Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو سیکس کہانی: شبانہ اور فاراز کی ممنوعہ خواہش (حصہ 1)

A
16 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

یہ اردو سیکس کہانی اس رات سے شروع ہوتی ہے جب فاراز شبانہ کے کمرے میں پنکھا ٹھیک کرنے آیا تھا۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے، اور سیڑھی پر چڑھے فاراز کی قمیض ذرا اوپر سرک گئی تھی۔ شبانہ سیڑھی پکڑے کھڑی تھی، اور اس کی انگلیاں انجانے میں اس کی پنڈلی سے ٹکرا گئیں۔

فاراز نے نیچے دیکھا اور مسکرا دیا۔ اس کی مسکراہٹ میں وہ شرارت تھی جو شبانہ نے پہلے کبھی اس کے چہرے پر نہیں دیکھی تھی۔ "بھابھی، سیڑھی مضبوط پکڑیے گا،" اس نے کہا، اور اس کی آواز میں ایک عجیب سی گرمی تھی۔ شبانہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔

شبانہ چونتیس سال کی تھی۔ دو سال پہلے اس کے شوہر کامران کا ایک سڑک حادثے میں انتقال ہو گیا تھا۔ تب سے وہ لکھنؤ کی اس پرانی حویلی میں اپنی ساس رضیہ بیگم کے ساتھ رہ رہی تھی۔ زندگی جیسے رک سی گئی تھی، کمرے کی دیواریں، صحن کی خاموشی، اور راتوں کا سناٹا اس کا ساتھی بن گیا تھا۔

فاراز کامران کا چھوٹا بھائی تھا، ستائیس سال کا۔ تین ہفتے پہلے وہ دبئی سے واپس آیا تھا، جہاں وہ پانچ سال سے ایک موبائل کی دکان پر کام کرتا تھا۔ دبئی کی دھوپ نے اس کے چہرے کو سنہرا کر دیا تھا، اور اس کے کندھے چوڑے ہو گئے تھے۔ وہ اب وہ لڑکا نہیں رہا تھا جو کبھی بھابھی کے پیچھے چھپتا تھا۔

"ہو گیا بھابھی،" فاراز سیڑھی سے اترا اور پنکھے کا سوئچ دبایا۔ پنکھا گھومنے لگا، ٹھنڈی ہوا کمرے میں پھیل گئی۔ اس کی قمیض پسینے سے اس کے سینے سے چپکی ہوئی تھی، اور شبانہ کی نظریں بے اختیار وہیں ٹھہر گئیں۔ اس نے فوراً نظریں ہٹا لیں، لیکن فاراز نے دیکھ لیا تھا۔

"شکریہ فاراز،" شبانہ نے دھیمی آواز میں کہا۔ "امی جان سو رہی ہیں، آہستہ بولیے۔"

"آپ بھی تو جاگ رہی ہیں بھابھی،" فاراز نے اس کے قریب آ کر کہا۔ وہ اتنا قریب تھا کہ شبانہ کو اس کے جسم کی گرمی محسوس ہو رہی تھی۔ "نیند نہیں آتی؟"

شبانہ نے جواب نہیں دیا۔ اس کے گال گرم ہو رہے تھے۔ اس نے دروازے کی طرف اشارہ کیا، اور فاراز مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔ لیکن جاتے جاتے اس نے پلٹ کر دیکھا، اور اس نظر میں کچھ ایسا تھا کہ شبانہ ساری رات سو نہ سکی۔

اگلی صبح صحن میں رضیہ بیگم چارپائی پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ شبانہ چائے بنا کر لائی تو فاراز بھی آ گیا، بال بکھرے، آنکھوں میں نیند۔ اس نے شبانہ کے ہاتھ سے چائے کا کپ لیا، اور لیتے وقت اس کی انگلیاں جان بوجھ کر شبانہ کی انگلیوں سے ٹکرائیں۔

"بھابھی کی چائے میں تو جادو ہے،" فاراز نے چسکی لے کر کہا۔ رضیہ بیگم نے مسکرا کر سر ہلایا۔ "دبئی میں ایسی چائے کہاں ملتی ہے۔"

شبانہ نے نظریں جھکا لیں۔ اسے لگا جیسے فاراز کی نظریں اس کے چہرے کو چھو رہی ہیں۔ اس نے دوپٹہ سنوارا اور باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔ لیکن اس کے کانوں میں فاراز کی آواز گونج رہی تھی۔

دوپہر کو موٹر خراب ہو گئی۔ رضیہ بیگم نے فاراز کو آواز دی، اور وہ اوزار لے کر صحن میں آ گیا۔ شبانہ بالٹی لے کر کھڑی تھی۔ فاراز جھک کر موٹر کھول رہا تھا، اور اس کی بانہوں کے پٹھے تن رہے تھے۔ شبانہ پانی ڈال رہی تھی، اور پانی کی چھینٹیں فاراز کے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔

"بس بھابھی، اور ڈالیے،" فاراز نے کہا۔ شبانہ نے بالٹی جھکائی، اور پانی کی دھار اس کے ہاتھوں پر بہنے لگی۔ فاراز نے اچانک اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "دیکھیے، یہاں سے لیک ہو رہا ہے۔"

اس کا ہاتھ شبانہ کے ہاتھ پر تھا، گرم اور مضبوط۔ شبانہ نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش نہیں کی۔ چند لمحے یوں ہی گزر گئے، پانی بہتا رہا، اور دونوں کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔ پھر رضیہ بیگم کی کھانسی سنائی دی، اور دونوں چونک کر الگ ہو گئے۔

شام کو شبانہ چھت پر کپڑے سکھانے گئی۔ اکتوبر کی شام تھی، ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک۔ وہ کپڑے پھیلا رہی تھی کہ سیڑھیوں پر قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ فاراز تھا، دو کپ چائے لیے۔

"میں نے سوچا آپ یہیں ہوں گی،" اس نے ایک کپ بڑھایا۔ شبانہ نے کپ لیا۔ چھت پر صرف وہ دونوں تھے، نیچے گلی میں بچوں کے کھیلنے کی آوازیں آ رہی تھیں، اور دور کہیں اذان کی آواز۔

"دبئی میں کیا کرتے تھے؟" شبانہ نے پوچھا، صرف خاموشی توڑنے کے لیے۔

"دکان پر کام، اور رات کو آپ کی یاد،" فاراز نے شرارت سے کہا۔ پھر فوراً سنجیدہ ہو گیا۔ "مطلب، گھر کی یاد۔ امی کی، بھائی کی۔"

کامران کا ذکر آتے ہی شبانہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ فاراز نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "روئیے مت بھابھی۔ بھائی چاہتے تھے کہ آپ خوش رہیں۔"

شبانہ نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، اور فاراز کی آنکھوں میں کچھ اور۔ اس نے آہستہ سے اس کے آنسو پونچھے، اور اس کا انگوٹھا اس کے گال پر ٹھہر گیا۔ شبانہ نے آنکھیں بند کر لیں۔

فاراز نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ شبانہ کانپ گئی۔ "فاراز، یہ غلط ہے،" وہ بولی، لیکن اس کی آواز میں کوئی زور نہیں تھا۔

"کیا غلط ہے بھابھی؟" فاراز نے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی۔ "آپ بھی تو یہی چاہتی ہیں۔ میں نے آپ کی آنکھوں میں دیکھا ہے۔"

شبانہ نے اسے دھکا دینے کی کوشش کی، لیکن فاراز نے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ اس کے ہونٹ شبانہ کی گردن پر تھے، نرم اور گرم۔ شبانہ کے جسم میں ایک لہر دوڑ گئی، ایسی لہر جو اس نے دو سال سے محسوس نہیں کی تھی۔

"کوئی دیکھ لے گا،" شبانہ نے ہانپتے ہوئے کہا۔

"کوئی نہیں دیکھے گا،" فاراز نے اس کی کمر کو سہلاتے ہوئے کہا۔ اس کے ہاتھ شبانہ کے کرتے کے اوپر سے اس کے جسم کو محسوس کر رہے تھے۔ شبانہ نے اس کی قمیض کو مٹھی میں بھینچ لیا۔

اچانک نیچے سے رضیہ بیگم کی آواز آئی۔ "شبانہ! چائے بن گئی؟" دونوں چونک کر الگ ہو گئے۔ شبانہ کی سانس پھولی ہوئی تھی، اور اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔

"آ رہی ہوں امی جان!" اس نے جواب دیا، اور کپڑوں کی ٹوکری اٹھا کر سیڑھیاں اتر گئی۔ فاراز چھت پر کھڑا مسکراتا رہا۔ اسے پتا تھا کہ آگ لگ چکی ہے، اب صرف ہوا کا انتظار تھا۔

رات کو کھانے کے بعد رضیہ بیگم اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ شبانہ برتن دھو رہی تھی کہ فاراز باورچی خانے میں آیا۔ اس نے پیچھے سے اس کے کان کے پاس کہا، "چھت والی بات بھول گئیے؟"

شبانہ کے ہاتھ سے پلیٹ چھوٹتے چھوٹتے بچی۔ "فاراز، خدا کے لیے، امی جان جاگ رہی ہیں۔"

"امی سو چکی ہیں،" فاراز نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھا۔ "اور آپ جاگ رہی ہیں۔ میں بھی جاگ رہا ہوں۔"

شبانہ نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی شرارت تھی۔ "تم بہت بے شرم ہو گئے ہو دبئی جا کر۔"

"بے شرم نہیں، سچا ہو گیا ہوں،" فاراز نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے سینے پر رکھا۔ اس کا دل دھڑک رہا تھا۔ "محسوس کیجیے، یہ آپ کے لیے دھڑکتا ہے۔"

شبانہ نے ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی، لیکن فاراز کی گرفت مضبوط تھی۔ اس نے شبانہ کو اپنی طرف کھینچا، اور اس کے ہونٹ شبانہ کے ہونٹوں سے ٹکرا گئے۔ پہلے تو شبانہ نے مزاحمت کی، پھر اس کے ہونٹ خود بخود کھل گئے۔

یہ بوسہ ایسا تھا جیسے دو سال کی پیاس ایک لمحے میں بجھ رہی ہو۔ فاراز کی زبان شبانہ کے منہ میں تھی، اور اس کے ہاتھ اس کی پیٹھ پر گھوم رہے تھے۔ شبانہ کی انگلیاں اس کے بالوں میں دھنس گئیں۔

"بھابھی،" فاراز نے بوسہ توڑ کر ہانپتے ہوئے کہا۔ "آپ کے کمرے میں چلوں؟ پنکھا پھر آواز کر رہا ہے، دیکھنا پڑے گا۔"

شبانہ سمجھ گئی کہ یہ صرف بہانہ ہے۔ لیکن اس نے سر ہلا دیا۔ اس کے قدم خود بخود اس کے کمرے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ فاراز اس کے پیچھے آیا، اور اس نے آہستہ سے دروازہ بند کر دیا۔ کنڈی نہیں لگائی، صرف بند کیا۔

کمرے میں صرف بلب کی پیلی روشنی تھی۔ پنکھا گھوم رہا تھا۔ فاراز نے شبانہ کو دیوار سے لگا دیا اور پھر سے اس کے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑا۔ اس بار بوسہ اور بھی گہرا تھا، اور اس کے ہاتھ شبانہ کے کرتے کے بٹن کھولنے لگے۔

"رکو،" شبانہ نے اس کے ہاتھ پکڑے۔ "اگر امی جان آ گئیں تو؟"

"نہیں آئیں گی،" فاراز نے اس کی گردن پر بوسے دیتے ہوئے کہا۔ "اور اگر آ بھی گئیں تو میں کہہ دوں گا پنکھا دیکھنے آیا تھا۔"

شبانہ ہنس پڑی، اور اس ہنسی میں دو سال بعد پہلی بار زندگی تھی۔ فاراز نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور اس کا کرتا اتار دیا۔ شبانہ صرف قمیض میں تھی، اور اس کی چھاتیاں تیز تیز سانسوں سے اوپر نیچے ہو رہی تھیں۔

فاراز کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے شبانہ کو بانہوں میں اٹھایا اور بستر پر لٹا دیا۔ وہ اس کے اوپر جھکا، اور اس کے ہونٹ اس کی گردن سے ہوتے ہوئے اس کے سینے تک پہنچے۔ اس نے قمیض کے اوپر سے ہی اس کے مموں کو چوما، اور شبانہ کے منہ سے ایک سسکی نکل گئی۔

"آہستہ،" شبانہ نے اس کے بال کھینچے۔ "کوئی سن لے گا۔"

فاراز نے اس کی قمیض اوپر سرکائی اور اس کے ننگے پیٹ پر بوسے دینے لگا۔ اس کی زبان اس کی ناف کے گرد گھوم رہی تھی۔ شبانہ بستر کی چادر کو مٹھی میں بھینچے ہوئے تھی، اس کا جسم کمان کی طرح تن گیا تھا۔

پھر فاراز نے اس کی شلوار کا ناڑا کھولا۔ شبانہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "فاراز، یہاں تک؟"

"بس دیکھیے تو،" فاراز نے شرارت سے کہا، اور ناڑا کھول دیا۔ شلوار نیچے سرک گئی۔ شبانہ کی چوت اس کے سامنے تھی، گیلی اور پھولی ہوئی۔ دو سال کی پیاس اس کی آنکھوں میں صاف نظر آ رہی تھی۔

فاراز نے اپنی انگلی اس کی چوت پر رکھی اور آہستہ سے سہلایا۔ شبانہ کا جسم جھٹکے کھانے لگا۔ "اوہ،" اس کے منہ سے نکلا۔ فاراز نے انگلی اندر ڈالی، اور شبانہ نے اس کی کلائی پکڑ لی۔

"اور، اور کرو،" شبانہ نے بے اختیار کہا۔ اسے خود حیرت ہوئی کہ یہ آواز اس کے منہ سے نکلی ہے۔ فاراز مسکرایا اور دوسری انگلی بھی ڈال دی۔ اس کی انگلیاں اندر باہر ہو رہی تھیں، اور شبانہ کی چوت سے پانی بہنے لگا تھا۔

فاراز جھکا اور اس کی چوت کو چوم لیا۔ شبانہ چیخ پڑتی، لیکن اس نے تکیہ منہ میں دبا لیا۔ فاراز کی زبان اس کے دانے پر تھی، گھوم رہی تھی، چاٹ رہی تھی۔ شبانہ کا جسم کانپ رہا تھا، اس کی ٹانگیں فاراز کے کندھوں پر تھیں۔

"میں، میں جھڑنے والی ہوں،" شبانہ نے ہانپتے ہوئے کہا۔ فاراز نے زبان کی رفتار بڑھا دی، اور اچانک شبانہ کا جسم اکڑ گیا۔ ایک زوردار لہر اس کے جسم میں دوڑی، اور وہ جھڑ گئی۔ اس کی چوت سے پانی نکلا، اور فاراز نے سب چاٹ لیا۔

شبانہ بے سدھ پڑی تھی۔ فاراز نے اپنی قمیض اتاری۔ اس کا سینہ چوڑا تھا، پسینے سے چمک رہا تھا۔ اس نے اپنی شلوار بھی اتار دی، اور اس کا لنڈ باہر نکل آیا، تنا ہوا، لمبا اور موٹا۔ شبانہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔

"ڈرو مت بھابھی،" فاراز نے اس کے پاس لیٹتے ہوئے کہا۔ "یہ آپ کا ہے۔"

شبانہ نے کانپتے ہاتھوں سے اس کے لنڈ کو پکڑا۔ وہ گرم تھا، اور اس کی رگیں پھڑک رہی تھیں۔ اس نے آہستہ سے اسے سہلایا، اور فاراز کے منہ سے سسکی نکلی۔ "ہاں، ایسے ہی۔"

شبانہ نے ہمت کر کے اسے منہ میں لے لیا۔ پہلے صرف سرا، پھر آہستہ آہستہ اور اندر۔ فاراز نے اس کے بال پکڑے اور اس کا سر اوپر نیچے کرنے لگا۔ شبانہ کی زبان اس کے لنڈ کے گرد گھوم رہی تھی، اور فاراز کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔

"بس بھابھی، بس،" فاراز نے اسے اٹھایا۔ "ابھی نہیں جھڑنا مجھے۔ ابھی تو اصل کام باقی ہے۔" اس نے شبانہ کو بستر پر لٹایا اور اس کی ٹانگیں کھول دیں۔ وہ اس کے اوپر آیا، اور اس کا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر تھا۔

شبانہ کی آنکھوں میں خوف اور چاہت دونوں تھے۔ "آہستہ کرنا، بہت دن ہو گئے۔"

"فکر نہ کریں،" فاراز نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا، اور آہستہ سے دھکا دیا۔ اس کا سرا اندر گیا۔ شبانہ نے اس کی پیٹھ کو ناخنوں سے کھروچا۔ "اوہ، فاراز۔"

فاراز نے ایک اور دھکا دیا، اور آدھا لنڈ اندر چلا گیا۔ شبانہ کی چوت تنگ تھی، اور اسے ہلکا سا درد ہو رہا تھا، لیکن اس درد میں بھی مزہ تھا۔ فاراز رکا، اسے سنبھلنے دیا، پھر پورا اندر ڈال دیا۔

شبانہ نے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ "ہاں،" وہ بولی۔ "اور کرو۔"

فاراز نے دھکے لگانے شروع کیے۔ پہلے آہستہ، پھر تیز۔ بستر چرچرانے لگا۔ شبانہ نے اس کی رفتار سے رفتار ملائی، اس کی کمر اوپر اٹھ رہی تھی۔ اس کی چوت فاراز کے لنڈ کو جکڑ رہی تھی، اور ہر دھکے کے ساتھ اس کے منہ سے سسکیاں نکل رہی تھیں۔

"بھابھی، آپ کتنی گرم ہیں،" فاراز نے ہانپتے ہوئے کہا۔ "دبئی میں میں نے آپ کو بہت یاد کیا۔ راتوں کو آپ کا خیال آتا تھا۔"

"جھوٹے،" شبانہ نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا۔ "تب تو میں تمہاری بھابھی تھی۔"

"تب بھی آپ شبانہ تھیں،" فاراز نے ایک زوردار دھکا دیا۔ "اور اب بھی۔"

شبانہ کی چوت سے پانی بہہ رہا تھا، اور دھکوں کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔ فاراز نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں، اور اب اس کا لنڈ اور بھی گہرائی تک جا رہا تھا۔ شبانہ کی آنکھیں الٹ رہی تھیں۔

"میں پھر جھڑنے والی ہوں،" شبانہ چیخی، اور تکیہ منہ میں دبا لیا۔ فاراز نے رفتار اور بڑھا دی۔ چند زوردار دھکوں کے بعد شبانہ کا جسم اکڑ گیا، اور وہ دوسری بار جھڑ گئی۔ اس کی چوت نے فاراز کے لنڈ کو نچوڑا۔

فاراز نے لنڈ باہر نکالا۔ "اب آپ اوپر آئیے،" اس نے کہا۔ شبانہ اس کے اوپر بیٹھ گئی۔ اس نے لنڈ کو اپنی چوت پر رکھا اور آہستہ سے بیٹھ گئی۔ پورا لنڈ اندر چلا گیا۔

شبانہ نے اوپر نیچے ہونا شروع کیا۔ اس کے ممے اچھل رہے تھے، اور فاراز نے انہیں ہاتھوں میں لے لیا۔ اس نے ان کے نپل چوسے، اور شبانہ کی رفتار بڑھ گئی۔ وہ فاراز کے سینے پر ہاتھ رکھے اچھل رہی تھی، اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔

"آہ، فاراز، آہ،" شبانہ کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔ فاراز نے اس کی کمر پکڑی اور نیچے سے دھکے لگانے لگا۔ دونوں کی تال مل گئی تھی، جیسے برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔

پھر فاراز نے اسے پلٹا اور کتے والی حالت میں کر دیا۔ شبانہ بستر پر گھٹنوں کے بل تھی، اور فاراز پیچھے سے اس میں گھسا۔ اس نے اس کے بال پکڑے اور دھکے لگانے لگا۔ شبانہ کی چوت سے پانی ٹپک رہا تھا۔

"بتائیے بھابھی، کیسا لگ رہا ہے؟" فاراز نے اس کے کان میں کہا۔

"بہت، بہت اچھا،" شبانہ نے ہانپتے ہوئے کہا۔ "رکو مت، بس کرتے رہو۔"

فاراز کی رفتار بڑھتی گئی۔ شبانہ تیسری بار جھڑنے کے قریب تھی۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا، اس کی ٹانگیں شل ہو رہی تھیں۔ "فاراز، میں، میں۔"

اور تبھی صحن سے آواز آئی۔ "شبانہ! شبانہ بیٹی!"

دونوں کے جسم جیسے برف ہو گئے۔ رضیہ بیگم کی آواز تھی، اور وہ شبانہ کے کمرے کی طرف آ رہی تھیں۔ قدموں کی آہٹ قریب آ رہی تھی۔

فاراز نے فوراً لنڈ باہر نکالا اور بستر سے کودا۔ "کپڑے!" اس نے سرگوشی کی۔ شبانہ نے جلدی سے شلوار اٹھائی۔ فاراز نے اپنی قمیض پکڑی اور الماری کے پیچھے دبک گیا۔ شبانہ نے کرتا پہنا اور بال سنوارے۔ اس کا دل اتنے زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے لگا امی جان سن لیں گی۔

دروازہ کھلا۔ رضیہ بیگم اندر آئیں۔ ان کی نظر بستر پر پڑی، جو بری طرح بکھرا ہوا تھا۔ پھر انہوں نے شبانہ کو دیکھا، جس کا چہرہ سرخ تھا اور سانس پھولی ہوئی تھی۔

"بیٹی، تم ٹھیک ہو؟" رضیہ بیگم نے پوچھا۔ ان کی آنکھوں میں شک تھا۔ "یہ بستر کیوں بکھرا ہے؟ اور یہ آوازیں کیسی آ رہی تھیں؟"

شبانہ کی زبان سوکھ گئی۔ الماری کے پیچھے فاراز سانس روکے کھڑا تھا۔ رضیہ بیگم کی نظریں کمرے میں گھوم رہی تھیں۔

"امی جان، وہ، پنکھا،" شبانہ نے ہکلاتے ہوئے کہا۔ "پنکھا آواز کر رہا تھا، فاراز دیکھنے آیا تھا۔ بستر، بستر پر چڑھ کر دیکھا اس نے۔"

رضیہ بیگم نے الماری کی طرف دیکھا۔ شبانہ کی سانس رک گئی۔ کیا امی جان نے فاراز کی قمیض کا کونا دیکھ لیا تھا؟ کیا انہیں کچھ شک ہو گیا تھا؟

رضیہ بیگم نے ایک قدم الماری کی طرف بڑھایا۔

اگلا حصہ جلد آ رہا ہے۔۔۔

📖 The story continues

اردو سیکس کہانی: شبانہ اور فاراز کی ممنوعہ خواہش (حصہ 2)

Continue to Part 2 →
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Ahmed Khan

View all →

Readers who enjoyed “اردو سیکس کہانی: شبانہ اور فاراز کی ممنوعہ خواہش (حصہ 1)” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views