Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو سیکس کہانی آن لائن: بھوپال کی ملاقات

S
14 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

عمران بھوپال کے چھوٹے سے اسٹیشن پر اترا تو اس کے ہاتھ میں ایک بھاری بیگ تھا اور اس بیگ میں صنم کی ترجمہ کی ہوئی اردو سیکس کہانی آن لائن کے مسودے تھے، اور صنم اسے لینے کے لیے گیٹ کے پاس کھڑی تھی۔ صنم نے اسے پہلی بار تصویر کے بغیر دیکھا تھا، صرف آواز سے پہچانتی تھی، مگر اب سامنے کھڑا یہ لمبا سا آدمی اس کی سوچ سے زیادہ حقیقی لگ رہا تھا۔ اس نے مسکرا کر ہاتھ بڑھایا اور عمران نے بیگ نیچے رکھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا، اور یہ تھامنا ایک لمحے سے زیادہ دیر تک رہا۔

صنم چوتیس سال کی تھی اور بھوپال کے ایک پرانے محلے میں اپنے چھوٹے سے گھر سے آن لائن کہانیوں کا ترجمہ کرتی تھی۔ اس کا شوہر عادل کاروبار کے سلسلے میں اکثر شہر سے باہر رہتا تھا اور گھر میں صرف وہ اور اس کی خاموش شامیں ہوتی تھیں۔ عمران دلی میں ایک آن لائن رسالے کا ایڈیٹر تھا اور پچھلے چھ مہینوں سے صنم کے ترجمے چھاپ رہا تھا، مگر ان کی بات صرف فون اور پیغامات تک محدود تھی۔ آج وہ پہلی بار بھوپال آیا تھا، ایک ادبی نشست کے بہانے، اور صنم نے اسے اپنے گھر کے دفتر میں کام کرنے کی دعوت دی تھی۔

رکشے میں بیٹھ کر عمران نے کھڑکی سے باہر جھیل کی طرف دیکھا اور کہا کہ بھوپال کی ہوا دلی سے بہت الگ ہے، یہاں سانس لینا آسان لگتا ہے۔ صنم نے ہنس کر کہا کہ یہاں کی ہوا میں پانی کی خوشبو ہوتی ہے اور جو ایک بار یہاں آ جاتا ہے وہ واپس جانے کا نام نہیں لیتا۔ عمران نے اس کی طرف دیکھا اور کہا کہ شاید وہ بھی یہی چاہتا ہے، کچھ دن یہاں رک کر کام کرے۔ صنم کا دل زور سے دھڑکا، کیونکہ اس جملے میں کام سے زیادہ کچھ اور چھپا ہوا تھا۔

گھر پہنچ کر صنم نے اسے اپنے دفتر والے کمرے میں بٹھایا، جہاں ایک میز، دو کرسیاں اور کتابوں کی الماری تھی۔ اس نے چائے بنائی اور دونوں مسودوں پر کام کرنے لگے، اور کام کے دوران ان کی کہنیاں بار بار ٹکرا جاتی تھیں۔ عمران جب کوئی جملہ پڑھتا تو اس کی آواز دھیمی ہو جاتی اور صنم اسے سن کر اپنے گال گرم محسوس کرتی۔ دوپہر تک انہوں نے تین کہانیاں مکمل کر لیں اور صنم نے کہا کہ آج کا کام بہت اچھا ہوا ہے، تمہارے ساتھ کام کرنا آسان ہے۔

شام کو عمران نے کہا کہ وہ ہوٹل چلا جائے گا، مگر صنم نے اسے روک لیا اور کہا کہ رات کا کھانا یہیں کھا لو، باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس نے دال، چاول اور گوشت بنایا اور دونوں نے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا، اور کھانے کے دوران عمران نے اس کے ہاتھ کی تعریف کی۔ صنم نے کہا کہ اکیلے رہ کر کھانا بنانا بھی ایک عادت بن جاتی ہے، مگر آج کسی کے ساتھ کھانا اچھا لگ رہا ہے۔ عمران نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا کہ اکیلا پن تو اسے بھی دلی میں ستاتا ہے، وہاں بھی کوئی اس کا انتظار نہیں کرتا۔

کھانے کے بعد صنم نے برتن سمیٹے اور عمران نے اس کی مدد کی، اور باورچی خانے کی تنگ جگہ میں وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے۔ صنم نے محسوس کیا کہ عمران کی سانس اس کی گردن پر لگ رہی ہے اور اس کا جسم خود بخود اس کی طرف جھک رہا ہے۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو عمران اس کے بالکل سامنے تھا، اور اس نے آہستہ سے اس کے گال پر ہاتھ رکھ دیا۔ صنم نے آنکھیں بند کر لیں اور عمران نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے، اور یہ بوسہ دھیرے دھیرے گہرا ہوتا گیا۔

صنم نے اس کے کندھوں کو پکڑ لیا اور عمران نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔ اس کا کرتا اس کے جسم سے چپک رہا تھا اور صنم کو اس کی گرمی صاف محسوس ہو رہی تھی۔ عمران نے اس کے ہونٹ چومتے ہوئے اس کی گردن پر بھی بوسے دیے اور صنم نے ایک لمبی سانس لے کر اس کا نام لیا۔ اس لمحے صنم کو نہ عادل کا خیال آیا اور نہ کسی ڈر کا، صرف یہ احساس تھا کہ وہ ایک عورت ہے اور اسے چاہا جا رہا ہے۔

وہ دونوں سونے کے کمرے میں چلے گئے اور صنم نے دروازہ بند کر دیا۔ عمران نے اس کا دوپٹہ آہستہ سے اتارا اور اس کے کندھوں پر بوسے دینے لگا، اور صنم نے اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کر دیے۔ اس کا سینہ ننگا ہوتے ہی صنم نے اس پر ہاتھ پھیرا اور عمران نے اس کی قمیض اوپر اٹھا کر اس کے پیٹ پر بوسہ دیا۔ صنم کی سانسیں تیز ہو گئیں اور اس نے عمران کا سر اپنے سینے سے لگا لیا۔

عمران نے اس کی قمیض اتار دی اور اس کی چولی کے اوپر سے اس کے مموں کو دبانے لگا، اور صنم نے اس کے بالوں میں انگلیاں ڈال کر اسے اور قریب کھینچ لیا۔ اس نے چولی کا ہک کھولا تو صنم کے گول اور نرم ممے آزاد ہو گئے اور عمران نے ایک کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔ صنم نے اس کے کندھے پر دانت گاڑ دیے اور بولی کہ اور زور سے چوسو، مجھے یہی چاہیے تھا۔ عمران نے دوسرے ممے کو بھی اسی طرح چوسا اور ہاتھ سے دبایا، اور صنم کی چوت گیلی ہونے لگی۔

صنم نے عمران کی پینٹ کھولی اور اس کا لنڈ ہاتھ میں لے لیا، جو سخت اور گرم تھا اور اس کے ہاتھ میں پھڑک رہا تھا۔ اس نے اسے آہستہ آہستہ ہلانا شروع کیا اور عمران نے اس کی گردن پر بوسے دیتے ہوئے کہا کہ تمہارے ہاتھ میں جادو ہے۔ صنم نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کا لنڈ منہ میں لے لیا اور چوسنے لگی، پہلے آہستہ اور پھر تیز۔ عمران نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ بس، اب اور برداشت نہیں ہوتا، اور صنم نے مسکرا کر اسے بستر پر دھکیل دیا۔

بستر پر صنم نے اپنی شلوار اتاری اور عمران کے سامنے ننگی لیٹ گئی، اور عمران نے اس کی ٹانگیں کھول کر اس کی چوت کو دیکھا جو گیلی اور چمک رہی تھی۔ اس نے انگلی سے اسے چھوا تو صنم نے ایک آہ بھری اور بولی کہ اب دیر مت کرو، اندر ڈال دو۔ عمران نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور آہستہ سے دھکیل دیا، اور صنم نے اس کی پیٹھ کو اپنے ناخنوں سے پکڑ لیا۔ پہلا دھکا گہرا تھا اور صنم کی آنکھوں میں پانی آ گیا، مگر یہ درد نہیں تھا، یہ ایک لمبے انتظار کا ٹوٹنا تھا۔

عمران نے دھیرے دھیرے دھکے لگانے شروع کیے اور صنم نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ ہر دھکے کے ساتھ بستر ہلنے لگا اور صنم کی آوازیں کمرے میں گونجنے لگیں، اور عمران نے اس کے ہونٹوں کو چوم کر اس کی آواز کو اپنے منہ میں لے لیا۔ صنم نے کہا کہ اور تیز کرو، مجھے پورا چاہیے، اور عمران نے اپنی رفتار بڑھا دی۔ اس کی چوت سے پانی نکلنے لگا اور لنڈ اندر باہر آسانی سے آنے جانے لگا، اور دونوں کے جسم پسینے سے چمکنے لگے۔

کچھ دیر بعد عمران نے صنم کو پلٹا دیا اور اسے گھوڑی بنا کر پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈال دیا۔ اس پوزیشن میں لنڈ اور گہرا جا رہا تھا اور صنم نے تکیے کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ عمران نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر تیز دھکے لگائے اور صنم نے چیخ کر کہا کہ ہاں، یہی، یہی چاہیے۔ اس کے ممے ہر دھکے کے ساتھ ہل رہے تھے اور عمران نے ایک ہاتھ سے اس کا ممہ دبایا اور دوسرے سے اس کی کمر کو سہلایا۔

صنم کا جسم کانپنے لگا اور اس نے کہا کہ میں جھڑنے والی ہوں، مت رکو، اور عمران نے اپنی رفتار اور بڑھا دی۔ صنم کی چوت نے لنڈ کو زور سے جکڑ لیا اور اس کے منہ سے ایک لمبی آہ نکلی، اور اس کا پانی نکل کر بستر پر پھیل گیا۔ عمران نے بھی اسی لمحے اپنا پانی اس کی چوت میں چھوڑ دیا اور دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے، اور وہ تھک کر ایک دوسرے پر گر پڑے۔

تھوڑی دیر آرام کے بعد صنم نے عمران کے سینے پر سر رکھ دیا اور کہا کہ یہ سب اتنی جلدی کیسے ہو گیا، ہم تو صرف کام کرنے والے تھے۔ عمران نے ہنس کر کہا کہ کام تو بہانہ تھا، تمہاری آواز نے مجھے پہلے ہی دن سے کھینچ لیا تھا۔ صنم نے اس کے سینے پر انگلی سے اپنا نام لکھا اور کہا کہ اب تم دلی واپس جا کر مجھے بھول تو نہیں جاؤ گے۔ عمران نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ بھولنا تو دور، اب تو ہر کہانی میں تمہارا چہرہ نظر آئے گا۔

رات گہری ہوئی تو عمران نے پھر صنم کو اپنی بانہوں میں لے لیا اور اس کے جسم پر بوسے دینے لگا۔ اس بار صنم نے خود اوپر آ کر اس کے لنڈ پر بیٹھنا چاہا، اور عمران نے اس کی کمر کو سہارا دیا۔ صنم نے آہستہ سے اس کے لنڈ کو اپنی چوت میں لیا اور اوپر نیچے ہونے لگی، اور اس کے لمبے بال اس کے چہرے پر گرنے لگے۔ عمران نے اس کے مموں کو چوسا اور صنم نے اپنی رفتار بڑھا دی، اور دونوں کی سانسیں پھر تیز ہو گئیں۔

صنم نے اوپر بیٹھ کر تیز جھٹکے لگائے اور عمران نے نیچے سے دھکے لگا کر اس کا ساتھ دیا۔ اس کی چوت سے آوازیں آنے لگیں اور صنم نے شرما کر اپنا چہرہ اس کے سینے میں چھپا لیا، مگر عمران نے اس کا چہرہ اوپر اٹھا کر کہا کہ شرماؤ مت، تمہاری آواز مجھے اور گرم کرتی ہے۔ صنم نے ہنس کر پھر تیز ہو گئی اور کچھ ہی دیر میں دونوں دوسری بار جھڑ گئے، اس بار اور بھی زور سے۔

دوسری بار جھڑنے کے بعد دونوں نے ایک ساتھ غسل کیا اور صنم نے عمران کے جسم پر صابن لگایا، اور عمران نے اس کے جسم پر پانی ڈالا۔ غسل خانے کی گرمی میں وہ پھر ایک دوسرے سے چپک گئے اور عمران نے دیوار سے لگا کر صنم کو پھر چوم لیا۔ صنم نے کہا کہ اگر یہی چلتا رہا تو صبح تک ہم سو نہیں پائیں گے، اور عمران نے کہا کہ نیند تو دلی میں بھی آ جائے گی، یہ رات پھر نہیں آئے گی۔

صبح جب صنم کی آنکھ کھلی تو عمران اس کے پاس سو رہا تھا اور اس کا ہاتھ صنم کی کمر پر تھا۔ صنم نے اسے دیکھا اور سوچا کہ کل تک یہ آدمی صرف ایک آواز تھا، آج یہ اس کی زندگی کا سب سے قریبی لمحہ بن گیا ہے۔ اس نے چائے بنائی اور عمران کے جاگنے پر اسے چائے دی، اور دونوں نے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کیا۔ عمران نے کہا کہ نشست دو دن کی ہے، وہ دو دن یہیں رکے گا، اور صنم نے دل ہی دل میں خوش ہو کر کہا کہ ٹھیک ہے، دفتر کا کام بھی تو کرنا ہے۔

اگلے دن وہ پھر ساتھ کام کرتے رہے، مگر اب ہر جملے کے پیچھے رات کی یادیں چھپی ہوتی تھیں۔ جب عمران کوئی گرم جملہ پڑھتا تو صنم اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دیتی اور عمران اس کا ہاتھ میز کے نیچے دبا دیتا۔ دوپہر کو جب وہ اکیلے ہوئے تو عمران نے دفتر کے کمرے میں ہی صنم کو میز سے لگا کر چوم لیا اور صنم نے اس کی قمیض کے اندر ہاتھ ڈال دیا۔ میز پر رکھے کاغذ بکھر گئے مگر دونوں کو کوئی پرواہ نہیں تھی۔

عمران نے صنم کی شلوار نیچے کی اور اسے میز پر بٹھا کر اس کی چوت چاٹنے لگا، اور صنم نے اس کے بال پکڑ کر اپنا سر پیچھے کر لیا۔ اس کی زبان نے صنم کی چوت کو گرم کر دیا اور صنم نے کہا کہ بس، اب اندر ڈال دو، مجھ سے انتظار نہیں ہوتا۔ عمران نے کھڑے ہو کر اپنا لنڈ اس کی چوت میں ڈال دیا اور میز پر ہی تیز دھکے لگانے لگا، اور صنم نے اس کی گردن کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔ میز ہلنے لگی اور کاغذ زمین پر گرنے لگے، مگر دونوں کی رفتار نہیں رکی۔

میز والی چدائی کے بعد صنم نے کہا کہ اب دفتر کا کام واقعی رکنا چاہیے، ورنہ کوئی کہانی مکمل نہیں ہوگی۔ عمران نے ہنس کر کہا کہ یہی تو ہماری کہانی ہے، جو ہم لکھ رہے ہیں اور جی بھی رہے ہیں۔ شام کو وہ دونوں جھیل کے کنارے ٹہلنے گئے اور لوگوں کے درمیان چلتے ہوئے بھی ان کے ہاتھ آپس میں ملے ہوئے تھے۔ صنم نے کہا کہ لوگ کیا سوچیں گے، اور عمران نے کہا کہ لوگ صرف دو دوستوں کو ٹہلتے دیکھ رہے ہیں، باقی سب ہمارے درمیان ہے۔

رات کو جب وہ واپس آئے تو صنم نے عمران سے کہا کہ کل نشست ختم ہو جائے گی اور وہ دلی واپس چلا جائے گا، پھر کیا ہوگا۔ عمران نے اسے گلے لگا کر کہا کہ دلی سے بھوپال کا فاصلہ صرف ایک رات کی ٹرین ہے، اور وہ ہر مہینے آئے گا۔ صنم نے کہا کہ وعدے کرنا آسان ہے، نبھانا مشکل، اور عمران نے اس کے ماتھے پر بوسہ دے کر کہا کہ یہ وعدہ نہیں ہے، یہ فیصلہ ہے۔ اس رات وہ پھر ایک دوسرے میں کھو گئے، اور صنم نے اس بار ہر لمحے کو یاد کرنے کی کوشش کی۔

آخری رات عمران نے صنم کو پیچھے سے گلے لگا کر اس کے کان میں کہا کہ تمہاری چوت کی گرمی اسے دلی میں بھی یاد آئے گی۔ صنم نے ہنس کر اسے پلٹا دیا اور کہا کہ تمہارا لنڈ بھی بھوپال کو نہیں بھولے گا۔ وہ دونوں ہنس پڑے اور پھر ایک لمبی اور گہری چدائی میں ڈوب گئے، جس میں نہ جلدی تھی اور نہ کوئی ڈر تھا۔ جب دونوں جھڑ گئے تو صنم نے عمران کے سینے پر سر رکھ کر کہا کہ اب سونا ہے، صبح تمہاری ٹرین ہے۔

صبح عمران نے بیگ اٹھایا اور صنم اسے اسٹیشن چھوڑنے گئی۔ ٹرین کے دروازے پر عمران نے اس کا ہاتھ دبا کر کہا کہ اگلی کہانی کا پہلا جملہ تم لکھنا، میں اسے مکمل کروں گا۔ صنم نے مسکرا کر کہا کہ پہلا جملہ تو لکھا جا چکا ہے، وہ جملہ یہ ہے کہ عمران بھوپال آیا تھا اور واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔ ٹرین چل پڑی اور صنم پلیٹ فارم پر کھڑی اسے دیکھتی رہی، اور اس کے ہونٹوں پر وہ مسکراہٹ تھی جو صرف ایک عورت کے چہرے پر آتی ہے جسے پوری طرح چاہا گیا ہو۔

🔒 Bonus Scene locked

عمران کے جانے کے بعد صنم کو اس کی ایک چیز ملتی ہے، اور وہ چیز ایک ایسی رات کی شروعات بن جاتی ہے جس کا صنم نے سوچا بھی نہیں تھا۔

WhatsApp par share karo, turant unlock1 dost ko bhejo, bonus scene yahin khul jayega
Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Salman Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو سیکس کہانی آن لائن: بھوپال کی ملاقات” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views