نئی اردو سیکسی کہانی: ٹرین کی رات میں صبا
nayi urdu sexy story شروع ہوتی ہے ایک جھگڑے سے۔ "بتی جلائی رکھنی ہے تو مجھے پہلے بتا دیتے،" صبا نے نچلی برتھ سے سر اٹھا کر کہا۔ "میری نیند برباد کیے بغیر سفر تو کر ہی رہے ہو۔"
ندیم نے فون کی روشنی نیچی کی۔ "معاف کیجیے گا، سیلز مین ہوں، رات کو رپورٹ بھیجنی پڑتی ہے، ورنہ باس صبح چیختا ہے۔" صبا نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔ اوپری برتھ پر ایک تیس سالہ نوجوان، آستینیں چڑھی ہوئی، ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ۔
"تو باس کو بولو کہ عورتوں کی نیند بھی کوئی چیز ہوتی ہے،" صبا نے کہا۔ "بتی بند کرو، ورنہ ٹی ٹی کو بلاؤں گی۔" ندیم نے بتی بند کی۔ "ٹی ٹی تو کھانا کھا کر سویا ہوگا،" وہ بولا۔
ڈبے میں سامنے والی برتھوں پر ایک بوڑھا جوڑا خراٹے لے رہا تھا۔
ٹرین دلی سے نکلی۔ پہیوں کی ٹھک ٹھک نے ڈبے کو تال دے دی۔ ندیم نے فون رکھا اور نیچے جھانکا۔ "آپ کہاں تک جا رہی ہیں؟" "لکھنؤ، بہن کے گھر،" صبا نے آنکھیں بند کیے کہا۔
"اور تم؟" "لکھنؤ ہی، کام سے، دوائیوں کی کمپنی میں ہوں۔"
"آپ شادی شدہ لگتی ہیں،" ندیم نے اس کی انگوٹھی دیکھ کر کہا۔ صبا نے آنکھیں کھولیں۔ "لگتی ہوں یا ہوں؟" "ہیں۔" "تو پوچھنے کی کیا ضرورت تھی؟" "ضرورت اس لیے تھی کہ بات شروع ہو،" ندیم بولا۔
"ورنہ یہ رات بہت لمبی ہے اور خراٹے بہت اونچے ہیں۔"
صبا ہنس پڑی، کھلی بے تکلف ہنسی۔ "تم بڑے بے شرم ہو۔" "سیلز مین سبھی بے شرم ہوتے ہیں، یہی ہمارا ہنر ہے،" ندیم نے کہا۔ باہر کھڑکی سے گزرتی روشنیاں ان کے چہروں پر آ جا رہی تھیں۔
چائے والا آیا تو ندیم نے دو کپ لیے۔ "پیجیے، صلح کی چائے۔" صبا اٹھ کر بیٹھی، چادر کندھوں پر لپیٹی۔ "صلح؟ جنگ تو شروع بھی نہیں ہوئی۔
" اس نے گھونٹ بھرا۔ "تمہاری بیوی خوش قسمت ہے، چائے اچھی چنتے ہو۔"
"بیوی ہوتی تو خوش قسمت ہوتی،" ندیم بولا۔ "شادی کی تھی، دو سال چلی۔ وہ اپنے گھر، میں اپنے سفر پر۔ اب ٹرینیں ہی گھر ہیں۔
" اس کی آواز کی تھکاوٹ صبا کے دل کو چھو گئی۔ "میری شادی کو آٹھ سال ہو گئے،" وہ آہستہ بولی۔ "شوہر اچھے ہیں، مگر رات کو سو جاتے ہیں اور میں جاگتی رہتی ہوں۔"
"یہ بات میں کسی کو نہیں بتاتی، تمہیں کیوں بتا رہی ہوں، پتہ نہیں،" صبا نے کہا۔ "شاید اس لیے کہ ٹرین کے اجنبیوں سے سچ بولنا آسان ہوتا ہے،" ندیم بولا۔ چائے ختم ہوئی۔ صبا لیٹ گئی، ندیم اوپر چڑھ گیا۔
ڈبے میں خاموشی چھا گئی۔
آدھی رات کو ندیم کی آنکھ کھلی۔ صبا جاگ رہی تھی، فون کی روشنی میں ہونٹ کاٹ رہی تھی۔ "نیند نہیں آ رہی؟" اس نے سرگوشی کی۔ "عادت ہے، گھر پر بھی ایسے ہی جاگتی ہوں،" صبا بولی۔
ندیم نیچے اتر کر سامنے والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
"کیا پڑھ رہی تھیں؟" "کچھ نہیں، بس ٹائم پاس،" صبا نے فون بند کیا۔ "جھوٹ، ہونٹ کاٹنا بتا رہا تھا کہ کچھ دلچسپ تھا،" ندیم بولا۔ وہ ذرا قریب سرکا۔ ان کے گھٹنے تقریبا ٹکرا رہے تھے۔
صبا پیچھے نہیں ہٹی۔
"تمہاری آنکھیں بہت بولتی ہیں،" ندیم نے آہستہ کہا۔ "اور تمہارے ہونٹ بہت خاموش ہیں،" صبا بولی۔ "یہ اچھی بات نہیں۔" اس کی مسکراہٹ میں شرارت تھی۔
ٹرین کسی چھوٹے اسٹیشن پر رکی۔ بوڑھا جوڑا سامان سمیٹ کر اتر گیا۔ "خدا حافظ بیٹا۔"
دروازہ بند ہوا۔ ڈبے میں صرف وہ دونوں رہ گئے۔ رات کے تین بجے تھے۔ ایک نئی خاموشی اتر آئی، وہ خاموشی جو صرف دو جاگتے لوگوں کے درمیان ہوتی ہے۔
صبا کھڑکی کے پاس بیٹھ گئی۔ باہر اندھیرا تھا، کبھی کوئی روشنی گزر جاتی۔
اچانک صبا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، بغیر کسی تمہید کے۔ "تمہارے ہاتھ ٹھنڈے ہیں،" وہ بولی اور اسے اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔ اس کی انگلیاں اس کی انگلیوں میں الجھ گئیں۔ "اب گرم ہو جائیں گے،" ندیم نے اس کا ہاتھ دبایا۔
"تم جانتی ہو یہ کیا ہو رہا ہے؟" ندیم نے پوچھا۔ "نہیں، اور جاننا بھی نہیں چاہتی،" صبا بولی۔ اس نے اس کا ہاتھ اپنے گال پر رکھا۔ ندیم نے انگوٹھے سے اس کے گال کو سہلایا۔
"آٹھ سال میں کسی نے میرے گال کو ایسے نہیں چھوا،" وہ سرگوشی کی۔
ندیم نے اس کے ماتھے کو چوما، پھر آنکھوں کو، پھر ہونٹوں کے قریب رک گیا۔ "کہو تو رک جاؤں۔" صبا نے اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر کھینچا۔ "مت رکو۔
" ان کے ہونٹ مل گئے۔ پہلا بوسہ نرم تھا، پھر صبا نے اس کے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے پکڑا۔
ندیم نے اسے بانہوں میں بھینچ لیا۔ صبا کی چادر سرک گئی، کندھے ننگے ہو گئے۔ اس نے اس کی گردن پر بوسوں کی بارش کر دی۔ صبا نے سر پیچھے کیا۔
"آہستہ، کوئی آ جائے گا،" وہ بولی، مگر اس کے ہاتھ اس کی پیٹھ پر کس رہے تھے۔
"کوئی نہیں آئے گا، اگلا اسٹیشن لکھنؤ ہے، چار گھنٹے ہیں،" ندیم نے اس کے کان کی لو کو چوما۔ صبا کانپ گئی۔ اس نے اسے اٹھا کر نچلی برتھ پر لٹا دیا۔ برتھ تنگ تھی، مگر ان کے لیے کافی تھی۔
صبا نے اس کی شرٹ کے بٹن کھولے، ایک ایک کر کے۔ ندیم کا سینہ ننگا ہوا تو اس نے ہاتھ پھیرا۔ "مضبوط ہو،" وہ بولی۔ ندیم نے اس کی قمیض کے بٹن کھولے۔
گلابی برا کے نیچے اس کے دودھ بھرے اور گول تھے۔ اس نے ہک کھولا۔
نپل سخت ہو چکے تھے۔ ندیم نے ایک دودھ منہ میں لے کر چوسا۔ صبا نے اس کے بالوں میں انگلیاں گاڑ دیں۔ "آہ، ندیم۔
" اس نے دوسرے نپل کو انگلیوں سے مسلا، گھمایا۔ صبا کی کمر اٹھنے لگی۔ اس کی چوت میں گیلا پن پھیل رہا تھا۔
"تمہاری چھاتیاں بہت خوبصورت ہیں،" ندیم نے دونوں دودھوں کو ہاتھوں میں لے کر دبایا۔ صبا نے اس کی شرٹ کندھوں سے اتار دی۔ ندیم نے اس کی شلوار کا ڈور کھولا۔ صبا نے کولہے اٹھا کر اتارنے میں مدد کی۔
کالی پینٹی گیلی ہو چکی تھی۔
ندیم نے پینٹی کے اوپر سے اس کی چوت کو سہلایا۔ "گیلی ہو گئی ہو،" وہ شرارت سے بولا۔ "چپ کرو،" صبا نے اس کے کندھے پر مارا۔ اس نے پینٹی سرکائی اور انگلی چوت کے ہونٹوں پر پھیری۔
صبا نے ٹانگیں کھول دیں۔
چوت گیلی اور گرم تھی۔ ندیم نے ایک انگلی اندر ڈالی۔ صبا نے کراہ کر اس کی کلائی پکڑ لی۔ اس نے انگلی آہستہ آہستہ اندر باہر کی، پھر دوسری بھی ڈال دی۔
"کتنے دنوں بعد کوئی مجھے ایسے چھو رہا ہے،" صبا بڑبڑائی۔
ندیم نے جھک کر اس کی چوت کو چوما۔ "نہیں، وہاں نہیں،" صبا بولی، مگر اس کی ٹانگیں خود اور کھل گئیں۔ اس نے چوت کے دانے کو زبان سے چاٹا۔ صبا کا جسم کانپنے لگا۔
"اوہ خدا۔" اس نے زبان اندر ڈالی، چاٹا، چوسا۔
"بس کرو، میں جھڑ جاؤں گی،" صبا بولی۔ "تو جھڑ جاؤ،" ندیم نے چاٹنا جاری رکھا۔ اس کا جسم اکڑا، پھر ایک زور دار لہر دوڑی۔ چوت سے پانی نکلا۔
وہ کانپتی رہی۔ ندیم نے اس کا پانی چاٹ لیا۔ "میٹھا ہے،" وہ بولا۔
"اب میری باری،" صبا نے اسے اوپر کھینچا۔ اس نے ندیم کی پینٹ کا بٹن کھولا۔ لنڈ پہلے سے کھڑا تھا، لمبا اور موٹا۔ اس نے اسے ہاتھ میں لیا۔
"کتنا بڑا ہے۔" ندیم کراہا جب اس نے لنڈ کو ہلایا۔
صبا نے جھک کر لنڈ کے سرے کو چوما، پھر منہ میں لیا۔ "آہ، صبا،" ندیم کراہا۔ اس نے لنڈ کو اندر تک لیا، چوسا، زبان گرد گھمائی۔ اس کے ہاتھ اس کے ٹٹوں کو سہلا رہے تھے۔
لعاب ٹپک رہا تھا۔
"اور تیز،" ندیم نے اس کے بال پکڑے۔ صبا نے رفتار بڑھا دی۔ اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ "میں جھڑنے والا ہوں۔
" صبا نے منہ ہٹا کر لنڈ کو ہاتھ سے تیز ہلایا۔ گرم گاڑھا پانی اس کے ہاتھ پر نکلا۔ "دیکھو، تم نے کیا کیا،" وہ ہنس کر بولی۔
"ابھی تو شروعات ہے،" ندیم نے اسے برتھ پر لٹایا۔ اس نے اس کی ٹانگیں کھولیں۔ لنڈ اب بھی کھڑا تھا۔ "تیار ہو؟" "آٹھ سال سے تیار ہوں،" صبا بولی اور اس کی کمر میں ٹانگیں لپیٹ لیں۔
اس نے لنڈ چوت کے منہ پر رکھا۔
پہلا دھکا آہستہ تھا۔ لنڈ اندر اترنے لگا۔ "آہ، کتنا موٹا ہے،" صبا کراہی۔ اس نے پورا لنڈ اندر ڈال دیا۔
چوت نے اسے کس لیا۔ "رکو، ذرا رکو،" وہ بولی۔ وہ رکا، اس کے دودھوں کو چومتا رہا۔ پھر صبا بولی، "اب چودو مجھے۔
"
اس نے دھکے مارنے شروع کیے۔ پہلے آہستہ، پھر تیز۔ برتھ چرچرانے لگی۔ "آواز ہو رہی ہے،" صبا بولی، مگر وہ خود اس کی کمر دھکیل رہی تھی۔
"اور تیز کرو۔" لنڈ اندر باہر ہو رہا تھا۔ چوت سے گیلی آوازیں آ رہی تھیں۔
"تمہاری چوت بہت ٹائٹ ہے،" ندیم بولا۔ "تمہارا لنڈ بہت مزہ دے رہا ہے،" صبا نے جواب دیا۔ اس نے اس کی ٹانگیں کندھوں پر رکھ لیں۔ لنڈ اور گہرا جانے لگا۔
صبا نے چادر دانتوں سے کاٹ لی۔ "آہ، وہیں، وہیں۔"
ندیم نے اسے پلٹا دیا۔ "کتیا بن جاؤ۔" صبا گھٹنوں کے بل ہوئی، کولہے اٹھا دیے۔ اس نے پیچھے سے لنڈ ڈالا۔
صبا نے کراہ دبائی۔ "ہاں، ایسے ہی۔" اس نے کولہے پکڑ کر تیز دھکے مارے۔ اس کے دودھ آگے پیچھے ہل رہے تھے۔
"تمہارے کولہے بہت خوبصورت ہیں،" ندیم نے ایک کولہے پر ہلکی تھپڑ ماری۔ صبا نے کولہے اور اٹھا دیے۔ "اور مارو۔" اس نے پھر مارا۔
چوت اور گیلی ہو گئی۔ "میں جھڑنے والی ہوں،" وہ چیخی۔ "ساتھ میں جھڑتے ہیں،" وہ بولا۔
رفتار بڑھ گئی۔ برتھ زور سے چرچرا رہی تھی۔ ٹرین کی ٹھک ٹھک کے ساتھ ان کی سانسیں مل رہی تھیں۔ صبا کا جسم اکڑا اور وہ زور دار لہر کے ساتھ جھڑی۔
چوت نے لنڈ کو کس لیا۔ اس نے چند تیز دھکے مارے اور پانی چوت میں نکلا۔ "آہ۔" دونوں ایک ساتھ کراہے۔
وہ لپٹے لیٹے رہے۔ لنڈ اب بھی چوت میں تھا۔ "یہ میں نے کیا کر دیا،" صبا آہستہ بولی۔ "وہی جو تم آٹھ سال سے کرنا چاہتی تھیں،" ندیم نے اس کے ماتھے کو چوما۔
"میں بہت اکیلی تھی۔" "اب نہیں ہو،" وہ بولا۔ "کم از کم آج رات نہیں۔"
"صرف آج رات؟" صبا نے پوچھا۔ "لکھنؤ میں ہفتہ بھر رہوں گا، ہوٹل میں اکیلا،" ندیم مسکرایا۔ اس کی آنکھیں چمکیں۔ "بہن کے گھر سے ہوٹل کتنی دور ہے؟" "پتہ کر لیں گے،" وہ بولا۔
"فون نمبر دو گی؟" صبا نے نمبر ڈائل کیا۔ اس کے فون پر گھنٹی بجی۔
"اب تمہارا نمبر میرے پاس ہے،" صبا بولی۔ "بہن کو کیا بتاؤ گی؟" "کہوں گی پرانی سہیلی مل گئی ہے،" وہ شرارت سے بولی۔ "جھوٹ بولنا بھی تم سے سیکھا ہے۔" وہ کپڑے پہننے لگے۔
باہر آسمان میں ہلکی سفیدی آ رہی تھی۔
ٹرین کی رفتار کم ہوئی۔ اعلان ہوا کہ لکھنؤ آنے والا ہے۔ صبا نے سامان سمیٹا، ندیم نے بیگ اٹھایا۔ "بھاری ہے،" وہ بولا۔
"میری زندگی کی طرح،" وہ ہنس کر بولی۔ دروازہ کھلا، ٹھنڈی صبح کی ہوا اندر آئی۔
ٹرین رکی۔ وہ پلیٹ فارم پر اترے۔ صبح کے پانچ بجے تھے، ہلکی دھند تھی۔ "میری بہن باہر انتظار کر رہی ہوگی،" صبا بولی۔
"مجھے جانا چاہیے۔" ندیم نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ "فون کرو گی؟" "تمہیں لگتا ہے میں اتنی آسانی سے بھول جاؤں گی؟ آج رات، آٹھ بجے۔"
"آٹھ بجے،" ندیم نے دہرایا۔ "ہوٹل کا پتہ بھیج دوں گا۔" صبا نے ادھر ادھر دیکھا اور جلدی سے اس کے گال کو چوما۔ "ٹرین کی رات کے لیے شکریہ،" وہ سرگوشی کی۔
"یہ رات میں کبھی نہیں بھولوں گی۔" "میں بھی نہیں،" وہ بولا۔
صبا نے بیگ اٹھایا اور چلنے لگی۔ چند قدم جا کر وہ رکی اور مڑی۔ "ندیم۔" "ہاں؟" "اگلی بار بتی پہلے ہی بند کر دینا،" وہ ہنس کر بولی اور بھیڑ میں غائب ہو گئی۔
ندیم پلیٹ فارم پر کھڑا مسکراتا رہا، اس کے فون میں ایک نیا نمبر تھا اور دل میں ایک نئی امید۔
Readers who enjoyed “نئی اردو سیکسی کہانی: ٹرین کی رات میں صبا” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔