Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو گندی کہانی: غلط نمبر والی وہ رات

N
10 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

یہ اردو گندی کہانی ایک غلط نمبر سے شروع ہوئی تھی۔ رات کے ایک بجے فرح کے فون کی گھنٹی بجی تو وہ آدھی نیند میں تھی، کمبل میں دبی ہوئی۔ اس نے سوچا بھائی فیصل کا فون ہوگا جو ٹرک لے کر کانپور کی طرف نکلا تھا۔ اسکرین پر انجان نمبر دیکھ کر بھی اس نے فون کان سے لگا لیا۔

ہیلو، اس کی آواز نیند سے بھاری تھی۔ دوسری طرف ایک مرد کی آواز آئی، صاف اور گہری۔ جی کون، اس نے پوچھا۔ وہ ہنس پڑا۔ یہی تو میں پوچھنا چاہتا ہوں، آپ کون ہیں۔

فرح کی نیند اڑ گئی۔ معاف کیجیے گا، لگتا ہے غلط نمبر مل گیا۔ وہ فون رکھنے لگی تو وہ بولا۔ رکیے، اتنی جلدی کیا ہے۔ آدھی رات کو جاگنے والی لڑکی سے دو منٹ بات تو کر لینے دیں۔ اس کے لہجے میں ایسی شرارت تھی کہ فرح کے ہونٹوں پر بے اختیار ہنسی آ گئی۔

میں فرح ہوں، لکھنؤ سے۔ اور آپ۔ دانش، کانپور روڈ پر ڈیلیوری وین چلاتا ہوں، ابھی ڈھابے پر چائے پی رہا تھا۔ آپ اپنے بھائی کو فون کرنے چلی تھیں۔ ہاں، ایک ہندسہ غلط دب گیا۔ تو غلطی اچھی ہوئی، اس نے کہا۔ ورنہ یہ چائے اکیلے پینی پڑتی۔

وہ دو منٹ بات کر کے سو گئی، مگر نیند میں بھی وہ آواز گونجتی رہی۔ اگلی رات ٹھیک ایک بجے فون پھر بجا۔ اسی نمبر سے۔ فرح نے مسکرا کر فون اٹھایا۔ آپ کو میرا نمبر یاد رہ گیا۔ دانش ہنسا۔ کچھ نمبر دل پر لکھ جاتے ہیں، ڈائری میں نہیں۔

تیسری رات بات آدھے گھنٹے چلی۔ چوتھی رات ایک گھنٹہ۔ فرح دن میں گھر کے نیچے والی بوتیک میں گاہکوں کے کپڑے ناپتی، مگر دماغ میں رات کے ایک بجے کا انتظار رہتا۔ امی پوچھتیں، آج کل تو بڑی خوش رہتی ہے۔ وہ ہنس کر ٹال دیتی۔

ایک رات دانش نے دھیمی آواز میں کہا، آج تمہاری آواز کچھ اور ہی لگ رہی ہے۔ فرح کمبل میں دبی تھی، نائٹی کی ڈوری کھلی ہوئی۔ کیسی لگ رہی ہے۔ ایسی، جیسے تم کچھ چھپا رہی ہو۔ اس نے سچ بول دیا۔ میں نے ابھی تمہیں سوچا تھا۔

فون پر ایک پل خاموشی چھا گئی۔ پھر دانش کی آواز آئی، پہلے سے گہری۔ کیا سوچا تھا۔ فرح کا ہاتھ اس کی اپنی ران پر سرک گیا۔ یہی کہ تم یہاں ہوتے تو کیا ہوتا۔ تو آنکھیں بند کرو، اس نے کہا۔ اور سوچو کہ میں وہیں ہوں۔

اس رات فون پر ہی سب کچھ ہوا۔ دانش کی آواز اس کے کان میں اتر رہی تھی، گندی اور میٹھی۔ وہ اسے بتاتا رہا کہ وہ اس کے ساتھ کیا کیا کرتا۔ فرح کی انگلیاں اس کی اپنی چوت میں اتری ہوئی تھیں، گیلی اور بے تاب۔ بولو، کیا کر رہی ہو، اس نے پوچھا۔ تمہارا نام لے کر خود کو چھو رہی ہوں، وہ ہانپی۔

میں بھی، دانش نے کہا۔ اس کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔ میں بھی تمہیں سوچ کر اپنا لنڈ ہلا رہا ہوں۔ یہ سن کر فرح کے جسم میں بجلی دوڑ گئی۔ وہ چیخی نہیں، بس اس کا نام دہرائے گئی۔ دانش، دانش۔ اور پھر وہ جھڑ گئی، فون اس کے کان سے پھسل کر تکیے پر گرا۔

اگلی رات فرح نے پہلے فون کیا۔ یہ تو الٹا ہو گیا، دانش ہنسا۔ اب تم مجھے جگاؤ گی۔ ہاں، اس نے کہا۔ اور آج میں صرف سنوں گی نہیں، بولو گی بھی۔ اس رات اس نے اسے بتایا کہ وہ اس کے لنڈ کو کیسے چوسے گی۔ دانش کی سسکاریاں فون میں گونجتی رہیں۔

ایک ہفتہ ایسے ہی گزرا۔ رات کے ایک بجے سے تین بجے تک وہ دونوں فون پر ایک دوسرے کو ننگا کرتے۔ فرح نے جان لیا تھا کہ دانش اٹھائیس سال کا ہے، غیر شادی شدہ، اور اس کی آواز سے بھی زیادہ اس کی باتیں گندی ہیں۔ دانش نے جان لیا تھا کہ فرح چھببیس سال کی ہے، بوتیک چلاتی ہے، اور شرماتے ہوئے بھی بے شرم ہو سکتی ہے۔

پھر ایک رات فرح نے کہا، فون پر تو تم بہت بہادر ہو۔ سامنے آؤ تو دیکھوں۔ دانش ایک پل چپ رہا۔ پھر بولا۔ کل دوپہر، کانپور روڈ والا ڈھابہ، کمرہ نمبر چار۔ میں انتظار کروں گا۔ فرح کا دل زور سے دھڑکا۔ وہ ساری رات سو نہ سکی۔

دوپہر کے دو بجے فرح ڈھابے پہنچی۔ سفید سوٹ، دوپٹہ سینے پر کس کے لپیٹا ہوا۔ کمرہ نمبر چار کا دروازہ آدھا کھلا تھا۔ دانش چارپائی پر بیٹھا تھا، نیلی شرٹ میں، بال بکھرے ہوئے۔ اسے دیکھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کی آنکھوں میں وہی شرارت تھی جو آواز میں ہوتی تھی۔

تم آواز سے زیادہ خوبصورت ہو، اس نے کہا۔ فرح نے حیران ہو کر پوچھا۔ تم نے مجھے دیکھا کب۔ جو تصویر میں نے راتوں میں تمہاری آواز سے بنائی ہے، اس سے۔ وہ ہنس پڑی، اور اسی ہنسی میں ساری گھبراہٹ بہہ گئی۔

دانش نے اس کا ہاتھ پکڑا، انگلیوں میں انگلیاں ڈالیں۔ اس کی ہتھیلی گرم تھی، ڈرائیور کے ہاتھ، مضبوط اور کھردرے۔ فرح اس کے اتنے قریب تھی کہ اس کے پسینے اور ڈیزل کی ملی جلی مردانہ خوشبو آ رہی تھی۔ پھر اس نے اس کے گال کو چھوا، اور فرح نے آنکھیں بند کر لیں۔

پہلا بوسہ دھیما تھا، صرف ہونٹوں کا چھونا۔ دوسرا گہرا، زبان کا کھیل۔ فرح کی کمر میں اس کے ہاتھ دباؤ ڈالنے لگے۔ وہ اس سے لپٹ گئی، اس کا سینہ اس کے سینے سے لگ گیا۔ کمرے میں پرانے پنکھے کی گھرگھراہٹ کے سوا کچھ سنائی نہ دے رہا تھا۔

دانش نے اس کے سوٹ کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے۔ فرح نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولے، اس کا سینہ چوڑا اور گرم تھا۔ دوپٹہ فرش پر گرا، پھر سوٹ، پھر اس کی بنیان۔ وہ صرف شلوار میں رہ گئی، اور وہ صرف پتلون میں۔ دونوں کی سانسیں تیز تھیں۔

اس نے اسے چارپائی پر لٹایا۔ تمہارے دودھ تو فون پر بتائے سے بھی بڑے ہیں، وہ ہنسا۔ فرح نے اس کا سر اپنے سینے پر دبا لیا۔ چپ کرو اور پیو۔ اس نے اس کے نپل کو منہ میں لیا، چوسا، ہلکے سے کاٹا۔ فرح کی کمر چارپائی سے اٹھنے لگی۔ اس کی چوت میں پانی اتر آیا۔

فرح نے اس کی پتلون کا بٹن کھولا۔ اس کا لنڈ تنا ہوا باہر نکلا، موٹا اور گرم، رگیں ابھری ہوئی۔ اس نے اسے ہاتھ میں لیا، پہلے دھیرے دھیرے ہلایا، پھر منہ میں لے لیا۔ دانش کے منہ سے سسکاری نکلی۔ آہ فرح، ایسے ہی۔ وہ اسے گہرائی تک لے گئی، زبان سے اس کی نوک کو چھیڑتی رہی۔

دانش نے اسے پلٹا، اس کی شلوار اتاری۔ اس کی چوت گیلی اور پھولی ہوئی تھی، ہونٹ کھلے ہوئے۔ اس نے اپنی زبان وہاں رکھی، اور فرح چیخ پڑی۔ وہ اسے چاٹتا رہا، اندر زبان ڈالتا، اس کے دانے کو چوستا۔ فرح کی ٹانگیں کانپنے لگیں، اس نے اس کے بال نوچ لیے۔ میں جھڑنے والی ہوں، وہ چلائی۔

مگر دانش رکا نہیں۔ اس نے اسے الٹا کیا، اس پر چڑھ آیا۔ اس نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا، رگڑا۔ اندر ڈالو، فرح نے اس کی کمر کو ناخنوں سے کھروچا۔ وہ دھیرے دھیرے اندر اترا، اور فرح کی سانس رک گئی۔ اتنا بھرا ہوا لگا کہ وہ کراہے بغیر نہ رہ سکی۔

وہ دھکے لگانے لگا، پہلے دھیمے، پھر تیز۔ چارپائی چرچرانے لگی۔ فرح کی چوت اس کے لنڈ کو کس کر پکڑے تھی، ہر دھکے پر اور پانی نکلتا۔ اس نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں، اور گہرائی بڑھ گئی۔ فرح کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مزے کے۔

پھر اس نے اسے گھوڑی بنایا۔ فرح چارپائی پر گھٹنوں کے بل جھکی، کمر نیچی کیے۔ دانش پیچھے سے اس میں اترا، اس کے کولہوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر۔ اس پوز میں وہ بہت اندر تک جا رہا تھا۔ فرح کے منہ سے گندی باتیں نکلنے لگیں، اور دانش اور زور سے دھکے لگانے لگا۔

دونوں کا پسینہ ایک ہو گیا۔ فرح کی چوت سکڑنے لگی، اس کا جسم اکڑا۔ میں جھڑ رہی ہوں دانش، وہ چلائی۔ اسی لمحے دانش نے بھی اپنا گرم پانی اس کے اندر چھوڑ دیا۔ وہ اس پر گرا، دونوں ہانپ رہے تھے، چارپائی کی چادر گیلی ہو چکی تھی۔

آدھے گھنٹے بعد وہ کمرے کے دروازے پر بیٹھے ڈھابے کی چائے پی رہے تھے۔ تمہاری چائے ٹھنڈی ہو گئی، دانش نے کہا۔ فرح نے اس کے ہونٹ چوم لیے۔ اب گرم کر لو۔ وہ ہنسا، اور اس کی ہنسی میں وہی آواز تھی جو رات کے ایک بجے فون پر آتی تھی۔

چائے کے بعد فرح نے اسے چارپائی پر دھکیلا۔ اب میری باری۔ وہ اس پر سوار ہوئی، اس کا لنڈ اپنی چوت میں لے کر۔ وہ اوپر نیچے ہونے لگی، پہلے دھیرے، پھر تیز۔ اس کے دودھ اس کے چہرے کے سامنے اچھل رہے تھے، دانش نے انہیں منہ میں لے لیا، باری باری چوسا۔

فرح نے رفتار بڑھائی، اس کے کولہے گول گھومنے لگے۔ دانش نے نیچے سے دھکے لگائے، اس کی کمر پکڑ کر۔ دونوں کی سسکاریاں کمرے میں گونجنے لگیں۔ اس بار فرح پہلے جھڑی، چیخ کے ساتھ اس کا جسم لرزا۔ دانش نے اسے کس کر پکڑے رکھا، اور خود بھی اسی لمحے چھوٹ گیا۔

شام کے سائے لمبے ہو رہے تھے۔ فرح نے کپڑے پہنے، دوپٹہ ٹھیک کیا، بال سنوارے۔ دانش نے اس کا ہاتھ پکڑا، جانے کو دل نہیں کر رہا تھا۔ کل رات ایک بجے، اس نے پوچھا۔ وہ مسکرائی۔ ایک بجے۔ اور یہ نمبر، اس نے فون نکالا۔

اس نے اس کا نمبر سیو کیا۔ نام کی جگہ اس نے لکھا، غلط نمبر۔ دانش نے پڑھ کر ہنس دیا۔ اب تو یہ نمبر سب سے صحیح ہے۔ فرح نے اس کے گال پر ایک بوسہ دیا، اور ڈھابے سے نکل گئی۔ رکشے میں بیٹھے اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔

گھر لوٹ کر اس نے سوچا، کچھ غلطیاں اتنی صحیح ہوتی ہیں کہ انہیں دہرانے کو دل چاہتا ہے۔ امی نے پوچھا، اتنی دیر کہاں لگ گئی۔ بوتیک میں گاہک زیادہ تھے، اس نے جھوٹ بولا، اور اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر لیا۔

رات کے ایک بجے فون بجا۔ اسکرین پر لکھا تھا، غلط نمبر کالنگ۔ اس نے ہنس کر فون اٹھایا۔ بولو دانش، آج کون سی گندی بات کرو گے۔ دوسری طرف سے وہی گہری ہنسی آئی۔ وہ والی، جو تمہیں پھر سے جھڑا دے۔ فرح نے کمبل اوڑھ لیا، اور رات شروع ہو گئی۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو گندی کہانی: غلط نمبر والی وہ رات” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views