اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2

S
10 min read2 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

ڈور بیل کی تیسری گھنٹی پر میرا دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی سینے سے باہر نکل آئے گا، اور ایک لمحے کو مجھے لگا کہ میری یہ اردو خالہ کی کہانی یہیں ختم ہونے والی ہے، اسی بستر پر، اسی حالت میں۔ میرا لنڈ ابھی بھی خالہ شازیہ کی چوت میں تھا، ان کی ٹانگیں میری کمر کے گرد لپٹی ہوئی تھیں، اور ہم دونوں پتھر کی طرح اکڑے ہوئے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔ رات کے دو بجے دروازے پر کون ہو سکتا تھا، یہ سوال ہماری آنکھوں میں ایک ساتھ ابھرا۔

"ہلو مت،" خالہ نے ہونٹوں سے بغیر آواز کے کہا اور میرے اوپر سے اترنے کی کوشش کی۔ میں نے دھیرے سے اپنے آپ کو ان سے الگ کیا، اور وہ لمحہ بھی عجیب تھا، جیسے جسم الگ ہو رہے ہوں مگر ڈر ایک کر رہا ہو۔ خالہ نے جلدی سے فرش پر گری نائٹی اٹھا کر پہنی، میں نے شلوار کھینچی، اور ہم دونوں سانس روکے لاونج کی طرف بڑھے۔ ڈور بیل چوتھی بار بجی، اس بار لمبی اور بے صبری۔

خالہ نے دروازے کی آنکھ سے باہر جھانکا اور ان کا چہرہ ایک دم سفید پڑ گیا۔ انہوں نے میری طرف دیکھا اور سرگوشی میں بولیں، "طارق ہیں۔" میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ خالو اس وقت پورٹ پر ہونے چاہیے تھے، رات کی ڈیوٹی پر، مگر وہ دروازے کے باہر دیوار سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ خالہ نے ایک گہری سانس لی، اپنے بال ٹھیک کیے، اور دروازہ کھولا۔

طارق خالو اندر لڑکھڑاتے ہوئے آئے، ان کے منہ سے شراب کی بو کا بھبھکا اٹھ رہا تھا۔ "شپ... شپ چلی گئی یار، انسپیکشن ملتوی،" وہ بڑبڑائے اور سیدھے صوفے پر گرے۔ ان کا سر کشن پر لگا اور ایک منٹ کے اندر ان کے خراٹے لاونج میں گونجنے لگے۔ میں مہمان کمرے کے دروازے میں آدھا چھپا کھڑا تھا، میری قمیض کے بٹن کھلے تھے، اور خالہ نے جلدی سے ایک کمبل اٹھا کر خالو پر ڈال دیا۔

"سو گئے،" خالہ نے میری طرف دیکھ کر سرگوشی کی، مگر ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ "تم کمرے میں جاؤ، دروازہ بند کر لو۔" میں نے سر ہلایا اور مہمان کمرے میں واپس آ گیا۔ میں نے دروازہ بند کیا، بستر پر لیٹا، مگر نیند کہاں آنی تھی۔ میرا جسم ابھی بھی جل رہا تھا، ادھوری چاہت رگوں میں دوڑ رہی تھی، اور لاونج سے خالو کے خراٹوں کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ آج کی رات یہیں ختم ہو گئی۔

دس منٹ بعد دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا تو خالہ اندر سرک آئیں اور دروازہ بند کر دیا۔ ان کی آنکھوں میں وہی شرارت تھی جو میں نے پہلی رات دیکھی تھی، مگر اب اس میں ایک پاگل پن بھی تھا۔ "گہری نیند سو رہے ہیں،" وہ بولیں، "شراب پی کر ایسے سوتے ہیں کہ قیامت بھی آ جائے تو نہ اٹھیں۔" پھر انہوں نے میری قمیض کا کالر پکڑا اور مجھے اپنی طرف کھینچا۔ "جو ادھورا رہ گیا ہے، وہ مجھے پاگل کر رہا ہے۔"

میں نے ان کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے، مگر اس بار بوسہ مختلف تھا، ڈرا ہوا، چوری چھپے، اور اسی لیے دس گنا زیادہ گرم۔ خالہ نے میری شلوار کا ازاربند کھولا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئیں۔ انہوں نے میرا لنڈ منہ میں لیا، دھیرے دھیرے، اتنی آہستگی سے کہ ان کی سانس کی آواز بھی نہ آئے۔ ان کی زبان میرے لنڈ کے سرے پر گھوم رہی تھی، اور میں نے تکیے کو دانتوں میں دبا لیا تاکہ میرے منہ سے کوئی آواز نہ نکلے۔ لاونج سے خالو کے خراٹے آ رہے تھے، اور یہ احساس کہ وہ تین میٹر کے فاصلے پر سو رہے ہیں، میرے جسم میں بجلی دوڑا رہا تھا۔

جب میں جھڑنے کے قریب پہنچا تو خالہ رک گئیں۔ وہ اٹھیں، اپنی نائٹی اتار کر بستر پر لیٹ گئیں اور ٹانگیں پھیلا دیں۔ میں ان کے اوپر آیا اور اپنا لنڈ ان کی گیلی چوت پر رگڑا۔ وہ پہلے سے اتنی گیلی تھیں کہ ایک ہی دھکے میں میں اندر اتر گیا۔ خالہ نے اپنی کلائی منہ میں دبا لی اور ان کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ میں نے دھیرے دھیرے دھکے لگانے شروع کیے، ہر دھکا نپا تلا، خاموش، مگر گہرا۔

کمرے میں صرف ہماری دبی ہوئی سانسوں اور گیلی چوت کی ہلکی آوازوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ خالہ کے ناخن میری پیٹھ میں گڑ رہے تھے۔ میں نے ان کے کان میں سرگوشی کی، "ڈر لگ رہا ہے؟" انہوں نے سر ہلایا، پھر میرے کان کو دانتوں سے کاٹتے ہوئے بولیں، "اور اسی ڈر میں مزہ آ رہا ہے۔" میں نے ان کی یہ بات سن کر اپنی رفتار تھوڑی بڑھائی، مگر اتنی نہیں کہ بستر چرمرائے۔

پھر خالہ نے مجھے روکا اور اشارے سے کہا کہ وہ اوپر آنا چاہتی ہیں۔ وہ میرے اوپر بیٹھ گئیں اور دھیرے دھیرے ہلنے لگیں۔ ان کے ممے میرے چہرے کے سامنے جھول رہے تھے، میں نے ایک نپل منہ میں لیا اور چوسنے لگا۔ خالہ کے جسم کا ہر حصہ پسینے سے چمک رہا تھا۔ وہ میرے اوپر آگے پیچھے ہو رہی تھیں، ان کی چوت میرے لنڈ کو نچوڑ رہی تھی، اور ان کے ہونٹوں سے دبی ہوئی سسکیاں نکل رہی تھیں جو وہ تکیے میں منہ دے کر روک رہی تھیں۔

اچانک لاونج سے خراٹوں کی آواز رکی۔ ہم دونوں جم گئے۔ میرا دل دھڑکنا بھول گیا۔ پانچ سیکنڈ، دس سیکنڈ، اور پھر خراٹے دوبارہ شروع ہو گئے، اس بار اور زور سے۔ خالہ نے راحت کی سانس لی اور میرے ماتھے پر بوسہ دیا۔ "کروٹ بدلی ہے،" وہ ہنسیں، مگر ان کی ہنسی میں بھی ڈر تھا۔ اس وقفے نے ہمیں اور پاگل کر دیا۔

میں نے خالہ کو گھوڑی بنایا۔ وہ بستر کے کنارے جھکیں، میں ان کے پیچھے آیا اور ایک ہاتھ سے ان کا منہ دبائے رکھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے ان کے کولہے پکڑے۔ میں نے پیچھے سے ان کی چوت میں لنڈ ڈالا اور زور زور سے دھکے لگانے لگا، جتنا خاموشی کی اجازت دیتی تھی۔ خالہ کا جسم ہر دھکے کے ساتھ آگے کو جھٹکا کھا رہا تھا۔ ان کی سسکیاں میرے ہاتھ کے نیچے دب رہی تھیں۔

میں جھڑنے والا تھا۔ میں نے آخری لمحے میں اپنا لنڈ باہر نکالا اور خالہ کی کمر پر جھڑ گیا۔ گرم قطرے ان کی جلد پر پھیل گئے۔ خالہ بھی اسی لمحے جھڑیں، ان کا جسم کانپا، ان کی چوت نے ہوا میں کچھ تلاش کیا۔ ہم دونوں بستر پر ڈھیر ہو گئے، ہانپتے ہوئے، کان لاونج کی طرف لگائے۔ خراٹے جاری تھے۔ خالہ نے میری طرف دیکھا اور پہلی بار کھل کر مسکرائیں۔

صبح کے پانچ بجے خالہ اپنے کمرے میں واپس چلی گئیں۔ صبح نو بجے خالو اٹھے تو ان کا سر پھٹ رہا تھا۔ انہیں صرف اتنا یاد تھا کہ پورٹ کینٹین میں انہوں نے زیادہ پی لی تھی اور کوئی انہیں گھر چھوڑ گیا تھا۔ "کمبل کس نے ڈالا تھا یار،" وہ بولے، "تم تو فرشتے ہو شازیہ۔" میں ناشتے کی میز پر بیٹھا چائے پی رہا تھا اور خالہ نے میز کے نیچے اپنا پاؤں میرے پاؤں پر رکھ دیا۔

ناشتے کے دوران خالو نے اعلان کیا کہ شپ انسپیکشن کی تاریخ آگے بڑھ گئی ہے، انہیں آج رات ہی پورٹ قاسم جانا ہوگا، تین دن کے لیے۔ میرے کان میں یہ خبر گونجی۔ خالہ نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے میری طرف دیکھا، اور ان کی آنکھوں میں وہی پیغام تھا جو الفاظ سے بڑا تھا۔ تین دن۔ پورا گھر ہمارا۔

رات کو خالو اپنا بیگ لے کر نکلے۔ دروازہ بند ہوا، تالا لگا، اور دس سیکنڈ کی خاموشی کے بعد خالہ میری طرف مڑیں۔ پھر جو شروع ہوا، وہ تین دن تک نہ رکا۔ پہلی رات کچن میں، کھانا بناتے بناتے خالہ نے مجھے اپنی طرف کھینچا، ان کی شلوار ٹخنوں تک گری، اور میں نے انہیں کچن کی سلیب سے لگا کر پیچھے سے چودا۔ ان کی چیخیں اب دبانے کی ضرورت نہ تھی، مگر عادت سے وہ اب بھی آواز دبا رہی تھیں، اور میں نے ان کا منہ چھوڑ دیا۔ "چلاؤ، کوئی نہیں سنے گا،" میں نے کہا۔

دوسری صبح ہم ایک ساتھ نہائے۔ شاور کے نیچے خالہ نے میرے جسم پر صابن لگایا، ان کے ہاتھ میرے لنڈ پر پھسل رہے تھے، اور پھر وہ دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئیں۔ میں نے ان کی ایک ٹانگ اٹھائی اور کھڑے کھڑے ان کی چوت میں اتر گیا۔ پانی ہم دونوں پر گر رہا تھا، ان کے بال بھیگ کر چہرے سے چپکے تھے، اور وہ زور زور سے کراہ رہی تھیں۔ "اور اندر، اور گہرا،" وہ بولیں، اور میں نے انہیں دیوار سے لگا کر اتنی زور سے چودا کہ شاور کی دیوار ہلنے لگی۔

دوسری دوپہر لاونج کے صوفے پر، اسی صوفے پر جہاں خالو سوئے تھے، خالہ میرے اوپر بیٹھیں اور سست رفتار سے ہلنے لگیں۔ دوپہر کی دھوپ کھڑکی سے آ رہی تھی، ان کے پسینے سے بھیگے جسم پر چمک رہی تھی۔ ہم نے باتیں کیں، ہنسیں، اور بیچ بیچ میں وہ جھک کر مجھے چومتیں۔ یہ چدائی جلدی والی نہ تھی، یہ تین دن کی آزادی کا جشن تھا۔ جب وہ جھڑیں تو انہوں نے میرا نام اتنی زور سے لیا کہ میں نے ان کے ہونٹ اپنے ہونٹوں سے بند کر دیے۔

تیسری اور آخری رات ہم نے جلدی نہیں کی۔ خالہ نے کمرے کی بتی بجھا دی، صرف لاونج کی ہلکی روشنی دروازے کی درز سے آ رہی تھی۔ وہ میرے پہلو میں لیٹیں، میرا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا، اور بولیں، "دانیال، یہ تین دن میری زندگی کے سب سے اچھے دن تھے۔" ان کی آواز میں نمی تھی۔ میں نے انہیں اپنی بانہوں میں بھینچا اور اس رات ہم نے محبت کی، چوری نہیں۔ دھیرے دھیرے، ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے، جیسے ہر لمحہ یاد میں بسا لینا چاہتے ہوں۔

اگلے دن میرا انٹرویو تھا۔ وہ اچھا ہوا، مگر میرا دھیان کہیں اور تھا۔ شام کو میں نے بیگ پیک کیا۔ خالو پورٹ سے واپس آ چکے تھے اور لاونج میں ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ خالہ مجھے دروازے تک چھوڑنے آئیں۔ انہوں نے مجھے گلے لگایا، لمبا، کسا ہوا، ایسا گلے لگانا جس میں الوداع بھی تھا اور وعدہ بھی۔

دروازے پر انہوں نے میرا ہاتھ دبایا اور دھیرے سے بولیں، "اگلی بار کراچی آؤ گے تو انٹرویو کا بہانہ نہیں چاہیے۔ اور یہ راز، یہ ہمارے ساتھ قبر تک جائے گا۔" میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھا اور سر ہلایا۔ ٹیکسی میں بیٹھ کر جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ دروازے میں کھڑی ہاتھ ہلا رہی تھیں۔

ٹیکسی ائیرپورٹ کی طرف بڑھ رہی تھی جب میرے فون پر خالہ کا پیغام آیا۔ "صوفے کے نیچے تمہاری قمیض کا ایک بٹن ملا ہے۔ سنبھال کر رکھا ہے۔ اگلی بار لینے آنا۔" میں نے فون سینے سے لگایا اور مسکرا دیا۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Married Cheating

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: لاہور میں دس دن

اردو دوست کی بیوی کی چدائی: 29 سالہ دانیال جب اپنے دوست کامران کی بیوی ماہ نور کی دیکھ بھال کے لیے آتا ہے، تو ایک سنی ہوئی فون کال دونوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔

Read Next Story

More stories by Salman Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو خالہ کی کہانی: پارٹ 2” also read

8 curated stories
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابی کی چدائی: راحت بھابی کا غلط وائس نوٹ

راحت بھابی نے شوہر خالد کے لیے بھیجا تھا وہ وائس نوٹ، مگر غلطی سے پہنچا کرایہ دار عادل کے فون پر۔ ڈیلیٹ کرانے آئی بھابی، اور ٹھہر گئی ساری رات۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی سیکس کہانی: لکھنؤ کی حویلی میں ممی

اردو مامی سیکس کہانی: داخلے کے کام سے لکھنؤ آیا عمران جب ممی کی پرانی حویلی میں ٹھہرتا ہے تو ایک اڑتے دوپٹے سے شروع ہونے والی شرارت کہاں جا پہنچتی ہے۔

⏱️ 10 min read•👁️ 2 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور کی بارش والی رات

اردو جیجا سالی سیکس کہانی: لاہور میں مون سون کی ایک بارش والی رات فہد اور اس کی سالی ماہ نور کے درمیان شروع ہونے والے راز کی کہانی۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں

اردو بھابھی سیکس کہانی: فرزانہ کی شامیں بیٹے کے ٹیوشن ٹیچر عمران کے آنے کے بعد بدل گئیں۔ خواہش اور جرات کے درمیان ایک خطرناک کھیل کی مکمل کہانی۔

⏱️ 20 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو جیجا سالی کہانی: جب آپا بازار گئیں

آپا بازار گئیں اور دیر سے آنے والی تھیں۔ کچن میں آٹا گوندھتے ہوئے شریر سالی حنا نے اپنے جیجا فہیم کو چھیڑنا شروع کیا۔ ایک اردو جیجا سالی کہانی جو کچن سے بیڈروم تک پہنچی۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو مامی کہانی: شادی والی رات

اردو مامی کہانی: لاہور سے شادی میں آئی فرح مامی اور فراز کے درمیان مہندی کی رات شروع ہونے والا ایک خفیہ رشتہ۔

⏱️ 15 min read•👁️ 1 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو دوست کی بیوی کہانی: لکھنؤ کی وہ شام

اردو دوست کی بیوی کہانی میں لکھنؤ کے پرانے شہر کے گھر میں عائشہ اور عمران کی ایک شام ایک نئی کہانی بن جاتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 0 views
Married Cheatingاردو (Urdu)

اردو سالی کی چدائی 2026: مہنور کی آدھی رات

آدھی رات کو اسٹڈی کا دروازہ کھلا اور مہنور اندر آ گئی۔ یہ اردو سالی کی چدائی 2026 کی وہ کہانی ہے جو ایک سرد رات میں شروع ہوئی۔

⏱️ 10 min read•👁️ 0 views