Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو گرم کہانی فری: لکھنؤ کے پارلر والی رات

N
9 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

یہ اردو گرم کہانی فری لکھنؤ کے امین آباد والے ایک بیوٹی پارلر سے شروع ہوتی ہے، جہاں شبانہ نام کی مالکن روز صبح دس بجے شٹر اٹھاتی تھی اور رات نو بجے تک دلہنوں کے بالوں اور چہروں میں مصروف رہتی تھی۔ اس رات وہ گھر نہیں گئی تھی، کیونکہ اگلے دن تین دلہنوں کی بکنگ تھی اور پارلر میں سامان بکھرا پڑا تھا۔ اس نے سوچا کہ آدھا گھنٹہ رک کر سامان سمیٹ لے گی، پھر گھر چلی جائے گی۔ مگر اس کے نئے مددگار عمران نے کہا کہ وہ رک کر اس کی مدد کر دے گا، اور یہی وہ جملہ تھا جس نے اس رات کی کہانی بدل دی۔

شبانہ کی عمر تینتیس سال تھی اور وہ دو سال سے طلاق کے بعد اکیلی رہ رہی تھی۔ اس کا پارلر چھوٹا تھا مگر مشہور تھا، کیونکہ وہ دلہنوں کو ایسا سجاتی تھی کہ لوگ تعریف کیے بغیر نہیں رہتے تھے۔ عمران چھبیس سال کا تھا، لمبا، گندمی رنگ، مضبوط بازو، اور کام میں اتنا پھرتیلا کہ ایک ہفتے میں ہی اس نے پارلر کا سارا نظام سمجھ لیا تھا۔ شبانہ نے اسے صرف اس لیے رکھا تھا کہ بھاری سامان اٹھانے والا کوئی مرد ہو، مگر اب اسے لگنے لگا تھا کہ اس کی نظریں عمران پر کچھ زیادہ ہی ٹھہرنے لگی ہیں۔

دو رات پہلے شبانہ نے ایک خواب دیکھا تھا جو وہ بھول نہیں پا رہی تھی۔ خواب میں پارلر بند تھا، بتیاں مدھم تھیں، اور عمران اس کی کرسی کے پیچھے کھڑا اس کے کندھوں کی مالش کر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے سرک رہے تھے، اس کی گردن پر اس کی سانسیں محسوس ہو رہی تھیں، اور شبانہ آئینے میں اپنی آنکھیں بند کیے مسکرا رہی تھی۔ جب وہ جاگی تو اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا اور اس کے جسم میں ایک عجیب سی گرمی تھی۔ اس نے خود کو سمجھایا کہ یہ صرف ایک خواب ہے، مگر خواب کی گرمی سارا دن اس کے ساتھ رہی۔

اس رات پارلر میں صرف وہ دونوں تھے۔ باہر امین آباد کی گلی میں رکشوں کی آوازیں آ رہی تھیں، مگر پارلر کے اندر پنکھے کی ہلکی آواز کے سوا خاموشی تھی۔ شبانہ نے بالوں والے سیکشن کی کرسی پر بیٹھ کر اپنی گردن دبائی اور بولی کہ سارا دن کھڑے رہنے سے اس کی گردن اکڑ گئی ہے۔ عمران نے ہنستے ہوئے کہا کہ اس کے ہاتھوں میں جادو ہے، اس کی ماں کی گردن کا درد بھی وہی ٹھیک کرتا تھا۔ شبانہ نے مذاق میں کہا کہ چلو آج اس جادو کا امتحان لے لیا جائے۔

عمران اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا اور اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ دیے۔ اس کے ہاتھ گرم تھے اور دباؤ بالکل درست تھا، نہ زیادہ تیز، نہ زیادہ ہلکا۔ شبانہ نے آنکھیں بند کر لیں اور اس کی انگلیوں کی حرکت کو محسوس کیا۔ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے کندھوں تک آتے جاتے تھے، اور ہر بار اس کے جسم میں ایک لہر سی دوڑ جاتی تھی۔ اس نے اپنے آپ کو یاد دلایا کہ یہ صرف مالش ہے، مگر جب عمران کے ہاتھ اس کی گردن کے نیچے والے حصے پر رکے تو اس کی سانس تھوڑی تیز ہو گئی۔

آئینے میں شبانہ نے دیکھا کہ عمران اسے دیکھ رہا ہے۔ اس کی آنکھوں میں وہی بات تھی جو خواب میں تھی، ایک چھپی ہوئی خواہش جو اب چھپ نہیں رہی تھی۔ شبانہ نے آئینے میں ہی اس کی آنکھوں میں دیکھا اور مسکرا دی۔ اس مسکراہٹ نے عمران کو اشارہ دے دیا۔ اس نے اس کے کندھوں سے ہاتھ ہٹا کر اس کے بالوں کو ایک طرف کیا اور اس کی گردن پر ہلکا سا بوسہ دیا۔ شبانہ نے آنکھیں بند کر لیں اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

اس کے بعد جو ہوا وہ خواب سے زیادہ گرم تھا۔ عمران نے اسے کرسی سے اٹھا کر اپنے قریب کھینچ لیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ شبانہ نے پہلے تو ہلکا سا پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، مگر پھر اس نے اس کی گردن میں بازو ڈال دیے اور اس بوسے کا جواب دیا۔ ان کے ہونٹ آپس میں الجھ گئے، زبانوں نے ایک دوسرے کو چھوا، اور شبانہ کے جسم کی ساری اکڑن ایک گرم لہر میں بدل گئی۔ اس نے محسوس کیا کہ عمران کا جسم اس سے چپک رہا ہے اور اس کی سانسیں اس کے چہرے پر گرم لگ رہی ہیں۔

عمران نے اس کی قمیض کے اوپر والے بٹن کھولے اور اس کی گردن سے سینے تک بوسے دینے لگا۔ شبانہ نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر دیں اور اس کا سر اپنے سینے پر دبا لیا۔ جب اس نے اس کی چھاتیوں کو ہاتھوں میں لیا اور آہستہ سے دبایا تو شبانہ کے منہ سے ایک ہلکی سی آہ نکلی۔ اس نے اس کی قمیض اتار دی اور اس کی چھاتیوں کو چومنے لگا، کبھی ایک کو، کبھی دوسری کو، اور اس کی زبان اس کے نپلوں پر گھومنے لگی۔ شبانہ کی ٹانگیں کمزور پڑنے لگیں اور اس نے کرسی کا سہارا لے لیا۔

پھر عمران نے اسے کرسی پر بٹھایا اور اس کے سامنے گھٹنوں پر بیٹھ گیا۔ اس نے اس کی شلوار کا نارا کھولا اور آہستہ سے اسے نیچے سرکا دیا۔ شبانہ کی چوت اس کے سامنے تھی، گیلی اور گرم۔ عمران نے پہلے اسے انگلیوں سے چھوا، پھر اپنی زبان اس پر پھیر دی۔ شبانہ نے کرسی کی ہتھیوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اس کا سر اپنی ٹانگوں کے درمیان دبا لیا۔ اس کی زبان اندر باہر ہو رہی تھی، کبھی آہستہ، کبھی تیز، اور شبانہ کی آہیں پارلر کی خاموشی میں گونجنے لگیں۔

جب شبانہ کا جسم کانپنے لگا اور اس کی چوت سے پانی بہنے لگا تو عمران نے رک کر اسے دیکھا اور مسکرایا۔ شبانہ نے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا اور اس کے ہونٹ چوم لیے، اس کے منہ میں اپنا ہی ذائقہ محسوس کر کے وہ اور گرم ہو گئی۔ اس نے عمران کی پینٹ کا بٹن کھولا اور اس کا لنڈ باہر نکال لیا۔ وہ موٹا اور سخت تھا، اس کی رگیں ابھری ہوئی تھیں۔ شبانہ نے اسے ہاتھ میں لے کر آہستہ آہستہ ہلانا شروع کیا، اور عمران نے اس کے بال پکڑ کر اپنا سر پیچھے کر لیا۔

شبانہ نے اس کے لنڈ کو اپنے منہ میں لے لیا اور چوسنے لگی۔ اس کی زبان اس کی ٹوپی پر گھوم رہی تھی اور اس کا ہاتھ نیچے والے حصے کو سہلا رہا تھا۔ عمران نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور آہستہ آہستہ اس کے منہ میں دھکیلنے لگا۔ شبانہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور اور تیز چوسا، یہاں تک کہ عمران کی سانسیں بھاری ہو گئیں۔ اس نے اسے روکا، کیونکہ وہ ابھی جھڑنا نہیں چاہتا تھا، وہ اسے اندر ڈالنا چاہتا تھا۔

عمران نے شبانہ کو کرسی سے اٹھا کر پارلر کے پچھلے کمرے میں لے گیا، جہاں ایک پرانا صوفہ پڑا تھا۔ اس نے اسے صوفے پر لٹایا اور اس کی ٹانگیں کھول دیں۔ پھر اس نے اپنا لنڈ اس کی چوت پر رکھا اور آہستہ سے اندر دھکیلا۔ شبانہ نے اس کی پیٹھ کو ناخنوں سے پکڑ لیا اور اس کے کان میں بولی کہ اور اندر ڈالو۔ عمران نے ایک جھٹکے میں پورا لنڈ اندر اتار دیا اور شبانہ کے منہ سے ایک لمبی آہ نکلی۔

اس کے بعد ان کی چدائی تیز ہو گئی۔ عمران کی کمر اوپر نیچے ہو رہی تھی، اس کا لنڈ شبانہ کی چوت میں اندر باہر ہو رہا تھا، اور ہر دھکے کے ساتھ صوفہ چرچرا رہا تھا۔ شبانہ نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر پر لپیٹ لیں اور اس کے ہر دھکے کا جواب اپنی کمر اٹھا کر دیا۔ اس کی چوت سے پانی بہہ رہا تھا، ان کے جسم پسینے سے چپک رہے تھے، اور ان کی آوازیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ شبانہ نے اس کے ہونٹ چومے اور بولی کہ وہ دو سال سے اس گرمی کو ترسی ہوئی تھی۔

کچھ دیر بعد عمران نے اسے پلٹا دیا اور اسے گھوڑی بنا لیا۔ شبانہ نے صوفے کی ہتھی پکڑ لی اور اپنی کمر نیچے کر دی۔ عمران نے پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈالا اور تیز دھکے مارنے لگا۔ اس کا ایک ہاتھ شبانہ کی کمر پر تھا اور دوسرا اس کی چھاتی کو دبا رہا تھا۔ شبانہ نے سر پیچھے کر کے اسے دیکھا اور بولی کہ اور تیز کرو۔ عمران نے اس کی بات مان لی اور اس کی رفتار بڑھا دی، یہاں تک کہ شبانہ کا جسم پھر کانپنے لگا اور وہ دوسری بار جھڑ گئی۔

آخری لمحوں میں عمران نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور شبانہ کے پیٹ پر جھڑ گیا۔ اس کا گرم پانی اس کی جلد پر بہہ گیا اور شبانہ نے اسے اپنے ہاتھ سے پھیلا لیا۔ دونوں صوفے پر ایک دوسرے سے چپک کر لیٹ گئے، سانسیں بھاری، جسم پسینے میں بھیگے ہوئے۔ شبانہ نے اس کے سینے پر سر رکھا اور بولی کہ خواب میں بھی اتنا مزہ نہیں آیا تھا جتنا آج آیا۔ عمران نے ہنس کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا کہ یہ خواب نہیں، یہ ہر رات ہو سکتا ہے۔

پھر دونوں نے کپڑے پہنے اور پارلر کا شٹر آدھا نیچے کیا۔ شبانہ نے آئینے میں دیکھا کہ اس کی لپ اسٹک عمران کی قمیض کے کالر پر لگی ہوئی ہے۔ اس نے اسے صاف کرنے کی کوشش کی، مگر عمران نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا کہ اسے ایسے ہی رہنے دو، تاکہ کل صبح اسے یاد رہے کہ رات کیا ہوا تھا۔ شبانہ نے مسکرا کر اسے دروازے تک چھوڑا اور بولی کہ کل شام آٹھ بجے پارلر بند ہونے کے بعد وہی کرسی، وہی مالش، اور اس بار دروازہ پہلے سے بند ہو گا۔

🔒 Bonus Scene locked

اگلی رات پارلر بند ہونے کے بعد ایک اور راز کھلا، اور اس بار شبانہ نے خود پہل کی۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو گرم کہانی فری: لکھنؤ کے پارلر والی رات” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views