Hardcore Desiاردو (Urdu)⭐ Original Edition

اردو محبت بھری کہانی: دو سال بعد کی واپسی

N
10 min read0 readers
Font:
0:000:00
Share Story:

ایئرپورٹ کے باہر بھیڑ میں کھڑی زویا کی نظریں گیٹ پر جمی تھیں۔ یہ اردو محبت بھری کہانی اسی لمحے سے شروع ہوتی ہے، جب دو سال کی جدائی کے بعد بلال کی فلائٹ لینڈ ہوئی تھی۔ زویا کے ہاتھ میں پھولوں کا ہار تھا اور دل میں دھڑکن۔

گیٹ کھلا۔ مسافر باہر آنے لگے۔ زویا نے بلال کو دیکھا۔ وہی چوڑے کندھے، وہی مسکراہٹ، بس چہرے پر تھکن کی لکیر گہری تھی۔ بلال نے اسے دیکھا اور بھیڑ چیرتا ہوا اس کی طرف بڑھا۔

ہار زویا کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرا۔ بلال نے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ دو سال کی دوری ایک جھٹکے میں ختم ہو گئی۔ زویا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

تم آ گئے، زویا نے اس کے سینے سے لگ کر کہا۔ بلال نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ ہاں جان، اس نے کہا۔ اب کہیں نہیں جاؤں گا۔

ٹیکسی میں دونوں پیچھے بیٹھے تھے۔ بلال کا ہاتھ زویا کے ہاتھ میں تھا۔ زویا نے اس کی انگلیوں کو دبایا۔ بلال نے اس کی طرف دیکھا اور آنکھ ماری۔ زویا شرما گئی۔

گھر پہنچے تو شام ڈھل چکی تھی۔ زویا نے بلال کے لیے اس کی پسند کا کھانا بنایا تھا۔ بریانی، کباب، اور شیر خرما۔ بلال نے دو نوالے کھائے اور پھر زویا کو دیکھنے لگا۔

کھانا بعد میں، بلال نے کہا۔ وہ اٹھا اور زویا کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈروم میں لے گیا۔ دروازہ بند ہوا۔ زویا کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔

بلال نے زویا کو دیوار سے لگایا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ دو سال کی پیاس ایک بوسے میں اتر آئی۔ زویا نے اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کیے۔

تم بہت یاد آئی، بلال نے اس کی گردن پر بوسے دیتے ہوئے کہا۔ زویا نے اس کی پیٹھ پر ناخن گاڑ دیے۔ تم بھی، اس نے کہا۔ ہر رات۔

بلال نے زویا کا دوپٹہ کھینچ کر پھینک دیا۔ پھر اس کی کرتی کے بٹن ایک ایک کر کے کھولے۔ زویا صرف شلوار میں کھڑی تھی۔ بلال کی نظریں اس کے بدن پر تھیں۔

کتنی خوبصورت ہو گئی ہو، بلال نے کہا۔ اس نے زویا کو بیڈ پر لٹایا اور خود اس کے اوپر آیا۔ اس نے اس کے مموں کو ہاتھوں میں لیا اور دبانے لگا۔

زویا نے سسکی بھری۔ بلال نے اس کی ایک چھاتی منہ میں لے لی اور چوسنے لگا۔ اس کا دوسرا ہاتھ زویا کی شلوار کے اندر گیا۔ اس کی انگلیاں زویا کی چوت پر تھیں۔

زویا گیلی ہو چکی تھی۔ بلال نے ایک انگلی اندر ڈالی۔ زویا نے بیڈ کی چادر مٹھی میں بھینچ لی۔ بلال نے انگلی اندر باہر کرنی شروع کی۔

بس اب، زویا نے کہا۔ مجھے پورا چاہیے۔ بلال نے اپنی پینٹ اتاری۔ اس کا لنڈ تنا ہوا تھا۔ زویا نے اسے دیکھا اور ہونٹ کاٹ لیے۔

بلال نے لنڈ کو زویا کی چوت پر رکھا اور آہستہ آہستہ اندر ڈالا۔ زویا نے ایک لمبی سانس لی۔ وہ پورا اندر تھا۔ دو سال بعد کا پہلا ملاپ۔

بلال نے دھکے مارنے شروع کیے۔ پہلے آہستہ، پھر تیز۔ زویا نے اپنی ٹانگیں اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیں۔ بیڈ چرچرانے لگا۔

زویا نے بلال کے کندھوں کو پکڑ رکھا تھا۔ اس کے ناخن اس کی پیٹھ میں دھنس رہے تھے۔ بلال نے اس کی گردن پر کاٹا۔ زویا چلائی۔

اور تیز، زویا نے کہا۔ بلال نے اس کی کمر پکڑی اور پوری طاقت سے دھکے مارنے لگا۔ زویا کا جسم کانپنے لگا۔ وہ جھڑنے والی تھی۔

میں جھڑ رہی ہوں، زویا نے چیخا۔ بلال نے آخری زوردار دھکے مارے۔ زویا کا جسم اکڑ گیا۔ اس کی چوت نے لنڈ کو کس لیا۔ بلال بھی اسی لمحے جھڑ گیا۔

دونوں ہانپتے ہوئے ایک دوسرے پر گر پڑے۔ بلال نے زویا کو بانہوں میں بھر لیا۔ میں نے تمہیں دبئی میں ہر رات یاد کیا، اس نے کہا۔ زویا نے اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔

رات کو دونوں نے مل کر کھانا کھایا۔ بلال نے زویا کو اپنے ہاتھ سے کھلایا۔ زویا ہنس رہی تھی۔ دو سال کی تنہائی آج ختم ہوئی تھی۔

صبح پانچ بجے زویا کی آنکھ کھلی۔ بلال ابھی سو رہا تھا۔ زویا اٹھی اور کچن میں چائے بنانے گئی۔ بلال بھی اٹھ کر اس کے پیچھے آیا۔

کچن میں بلال نے پیچھے سے زویا کو پکڑ لیا۔ اس کے ہاتھ اس کے نائٹی کے اندر گئے۔ زویا نے چائے کا برتن رکھ دیا۔ ابھی تو رات کو، اس نے ہنستے ہوئے کہا۔

رات کافی نہیں تھی، بلال نے کہا۔ اس نے زویا کی نائٹی اوپر کی اور اس کی شلوار نیچے کی۔ زویا کچن کی سلیب پر جھکی۔

بلال نے پیچھے سے اس کی چوت میں لنڈ ڈال دیا۔ زویا نے سلیب پکڑ لی۔ صبح کی ٹھنڈی ہوا کھڑکی سے آ رہی تھی اور ان کے جسموں کی گرمی کچن میں بھر گئی۔

بلال کے دھکے تیز تھے۔ زویا کے ممے ہر دھکے پر ہل رہے تھے۔ بلال نے آگے ہاتھ بڑھا کر اس کے نپل مسلے۔ زویا سسک رہی تھی۔

زویا پہلے جھڑی۔ اس کی چیخ کچن کی دیواروں سے ٹکرائی۔ بلال نے اس کے بال پکڑے اور آخری دھکے مارے۔ وہ بھی جھڑ گیا۔ دونوں ہانپتے ہوئے کھڑے رہے۔

چائے ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ دونوں نے ہنستے ہوئے نئی چائے بنائی۔ زویا نے بلال کے گال پر بوسہ دیا۔ تم بدل نہیںے، اس نے کہا۔

دن بھر دونوں نے گھر کے کام کیے۔ بلال نے اپنا سامان کھولا۔ دبئی سے لائے تحفے نکالے۔ زویا کے لیے سونے کی چوڑیاں، امی کے لیے کھجوریں۔

دوپہر کو زویا نے بلال کو نہلانے کا فیصلہ کیا۔ باتھ روم میں دونوں ایک ساتھ شاور کے نیچے کھڑے تھے۔ پانی ان کے بدنوں پر بہہ رہا تھا۔

بلال نے زویا کے بدن پر صابن لگایا۔ اس کے ہاتھ اس کے مموں پر، اس کی کمر پر، اس کی رانوں پر۔ زویا نے بھی اس کے بدن پر صابن لگایا۔ اس کا ہاتھ اس کے لنڈ پر رکا۔

زویا نے بلال کے لنڈ کو ہاتھ میں لیا اور ہلانے لگی۔ پانی اور صابن کی چکناہٹ میں اس کا ہاتھ تیزی سے چل رہا تھا۔ بلال نے دیوار پکڑ لی۔

زویا نیچے بیٹھی اور بلال کے لنڈ کو منہ میں لے لیا۔ شاور کا پانی ان دونوں پر برس رہا تھا۔ بلال نے اس کے بال پکڑے۔ زویا تیزی سے سر ہلا رہی تھی۔

بلال جھڑنے والا تھا۔ اس نے زویا کو اٹھایا اور دیوار سے لگایا۔ اس نے ایک ٹانگ اٹھائی اور لنڈ اندر ڈال دیا۔ کھڑے کھڑے دھکے۔

پانی کی آواز میں ان کی سسکیاں دب رہی تھیں۔ زویا کی پیٹھ دیوار سے رگڑ رہی تھی۔ بلال نے اسے کس کر پکڑ رکھا تھا۔ دونوں ایک ساتھ جھڑے۔

شام کو دونوں چھت پر جانے سے پہلے زویا نے کھانا بنایا۔ بلال کچن میں آیا اور پیچھے سے اس کی کمر میں بانہیں ڈال دیں۔ زویا نے روٹی بیلنی روک دی۔

کھانا جل جائے گا، زویا نے کہا۔ بلال نے اس کی گردن پر بوسہ دیا۔ جلنے دو، اس نے کہا۔ زویا نے ہنستے ہوئے اسے دھکیلا اور روٹی توے پر ڈالی۔

کھانے کے دوران بلال کی نظریں زویا پر تھیں۔ زویا نے اس کی ٹانگ پر اپنی ٹانگ رکھی۔ میز کے نیچے دونوں کے پیر آپس میں الجھے تھے۔

تمہاری یہ ادا دبئی میں بہت یاد آتی تھی، بلال نے کہا۔ زویا نے شرماتے ہوئے سر جھکا لیا۔ اب تو میں یہیں ہوں، اس نے کہا۔ روز دیکھنا۔

شام کو دونوں چھت پر گئے۔ لکھنؤ کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ آسمان میں تارے نکل آئے تھے۔ زویا بلال کے کندھے پر سر رکھ کر بیٹھی تھی۔

دبئی میں میں ہر رات چھت پر آتا تھا، بلال نے کہا۔ تارے دیکھتا تھا اور سوچتا تھا کہ تم بھی یہی تارے دیکھ رہی ہوگی۔ زویا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

میں روز دیکھتی تھی، زویا نے کہا۔ اور تمہارے لیے دعا کرتی تھی۔ بلال نے اس کا ہاتھ تھاما۔ اب دعا قبول ہو گئی۔

چھت پر ایک دری بچھی تھی۔ بلال نے زویا کو اس پر لٹایا۔ کھلے آسمان کے نیچے، تاروں کی چھاؤں میں۔ زویا نے شرماتے ہوئے اپنے کپڑے اتارنے دیے۔

بلال نے زویا کے پورے بدن پر بوسے دیے۔ اس کی انگلیاں اس کی چوت میں تھیں۔ زویا کی سسکیاں رات کی خاموشی میں گونج رہی تھیں۔ کوئی سننے والا نہیں تھا۔

بلال زویا کے اوپر آیا۔ اس نے آہستہ آہستہ لنڈ اندر ڈالا۔ زویا نے اس کی پیٹھ پر بانہیں لپیٹ لیں۔ دونوں کی نظریں ایک دوسرے میں تھیں۔

یہ ملاپ پہلے سے مختلف تھا۔ کوئی جلدی نہیں تھی۔ بلال کے ہر دھکے میں دو سال کی محبت تھی۔ زویا کے ہر سسکے میں دو سال کی تنہائی کا ازالہ تھا۔

میں تم سے محبت کرتا ہوں، بلال نے کہا۔ زویا نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا۔ میں بھی، اس نے کہا۔ ہمیشہ سے۔

بلال نے رفتار بڑھائی۔ زویا نے اپنی ٹانگیں اس کے گرد کس لیں۔ دری پر دونوں کے جسم ایک ہو رہے تھے۔ تارے اوپر چمک رہے تھے۔

زویا پہلے جھڑی۔ اس کا جسم کانپا۔ بلال نے اسے کس کر پکڑا اور آخری دھکوں کے ساتھ خود بھی جھڑ گیا۔ دونوں ہانپتے ہوئے تاروں کو دیکھتے رہے۔

کتنے تارے ہیں، زویا نے کہا۔ بلال نے مسکرایا۔ جتنے دن میں نے تمہیں یاد کیا، اس نے کہا۔ زویا نے اس کے سینے پر مکا مارا اور ہنس دی۔

دونوں نیچے آئے اور سو گئے۔ صبح زویا نے بلال کو جگایا۔ اٹھو، اس نے کہا۔ امی آ رہی ہیں۔ بلال نے اسے پکڑ کر بستر پر گرا دیا۔

پانچ منٹ، بلال نے کہا۔ زویا نے ہنستے ہوئے اسے دھکیلا۔ پانچ منٹ میں کیا ہوگا، اس نے کہا۔ بلال نے آنکھ ماری۔ دیکھ لو۔

امی کے آنے سے پہلے دونوں تیار ہو گئے۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ زویا نے دروازہ کھولا۔ امی اندر آئیں اور بلال کو دیکھ کر خوش ہوئیں۔

بیٹا آ گیا، امی نے کہا۔ زویا نے بلال کی طرف دیکھا۔ دونوں کی آنکھوں میں ایک راز تھا۔ دو سال کی دوری کے بعد کی پہلی رات کا راز۔

Rate this story

🔥 NEXT CHAPTER IN LINE

Hardcore Desi

اردو سیکس اسٹوری: رات بھر کی ٹرین

کراچی سے لاہور جانے والی رات کی ٹرین میں ڈبل بکنگ کی وجہ سے فرح کو اجنبی بلال کے ساتھ کوپ شیئر کرنا پڑتا ہے۔ رات گہری ہوتے ہی یہ سفر ایک گرم اردو سیکس اسٹوری میں بدل جاتا ہے۔

Read Next Story

More stories by Nazia Qureshi

View all →

Readers who enjoyed “اردو محبت بھری کہانی: دو سال بعد کی واپسی” also read

8 curated stories
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو فونٹ سیکس سٹوریز: چھت پر چاندنی رات

رات کے گیارہ بجے چھت پر کپڑے سمیٹنے آئی نسرین کی ملاقات پڑوسی کے بیٹے بلال سے ہوتی ہے. چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی یہ ملاقات دو دلوں کو ملا دیتی ہے.

⏱️ 9 min read•👁️ 7 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم گرم کہانی: فرحت آپا کی چھت والی دوپہر

اردو گرم گرم کہانی: پتنگ چھڑانے چھت پر چڑھے عاصم کی ملاقات ہوئی تنہا فرحت آپا سے۔ چائے، بارش، اور تین سال کی پیاس بجھانے والی ایک دوپہر۔

⏱️ 9 min read•👁️ 2 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Erotic Kahani: Haveli Wali Shaam Ka Raaz

ایک urdu erotic kahani: لکھنؤ کی پرانی حویلی کے صحن میں عطر کی ایک خوشبو شبنم کو پانچ سال پیچھے لے جاتی ہے، اس دوپہر تک جو آج بھی اس کے بدن میں آگ لگا دیتی ہے۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو سیکس سٹوریز: نرگس کی ڈرائیونگ کلاس

اردو سیکس سٹوریز: طلاق کے بعد نرگس نے ڈرائیونگ سیکھنے کا فیصلہ کیا، مگر انسٹرکٹر عدیل کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ نہر کنارے سنسان سڑک پر رکی گاڑی میں شروع ہونے والا سبق اس کے بیڈروم تک جا پہنچا۔

⏱️ 11 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گندی کہانی نئی: کانپور کی بیکری والی رات

کانپور کی بیکری والی شازیہ کو ایک وائس میسج ملتا ہے جو اس کی رات بدل دیتا ہے، یہ اردو گندی کہانی نئی ایک عام شام سے ایک بے قرار رات تک جاتی ہے۔

⏱️ 12 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو گرم کہانی: الماری میں ملا پرانا فون

یہ اردو گرم کہانی نادیہ کی ہے، جسے الماری کی صفائی میں شوہر کے پرانے فون میں چھپی فینٹیسی ملتی ہے جو آج رات حقیقت بنے گی۔

⏱️ 13 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

Urdu Adult Kahani: گمنام خط (حصہ 2)

گمنام خط لکھنے والا سامنے آ گیا ہے۔ یہ urdu adult kahani اب اپنے آخری باب میں داخل ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views
Hardcore Desiاردو (Urdu)

اردو مامی کی چدائی: دہلی والی مامی

دہلی میں داخلے کے لیے مامی شازیہ کے گھر ٹھہرا عمران۔ ایک دستک، ایک راز، اور اردو مامی کی چدائی کی یہ گرم کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے۔

⏱️ 9 min read•👁️ 1 views