ہاتھ نیچے سرکا۔ نائٹی کے نیچے انہوں نے لال پینٹی پہن رکھی تھی، جو اب گیلی ہو چکی تھی۔ عادل نے انگلی پینٹی کے اندر ڈالی اور ان کی چوت کو چھوا۔ گرم، گیلی، پھولی ہوئی چوت۔ راحت بھابی کے جسم میں جھرجھری دوڑ گئی۔

"کتنی گیلی ہو رہی ہو، بھابی۔" عادل نے دو انگلیاں ان کی چوت میں ڈال دیں۔ راحت بھابی چیخ پڑیں۔ "آہ! عادل! اندر... اور اندر..." ان کے کولہے اوپر اٹھنے لگے۔ عادل کی انگلیاں اندر باہر ہو رہی تھیں، اور انگوٹھا ان کے دانے کو رگڑ رہا تھا۔

راحت بھابی نے عادل کی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کر دیے۔ پھر اس کی پینٹ کی زپ کھولی۔ اس کا لنڈ پہلے سے تن کر کھڑا تھا۔ راحت بھابی نے اسے ہاتھ میں لیا اور حیرت سے دیکھا۔ "اتنا بڑا... خالد کا تو آدھا بھی نہیں..." یہ سنتے ہی عادل کا جوش اور بڑھ گیا۔

راحت بھابی چارپائی سے اتریں اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئیں۔ انہوں نے عادل کے لنڈ کو منہ میں لے لیا۔ ان کی گرم زبان لنڈ کے ٹوپے کے گرد گھومنے لگی۔ عادل نے ان کے بال پکڑ لیے۔ "ہاں بھابی... ایسے ہی... چوسو اسے..."

راحت بھابی ماہر انداز میں چوس رہی تھیں۔ کبھی پورا لنڈ گلے تک لے جاتیں، کبھی صرف ٹوپے کو زبان سے چھیڑتیں۔ ان کے منہ سے گندی آوازیں نکل رہی تھیں۔ عادل کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ "بھابی... نکل جائے گا..." راحت بھابی نے لنڈ منہ سے نکالا اور شرارت سے مسکرائیں۔ "ابھی نہیں۔ ابھی تو رات شروع ہوئی ہے۔"

عادل نے انہیں اٹھایا اور چارپائی پر لٹا دیا۔ پینٹی ایک جھٹکے میں اتار دی۔ ان کی چوت صاف نظر آ رہی تھی، گیلی اور چمکتی ہوئی۔ عادل نے اپنا لنڈ ان کی چوت کے منہ پر رکھا اور آہستہ سے دباؤ ڈالا۔

"آہ..." دونوں کے منہ سے ایک ساتھ نکلا۔ عادل کا لنڈ آدھا اندر گیا۔ راحت بھابی کی چوت نے اسے کس کر پکڑ لیا۔ "پورا ڈالو... عادل... پورا..." عادل نے ایک زوردار جھٹکا مارا اور پورا لنڈ اندر چلا گیا۔

کمرہ چدائی کی آوازوں سے بھر گیا۔ عادل کے جھٹکے تیز ہو رہے تھے۔ راحت بھابی کی ٹانگیں اس کی کمر سے لپٹی ہوئی تھیں۔ "ہاں... اور زور سے... چودو مجھے... آج میری چوت کی پیاس بجھا دو..." ان کے منہ سے گندی گالیاں نکل رہی تھیں۔

عادل نے ان کے دونوں ممے پکڑ لیے اور جھٹکوں کی رفتار بڑھا دی۔ چارپائی چرچرانے لگی۔ راحت بھابی کی آنکھیں بند تھیں، منہ کھلا تھا۔ "عادل... میں آنے والی ہوں... مت رکنا..." ان کا جسم اکڑنے لگا۔

اچانک عادل کے فون کی گھنٹی بجی۔ اسکرین پر "خالد بھائی" لکھا تھا۔ دونوں جم گئے۔ راحت بھابی کی آنکھوں میں خوف آ گیا۔ عادل نے فون اٹھا کر سائلنٹ کیا۔ "ڈرو مت، بھابی۔" اس نے لنڈ باہر نکالا اور راحت بھابی کو اپنے اوپر بٹھا لیا۔

راحت بھابی نے لنڈ کو اپنی چوت میں خود ڈالا اور اچھلنے لگیں۔ فون بجتا رہا، مگر انہیں کوئی پروا نہیں تھی۔ "بجنے دو... آج میں تمہاری ہوں..." ان کے ممے اچھل رہے تھے۔ عادل نے انہیں منہ میں لے لیا۔ خالد کا فون بالآخر خاموش ہو گیا۔

راحت بھابی کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی۔ "آہ! آہ! میں جھڑ رہی ہوں! عادل! میں جھڑ رہی ہوں!" ان کی چوت نے لنڈ کو زور سے بھینچا۔ ان کے جسم میں لہر دوڑ گئی۔ گرم پانی عادل کے لنڈ پر بہنے لگا۔ وہ جھڑ چکی تھیں، مگر رکی نہیں۔

عادل نے انہیں پلٹا اور گھوڑی بنا دیا۔ ان کے کولہے ہوا میں اٹھے ہوئے تھے۔ عادل نے پیچھے سے لنڈ ان کی چوت میں ڈالا۔ "آہ! بہت اندر جا رہا ہے!" راحت بھابی نے تکیہ بھینچ لیا۔ عادل نے ان کے بال پکڑے اور جانوروں کی طرح چودنے لگا۔

"ہاں... ایسے ہی... میری گانڈ پر مارو..." عادل نے ان کے کولہوں پر تھپڑ مارا۔ سرخ نشان پڑ گیا۔ راحت بھابی چیخیں، مگر یہ درد کی نہیں، مزے کی چیخ تھی۔ "اور مارو... اور زور سے چودو..."

عادل کے جھٹکے اب بے قابو ہو رہے تھے۔ "بھابی... میں آنے والا ہوں... کہاں نکالوں؟" راحت بھابی نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں شہوت ناچ رہی تھی۔ "اندر... اندر ہی نکالو... میری چوت کو اپنے پانی سے بھر دو..."

عادل نے آخری زوردار جھٹکے مارے اور اس کا گرم پانی راحت بھابی کی چوت میں بہنے لگا۔ "آہ! کتنا گرم ہے..." راحت بھابی کا جسم کانپنے لگا۔ وہ دوسری بار جھڑ رہی تھیں۔ دونوں پسینے میں شرابور چارپائی پر ڈھیر ہو گئے۔

کچھ دیر خاموشی رہی۔ صرف دونوں کی تیز سانسوں کی آواز آ رہی تھی۔ راحت بھابی نے سر اٹھا کر عادل کو دیکھا۔ ان کے چہرے پر شرم اور مسکراہٹ ایک ساتھ تھیں۔ "یہ وائس نوٹ ڈیلیٹ کر دینا... اور یہ رات بھی..."

عادل نے ان کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ "وائس نوٹ تو ڈیلیٹ کر دوں گا، بھابی۔ مگر یہ رات... یہ کبھی ڈیلیٹ نہیں ہوگی۔" راحت بھابی ہنس پڑیں۔ انہوں نے نائٹی پہنی اور دروازے کی طرف بڑھیں۔

دروازے پر رک کر وہ مڑیں۔ ان کی آنکھوں میں شرارت تھی۔ "ویسے... کل خالد پھر رات کو جائے گا۔" انہوں نے آنکھ ماری۔ "اور اس بار وائس نوٹ غلطی سے نہیں بھیجوں گی... سیدھا تمہیں بھیجوں گی۔" یہ کہہ کر وہ اندھیرے میں غائب ہو گئیں، اور عادل مسکراتا ہوا چارپائی پر لیٹ گیا۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

First Time

اردو دلہن کی سہاگ رات: مہک کی پہلی رات، حصہ 1

اردو دلہن کی سہاگ رات کی کہانی میں لکھنؤ کی مہک اور ارمان کی پہلی رات ایک ایسے راز کے دروازے پر آ کر رک جاتی ہے جس کا جواب اگلے حصے میں ملے گا۔

Read Next Story

More stories by Ahmed Khan

View all →

Readers who enjoyed “اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ” also read

8 curated stories
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2

رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی

اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔

⏱️ 20 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں

آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی کہانی: شادی والی رات

اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔

⏱️ 15 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دیور بھابھی کہانی: لکھنؤ کی شبانہ اور دانش

اردو دیور بھابھی کہانی میں لکھنؤ کی شبانہ اور دیور دانش کے درمیان ایک چھپا ہوا خط ایک ایسی رات کی شروعات بن جاتا ہے جو دونوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام

اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views