اردو گندی کہانی نئی: کانپور بھابھی مہنور کی چوت میں دیور بلال کا لنڈ اترنے والی رات
اردو گندی کہانی نئی سننے والوں کو مہنور کی وہ رات یاد رکھنی چاہیے جب وہ ایک واضح خواب سے جاگ کر بستر پر بیٹھ گئی تھی۔ خواب میں بلال اس کے قریب تھا، اس کا ہاتھ اس کی کمر پر تھا، اس کی سانس اس کی گردن پر گرم لگ رہی تھی، اور وہ اس خواب میں اس سے دور نہیں ہوئی تھی۔ وہ خواب اتنا زندہ تھا کہ جاگنے کے بعد بھی اس کا جسم کانپ رہا تھا، اس کے کپڑے پسینے سے گیلے تھے، اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ کمرے میں اکیلی تھی، اس کا شوہر سفر پر تھا، اور گھر میں صرف وہ اور بلال تھے، اس کا دیور جو کچھ دنوں سے یہیں ٹھہرا ہوا تھا۔
مہنور نے پانی پیا، مگر نیند واپس نہیں آئی، خواب کی ہر تصویر اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہی تھی۔ خواب میں بلال نے اسے پیچھے سے پکڑا تھا، اس کے بالوں کو آہستہ سے کھینچا تھا، اور اس کے کان میں کہا تھا کہ بھابھی آج رات میری ہو۔ وہ اس جملے پر شرما گئی تھی، مگر خواب میں اس نے انکار نہیں کیا تھا، اس نے اس کی طرف مڑ کر اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا تھا۔
جاگنے کے بعد وہ خود سے ناراض ہوئی، مگر اس کا جسم اس خواب کو سچ کرنا چاہتا تھا، اس کی ٹانگوں کے درمیان نمی بڑھ رہی تھی۔ وہ بستر سے اٹھی، دوپٹہ سنبھالا، اور باورچی خانے کی طرف چلی گئی تاکہ تھوڑی ہوا لے سکے۔
باورچی خانے میں روشنی جل رہی تھی، بلال وہاں کھڑا پانی پی رہا تھا، اس نے صرف بنیان اور پاجامہ پہنا ہوا تھا۔ مہنور رک گئی، اس کی نظر بلال کے چوڑے کندھوں پر ٹھہر گئی، بلال نے مڑ کر اسے دیکھا اور مسکرا دیا۔ اس نے پوچھا بھابھی آپ بھی نہیں سوئیں، مہنور نے کہا نیند نہیں آ رہی، ایک عجیب خواب آیا تھا۔
بلال نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، اس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی، اس نے کہا کبھی کبھی خواب سچ بھی ہو جاتے ہیں۔ مہنور کا دل زور سے دھڑکا، وہ اس کے قریب آئی، دونوں کے درمیان صرف چند قدم کا فاصلہ رہ گیا۔
بلال نے آہستہ سے کہا بھابھی آپ ٹھیک ہیں، آپ کا چہرہ لال ہو رہا ہے، مہنور نے ہنس کر کہا تمہیں سب نظر آتا ہے۔ اس نے اس کا ہاتھ پکڑا، اس کی انگلیاں اس کی انگلیوں میں الجھ گئیں، اس کی سانس تیز ہو گئی۔ مہنور نے اس کی طرف دیکھ کر کہا بلال آج رات کوئی نہیں ہے، جو دل میں ہے وہ کہہ دو۔
بلال نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھا، اسے اپنی طرف کھینچا، مہنور اس کے سینے سے لگ گئی۔ اس نے اس کی گردن پر بوسہ دیا، مہنور نے آنکھیں بند کر لیں، اس کا جسم اس کے جسم سے لگ گیا۔
مہنور نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا، پہلے آہستہ، پھر گہرائی سے، بلال کی زبان اس کی زبان سے کھیلنے لگی۔ اس نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈالا، اسے اور قریب کھینچا، مہنور نے اس کی پیٹھ پر ناخن چلائے۔ بلال نے اس کے دوپٹے کو ہٹایا، اس کی قمیض کے اوپر سے اس کے مموں کو دبایا، مہنور نے سر پیچھے کر لیا۔
اس نے اس کے کان میں کہا آج تم میرے ہو، مکمل میرے ہو، بلال نے اسے دیوار سے لگا لیا۔ اس کی قمیض اوپر ہو گئی، اس کی کمر ننگی نظر آئی، بلال کی نظر اس پر ٹھہر گئی، مہنور نے شرمائے بغیر اسے دیکھا۔
بلال نے اس کی قمیض کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے، اس کے ممے باہر آ گئے، اس نے دونوں ہاتھوں سے انہیں پکڑ کر آہستہ سے دبایا۔ مہنور نے اس کا سر اپنے سینے پر دبایا، بلال نے ایک نپل کو منہ میں لے کر چوسا، مہنور کا جسم کانپ گیا۔ اس نے دوسرے ممے کو ہاتھ سے مسلا، مہنور نے اس کے بالوں کو پکڑ لیا، اس کی سانس تیز ہو گئی۔
وہ اسے کمرے کی طرف لے گئی، بلال اس کے پیچھے چلا، دروازہ بند ہوا، کمرے میں مدھم روشنی تھی۔ مہنور نے اسے بستر پر بٹھایا، اس کے پاجامے کی ڈوری کھولی، اس کا لنڈ باہر آیا، سخت اور گرم۔
مہنور نے اسے ہاتھ میں پکڑا، آہستہ سے اوپر نیچے ہلایا، بلال کی آنکھیں بند ہو گئیں، اس کی آہ کمرے میں گونجی۔ اس نے جھک کر اس کی نوک پر بوسہ دیا، پھر اسے منہ میں لے کر آہستہ سے چوسا، بلال کی کمر آگے بڑھی۔ اس کی زبان اس کے ارد گرد گھومی، بلال نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، مہنور نے رفتار بڑھا دی۔
اس نے اسے تھوڑی دیر چوسا، پھر رکی، بلال نے اسے اٹھا کر بستر پر لٹا دیا۔ اس نے اس کی شلوار نیچے کی، اس کی چوت گیلی تھی، بلال کی انگلیاں وہاں آہستہ سے گھومیں، مہنور کی ٹانگیں خود بخود کھل گئیں۔
بلال نے ایک انگلی اندر ڈالی، مہنور کا جسم اچھل گیا، اس نے دوسری انگلی ملائی، مہنور کی آہیں بڑھ گئیں۔ اس کا انگوٹھا اس کے دانے پر دبا، مہنور کی کمر اوپر اٹھی، اسے لگا کہ اس کا عروج قریب ہے۔ اس نے کہا رکو مت، ایسے ہی کرو، بلال نے رفتار بڑھا دی، مہنور کا جسم کانپ کر پہلے عروج تک پہنچ گیا۔
اس کے بعد مہنور نے سانس لی، مگر اس کی خواہش کم نہیں ہوئی، وہ اور زیادہ چاہتی تھی۔ اس نے بلال کو اپنے اوپر کھینچا، اس کے لنڈ کو اپنی چوت کے دروازے پر رکھا، بلال نے آہستہ سے اندر دھکیلا۔
مہنور کا جسم اسے سختی سے پکڑ گیا، اس کی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپٹ گئیں، بلال پورا اندر چلا گیا۔ اس نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر اسے اور دبایا، بلال آہستہ سے باہر آیا اور پھر اندر گیا۔ ہر حرکت پر مہنور نے آہ بھری، بلال کی سانس اس کی گردن پر لگی، دونوں کے جسم ایک ہی تال میں ہلنے لگے۔
بلال نے رفتار بڑھائی، مہنور نے اس کے کندھے کو کاٹا، بلال نے ہنس کر اس کے ممے کو پکڑ لیا۔ اس نے کہا اور تیز، اور گہرا، بلال نے ویسا ہی کیا، بستر ہلنے لگا۔
مہنور کی کمر ہر دھکے پر اوپر آئی، بلال کا لنڈ اس کے اندر گہرائی تک گیا، اس کا مزہ بڑھتا گیا۔ بلال نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیتے ہوئے جاری رکھا، مہنور کی آنکھیں بند ہو گئیں، اس کا جسم دوبارہ کانپنے لگا۔ دوسرا عروج آیا تو اس نے بلال کا نام زور سے لیا، بلال نے اسے سختی سے گلے لگا لیا۔
بلال نے اسے پلٹ کر الٹا لٹایا، مہنور گھٹنوں پر کھڑی ہو گئی، اس کی کمر اوپر اٹھی۔ بلال نے پیچھے سے اس کی چوت میں دوبارہ داخل ہوا، اس بار زاویہ الگ تھا، یہ اور گہرا گیا۔
بلال کے ہاتھ اس کی کمر پر تھے، ہر دھکا مضبوط تھا، مہنور کی آہیں بلند ہو گئیں۔ اس نے سر تکیے میں چھپا لیا، اس کے ہاتھ چادر کو سختی سے پکڑے ہوئے تھے۔ بلال نے اس کی پیٹھ پر بوسہ دیا، اس کے بالوں کو پکڑ کر آہستہ سے کھینچا، مہنور کا جسم اس پکڑ میں اور بھڑک گیا۔
مہنور نے کہا ایسے ہی، رکو مت، بلال نے رفتار بڑھا دی، اس کی سانس تیز ہو گئی۔ اس کے اندر بلال کا لنڈ پھڑکا، مہنور نے سمجھ لیا کہ اس کا عروج قریب ہے، اس نے اپنی کمر پیچھے دھکیلی۔
بلال کے آخری چند دھکے مضبوط تھے، پھر اس نے اس کے اندر ہی اپنا منی چھوڑ دیا، مہنور کا جسم گرم محسوس ہوا۔ دونوں کچھ لمحے ویسے ہی رہے، بلال اس پر جھکا رہا، مہنور کی آنکھیں بند تھیں۔ اس خاموشی میں مہنور نے محسوس کیا کہ اس کا خواب سچ ہو گیا ہے، مگر اس کا دل ابھی بلال کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔
تھوڑی دیر بعد بلال اس کے پاس لیٹ گیا، مہنور نے اس کے سینے پر سر رکھا، اس کا ہاتھ اس کی پیٹھ پر گھوم رہا تھا۔ اس نے کہا خواب میں جو ادھورا تھا وہ آج پورا ہو گیا، مگر یہ ختم نہیں ہے، بلال نے ہنس کر کہا آپ کہیں تو میں یہیں رہ جاؤں گا۔
مہنور کا ہاتھ نیچے گیا، اس نے بلال کا لنڈ دوبارہ پکڑا، وہ آہستہ آہستہ پھر سخت ہو گیا۔ اس نے اسے دیکھ کر کہا ایک بار اور، بلال نے اسے اپنے اوپر کھینچ لیا۔ مہنور اس کے اوپر بیٹھی، اس کے لنڈ کو اپنی چوت میں آہستہ سے اتارا، اس کا جسم اوپر نیچے ہلنے لگا۔
بلال کے ہاتھ اس کے مموں پر تھے، اس کا سر پیچھے جھک گیا، اس کے بال اس کی پیٹھ پر گرے۔ اس نے رفتار خود کنٹرول کی، کبھی آہستہ، کبھی تیز، بلال کی آہیں بڑھ گئیں۔ اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ہلنا جاری رکھا، بلال نے اس کی کمر پکڑ کر اسے اور دبایا۔
مہنور کا عروج دوبارہ آیا تو اس کا جسم کانپ گیا، وہ بلال پر جھک گئی، بلال نے اسے سختی سے پکڑ لیا۔ بلال نے اسے نیچے لٹا کر دوبارہ اوپر آیا، اس بار اس نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں۔ اس حالت میں بلال کا لنڈ اور گہرا گیا، مہنور نے اس کی ٹانگیں پکڑ لیں، اس کی آہیں جاری رہیں۔
ہر دھکا اس کے اندر ایک لہر پیدا کرتا تھا، اس کی آنکھیں بند تھیں، اس کا جسم اس کی تال پر ہل رہا تھا۔ بلال نے رفتار کم کر کے گہرا دھکیلا، پھر دوبارہ تیز کیا، مہنور اس تبدیلی میں اور بھڑک گئی۔ اس نے کہا یہی، یہی مجھے چاہیے، بلال نے ہنس کر جاری رکھا۔
رات کے درمیان دونوں پسینے میں بھیگے ہوئے تھے، چادر بکھری ہوئی تھی، کمرے میں صرف ان کی سانسوں کی آواز تھی۔ مہنور نے اس کے سینے پر بوسہ دیا، بلال نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا، دونوں کچھ دیر خاموش رہے۔ اس نے کہا صبح کسی کے آنے سے پہلے ہمیں اٹھ جانا ہے، بلال نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا ٹھیک ہے۔
مگر اس کی آنکھیں ابھی بلال پر تھیں، اس کا ہاتھ اس کے جسم سے ہٹا نہیں۔ اس نے کہا آج رات ہی نہیں، تم جب تک یہاں ہو ہر رات ایسی ہی ہوگی، بلال نے اسے پھر بوسہ دیا۔
بلال کے دھکے آہستہ شروع ہو کر تیز ہو گئے، مہنور کا سر پیچھے جھک گیا، اس کی آہیں باورچی خانے میں گونجیں۔ بلال نے اس کے ممے کو منہ میں لے کر چوستے ہوئے جاری رکھا، اس کا جسم ہر حرکت پر کانپا۔ اس کا عروج آیا تو اس نے بلال کے بالوں کو سختی سے پکڑ لیا، بلال نے اسے چھوڑا نہیں، وہ جاری رہا۔
اس کا عروج بھی آیا تو دونوں نے ایک ساتھ سانس لی، مہنور اس پر جھک گئی۔ اس کے بعد دونوں دوبارہ کمرے میں گئے، مہنور اس کے پاس لیٹی، بلال کا ہاتھ اس کی کمر پر تھا۔
مہنور نے کہا خواب میں ہم نے بات نہیں کی تھی، آج ہم نے سب کہہ دیا، بلال نے اس کے کان میں کہا یہ شروعات ہے، ختم نہیں۔ مہنور ہنس دی، اس کی آنکھیں بند ہو گئیں، مگر اس کا دل ابھی جاگ رہا تھا، اس نے بلال کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لیا۔ باہر کانپور کی گلی خاموش تھی، گھر میں صرف وہ دونوں تھے، وہ رات ان کی تھی۔ صبح کی روشنی آنے سے پہلے مہنور جاگی، بلال اس کے پاس سو رہا تھا، اس نے اس کا چہرہ دیکھا۔
مہنور نے آہستہ سے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا، بلال کی آنکھیں کھلیں، وہ مسکرا دیا۔ اس نے کہا اٹھو، کسی کے آنے سے پہلے ہمیں عام بننا ہے، بلال نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھوڑی دیر اور۔ مہنور نے اسے دھکیل کر اٹھایا، مگر دروازے پر مڑ کر اسے دیکھ کر کہا آج رات پھر، بلال بستر پر سے اسے دیکھ کر مسکرایا، اس مسکراہٹ میں ان کی رات کا سارا راز تھا۔
اگلی رات مہنور چھت پر کپڑے اتارنے گئی، ہوا ٹھنڈی تھی، نیچے گلی میں روشنیاں مدھم تھیں۔ بلال سیڑھیوں سے اوپر آیا، اس کے ہاتھ میں چائے کے دو کپ تھے، اس نے ایک کپ اس کی طرف بڑھایا۔ مہنور نے کپ لیتے ہوئے اس کی انگلیوں کو چھوا، بلال نے مسکرا کر کہا کل رات کافی نہیں تھی۔ مہنور نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے چھت کے اندھیرے کونے میں لے گئی، جہاں کوئی انہیں دیکھ نہیں سکتا تھا۔
وہاں بلال نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے دیوار سے لگا لیا، مہنور نے اس کے ہونٹوں پر گہرا بوسہ دیا۔ اس نے اس کا دوپٹہ ہٹایا، اس کے مموں کو پکڑا، مہنور کی سانس تیز ہو گئی، اس نے اس کی قمیض اوپر کی۔ مہنور نے اس کے سینے پر بوسہ دیا، بلال نے اس کی قمیض کے بٹن کھولے، چاندنی میں اس کا جسم نظر آیا۔ اس نے اس کا پاجامہ نیچے کیا، اس کا لنڈ باہر آیا، مہنور نے اسے ہاتھ میں پکڑ کر آہستہ سے ہلایا، بلال نے آہ بھری۔
مہنور نے جھک کر اس کے لنڈ کو منہ میں لے کر چوسا، بلال نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈالا، اس نے رفتار بڑھا دی۔ پھر بلال نے اسے اٹھایا، اس کی شلوار اوپر کی، اس کی چوت گیلی تھی، اس کی انگلیاں وہاں گھومیں۔ مہنور نے ٹانگیں کھولیں، بلال نے اس کی چوت میں آہستہ سے داخل ہوا، اس نے اس کے کندھوں کو پکڑ لیا۔ اس کے دھکے آہستہ شروع ہو کر تیز ہو گئے، مہنور کی آہیں ہوا میں گھل گئیں، اس کا جسم کانپ گیا۔
بلال نے اسے موڑ کر پیچھے سے دوبارہ اندر گیا، اس کے ہاتھ دیوار پر تھے، اس کی کمر اس کی کمر سے ٹکرائی۔ اس کا عروج آیا تو اس نے بلال کا نام آہستہ سے لیا، بلال نے اسے سختی سے پکڑ کر اپنا منی اس کے اندر چھوڑ دیا۔ دونوں نے سانس لی، مہنور اس پر جھک گئی، بلال نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ اس نے کہا کل رات بھی ایسے ہی ہوگا، بلال نے ہنس کر اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے نیچے لے گیا۔
Readers who enjoyed “اردو گندی کہانی نئی: کانپور بھابھی مہنور کی چوت میں دیور بلال کا لنڈ اترنے والی رات” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔