اردو ساس بہو کہانی: فرزانہ اور نادیہ کا راز
سیڑھیوں پر فرزانہ کے قدم رک گئے۔ اوپر چھت سے چارپائی کے چرچرانے کی آواز آ رہی تھی، اور اس کے ساتھ ایک دبی ہوئی سسکی بھی۔ یہ اردو ساس بہو کہانی اسی دوپہر سے شروع ہوتی ہے، جب لاہور کی پرانی حویلی کی چھت پر کچھ ایسا ہوا جسے دیکھ کر فرزانہ کی آٹھ سال سے سوئی ہوئی بھوک جاگ اٹھی۔
اس کے ہاتھ میں چائے کی ٹرے تھی۔ وہ دبے پاؤں اوپر چڑھی۔ برساتی کا دروازہ آدھا کھلا تھا۔ اندر نادیہ تھی، اس کی بہو، اور اس کے ساتھ دانیال، نادیہ کا کزن جو چھت کی مرمت کے لیے آیا تھا۔ دونوں ایک دوسرے میں گم تھے۔
فرزانہ کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ چیخ اس کے حلق میں اٹکی رہ گئی۔ آٹھ سال پہلے شوہر کے انتقال کے بعد اس نے اپنے آپ کو حویلی کی دیواروں میں دفن کر دیا تھا۔ مگر آج، یہ منظر دیکھ کر اس کے بدن میں کچھ ٹوٹ گیا۔
اس نے ٹرے نیچے رکھی اور دروازہ بند کر دیا۔ اندر دونوں چونکے۔ نادیہ کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ "امی... آپ..." اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ دانیال جلدی سے پیچھے ہٹا، شرمندگی سے سر جھکائے۔
فرزانہ نے دروازے کو کنڈی لگائی اور آہستہ سے بولی، "ڈرو مت۔ میں چلاؤں گی نہیں۔" وہ چارپائی پر بیٹھ گئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے، بلکہ ایک عجیب سی چمک تھی۔ "آٹھ سال، نادیہ۔ آٹھ سال سے میں نے کسی مرد کو چھوا تک نہیں۔"
نادیہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔ "امی، آپ..." فرزانہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا۔ "تمہارا شوہر دبئی میں ہے، میرا شوہر قبر میں۔ ہم دونوں اس حویلی میں قیدی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ تم نے آج بغاوت کی، اور میں نے آٹھ سال پہلے ہتھیار ڈال دیے۔"
دانیال نے کچھ کہنا چاہا، مگر فرزانہ نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی نظر میں اب شرم نہیں تھی۔ "تم کل تک یہیں ہو نا؟ چھت کا کام تو پرسوں ختم ہوگا۔" دانیال نے سر ہلایا۔ "تو ٹھیک ہے۔ جو تم نے نادیہ کو دیا، وہی مجھے بھی دو گے۔ یہ میرا حکم ہے۔"
نادیہ کے ہونٹ کھل گئے۔ "امی!" فرزانہ مسکرائی، پہلی بار اس دوپہر۔ "ساس بھی عورت ہوتی ہے، بہو۔ اور آج اس عورت کو بھی جینا ہے۔" یہ کہہ کر وہ اٹھی، کنڈی کھولی اور نیچے چلی گئی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
رات کو کھانے کے بعد نادیہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ دانیال صحن میں چارپائی پر لیٹا تھا۔ فرزانہ پانی کا گلاس لے کر آئی۔ "سوئے نہیں؟" اس نے پوچھا۔ دانیال اٹھ کر بیٹھ گیا۔ "نیند نہیں آ رہی، خالہ۔"
"خالہ نہیں،" فرزانہ نے گلاس اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا۔ "آج رات فرزانہ۔" وہ اس کے پاس چارپائی پر بیٹھ گئی۔ ان کا کندھا اس کے کندھے سے ٹکرایا۔ دانیال کی سانس رک گئی۔
فرزانہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے سینے پر رکھ دیا۔ "محسوس کرو۔ یہ دل اب بھی دھڑکتا ہے۔" اس کی شلوار قمیض کے اوپر سے اس کے مموں کی سختی صاف محسوس ہو رہی تھی۔ دانیال کے ہاتھ کانپنے لگے۔
"ڈرو مت،" وہ بولی۔ "میں نے زندگی میں صرف ایک مرد کو جانا ہے۔ آج میں دوسرا جاننا چاہتی ہوں۔" اس نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلا بوسہ ہلکا تھا، دوسرا گہرا۔ دانیال نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا۔
فرزانہ نے اپنی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے، ایک ایک کر کے، اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے۔ چاندنی میں اس کا بدن چمک رہا تھا۔ اڑتالیس سال کی عمر، مگر بدن اب بھی بھرا ہوا، ممے ڈھلکے ہوئے مگر پرکشش۔
دانیال نے اس کے مموں کو ہاتھوں میں لیا اور دبایا۔ فرزانہ کے منہ سے سسکی نکلی۔ "ہاں... ایسے ہی... آٹھ سال سے کوئی ہاتھ یہاں نہیں آیا۔" اس نے اس کی شلوار کا ناڑا کھولا اور اس کا لنڈ باہر نکال لیا، جو پہلے سے سخت ہو چکا تھا۔
اس نے اسے اپنے ہاتھ میں لیا اور سہلانے لگی۔ دانیال نے اس کی شلوار اتار دی۔ اس کی چوت گیلی ہو چکی تھی۔ فرزانہ چارپائی پر لیٹ گئی اور ٹانگیں پھیلادیں۔ "آؤ،" وہ بولی۔ "مجھے پھر سے عورت بناؤ۔"
دانیال اس پر جھکا اور اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ ایک ہی جھٹکے میں وہ اندر چلا گیا۔ فرزانہ نے اس کی پیٹھ کو ناخنوں سے کھروچ دیا۔ "آہ... اتنے سال... اتنے سال بعد..." اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، مگر یہ خوشی کے تھے۔
دانیال نے دھکے مارنے شروع کیے۔ چارپائی چرچرانے لگی۔ فرزانہ نے اس کی کمر پکڑ کر اسے اور اندر کھینچ لیا۔ "اور تیز... ڈرو مت... حویلی سو رہی ہے..." اس کی چوت نے اس کے لنڈ کو کس کر جکڑ لیا۔
اوپر کے کمرے کی کھڑکی سے نادیہ یہ سب دیکھ رہی تھی۔ اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ غصہ نہیں، بلکہ ایک عجیب سی جلن۔ اس کی ساس، اس کی امی، اسی مرد کے ساتھ جو ابھی دوپہر کو اس کا تھا۔
نیچے فرزانہ کی سسکیاں تیز ہو گئیں۔ "میں آنے والی ہوں... رکو مت..." اس کا بدن اکڑ گیا، پھر ڈھیلا پڑ گیا۔ اس کا پانی چھوٹ گیا۔ دانیال نے بھی دو تیز دھکے مارے اور اپنا پانی اس کے اندر چھوڑ دیا۔
دونوں ہانپتے ہوئے لیٹے رہے۔ فرزانہ نے آسمان کی طرف دیکھا اور بولی، "اللہ مجھے معاف کرے، مگر آج میں زندہ ہو گئی۔" دانیال نے اس کے ماتھے کو چوما۔
اگلی صبح ناشتہ خاموشی میں ہوا۔ نادیہ نے فرزانہ کی طرف نہیں دیکھا۔ فرزانہ نے بھی کچھ نہیں کہا۔ مگر جب دانیال چھت پر گیا تو نادیہ اس کے پیچھے گئی۔
"تم نے امی کے ساتھ..." نادیہ کی آواز میں آنسو تھے۔ دانیال نے اس کے کندھے پکڑے۔ "نادیہ، انہوں نے حکم دیا تھا۔ میں انکار نہیں کر سکا۔" نادیہ نے اس کے ہاتھ جھٹک دیے۔ "اور دوپہر کو؟ وہ بھی حکم تھا؟"
"نادیہ، سنو،" دانیال نے اسے دیوار سے لگایا۔ "تم دونوں اس حویلی میں تنہا ہو۔ میں کل چلا جاؤں گا۔ کیوں نہ یہ دو دن تم دونوں کے لیے یادگار بنا دوں؟" نادیہ کی سانس تیز ہو گئی۔ اس کے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے مل گئے۔
اس دوپہر برساتی میں نادیہ اور دانیال پھر ایک ہوئے۔ اس بار نادیہ زیادہ جنگلی تھی، جیسے مقابلہ کر رہی ہو۔ "بتاؤ، میں بہتر ہوں یا امی؟" وہ ہانپتے ہوئے بولی۔ دانیال نے جواب میں اس کے دھکے اور تیز کر دیے۔
شام کو فرزانہ نے نادیہ کو صحن میں بلایا۔ دونوں آمنے سامنے بیٹھیں۔ کافی دیر خاموشی رہی۔ پھر فرزانہ بولی، "تم نے دیکھا تھا نا، کل رات؟" نادیہ نے سر جھکا لیا۔
"دیکھا تھا،" وہ بولی۔ "اور مجھے جلن ہوئی۔" فرزانہ نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ "مجھے بھی ہوئی تھی، جب میں نے تم دونوں کو دیکھا۔ مگر پھر میں نے سوچا، ہم دشمن کیوں بنیں؟ ہم تو ایک ہی کشتی میں ہیں۔"
"مطلب؟" نادیہ نے پوچھا۔ فرزانہ کی آنکھوں میں شرارت چمکی۔ "مطلب یہ کہ آج رات ہم دونوں اس کے ساتھ ہوں گے۔ ایک ساتھ۔ ساس بہو کی جوڑی۔ عمران کو کبھی پتہ نہیں چلے گا۔"
نادیہ کے گال لال ہو گئے۔ "امی! یہ... یہ کیسے..." فرزانہ نے اس کے گال کو چھوا۔ "جیسے کل رات ہوا۔ بس آج ہم دونوں۔ تمہیں ڈر لگتا ہے؟" نادیہ نے کچھ دیر سوچا، پھر دھیرے سے سر ہلایا۔ "نہیں۔"
رات کے گیارہ بجے دانیال کو برساتی میں بلایا گیا۔ دروازہ کھلا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔ اندر فرزانہ اور نادیہ دونوں تھیں، دونوں نے ہلکی ململ کی قمیضیں پہنی تھیں۔
"آؤ،" فرزانہ بولی۔ "آج رات تم ہمارے مہمان ہو۔" دانیال اندر آیا۔ دروازے کو کنڈی لگی۔ نادیہ نے اس کی قمیض اتارنی شروع کی، فرزانہ نے اس کی پینٹ۔
دونوں عورتوں نے اس کے لنڈ کو باری باری ہاتھ میں لیا۔ نادیہ نے اسے منہ میں لیا اور چوسنے لگی۔ فرزانہ نے اس کے پیچھے سے اسے پکڑ رکھا تھا، اس کی گردن کو چوم رہی تھی۔ دانیال کی سانس اکھڑنے لگی۔
"بس،" فرزانہ بولی۔ "اب میری باری۔" وہ چارپائی پر لیٹی اور دانیال کو اپنے اوپر کھینچ لیا۔ نادیہ ان کے پاس بیٹھ کر دیکھنے لگی، اس کی انگلیاں خود اپنی چوت سے کھیلنے لگیں۔
دانیال نے فرزانہ کی چوت میں اپنا لنڈ ڈالا اور دھکے مارنے لگا۔ فرزانہ کی سسکیاں کمرے میں گونجنے لگیں۔ نادیہ نے جھک کر فرزانہ کے مموں کو چومنا شروع کر دیا۔ فرزانہ نے اس کے بال پکڑ لیے۔
"ہاں... دونوں... دونوں مجھے چاہیے..." فرزانہ ہانپ رہی تھی۔ اس کا پانی چھوٹ گیا۔ وہ ایک طرف ہٹی اور نادیہ اس کی جگہ لیٹ گئی۔
دانیال نے بغیر رکے اپنا لنڈ نادیہ کی چوت میں ڈال دیا۔ نادیہ چیخی، مگر فرزانہ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ "آہستہ، بہو۔ پڑوسی سن لیں گے۔" پھر فرزانہ نے جھک کر نادیہ کے ہونٹ چوم لیے۔
دونوں عورتوں کی جیبھیں آپس میں الجھ گئیں جبکہ دانیال نیچے سے دھکے مارتا رہا۔ نادیہ کا بدن کانپنے لگا۔ "میں آ رہی ہوں... امی... میں آ رہی ہوں..." اس کا پانی چھوٹ گیا۔
دانیال نے لنڈ باہر نکالا۔ فرزانہ نے اسے ہاتھ میں لیا اور تیزی سے ہلانے لگی۔ نادیہ نے بھی اپنا ہاتھ لگا دیا۔ دونوں کے ہاتھوں کی رگڑ سے دانیال کا پانی چھوٹ گیا، ان کے ہاتھوں اور پیٹ پر گرتا ہوا۔
تینوں ہانپتے ہوئے لیٹے رہے۔ چاندنی کھڑکی سے اندر آ رہی تھی۔ فرزانہ نے نادیہ کو اپنے سینے سے لگایا اور بولی، "اب یہ ہماری ساس بہو کی کہانی ہے، اور اس کا کوئی تیسرا قاری نہیں ہوگا۔"
نادیہ نے اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔ "اور عمران؟" فرزانہ مسکرائی۔ "عمران دبئی میں پیسے کمائے، ہم یہاں زندگی جئیں۔" دانیال نے دونوں کو اپنی باہوں میں بھر لیا۔ اس رات حویلی کی دیواروں نے تین دلوں کا راز اپنے اندر دفن کر لیا۔
Readers who enjoyed “اردو ساس بہو کہانی: فرزانہ اور نادیہ کا راز” also read
8 curated storiesاردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2
رات کے دو بجے کی ڈور بیل پر طارق خالو تھے، نشے میں دھت۔ سوئے ہوئے شوہر سے تین میٹر کے فاصلے پر ایک خاموش رات، اور پھر تین دن کی کھلی آزادی۔ اردو خالہ کی کہانی کا دوسرا اور آخری حصہ۔
اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ
راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات
اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں
اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔
اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں
آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔
اردو مامی کہانی: شادی والی رات
اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔
اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام
اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔
اردو سالی کی چدائی 2026: مہنور کی آدھی رات
آدھی رات کو اسٹڈی کا دروازہ کھلا اور مہنور اندر آ گئی۔ یہ اردو سالی کی چدائی 2026 کی وہ کہانی ہے جو ایک سرد رات میں شروع ہوئی۔