اردو ہاٹ سٹوریز: چوڑی والے کے ساتھ وہ دوپہر
”چوڑیاں لے لو۔۔۔ رنگ برنگی چوڑیاں۔“ دروازے پر آواز آئی اور شبنم کے ہاتھ سے چائے کا کپ چھوٹتے چھوٹتے بچا، کیونکہ یہ آواز وہ پہچانتی تھی اور اس آواز کے ساتھ جو خیال آتا تھا وہ کسی اردو ہاٹ سٹوریز سے کم نہ تھا۔
سلیم چوڑی والا۔ تیس سال، چوڑا سینہ، گہری آواز۔ ہر جمعرات کو گلی میں آتا تھا۔ شبنم اٹھائیس سال کی تھی، شوہر دبئی میں، اور ہر جمعرات وہ اس آواز کا انتظار کرتی تھی۔
اس نے دوپٹہ سنبھالا اور دروازہ کھولا۔ سلیم سامنے کھڑا تھا، کندھے پر بڑا تھیلا، ماتھے پر پسینہ۔ اس کی آنکھیں شبنم پر ٹھہریں، ایک لمحہ زیادہ۔
”آج کیا لائی ہو سلیم بھائی؟“ شبنم نے کہا، مگر اس کی آواز میں وہ نرمی تھی جو صرف اس کے لیے تھی۔
”آج تمہارے لیے خاص مال لایا ہوں بھابھی۔“ سلیم اندر آیا۔ ”لال چوڑیاں، تمہاری کلائی کے ناپ کی۔ مجھے یاد ہے ناپ۔“
شبنم کا دل دھڑکا۔ اسے ناپ یاد ہے۔ اس کا مطلب وہ اسے دیکھتا ہے۔ غور سے دیکھتا ہے۔
”بیٹھو، چائے بناتی ہوں۔“ وہ بولی۔
”چائے بعد میں۔ پہلے چوڑیاں دیکھو۔“ سلیم نے تھیلا کھولا۔ رنگ برنگے ڈبے۔ اس نے ایک ڈبہ نکالا، لال چوڑیوں والا۔ ”ہاتھ دو۔“
شبنم نے ہاتھ بڑھایا۔ سلیم نے اس کی کلائی پکڑی۔ اس کی گرفت مضبوط تھی، انگلیاں گرم۔ وہ ایک ایک کر کے چوڑیاں اس کی کلائی میں ڈالنے لگا۔
ہر چوڑی کے ساتھ اس کی انگلیاں اس کی جلد کو چھوتیں۔ شبنم کی سانس تیز ہو رہی تھی۔
سلیم نے جان بوجھ کر آہستہ کیا۔ ایک چوڑی ڈالی، پھر رکا، اس کی کلائی کو دیکھا، پھر دوسری۔ اس کی انگلیاں ہر بار تھوڑی دیر زیادہ ٹھہرتیں۔
”اتنی چوڑیاں کیوں پہنا رہے ہو؟“ شبنم نے پوچھا، آواز میں ہلکی سی لرزش۔
”تاکہ تمہیں اتارنے میں بھی وقت لگے۔“ سلیم نے نظریں اٹھائیں، اور اس مسکراہٹ میں سب کچھ تھا۔ ”اور پہنانے میں بھی۔“
شبنم کے ہونٹ خشک ہو گئے۔ اس نے زبان سے انہیں تر کیا۔ سلیم کی نظر وہیں اٹک گئی۔
”کتنی پیاری کلائی ہے تمہاری۔“ سلیم نے کہا، نظریں اٹھا کر۔ ”ایسی کلائی پر یہ چوڑیاں جچتی ہیں۔“
”سلیم۔۔۔“ شبنم کی آواز کانپ گئی۔
”ہوں؟“ وہ اس کے اور قریب آیا۔ اب ان کے درمیان صرف چوڑیوں کا ڈبہ تھا۔
”تم ہر بار ایسے ہی۔۔۔“ وہ جملہ پورا نہ کر سکی۔
”ایسے ہی کیا؟“ سلیم کی آواز گہری ہو گئی۔ ”سچ بولو بھابھی۔ تم بھی تو ہر جمعرات میرا انتظار کرتی ہو۔“
شبنم کے گال سرخ ہو گئے۔ پکڑی گئی تھی۔ ”میں۔۔۔ میں چوڑیوں کا انتظار کرتی ہوں۔“
”صرف چوڑیوں کا؟“ سلیم نے اس کی کلائی چھوڑی نہیں۔ اس کا انگوٹھا اس کی نبض پر تھا۔ ”تمہاری دھڑکن تو کچھ اور کہہ رہی ہے۔“
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ باہر گلی میں بچوں کے کھیلنے کی آوازیں، دور سے کسی ریڑھی والے کی صدا۔ اور یہاں، اس چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں، دو دل اتنی زور سے دھڑک رہے تھے کہ ایک دوسرے کو سنائی دے رہے تھے۔
”تمہارا شوہر۔۔۔“ سلیم نے کہا۔
”دبئی میں ہے۔“ شبنم نے جلدی سے کہا۔ ”دو مہینے سے نہیں آیا۔“
”دو مہینے۔“ سلیم نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔ ”اور تم اتنی خوبصورت۔ یہ تو ظلم ہے۔“
شبنم نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش نہیں کی۔ ”سلیم، یہ ٹھیک نہیں۔“
”کیا ٹھیک نہیں؟“ وہ اٹھا اور اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ ”میں صرف تمہاری تعریف کر رہا ہوں۔“
اس کا قد لمبا تھا۔ شبنم کو اوپر دیکھنا پڑ رہا تھا۔ اس کی چوڑی چھاتی، اس کے مضبوط بازو۔ اس کے جسم میں ایک لہر دوڑ گئی۔
”تم جاؤ یہاں سے۔“ وہ بولی، مگر اس کی ٹانگیں ہلیں نہیں۔
”کہہ دو ایک بار دل سے کہ جاؤں۔“ سلیم نے اس کی ٹھوڑی اٹھائی۔ ”دل سے کہو۔“
شبنم اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی۔ وہ کہہ نہ سکی۔
سلیم نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ پہلے آہستہ، سوال کرتے ہوئے۔ شبنم نے آنکھیں بند کر لیں۔ اور پھر اس نے جواب دیا۔
بوسہ گہرا ہو گیا۔ سلیم کی زبان اس کے منہ میں۔ شبنم کے ہاتھ اس کی قمیض پر، اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے۔
”شبنم۔۔۔“ وہ اس کے ہونٹوں پر ہی بولا۔ ”تمہیں پتہ ہے میں کتنے دن سے یہ سوچ رہا ہوں؟“
”کتنے دن سے؟“
”پہلے دن سے۔ جب پہلی بار تم نے مجھ سے چوڑیاں لیں تھیں۔“ اس کے ہاتھ اس کی کمر پر۔ ”تب سے ہر رات۔۔۔“
شبنم کا جسم کانپ رہا تھا۔ ”میں بھی۔۔۔ میں بھی سوچتی تھی۔“
یہ اعتراف دونوں کے درمیان آخری دیوار گرا گیا۔ سلیم نے اسے اٹھا لیا۔ شبنم کی چیخ اس کے سینے میں دب گئی۔
”کہاں؟“ اس نے پوچھا۔
”اندر۔۔۔ بیڈروم۔“ شبنم نے اشارہ کیا۔
بیڈروم میں سلیم نے اسے بستر پر لٹایا۔ وہ اس پر جھکا۔ اس کی آنکھوں میں وہ بھوک تھی جو شبنم نے مہینوں سے کسی مرد کی آنکھوں میں نہیں دیکھی تھی۔
اس نے اس کا دوپٹہ ہٹایا۔ پھر اس کی قمیض کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے۔ شبنم کی سانس ہر بٹن کے ساتھ تیز ہوتی گئی۔
قمیض کھلی۔ اس کے ممے سامنے تھے۔ سلیم کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
”اتنے خوبصورت۔۔۔“ وہ بولا اور اپنا منہ وہیں رکھ دیا۔
شبنم کی کمر کمان کی طرح اٹھی۔ ”آہ۔۔۔ سلیم۔۔۔“
اس کی زبان اس کے نپل پر گھوم رہی تھی۔ اس کے ہاتھ اس کے دوسرے ممے کو دبا رہے تھے۔ شبنم کے منہ سے آوازیں نکل رہی تھیں جو اس نے کبھی نہیں نکالی تھیں۔
”تمہارا شوہر۔۔۔ وہ یہ سب نہیں کرتا؟“ سلیم نے پوچھا، منہ اٹھائے بغیر۔
”وہ۔۔۔ وہ جلدی میں رہتا ہے۔“ شبنم ہانپ رہی تھی۔ ”تم جیسا۔۔۔ کوئی نہیں۔۔۔“
سلیم مسکرایا۔ اس کے ہاتھ نیچے گئے۔ اس کی شلوار کا ناڑا کھولا۔ شبنم نے اسے روکا نہیں۔
شلوار نیچے۔ اب وہ صرف پینٹی میں تھی۔ سلیم کی نظر وہیں ٹھہری۔
”گیلی ہو گئی ہو تم۔“ اس نے کہا۔ ”دیکھو۔“
شبنم نے شرم سے منہ پھیر لیا۔ مگر سلیم نے اس کی ٹھوڑی پکڑ کر اپنی طرف کی۔
”شرماؤ مت۔ یہ تو خوبصورتی ہے۔“ اس نے پینٹی بھی اتار دی۔
اب شبنم پوری ننگی اس کے سامنے تھی۔ سلیم اسے دیکھ رہا تھا، جیسے کوئی قیمتی چیز دیکھ رہا ہو۔
”تم لیٹ جاؤ۔“ شبنم نے کہا اچانک۔
”کیوں؟“
”میری باری۔“ اس کی آنکھوں میں شرارت تھی۔
سلیم لیٹ گیا۔ شبنم نے اس کی قمیض اتاری۔ اس کا سینہ چوڑا، بالوں بھرا۔ اس نے اس پر ہاتھ پھیرا۔ سلیم کی آنکھیں بند ہو گئیں۔
پھر اس کی شلوار۔ شبنم نے اسے کھولا۔ اس کا لن باہر آیا۔ لمبا، موٹا، تنا ہوا۔
شبنم نے اسے ہاتھ میں لیا۔ گرم۔ دھڑکتا ہوا۔ اس نے اس پر ہاتھ اوپر نیچے کیا۔ سلیم کے منہ سے آواز نکلی۔
”شبنم۔۔۔ تم۔۔۔“
”ششش۔“ اس نے اسے منہ میں لے لیا۔
سلیم کی انگلیاں اس کے بالوں میں گڑ گئیں۔ ”اوہ۔۔۔ تم تو۔۔۔ تم تو ماہر ہو۔“
شبنم کی زبان اس کی نوک پر گھوم رہی تھی۔ وہ گہرائی تک لے رہی تھی۔ سلیم کا جسم تن رہا تھا۔
”رکو۔۔۔ رکو شبنم۔۔۔ میں۔۔۔“ وہ بولا۔
شبنم رک گئی۔ ”ابھی نہیں۔“ وہ بولی۔ ”ابھی تو شروعات ہے۔“
وہ اس پر چڑھ گئی۔ اس نے اس کے لن کو پکڑا اور اپنی چوت پر رکھا۔ آہستہ آہستہ وہ بیٹھ گئی۔
وہ اس کے اندر گیا۔ شبنم کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ اتنا بھرا ہوا۔۔۔ اتنا گہرا۔۔۔
”ہاں۔۔۔“ وہ بولی۔
سلیم نے اس کی کمر پکڑی۔ ”مت ہلو ابھی۔ بس۔۔۔ بس ایسے ہی رہو۔“
کچھ لمحے وہ ایسے ہی رہے۔ ایک دوسرے میں۔ پھر شبنم نے حرکت شروع کی۔ اوپر نیچے۔ آہستہ، پھر تیز۔
بستر چرمرایا۔ شبنم کے بال ہوا میں اڑ رہے تھے۔ اس کے منہ سے ایسی آوازیں نکل رہی تھیں جو اس نے کبھی نہیں نکالی تھیں۔
”اور زور سے۔۔۔ اور زور سے کرو۔۔۔“ وہ بولی۔
سلیم نے اسے پلٹ دیا۔ اب وہ اوپر۔ اس نے اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور گہرے دھکے دینے لگا۔
شبنم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ خوشی کے۔ ”سلیم۔۔۔ تم۔۔۔ تم بہت۔۔۔“
”میں کیا؟“ اس نے دھکا دیتے ہوئے پوچھا۔
”بہت اچھے۔۔۔ ہو۔۔۔“ اس کا جملہ ٹوٹ گیا، کیونکہ اس کا پہلا پانی نکل رہا تھا۔
اس کا جسم کانپا۔ سلیم رکا نہیں۔ وہ چلتا رہا، اس کے پانی میں ہی۔
”اب۔۔۔ اب تم۔۔۔“ شبنم بولی۔
سلیم کی رفتار بڑھ گئی۔ اس کے دھکے گہرے، زوردار۔ پھر اس نے اسے زور سے پکڑا اور اس کا پانی اس کے اندر ہی نکل گیا۔ وہ اس پر ہی گر پڑا، دونوں پسینے میں شرابور۔
کچھ منٹ کوئی کچھ نہ بولا۔ صرف سانسوں کی آوازیں۔
پھر باہر سے آواز آئی۔ ”چوڑیاں لے لو۔۔۔“ کوئی دوسرا پھیری والا تھا۔ دونوں ہنس پڑے۔
”تمہارا کاروبار چلا گیا۔“ شبنم بولی۔
”آج کا سب سے اچھا سودا تو یہیں ہو گیا۔“ سلیم نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
شبنم اٹھی۔ اس نے لال چوڑیاں پہنیں، وہی جو سلیم لایا تھا۔ کلائی میں کھنکھنائیں۔
”اگلے جمعرات؟“ اس نے پوچھا، شرارت سے۔
”اگلے جمعرات۔“ سلیم نے کہا۔ ”اور اس بار میں نئی ڈیزائن کی چوڑیاں لاؤں گا۔ بہت ساری۔“
”چوڑیاں کم، تم زیادہ آنا۔“ شبنم بولی اور اس کے ہونٹوں پر ایک بوسہ دیا۔
سلیم تھیلا اٹھا کر چلا گیا۔ شبنم دروازے پر کھڑی اسے دیکھتی رہی۔ اس کی کلائی میں لال چوڑیاں کھنکھنا رہی تھیں۔
آج کی دوپہر۔۔۔ آج کی دوپہر اس کی زندگی کی سب سے رنگین دوپہر تھی۔ بالکل ان چوڑیوں جیسی۔
Readers who enjoyed “اردو ہاٹ سٹوریز: چوڑی والے کے ساتھ وہ دوپہر” also read
8 curated storiesاردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات
رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.
اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر
اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔
Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz
ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔
اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس
اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔
اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات
کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔
اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون
یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔
Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)
گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔
اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی
دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔