اردو ٹیچر سیکس کہانی: استانی کا راز، حصہ 1
“عائشہ جی، آپ پھر وہی غزل پڑھا رہی ہیں؟” عمران نے خالی کلاس روم کے دروازے سے سر اندر کرتے ہوئے آہستہ سے کہا۔ “بچیاں تو جا چکی ہیں، اب یہ شعر کس کے لیے ہے؟” یہ اردو ٹیچر سیکس کہانی اسی خالی کلاس روم سے شروع ہوتی ہے، جہاں ایک غزل نے ایک استانی اور ایک استاد کے دلوں کو اتنا قریب کر دیا تھا کہ واپسی کا راستہ ہی بھول گیا تھا۔
عائشہ نے چونک کر سر اٹھایا۔ وہ ابھی تک اپنی میز پر بیٹھی کاپیاں چیک کر رہی تھی، اور آخری گھنٹی بجے پندرہ منٹ ہو چکے تھے۔ “تم ابھی تک یہیں ہو؟ میں سمجھی تھی سارے اساتذہ جا چکے ہیں۔”
“میں رکا تھا۔” عمران اندر آ گیا اور دروازہ بند کر دیا۔ “وہ غزل جو آپ نے آج پڑھائی، اس کا آخری شعر میرے ذہن سے نکل ہی نہیں رہا۔”
عائشہ ہنس پڑی، مگر اس کی ہنسی میں گھبراہٹ تھی۔ پچھلے دو ہفتوں سے عمران کا یوں رکنا، یوں باتیں کرنا، اسے اچھا بھی لگتا تھا اور ڈر بھی لگتا تھا۔ وہ بتیس سال کی تھی، علی گڑھ کے اس گرلز کالج میں اردو پڑھاتی تھی، اور عمران انتیس سال کا انگریزی کا استاد تھا جو اسی سال کالج میں آیا تھا۔
“کون سا شعر؟” اس نے پوچھا، قلم نیچے رکھتے ہوئے۔
عمران اس کی میز کے قریب آ گیا۔ “وہی، جس میں محبوب کی آنکھوں کا ذکر ہے۔ آپ نے جب وہ پڑھا، آپ کی آواز بدل گئی تھی۔ میں نے محسوس کیا۔”
عائشہ کی سانس رک گئی۔ “تم بہت غور سے سنتے ہو۔”
“آپ کو سنتے وقت غور نہ کرنا ممکن ہی نہیں۔” عمران نے یہ جملہ اتنے آہستہ کہا کہ وہ تقریباً سرگوشی لگا۔ پھر اس نے میز پر رکھی ہوئی عائشہ کی چائے کا کپ اٹھا کر ایک گھونٹ پی لیا۔
“یہ میری چائے ہے!” عائشہ نے کہا، مگر اس نے کپ واپس نہیں لیا۔
“اب تو میری بھی ہو گئی۔” عمران مسکرایا۔ “ایک ہی کپ سے پینا، یہ بھی تو ایک طرح کی قربت ہے۔”
عائشہ کھڑی ہو گئی۔ کمرے میں صرف ان دونوں کی سانسوں کی آواز تھی، اور باہر راہداری میں چپراسی کی دور جاتی ہوئی قدموں کی چاپ۔ “عمران، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ ہم دونوں اساتذہ ہیں۔ اگر کسی نے دیکھ لیا تو۔۔۔”
“کسی نے نہیں دیکھا۔” عمران نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ “اور دیکھ بھی لے تو کیا؟ ہم نے کیا غلط کیا ہے؟ بات کرنا غلط ہے؟”
اس کا ہاتھ گرم تھا۔ عائشہ نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش نہیں کی۔ اس کی شادی کو چار سال ہو چکے تھے، اور اس کا شوہر دہلی میں نوکری کرتا تھا، ہفتے میں صرف ایک بار آتا تھا۔ اس تنہائی نے اس کے اندر ایک ایسی پیاس پیدا کر دی تھی جس کا اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا۔
“بات تو نہیں۔” اس نے آہستہ کہا۔ “مگر تمہاری آنکھیں بات سے آگے کی بات کرتی ہیں۔”
عمران نے اس کی انگلیوں کو اپنے ہاتھ میں دبا لیا۔ “اور آپ کی آنکھیں جواب بھی دیتی ہیں۔ میں نے آج کلاس میں دیکھا تھا، جب میں راہداری سے گزرا تھا، آپ نے مجھے دیکھ کر وہ شعر دوبارہ پڑھا تھا۔”
عائشہ کے گال سرخ ہو گئے۔ “تم جھوٹ بول رہے ہو۔”
“نہیں بول رہا۔” عمران ایک قدم اور قریب آ گیا۔ اب ان کے درمیان صرف ایک سانس کا فاصلہ تھا۔ “عائشہ، میں دو ہفتوں سے ہر شام اسی لمحے کا انتظار کرتا ہوں۔ جب سب چلے جاتے ہیں اور صرف آپ رہ جاتی ہیں۔”
عائشہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں کوئی جلد بازی نہیں تھی، صرف ایک سچی چاہت تھی۔ اس نے آہستہ سے اپنا دوسرا ہاتھ اٹھا کر عمران کے گال پر رکھ دیا۔ “تم جانتے ہو یہ کہاں جا کر رکے گا؟”
“جہاں آپ روکیں گی، وہیں رک جائے گا۔” عمران نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ “مگر مجھے لگتا ہے آپ روکنا نہیں چاہتیں۔”
عائشہ نے جواب میں اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ ان کے ہونٹ ملے، پہلے آہستہ، پھر تیزی سے۔ عمران کے ہاتھ اس کی کمر پر پھسلے، اور عائشہ نے اس کی قمیض کا کالر پکڑ لیا۔ کلاس روم کی کھڑکی سے شام کی سنہری روشنی آ رہی تھی، اور دونوں کے سائے دیوار پر ایک ہو رہے تھے۔
“دروازہ۔۔۔” عائشہ نے ہونٹ ہٹا کر کہا۔
“بند ہے۔ میں نے کنڈی لگا دی ہے۔” عمران نے اس کی گردن پر بوسہ دیا۔ “کوئی نہیں آئے گا۔”
عائشہ نے اس کی گردن کو چوما، اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر دیں۔ عمران نے اس کے دوپٹے کا ایک سرا آہستہ سے کھینچا، اور دوپٹہ اس کے کندھے سے پھسل کر نیچے گر گیا۔ اس کی قمیض کے اوپر سے اس کے سینے کا ابھار صاف دکھائی دے رہا تھا، اور عمران کی نظریں وہیں ٹھہر گئیں۔
“دیکھ کیا رہے ہو؟” عائشہ نے شرما کر کہا۔
“وہی جو دو ہفتوں سے دیکھنے کا خواب دیکھ رہا ہوں۔” عمران نے اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے، ایک ایک کر کے، آہستہ آہستہ۔ عائشہ کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ جب قمیض کھلی تو اس نے ہلکے گلابی رنگ کی برا پہنی ہوئی تھی، اور اس کے ممے اس میں سے ابھر رہے تھے۔
عمران نے برا کے اوپر سے ہی اس کے مموں کو دبایا، اور عائشہ کے منہ سے ایک آہ نکل گئی۔ “آہستہ۔۔۔ کوئی سن لے گا۔”
“کوئی نہیں سنے گا۔” عمران نے برا کا ہک کھول دیا اور اس کے ننگے مموں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ اس نے ایک ممے کو چوما، پھر اس کی نوک کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسا۔ عائشہ نے اس کے سر کو اپنے سینے سے لگا لیا، اس کی کمر کو اپنی انگلیوں سے سہلایا۔
“عمران۔۔۔” اس نے سرگوشی کی۔ “یہ بہت غلط ہے، مگر بہت اچھا لگ رہا ہے۔”
عمران نے اسے میز کی طرف لے جا کر اس پر بٹھا دیا۔ اس نے عائشہ کی شلوار کا ناڑا کھولا، اور شلوار اس کی ٹانگوں سے نیچے پھسل گئی۔ اس نے ہلکے نیلے رنگ کی پینٹی پہنی ہوئی تھی، جو اب اس کی چوت کی نمی سے گیلی ہو رہی تھی۔
عمران نے پینٹی کے اوپر سے ہی اس کی چوت کو سہلایا، اور عائشہ نے اپنی ٹانگیں کھول دیں۔ “اندر۔۔۔ انگلی سے نہیں، تم سے۔۔۔” اس نے کہا۔
عمران نے جلدی سے اپنی پینٹ کھولی اور اپنا لنڈ باہر نکالا۔ وہ پورا سخت تھا، اور اس کی رگیں ابھری ہوئی تھیں۔ عائشہ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے کر آہستہ سے ہلایا، پھر اس کی نوک کو چوم لیا۔ عمران کی سانس رک گئی۔
“بس، اب اور نہیں۔” عمران نے اسے میز پر لٹا دیا، اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں، اور اپنا لنڈ اس کی چوت پر رکھ کر آہستہ سے اندر دھکیلا۔ عائشہ کے منہ سے ایک لمبی آہ نکلی، اور اس نے عمران کی پیٹھ کو اپنے ناخنوں سے پکڑ لیا۔
“آہ۔۔۔ عمران۔۔۔ اتنا بڑا۔۔۔” عائشہ نے کہا، اس کی آنکھیں بند تھیں۔
عمران نے آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے، پہلے دھیرے، پھر تیز۔ میز ہلنے لگی، اور کاپیاں فرش پر گر گئیں۔ عائشہ نے اپنی آواز دبانے کے لیے اپنے ہونٹوں کو دانتوں سے کاٹ لیا، مگر اس کی آہیں پھر بھی نکل رہی تھیں۔ عمران نے اس کے مموں کو دباتے ہوئے زور سے چودنا شروع کر دیا۔
“اور زور سے۔۔۔” عائشہ نے کہا۔ “مجھے پورا چاہیے۔۔۔”
عمران نے اس کی ٹانگوں کو اور کھول دیا اور پوری طاقت سے اندر باہر کرنے لگا۔ عائشہ کی چوت سے پانی نکلنے لگا، اور اس کا جسم کانپنے لگا۔ “میں۔۔۔ میں جھڑ رہی ہوں۔۔۔” اس نے چیخ کر کہا، پھر جلدی سے اپنا منہ اپنے ہاتھ سے بند کر لیا۔
اس کے جھڑتے ہی عمران نے بھی اپنا پانی اس کے اندر چھوڑ دیا، اور دونوں کچھ دیر اسی حالت میں رہے، ایک دوسرے کی سانسوں کو سنتے ہوئے۔ پھر عمران باہر نکلا اور عائشہ کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا۔
“یہ جو ہوا۔۔۔” عائشہ نے کہا، اپنی قمیض ٹھیک کرتے ہوئے۔ “یہ آخری بار نہیں ہو گا، ہے نا؟”
عمران مسکرایا۔ “یہ تو شروعات ہے۔” اس نے فرش سے کاپیاں اٹھائیں اور میز پر رکھ دیں۔ “کل پھر اسی وقت؟”
“کل۔” عائشہ نے کہا۔ “مگر احتیاط سے۔”
دونوں نے اپنے کپڑے ٹھیک کیے، بال سنوارے، اور ایک دوسرے کو آخری بار دیکھ کر مسکرا دیے۔ عمران نے عائشہ کے دوپٹے کو اس کے کندھے پر درست کیا، اور عائشہ نے عمران کی قمیض کا کالر سیدھا کیا، جیسے وہ دونوں برسوں سے ایک دوسرے کے یہ چھوٹے چھوٹے کام کرتے آ رہے ہوں۔ پھر عمران نے دروازے کی کنڈی کھولی۔ راہداری خالی تھی۔ عائشہ نے اپنا بیگ اٹھایا اور باہر نکل گئی، مگر اس کے قدموں میں ایک عجیب سی خوشی تھی جو اس نے برسوں سے محسوس نہیں کی تھی، اور اس کے دل میں ایک ہلکی سی دھڑکن تھی جو ہر قدم پر تیز ہو رہی تھی۔
اگلے دن عائشہ کلاس میں غزل پڑھا رہی تھی کہ اس کا فون وائبریٹ ہوا۔ اس نے میز کے نیچے فون دیکھا، اور اس کی سانس رک گئی۔ ایک نامعلوم نمبر سے ایک تصویر آئی تھی۔ تصویر میں وہ اور عمران تھے، کل شام کے خالی کلاس روم میں، ایک دوسرے کے بہت قریب۔ نیچے ایک لائن لکھی تھی: “استانی جی، یہ تصویر پرنسپل صاحب کو بھی اچھی لگے گی۔”
عائشہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے فوراً فون بند کر دیا اور کلاس کی طرف دیکھا، جہاں بچیاں اپنی کاپیوں میں مصروف تھیں اور کسی کو کچھ خبر نہیں تھی۔ مگر اس کے ذہن میں ایک ہی سوال گھوم رہا تھا، اور وہ سوال اس کے دل کی دھڑکن کے ساتھ تیز ہوتا جا رہا تھا۔ یہ تصویر کس نے کھینچی تھی؟ کلاس روم کا دروازہ تو بند تھا، کھڑکیاں بھی اندر سے بند تھیں۔ تو پھر یہ کون تھا جو ان دونوں کو دیکھ رہا تھا، اور وہ ان سے کیا چاہتا تھا؟
اگلا حصہ جلد آ رہا ہے۔۔۔
اس شام سے ایک ہفتہ پہلے، کالج کی لائبریری میں شام کے وقت صرف عائشہ اور عمران رہ گئے تھے۔ عائشہ ایک اونچی شیلف سے غزلوں کی کتاب اتارنے کی کوشش کر رہی تھی، اور اس کا ہاتھ کتاب تک نہیں پہنچ رہا تھا۔ “رکیں، میں مدد کرتا ہوں۔” عمران اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا، اور اس کا ہاتھ کتاب تک پہنچ گیا۔
مگر وہ ہٹا نہیں۔ وہ اس کے اتنے قریب کھڑا تھا کہ عائشہ کو اس کی سانس اپنی گردن پر محسوس ہو رہی تھی۔ “کتاب مل گئی ہے، اب ہٹ بھی جاؤ۔” عائشہ نے آہستہ کہا، مگر اس کی آواز میں غصہ نہیں تھا۔
“اگر میں نہ ہٹوں تو؟” عمران نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی۔ عائشہ نے کتاب کو اپنے سینے سے لگا لیا، جیسے وہ اپنے دل کی دھڑکن کو چھپانا چاہتی ہو۔
عمران نے آہستہ سے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ دیا۔ عائشہ نے آنکھیں بند کر لیں۔ لائبریری کی خاموشی میں صرف کتابوں کی خوشبو تھی، اور دو دلوں کی دھڑکنیں تھیں۔ “یہاں کوئی آ سکتا ہے۔” عائشہ نے کہا۔
“تو آنے دو۔” عمران نے اس کی گردن پر ایک ہلکا سا بوسہ دیا، اور عائشہ کے جسم میں ایک لہر دوڑ گئی۔ اس نے مڑ کر عمران کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اس کے ہونٹوں پر ایک تیز بوسہ دیا، پھر فوراً پیچھے ہٹ گئی، جیسے اسے اپنے ہی جذبے پر حیرت ہوئی ہو۔
“یہ غلط ہے۔” اس نے کہا، مگر وہ مسکرا رہی تھی۔
“غلط چیزیں ہی تو سب سے زیادہ یاد رہتی ہیں۔” عمران نے کتاب اس کے ہاتھ سے لے کر شیلف پر رکھ دی۔ “اور یہ بوسہ، یہ تو میں کبھی نہیں بھولوں گا۔”
عائشہ نے اس کی طرف دیکھا، پھر لائبریری کے دروازے کی طرف۔ کوئی نہیں تھا۔ اس نے عمران کا ہاتھ پکڑا، اس کی انگلیوں کو اپنی انگلیوں میں پھنسایا، اور دھیرے سے کہا: “کل شام، خالی کلاس روم میں۔ سب کے جانے کے بعد۔”
عمران کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ “وعدہ؟”
“وعدہ۔” عائشہ نے کہا، اور کتاب اٹھا کر لائبریری سے باہر نکل گئی، مگر اس کے قدموں کی آہٹ میں ایک نئی خوشی تھی۔
اردو ٹیچر سیکس کہانی: استانی کا راز (پارٹ 2)
Readers who enjoyed “اردو ٹیچر سیکس کہانی: استانی کا راز، حصہ 1” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔